غزہ کی تعمیر نو اور انصار مدینہ

غزہ کی تعمیر نو اور انصار مدینہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
الأنفال : 74

*غزہ کے حالات سب کے سامنے ہیں*

بے چاروں کو بلا وجہ ان کے گھروں سے نکال باہر کیا گیا، تمام گھروں کو بمباری سے مسمار کر دیا گیا، ایک ایک گھر کے کتنے زیادہ افراد ہلاک کردیے گیے، جہاں پناہ گزین تھے وہاں بھی ظالم اور غاصب یہودی شیلنگ کرتے رہے ،کم و بیش ڈیڑھ سال کے لگ بھگ در بدر کی ٹھوکریں، شہادتیں، زخم، بھوک پیاس ،خوراک کی کمی، کاروباری زندگی کا تعطل، گرمی سردی کے تھپیڑے، بیماریاں، ادویات کی کمی، اور اس جیسے بے شمار مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا

*غزویوں کا جرم کیا ہے؟*

ان لوگوں کا جرم کیا ہے، وہ کیوں قصور وار ٹھہرائے گئے ہیں ، انہیں ان کے گھروں سے جبری بے دخل کیوں کیا گیا، قسم اللہ کی صرف اور صرف ایک جرم ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ دین اسلام کے پیروکار ہیں ، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، فلسطینی اور غزوی لوگ آج کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے پیچھے ہٹ جائیں تو ساری دنیا کے جگے اور بدمعاش کافر انہیں سینے سے لگا لیں گے
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ کفار کے اس ظلم کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو، جو تمھارا رب ہے
الممتحنۃ : 1

اور فرمایا :
وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے، ہر تعریف کے لائق ہے ۔
البروج : 8

اور فرمایا :
الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ
وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔
الحج : 40

*وہ مہاجرین ہمارے أموال کے حقدار ہیں جنہیں فقط ایمان باللہ کی وجہ سے ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا*

فرمایا :
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوںسے نکال باہر کیے گئے۔ وہ اللہ کی طرف سے کچھ فضل اور رضا تلاش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔
الحشر : 8

*مکہ کے مہاجرین اور غزہ کی ہجرت*

جو جرم غزہ کے مسلمانوں کا ہے، اسی اسلام اور عقیدہ توحید کی بنیاد پر مکہ کے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تھا، ابوبکر، عمر، عثمان اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے مالدار اور کاروباری شخصیات سے لیکر بلال، صہیب ،زید اور عمار رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے سادہ اور کمزور لوگوں تک، سبھی کو نکال دیا گیا، ان کے مالوں ، جائدادوں ، دکانوں ،گھروں اور مکانوں میں ناجائز قبضے کر لیے گئے، لٹے پٹے مہاجرین کبھی حبشہ اور کبھی مدینہ کی گلیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے
اور جیسے ہم نے دیکھا کہ غزہ کے مسلمانوں پر ہجرت کی راہوں پہ چلتے ہوئے بھی اور وہ جہاں پہنچ کر پناہ گزیں ہوئے وہاں ان کی خیمہ بستیوں پر بھی، بمباری کی گئی
بالکل اسی طرح مکی مہاجروں کو ہجرت کی راہوں میں بھی تنگ کیا گیا، ان کے قافلوں پر حملے کئے گئے اور جب انہوں نے حبشہ یا مدینہ پہنچ کر پناہ لی تو وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا گیا

*تاریخ اسلامی میں دو عظیم کردار رقم ہوئے*

ایسے حالات میں دو عظیم کردار سامنے آئے
اگر ایک طرف مکی مہاجرین کی استقامت اور قربانیوں کی عظیم داستان تھی تو دوسری طرف مدنی انصار نے بھی کمال کرتے ہوئے حقِ خدمت خوب ادا کیا
اگر ایک طرف مہاجرین نے اپنے گھر بار ، کھیت کھلیان ،خاندان ، برادری اور کنبے قبیلے کی قربانی دی تو دوسری طرف انصار نے بھی ایثار، احساس اور ہمدردی کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ آسمان کی نیلی چھت نے پہلے کبھی ایسے مناظر نہیں دیکھے

*اللہ تعالیٰ نے دونوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا*

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
الأنفال : 74

*انصار کی قربانیاں*

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انصار نے ہجرت کر کے آنے والوں کو گلے لگایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے مہاجرین کو اپنی جائداد، گھر بار، زمینوں اور باغوں میں شریک کر لیا،
مکی، فارسی، حبشی اور رومی مہاجرین کی بحالی کے لیے انصار مدینہ نے کیسی کیسی داستانیں رقم کیں ،چند مناظر ملاحظہ فرمائیں :

*’’اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اے اللہ کے رسول !
اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ.
’’ ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’نہیں۔‘‘
تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا :
تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَنَشْرَكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ.
’’تم ہماری جگہ محنت کرو گے اور ہم تمھیں پھلوں کی پیداوار میں شریک کر لیں گے۔‘‘
مہاجرین نے کہا:
سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا.
[ بخاري : 2325 ]
’’ہم نے تمھاری بات سنی اور مان لی۔‘‘

*دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد اپنے مہاجر بھائی کے نکاح میں دینے کی پیش کش*

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سعد بن ربیع انصاری کو بھائی بھائی بنا دیا
تو سعد نے مجھے کہا :
فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي، وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيتَ نَزَلْتُ لَكَ عَنْهَا، فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا
میں اپنی ساری جائداد اور تمام مکانوں میں سے نصف آپ کو دے دیتا ہوں اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد آپ کے نکاح میں دے دیتا ہوں

جس پر انھوں نے انھیں برکت کی دعا دی مگر یہ پیش کش قبول نہ کی۔
(دیکھیے بخاری : 2048)

*انصار نے ہر نفع والی بات میں اپنے آپ پر مہاجرین کو ترجیح دینا شروع کر دی*

انصار کے دل میں مہاجرین کی ایسی محبت اور ہمدردی تھی کہ مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے تو انصار کے دل میں اپنے لیے اس کی خواہش تک پیدا نہیں ہوتی تھی اس کا مطالبہ تو بہت دور کی بات ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی چھوڑی ہوئی تمام زمینیں اور باغات مہاجرین کو دے دیے اور انصار نے بخوشی اسے قبول کیا

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا علاقہ بطور جاگیر ان کے لیے لکھ دیں۔
انھوں نے کہا :
لَا، إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا
[ بخاري : 3794 ]
’’جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم نہیں لیں گے۔‘‘

*ایک مہاجر مہمان کی خاطر میاں، بیوی اور بچوں نے رات خالی پیٹ گزار دی*

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
اس نے کہا:
’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
اس نے کہا:
’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
« وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
[ الحشر: ۹ ]
’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
[ بخاري : 2054 ]

*مہاجر مہمان کو اپنے گھر میں ٹھہرانے اور اس کی خدمت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑنا شروع ہو گئے حتی کہ جھگڑا ختم کرنے کے لیے قرعہ ڈالنے کی نوبت پیدا ہو جاتی*

سبحان اللہ
انصار نے اتنے اصرار کے ساتھ مہاجرین میں سے ہر ایک کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے کی کوشش کی کہ جھگڑا ختم کرنے کے لیے مہاجرین کو قرعہ ڈال کر ان کے گھروں میں تقسیم کرنا پڑا
جیسا کہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا :
[ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِيْنَ قُرْعَةً، قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِيْ أَبْيَاتِنَا ]
[ بخاري : 7003 ]
’’انصار نے مہاجرین کو قرعہ کے ساتھ تقسیم کیا، ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون آئے، تو ہم نے انھیں اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا۔‘‘

*انصار کے جذبہ ایثار پر مہاجرین کا شاندار تبصرہ*

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا :
[ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِيْ قَلِيْلٍ، وَلاَ أَحْسَنَ بَذْلاً فِيْ كَثِيْرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤنَةَ، وَأَشْرَكُوْنَا فِي الْمَهْنَأِ، حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوْا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ لاَ، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لَهُمْ ]
[مسند أحمد : : 13075، قال المحقق إسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ ترمذي : 2487 ]
’’اے اللہ کے رسول! ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے جن کے پاس ہم آئے ہیں، جو تھوڑے میں اچھی سے اچھی غم خواری کرتے ہوں اور زیادہ میں بہتر سے بہتر خرچ کرتے ہوں۔ وہ ہماری جگہ خود محنت مشقت کر رہے ہیں اور انھوں نے آمدنی میں ہمیں شریک کر رکھا ہے ، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوتاہے کہ سارا اجر وہی لے جائیں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے۔‘‘

*انصار کے جذبہ ایثار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبصرہ*

انصار کو مخاطب کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَّذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيْرِ، وَتَذْهَبُوْنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی رِحَالِكُمْ؟ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ ]
[بخاري : 4330 ]
’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار شعار (جسم کے ساتھ ملا ہوا کپڑا ) ہیں اور دوسرے لوگ (اوپر لیا جانے والا کپڑا )ہیں۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے :
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ
انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔ پس جو شخص ان سے محبت رکھے اس سے اللہ محبت رکھے گا اور جوان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا

*انصار مدینہ کی یاد تازہ کریں اور غزہ کے بے بسوں کو تھام لیں*

اگر ظالم، غاصب اور کافر یہودی اور عیسائی لوگ اہل اسلام کو فقط اسلام دشمنی کی بنیاد پر قتل کر رہے ہیں تو دیگر مسلمانوں کی اتنی ہی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام ہی کے تعلق، ناطے اور رشتے سے ان مظلوم مسلمانوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النَصرُ
اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
الأنفال – 72

*ہم تو اس نبی کے امتی ہیں جن کے اوصاف ماں جی خدیجہ رضی اللہ عنھا نے یوں بیان کیے ہیں*

كَلَّا وَاللَّهِ، مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ؛ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ
صحيح البخاري | 3
اللہ کی قسم ! آپ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ھو سکتا ، اللہ آپ کو کبھی غمناک و پریشان نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ کمزوروں کی دست گیری فرماتے ہیں ، ناداروں کو کپڑا پہناتے ہیں اور مہانوں کی میزبانی کرتے ہیں "

حالی نے کہا :
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

*اپنی قوم کو سیکیور کرنے والی چیونٹی کو اللہ تعالیٰ نے ایپریشیٹ کیا*

سلیمان علیہ السلام جب اپنے لشکر سمیت سفر کررہے تھے اور چیونٹیوں کی ایک وادی سے گزر ہوا ایک چیونٹی نے دور سے لشکر کو آتے ہوئے دیکھ لیا، اسے خطرہ محسوس ہوا کہ اگر بِلوں سے باہر نکلی ہوئی چیونٹیاں اپنی اپنی بلوں میں داخل نہ ہوئیں تو لشکر انہیں کچل کر رکھ دے گا اس نے فوراً اپنی قوم کو آگاہ کرتے ہوئے بلوں میں گھسنے کا اعلان کر دیا
اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان فرمایا :
حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جائو، کہیں سلیمان اوراس کے لشکر تمھیں کچل نہ دیں اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔
النمل : 18

ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ اس آیت مبارکہ(النمل : 18) کی تفسير میں لکھتے ہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ اس بظاہر حقیر سی مخلوق کا ایک فرد اپنی ساری قوم کے لیے فکر مند ہے اور انھیں بچنے کی تدبیر سے آگاہ کر رہا ہے۔ یہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔ جب کسی قوم کے افراد صرف اپنی فکر میں پڑ جائیں تو اس قوم کو ذلت اور بربادی سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی، جیسا کہ اس وقت امتِ مسلمہ کے اکثر افراد کا حال ہو چکا ہے۔

*ابن الوقت اور مفاد پرست بننے کی بجائے زندہ قوم بنیں*

اپنے لیے تو سب جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

احساس، خیر خواہی اور درد دل سے ماوراء ہو کر فقط اپنے لیے جینا، اپنے ہی نفع اور اپنے ہی مفاد کا سوچتے رہنا، حیوانیت، ابن الوقتی، مفاد پرستی، حرص اور بخل تو ہوسکتا ہے مگر انسانیت نہیں

*خود غرضی اور حیوانیت نہیں ،انسانیت دکھائیں*

جو لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر، پریشانی اور ٹینشن نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کیسے کمزور حالات سے گزر رہی ہے، وہ بس اپنے کاروبار، دولت اور مفاد سے ہی تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں ایسے خود غرض لوگ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہوتے ہیں
ایک جہنمی کے دو جرم بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ
بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
الحاقة : 33
وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
الحاقة : 34
فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ
سو آج یہاں نہ اس کا کوئی دلی دوست ہے۔
الحاقة : 35
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ
اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھوون کے سوا کوئی کھانا ہے۔
الحاقة : 36

سورہ مدثر میں ہے کہ جہنمی، جہنم میں جانے کے اسباب بیان کرتے ہوئے خود اقرار کریں گے
قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ
وہ کہیں گے ہم نماز ادا کرنے والوں میں نہیں تھے۔
المدثر : 43
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ
اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔
المدثر : 44

ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
جہنمیوں کا یہ اقرار کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مساکین کو کھانا کھلانا کس قدر ضروری ہے۔

ایسے ہی سورہ ماعون میں فرمایا :
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ
کیا تونے اس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے۔
الماعون : 1
فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ
تو یہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
الماعون : 2
وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ
اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔
الماعون : 3

*مسلمانوں پر تکلیف و مصیبت کے وقت انہیں بے یارو مددگار چھوڑ کر صرف اپنی پرواہ کرنا نفاق کی علامت ہے۔*

اللہ تعالی غزوہ اُحد کے ذکر میں فرماتے ہیں :
﴿وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ﴾.
[سورة آل عمران : 154]
’’اور ایک گروہ ایسا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔‘‘

امام قتادہ تابعی رحمہ اللہ (١١٧هـ) فرماتے ہیں :
«اَلطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَافِقُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، أَجْبَنُ قَوْمٍ وَأَرْعَبُهُ وَأَخْذَلُهُ لِلْحَقِّ».
’’دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی فکر تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب ہو جانے والے اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے۔‘‘
(سنن الترمذي : 3008، تفسیر الطبري : 165/6، صحیح)

*انسانیت اور اخوت پیدا کریں*

لفظ انسان اُنَس سے بنا ہے
جس کا معنی محبت، پیار، ہمدردی اور خیر خواہی بانٹنے والا
انسانیت تو یہ ہے کہ اے انسان !
چاہے تم سلیمان ہو مگر گمشدہ ننھے ہد ہد کی فکر کرو
چاہے تم فاروق ہو مگر فرات کنارے پیاسے کتے کا سوچو
خواہ موسیٰ کلیم اللہ ہو مگر پیاسی بکریوں کے لیے بوکا کھینچو
چاہے سفینہِ نوح میں جا بیٹھے ہو مگر ہر ذی روح کا ایک ایک جوڑا سنبھال لو
اور چاہے یوسفِ دوراں ہو مگر بے رحم قحط سالی کے بالمقابل دانے کو سٹے میں اور ہر محتاج کے حصے میں رکھو

*دکھی انسانیت کے لیے حساسیت پیدا کریں*

دکھی انسانیت، مظلوموں، بے کسوں اور بے سہارا لوگوں کی آہ و بکا، درخواست اور التجاہ سننے کے لیے دل کی سنسر شپ اتنی حساس رکھو کہ
گرتی ہوئی شبنم،
چڑھتے ہوئے سورج،
کھِلتے ہوئے پھول،
چمکتے ہوئے مون،
ڈوبتے ہوئے ستارے،
صاف اجالے
اور گہرے اندھیرے کی آہٹ بھی محسوس ہو
اور
بھوکے اونٹ کی شکایت سن سکو
چلاتی چڑیا کی آہ و بکاء سن سکو
منڈلاتی فاختہ کی فریاد سنو
مظلوم انسانوں کی پکار سنو

*خدمت کے بہانے تلاش کریں*

ہمسائیوں سے نمک فقط اس لیے مانگ لو کہ انہیں سالن مانگتے جھجھک نہ ہو
اور شوربے میں پانی محض اس لیے بڑھا دو کہ پڑوسی کو دیتے اضطراب نہ ہو
جلتے ہوئے چراغ کو محض اس لیے گل کردو کہ بھوکا مہمان سیر ہو سکے
اور کدو کا شوق محض اس لیے باور کروادو کہ آپ کا دوست بوٹیاں کھا لے
ہونٹوں سے لگا جام، پانی پئے بغیر فقط اس لیے ہٹا دو کہ قریب تڑپنے والا پی لے
اجتماعی دستر خوان پہ ایک دفعہ کہہ دو کہ سیب مجھے پسند نہیں ہیں تاکہ کوئی اور لے لے

اقبال نے کہا :
لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے، ضعیفوں سے محبت کرنا

*اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کو نفع دیتے ہیں*

ایک عربی مقولہ ہے :
خَیرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس
إقبال نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
جی ہاں !
اچھے بننے کے لیے خدمت، ایثار، قربانی رحمدلی کا مظاہرہ بہت ضروری ہے
کسی کمزور بڑھیا کی گھٹھڑی اٹھا کر،
کسی ناتواں بوڑھے کو بیساکھی تھما کر،
مقامی اور مہاجر کو ایک میثاق میں اخوان بنا کر
رات کے اندھیرے میں گشت کرتے ہوئے کسی بھوکے کے دروازے پر کان لگا کر،
جذبہءِ خدمت خلق سے سرشار ہو کر آگے بڑھنا ہوگا
کرو مہربانی تم اہلِ زمین پر
خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر
آپ نے فرمایا :
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ
اور فرمایا :
ارْحَمُوا تُرْحَمُوا
اور فرمایا :
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ

*بیوہ عورتوں اور مسکین لوگوں کی فکر کرنے والے کا اجر*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ ".
بخاري : 5353
بیوہ اور مسکین کے لیے تگ و دو کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا ساری رات قیام اور دن بھر روزہ رکھنے والے کی طرح ہے

*غزہ بیواؤں اور مسکینوں کا گڑھ بن گیا*

غزہ کے بے چارے لوگ انسانی تاریخ کے بدترین حالات سے گزر رہے ہیں، ایک ایسے صدمے کے تحت دبے ہوئے ہیں جس سے پہاڑ بھی لرز جائیں، پورا غزہ مٹی کا ڈھیر بن گیا ،پورے شہر کو کھنڈر بنا کے، 25/ لاکھ کی آبادی کو بے گھر کردیا گیا، لاکھوں لوگ مار دئے گئے، لاکھوں اپاہج ہو گئے، ہزاروں بچے قتل ہو گئے اور اسی مقدار میں زخمی بھی ہو گئے،
مساجد،جامعات ، مدارس ، تجارت گاہیں، اسپتالیں اور سب کچھ تباہ وبرباد ہوگیا،
نہیں جانتے کہ کس طرف جائیں، نہ یہ سمجھ پاتے ہیں کہ اپنے حال پر روئیں یا اپنے مردوں اور لاپتہ افراد پر۔ وہ کھلے آسمان تلے سوتے ہیں اور ہر روز ملبے کے ڈھیروں سے اپنے پیاروں کے اعضا تلاش کرتے ہیں، شاید اس سے ان کے دلوں کی کچھ حسرت کم ہو سکے… اف اللہ

اتنا نقصان ہو چکا ہے کہ سو میں سے نوے فیصد عمارتیں ڈھے گئی ہیں
ایک سروے کے مطابق غزہ کو اپنی اصلی حالت پر لوٹانے کے لئے اگر چوبیس گھنٹے کام ہو تو لگ بھگ بیس سے پچیس سال کا وقت لگے گا۔

*آج ہم غزہ کے مسلمانوں کی کیسے مدد کرسکتے ہیں*

اب مختلف بھائیوں اور بہنوں کے ذہن میں یقیناً یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا کہ ایسے حالات میں اتنی دور سے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کیسے کرسکتے ہیں
یقیناً یہ اکیلے فرد یا دو چار افراد کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لیے کسی منظم نیٹ ورک اور اس فیلڈ کے ماہر گروہ اور جماعت کا سہارا بہت ضروری ہے، میری دانست اور معلومات کے مطابق اس وقت وطن عزیز پاکستان میں فلسطینیوں کی مدد کے لیے مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی ادارے مسلم میڈیکل مشن سے بڑھ کر کوئی منظم اور مضبوط نیٹ ورک موجود نہیں، غزہ کے بے بسوں کی مدد کے لیے ان کے پروگرامز میں شامل ہونا چاہیے، یہ لوگ خدمت کے میدان میں ید طولیٰ ،مہارت اور کافی تجربہ رکھتے ہیں، ان کے پاس جذبہءِ خدمت سے سرشار ہزاروں بے لوث رضاکار موجود ہیں، اور تاریخ میں اندرون و بیرون ملک میں بڑے بڑے ریلیف پروگرامز کر چکے ہیں، وطن عزیز پاکستان میں 2005 کا کشمیر کا خوفناک زلزلہ ہو یا 2010 کا بپھرا ہوا سیلاب ہو تھر، چولستان اور بلوچستان کے قحط سے سری لنکا کے سونامی تک ہر جگہ دکھی انسانیت کے مسیحا بن کر پہنچتے ہیں
اللہ تعالیٰ ان کی تمام کوششوں کاوشوں اور مساعی الخیر کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور جو کمی کوتاہی اور لغزش ہے اسے دور کرنے کی توفیق بخشے

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں