غموں کے اندھیروں میں ایمان کی روشنی

غموں کے اندھیروں میں ایمان کی روشنی

( آزمائش سنت الٰہی ، مصائب اور انبیائے کرام ، تکلیفیں کیوں آتی ہیں ، آزمائش میں صبر کا مفہوم ، دکھوں میں مومن کا کردار ، مصیبت کے وقت مسنون دعائیں ، پریشان حالوں کے لیے نصیحت )
📝 *تمہید :*
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

 مُجِيبِ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ، وَكَاشِفِ كُرَبِ الْمُبْتَلِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، مُعَلِّمِ الصَّبْرِ وَالْأَمَلِ وَالثَّبَاتِ فِي الْمِحَنِ وَالْبَلَاءِ۔
أَمَّا بَعْدُ :
آج کا خطبہ جمعہ ایک ایسے موضوع پر ہے جو بظاہر ہماری زندگی کا ایک عمومی موضوع ہے، لیکن حقیقت میں ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس کی زندگی کبھی غم، تکلیف، پریشانی، آزمائش اور بے بسی کے لمحات سے نہ گزری ہو۔
آج میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے، اس کے پیچھے ایک ذاتی کیفیت، ایک باپ کا درد اور ایک آزمائش بھی ہے۔
میری چار سالہ ننھی بیٹی *حسانہ احمد* تقریباً پانچ ماہ قبل ایک حادثے کے نتیجے میں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے سے شدید تکلیف میں مبتلا ہوئی۔ اس کا آپریشن ہوا، علاج جاری رہا اور ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی مکمل صحت یابی کی دعائیں کرتے رہے۔ لیکن ابھی اس آزمائش سے پوری طرح نکل بھی نہ پائے تھے کہ دوبارہ اسی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، اور اب ڈاکٹرز حضرات جسم کے دوسرے حصے سے ہڈی لے کر متاثرہ جگہ لگانے کے لیے بہت بھاری اخراجات کے ساتھ بڑے آپریشن کا مشورہ دے رہے ہیں ۔
ایک باپ کے لیے اپنی ننھی سی بچی کو درد، تکلیف اور علاج کے مراحل سے گزرتے دیکھنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ بظاہر انسان حوصلہ رکھتا ہے، زبان سے صبر کی بات کرتا ہے، لیکن دل کے اندر ایک عجیب کیفیت اور بے بسی ہوتی ہے۔
تاہم ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا شفا دینے والا، سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور اپنے بندوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ ہم اسی کی رحمت سے امید رکھتے ہیں، اسی کے فیصلوں پر راضی ہیں اور اسی کے حضور دستِ دعا دراز کیے ہوئے ہیں۔
اسی ذاتی آزمائش نے مجھے اس موضوع پر گفتگو کرنے کی تحریک دی کہ جب زندگی میں غموں کے بادل چھا جائیں، جب انسان اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے، جب آنکھیں اشک بار ہوں اور دل پریشان ہو تو ایک مومن کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ اپنے رب سے تعلق کیسے مضبوط رکھے؟ صبر، دعا اور توکل کے ذریعے اپنے دل کو سکون کیسے دے؟
اسی مناسبت سے آج کے خطبے کا عنوان ہے:
*’’غموں کے اندھیروں میں ایمان کی روشنی”*
میں تمام سامعین، احباب اور قارئین سے خصوصی درخواست کرتا ہوں کہ میری ننھی بیٹی حسانہ احمد کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
اللہ تعالیٰ اس کے لیے علاج کے تمام مراحل آسان فرمائے، آپریشن سے اسے بچا کے ، اسے کسی بھی پیچیدگی سے محفوظ رکھے اور اسے جلد از جلد مکمل صحت و عافیت کے ساتھ ہنستا مسکراتا ہمارے درمیان واپس لے آئے۔
آپ سب کی دعائیں ہمارے لیے بہت بڑا سہارا اور حوصلہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو شفا، تمام پریشان حالوں کو سکون، تمام غم زدہ لوگوں کو خوشیاں اور ہر آزمائش میں مبتلا انسان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

1️⃣ *آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی سنت ہیں*
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرما دیا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے انسان کو آزمائشوں سے ضرور گزارا جائے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۝ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ (العنکبوت: 2-3)
’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنا کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے، اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، پس اللہ ضرور ظاہر کر دے گا کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے۔‘‘
گویا آزمائش ایمان کے راستے کا حصہ ہے۔ ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی زندگی میں کبھی پریشانی نہیں آئے گی، بلکہ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ پریشانی آئے تو انسان اپنے رب کا دامن نہ چھوڑے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (البقرۃ: 155-156)
’’اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہیں کبھی خوف نہیں آئے گا، کبھی بھوک نہیں لگے گی، کبھی مال کا نقصان نہیں ہوگا، کبھی تمہارے پیارے تم سے جدا نہیں ہوں گے؛ بلکہ فرمایا کہ یہ سب کچھ ہوگا، مگر خوشخبری ان لوگوں کے لیے ہے جو ان حالات میں صبر کا دامن تھامے رکھیں گے۔
یاد رکھیے! آزمائش انسان کو توڑنے کے لیے نہیں، بعض اوقات اسے اپنے رب کے قریب کرنے، اس کے درجات بلند کرنے اور اس کے ایمان کو نکھارنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

*سوال* : *کیا مصیبت اللہ کی ناراضی کی علامت ہے* ؟
یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ بہت سے لوگ مصیبت میں مبتلا ہو کر سوچتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگیا ہے، شاید ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں، شاید ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہوگئے ہیں۔
میرے عزیزو! ایسا ہرگز نہیں۔ مصیبت کبھی گناہوں کا نتیجہ، کبھی تنبیہ، کبھی آزمائش اور کبھی درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ کسی خاص مصیبت کے بارے میں وحی کے بغیر قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ» (صحیح البخاری: 5645)
اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ» (جامع الترمذی: 2396، حسن)
بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے؛ پھر جو راضی رہا، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوا، اس کے لیے ناراضی ہے۔
ذرا انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں پر نگاہ ڈالیے! وہ اللہ کے سب سے محبوب بندے تھے، مگر آزمائشوں میں بھی سب سے نمایاں تھے۔
* حضرت ایوب علیہ السلام بیماری اور طویل ابتلا سے گزرے۔
* حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی میں غم برداشت کیا۔
* حضرت یوسف علیہ السلام نے کنویں، غلامی، تہمت اور قید کے مراحل دیکھے۔
* حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا۔
* ہمارے نبی محمد ﷺ نے یتیمی، غربت، طائف کی اذیت، اپنوں کی جدائی اور دشمنوں کی مخالفت برداشت کی۔
کیا ان عظیم ہستیوں پر یہ مصائب اللہ کی ناراضی کی وجہ سے آئے تھے؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان کی آزمائشیں ان کے بلند مقام اور صبر و استقامت کی عظیم مثالیں ہیں۔

2️⃣ *انبیائے کرام اور مصائب کے پہاڑ*
محترم سامعین! آزمائش انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ انبیاء علیہم السلام جو اللہ کے سب سے محبوب اور برگزیدہ بندے تھے، وہ بھی بیماری، غم، جدائی، فقر اور مصائب سے گزرے ۔

➊ *حضرت ایوب علیہ السلام: بیماری میں امید کا چراغ*
حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ ہر مریض، ہر پریشان حال اور ہر تکلیف میں مبتلا انسان کے لیے عظیم تسلی رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ (الأنبیاء: 83)
’’اور ایوب کو یاد کیجیے، جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘
ذرا دعا کے الفاظ دیکھیے! حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی بیماری کا ذکر کیا، مگر ساتھ ہی اللہ کی رحمت کا واسطہ دیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! تو نے مجھے کیوں بیمار کردیا؟ بلکہ عرض کیا: اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی:
﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ﴾ (الأنبیاء: 84)
’’تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کردیا، اور انہیں ان کے اہل و عیال عطا کیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی مزید، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت کے طور پر۔‘‘
میرے بھائیو! جو رب ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور کرنے پر قادر تھا، وہی آج آپ کی تکلیف بھی دور کرنے پر قادر ہے۔ جو رب اس وقت سنتا تھا، وہ آج بھی سنتا ہے۔ جو رب اس وقت رحم فرماتا تھا، وہ آج بھی ارحم الراحمین ہے۔
بس کبھی دعا میں دیر ہو سکتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

➋ *حضرت یعقوب علیہ السلام: غم میں بھی اللہ سے تعلق*
غم کی شدت کیا ہوتی ہے، یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے واقعے سے سمجھیے۔
ایک بیٹا یوسف علیہ السلام جدا ہوگیا۔ برسوں تک جدائی کا غم رہا۔ پھر دوسرے بیٹے بنیامین کے جدا ہونے کی خبر ملی۔ ایک باپ کا دل کس قدر غمگین ہوگا!
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ (یوسف: 84)
’’اور وہ ان سے منہ پھیر کر الگ ہوگئے اور کہنے لگے: ہائے یوسف! اور غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں، جبکہ وہ اپنا غم پی رہے تھے۔‘‘
یہاں ایک عظیم سبق ہے: غم محسوس کرنا، آنسو بہانا اور کسی عزیز کی جدائی میں دل کا بے قرار ہونا صبر کے خلاف نہیں۔
جب بیٹے نے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تو یوسف کو یاد کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ بیمار ہوجائیں گے یا جان سے گزر جائیں گے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:
﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ (یوسف: 86)
’’میں تو اپنی پریشانی اور اپنا غم صرف اللہ کے سامنے بیان کرتا ہوں، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘
سبحان اللہ! کیا خوبصورت جملہ ہے:
غم تھا، مگر اللہ سے شکوہ نہیں؛ آنکھیں اشک بار تھیں، مگر دل اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں تھا۔
یہی مومن کی پہچان ہے۔ لوگوں کے سامنے اپنی تکلیف بیان کرنا بذاتِ خود ناجائز نہیں، لیکن اپنے دل کا سب سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ کو بنانا چاہیے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو امید کا پیغام دیا:
﴿يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ﴾ (یوسف: 87)
’’اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے کافر لوگوں کے سوا کوئی ناامید نہیں ہوتا۔‘‘
ممکن ہے جس چیز کے لیے آپ آج رو رہے ہیں، کل اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی خوشخبری عطا فرمائے کہ آپ کے آنسو شکر کے آنسو بن جائیں۔

➌ *ہمارے نبی ﷺ کی زندگی: صبر و استقامت کا عظیم نمونہ*
رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیے۔ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے والد کا سایہ اٹھ گیا، بچپن میں والدہ وفات پا گئیں، پھر دادا اور بعد ازاں چچا ابو طالب کی جدائی برداشت کی۔
آپ ﷺ کی محبوب زوجہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ تین بیٹے آپ ﷺ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے۔ آپ ﷺ نے اپنی تین بیٹیوں کی وفات کا صدمہ بھی برداشت کیا۔ طائف میں پتھر مارے گئے، مکہ میں ستایا گیا، ہجرت پر مجبور ہوئے، غزوات میں زخم آئے۔
مگر ان تمام حالات میں آپ ﷺ نے اپنے رب کا دامن نہیں چھوڑا۔
طائف کا واقعہ خاص طور پر دل کو ہلا دینے والا ہے۔ جب آپ ﷺ اہل طائف کی طرف سے شدید تکلیف اٹھا کر واپس آرہے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آیا؟
آپ ﷺ نے طائف کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ میں سخت غمگین واپس آیا۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے اور پہاڑوں کے فرشتے کی پیش کش کی کہ اگر آپ چاہیں تو ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دیا جائے۔ مگر رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:
«بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» (صحیح البخاری: 3231؛ صحیح مسلم: 1795)
بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
یہ ہے مومن کا حوصلہ! پتھر کھا کر بھی بددعا نہیں، تکلیف اٹھا کر بھی امید ختم نہیں، لوگوں کی سختی کے باوجود آنے والی نسلوں کے لیے خیر کی آرزو!
آج ہمیں بھی اپنی زندگی میں یہی نبوی اخلاق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

3️⃣ *تکلیفیں اور مصیبتیں کیوں آتی ہیں*
میرے محترم بھائیو!
ہماری زندگی میں آنے والی تکالیف کا ایک عظیم فائدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے ہمارے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ» (صحیح البخاری: 5641، 5642؛ صحیح مسلم: 2573)
مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم، تکلیف اور پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
غور کیجیے! اسلام کس قدر امید افزا دین ہے۔ یہاں بیماری بھی بے فائدہ نہیں، آنسو بھی بے قیمت نہیں، پریشانی بھی بے اجر نہیں، اور کانٹے کی چبھن بھی گناہوں کی معافی کا سبب بن سکتی ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ» (صحیح مسلم: 2999)
مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اور یہ خصوصیت مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔
یہ حدیث مومن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔
مومن خوشی میں بھی محروم نہیں ہوتا اور غم میں بھی محروم نہیں ہوتا؛ خوشی اسے شکر سکھاتی ہے اور غم اسے صبر سکھاتا ہے۔

*حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ: مصیبت کے بعد بہترین بدل*
یہ واقعہ ہر اس شخص کے لیے نہایت تسلی بخش ہے جس نے زندگی میں کوئی قیمتی چیز کھو دی ہو۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا۔ وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھیں اور انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ ان سے بہتر کوئی شوہر ہوسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی:
«اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» (صحیح مسلم: 918)
اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یہ دعا پڑھی، مگر دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں رسول اللہ ﷺ کا نکاح نصیب فرمایا۔
سبحان اللہ!
جس خاتون نے شوہر کی جدائی میں یہ دعا پڑھی تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے محبوب رسول ﷺ کی زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔
اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی مصیبت کے بعد اللہ تعالیٰ کس صورت میں خیر عطا فرمائے گا، انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
آج جو دروازہ بند نظر آرہا ہے، ممکن ہے اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کسی اور دروازے سے بہتر خیر مقدر کر رکھی ہو۔
اس لیے کسی نقصان کو اپنی پوری زندگی کا خاتمہ نہ سمجھیے۔ کسی ایک ناکامی کو اپنی قسمت کا آخری فیصلہ نہ سمجھیے۔ کسی ایک انسان کی جدائی کو اللہ کی رحمت سے محرومی نہ سمجھیے۔

4️⃣ *آزمائش کے وقت صبر کا حقیقی مفہوم*
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو درد محسوس نہ ہو، اس کی آنکھوں سے آنسو نہ نکلیں، وہ اپنی تکلیف کسی کو نہ بتائے یا علاج معالجہ چھوڑ کر بیٹھ جائے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود اللہ تعالیٰ سے بدگمان نہ ہو، اس کے فیصلے پر اعتراض نہ کرے، حرام راستہ اختیار نہ کرے اور اپنے رب کی نافرمانی میں مبتلا نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ جب وفات پا رہے تھے تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
«يَا ابْنَ عَوْفٍ، إِنَّهَا رَحْمَةٌ»
اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ» (صحیح البخاری: 1303؛ صحیح مسلم: 2315)
بے شک آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، لیکن ہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو، اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔
یہاں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
کسی کا انتقال ہوجائے تو آنسو بہانا بے صبری نہیں۔ کسی عزیز کی جدائی میں دل کا غمگین ہونا ایمان کے خلاف نہیں۔ بیماری میں تکلیف محسوس کرنا کمزور ایمان کی دلیل نہیں۔
اصل صبر یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی والے الفاظ سے محفوظ رکھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى» (صحیح البخاری: 1283؛ صحیح مسلم: 926)
حقیقی صبر تو صدمے کے پہلے موقع پر ہوتا ہے۔
یعنی جب اچانک کوئی صدمہ پہنچے، کوئی حادثہ پیش آئے، کوئی عزیز دنیا سے چلا جائے، کوئی بڑا نقصان ہوجائے، اس وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سنبھالنا ہی حقیقی صبر ہے۔

9۔ مایوسی نہیں، امید اور حسنِ ظن باللہ
میرے عزیزو!
شیطان کی ایک بڑی چال یہ ہے کہ جب انسان مشکلات میں گھرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، اب حالات نہیں بدل سکتے، اب میری دعا قبول نہیں ہوگی، اب میری زندگی میں خوشی واپس نہیں آئے گی۔
لیکن قرآن مجید مایوسی کے ان تمام اندھیروں کو ختم کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (الزمر: 53)
’’کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
یہ آیت گناہ گاروں کو توبہ کی دعوت دیتی ہے اور ہر مایوس دل کو اللہ کی وسیع رحمت یاد دلاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ (الشرح: 5-6)
’’پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، بلکہ فرمایا: مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
کبھی ہمیں اپنی زندگی میں آسانی نظر نہیں آتی، مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایسے راستے کھولے ہوتے ہیں جن کا ہمیں علم بھی نہیں ہوتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ بظاہر نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ قوم نے کہا:
﴿ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ﴾
’’ہم تو یقیناً پکڑے گئے!‘‘
لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پورے یقین کے ساتھ فرمایا:
﴿ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ﴾ (الشعراء: 61-62)
’’ہرگز نہیں! یقیناً میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے سمندر میں راستے بنا دیے۔
میرے بھائیو! یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب ظاہری اسباب ختم ہوجائیں، تب بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت ختم نہیں ہوتی۔
سمندر کے راستے بھی اللہ کے حکم سے کھلتے ہیں، اور زندگی کی بند گلیوں میں بھی وہی نجات کے دروازے کھول سکتا ہے۔

5️⃣ *غم اور پریشانی میں مومن کو کیا کرنا چاہیے؟*
اسلام ہمیں صرف تسلی نہیں دیتا بلکہ مشکلات سے نکلنے کا عملی راستہ بھی بتاتا ہے۔
➊ *اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کیجیے۔*
نماز کی پابندی کیجیے، سجدوں میں اپنے دل کا حال بیان کیجیے، تہجد میں اپنے رب کو پکاریے۔ لوگوں کے سامنے آنسو بہانے سے دل ہلکا ہوسکتا ہے، مگر اللہ کے سامنے دل کھول دینے سے روح کو سکون ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ (البقرۃ: 45)
’’صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔‘‘
➋ *دعا کا دامن مت چھوڑیے* ۔
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ، سمندر کی تاریکی اور رات کی تاریکی میں گھرے ہوئے تھے۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، لیکن انہوں نے اپنے رب کو پکارا:
﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ (الأنبیاء: 87)
’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں غم سے نجات دی۔
فرمایا:
﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الأنبیاء: 88)
’’تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔‘‘
کیا ہی امید افزا آیت ہے! اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔
اس لیے جب پریشان ہوں تو یہ دعا کثرت سے پڑھیں۔
➌ *استغفار اور توبہ کو معمول بنائیں۔*
اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ گناہ انسان کے دل کو بے سکون کرتے ہیں اور توبہ و استغفار اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا بہترین ذریعہ ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:
﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ﴾ (نوح: 10-12)
’’میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، اور تمہیں مالوں اور بیٹوں سے مدد دے گا۔‘‘
➍ *جائز اسباب اختیار کریں* ۔
بیماری ہے تو علاج کروائیں، مالی پریشانی ہے تو حلال روزگار تلاش کریں، گھریلو مسئلہ ہے تو حکمت اور مشاورت سے حل کریں، ذہنی دباؤ ہے تو اہلِ علم، اہلِ تجربہ اور ضرورت کے مطابق ماہرین سے مدد لیں۔
توکل کا مطلب اسباب چھوڑ دینا نہیں، بلکہ جائز اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجَزْ» (صحیح مسلم: 2664)
جو چیز تمہیں فائدہ پہنچائے اس کی حرص رکھو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز بن کر نہ بیٹھ جاؤ۔
➎ *نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں* ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے حوالے نہ کریں جو ہر وقت مایوسی، ناامیدی اور منفی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے اہلِ ایمان کے ساتھ رہیں جو آپ کو اللہ یاد دلائیں، امید دلائیں اور درست راستہ دکھائیں۔
➏ *دوسروں کی تکلیف کا احساس کریں* ۔
اپنے غم کے ساتھ دوسروں کے غم کو بھی محسوس کریں۔ کسی بیمار کی عیادت کریں، کسی غریب کی مدد کریں، کسی پریشان حال کی بات سنیں، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔
بسا اوقات اللہ تعالیٰ کسی دوسرے پریشان حال کی مشکل آسان کرنے کے ذریعے ہماری اپنی مشکلات آسان فرما دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ» (صحیح مسلم: 2699)
اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔

6️⃣ *مصیبت کے وقت پڑھنے کی مسنون دعائیں*
محترم بھائیو! قرآن و سنت میں ہمیں ایسے دعائیہ کلمات سکھائے گئے ہیں جنہیں غم، پریشانی اور مصیبت کے وقت پڑھنا چاہیے۔
➊ *مصیبت کے وقت استرجاع*
﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (البقرۃ: 156)
’’بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
➋ *حضرت یونس علیہ السلام کی دعا*
﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ (الأنبیاء: 87)
’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
➌ *مصیبت کے وقت بہترین بدل کی دعا*
«اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» (صحیح مسلم: 918)
اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما۔
➍ *غم اور پریشانی سے پناہ کی دعا*
رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» (صحیح البخاری: 6369)
اے اللہ! میں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
یہ دعا ہر پریشان حال انسان کے لیے نہایت جامع ہے۔ اس میں ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی پریشانیوں سے اللہ کی پناہ طلب کی گئی ہے۔

7️⃣ *چند باتیں جو ہر پریشان حال انسان کو یاد رکھنی چاہییں*
میرے عزیزو!
اگر آپ بیمار ہیں تو یاد رکھیے، آپ کا رب شفا دینے والا ہے۔
اگر آپ غریب ہیں تو یاد رکھیے، رزق کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔
اگر آپ تنہا ہیں تو یاد رکھیے، اللہ تعالیٰ آپ کی پکار سنتا ہے۔
اگر آپ کا کوئی عزیز دنیا سے چلا گیا ہے تو یاد رکھیے، آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملاقات کی امید ہے۔
اگر آپ کی اولاد پریشان ہے تو یاد رکھیے، حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب اور حضرت زکریا علیہم السلام کے رب سے دعا کیجیے۔
اگر آپ کی کوئی دعا ابھی قبول نہیں ہوئی تو مایوس نہ ہوں۔ دعا عبادت ہے، اللہ تعالیٰ بندے کی دعا سنتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق اس کا جواب عطا فرماتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» (صحیح مسلم: 2735)
بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اور جب تک جلد بازی نہ کرے۔
پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! جلد بازی کیا ہے؟ فرمایا: بندہ کہے کہ میں نے دعا کی، پھر دعا کی، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی، پھر وہ تھک کر دعا کرنا چھوڑ دے۔
پس دعا کرتے رہیے، اللہ سے مانگتے رہیے، اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم رکھیے۔
یاد رکھیے! حالات بدلنے سے پہلے انسان کا دل بدلنا ضروری ہوتا ہے؛ جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو حالات کی سختی بھی انسان کو اللہ سے دور نہیں کرسکتی۔
میرے محترم بھائیو!
آج اس مجلس سے اٹھتے ہوئے اپنے دلوں میں چند باتیں بٹھا لیجیے:
* دنیا کی کوئی تکلیف دائمی نہیں۔
* ہر اندھیری رات کے بعد صبح طلوع ہوتی ہے۔
* ہر مشکل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آسانی رکھی ہے۔
* آزمائش میں صبر کرنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔
* اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا مومن کا شیوہ نہیں۔
* اپنی تکلیف میں اللہ کو پکاریے اور دوسروں کی تکلیف میں ان کے کام آئیے۔
ہوسکتا ہے اس وقت اس مجلس میں کوئی ایسا شخص بیٹھا ہو جو باہر سے مسکرا رہا ہو لیکن اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔ کسی کے دل میں اولاد کا غم ہے، کسی کے دل میں والدین کی جدائی، کوئی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، کسی کی بیماری اسے راتوں کو سونے نہیں دیتی، کسی کے گھر میں پریشانیاں ہیں، کسی کی دعائیں ابھی قبولیت کے آثار کی منتظر ہیں۔
میں ایسے تمام بھائیوں اور بہنوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں:
اپنے رب سے تعلق مت توڑیے، نماز مت چھوڑیے، دعا مت چھوڑیے، امید مت چھوڑیے۔
آپ کے آنسو لوگوں سے چھپ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں۔ آپ کے دل کی آہیں زبان پر نہ بھی آئیں، تب بھی اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے۔
وہ رب جو مچھلی کے پیٹ میں یونس علیہ السلام کی دعا سنتا ہے، وہ آپ کی دعا بھی سنتا ہے۔ وہ رب جو سمندر میں موسیٰ علیہ السلام کے لیے راستہ بناتا ہے، وہ آپ کے لیے بھی راستے کھولنے پر قادر ہے۔ وہ رب جو ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور کرتا ہے، وہ آپ کی تکلیف بھی دور کرسکتا ہے۔
بس اسی کے سامنے جھکیے، اسی سے مانگیے، اسی پر بھروسا کیجیے۔
آپ کا رب آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا، بشرطیکہ آپ اس کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبرِ جمیل، یقینِ کامل، قلبی سکون اور اپنی رحمت پر کامل بھروسا نصیب فرمائے۔
اللَّهُمَّ أَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَى قُلُوبِنَا، وَامْلَأْهَا بِالْإِيمَانِ وَالْيَقِينِ، وَأَذْهِبْ عَنَّا الْهَمَّ وَالْحَزَنَ وَالْخَوْفَ وَالْقَلَقَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں