ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق علیہما السلام کا بیان

ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق علیہما السلام کا بیان

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو ان کی زوجہ محترمہ سارہ علیہا السلام سے بیٹا اسحاق عطا فرمایا اور پھر اس کے ساتھ ہی پوتے یعقوب کی بھی خوشخبری سنا دی
فرمایا :
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
اور ہم نے اسے اسحاق اور زائد انعام کے طور پر یعقوب عطا کیا اور سبھی کو ہم نے نیک بنایا۔
الأنبياء : 72

’’ نَافِلَةً ‘‘ کا معنی زائد عطیہ ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور زائد انعام کے طور پر یعقوب (پوتا) عطا کیا۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب دونوں زائد انعام کے طور پر عطا کیے۔

زائد اس لیے قرار دیا کہ جب ابراہیم علیہ السلام ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی :
« رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ »
’’اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔‘‘
الصافات : 100
اس دعا کے نتیجے میں تو اسماعیل علیہ السلام عطا ہوئے جیسا کہ اگلی آیت میں ہے
« فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ »
الصافات : 101
’’تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔‘‘
یہ بردبار لڑکا اسماعیل علیہ السلام تھے

اور اسحاق اور یعقوب ویسے ہی بغیر مانگے اضافی انعام کے طور پر عطا کردیے گیے اس لیے انہیں زائد عطیہ قرار دیا جو اسماعیل علیہ السلام کے بعد بلاطلب عطا ہوئے۔

*بیٹے اسحاق اور پوتے یعقوب کی خوشخبری دینے کے لیے ان کے گھر فرشتوں کی آمد*

ان فرشتوں کو سورہ حجر میں ابراہیم علیہ السلام کے مہمان کہا گیا ہے
چنانچہ فرمایا :
وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ
اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔
الحجر : 51

شاید مہمان اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے گھر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے

*فرشتوں نے سب سے پہلے سلام کہا*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا
جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا۔
الحجر : 52

*ابراهيم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا*

قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ
انھوں نے سلام کہا، تو اس نے (جوابا) کہا (کہ تم پر بھی) سلام ہو
هود : 69

*گھر داخل ہوں تو سب سے پہلے سلام کہیں*

فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جس میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنے کا حکم ہے۔
دیکھیے سورۂ نور :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ انس حاصل کر لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کہو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
النور : 27

اور حدیث میں ہے :
ابن عمر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے :
[ اَلسَّلَامُ قَبْلَ السُّؤَالِ فَمَنْ بَدَأَكُمْ بِالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيْبُوْهٗ ]
[ السلسلۃ الصحیحۃ : 458/1، ح : 816 ]
’’سلام سوال سے پہلے ہے، جو تم سے سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب مت دو۔‘‘
اور ایک روایت میں فرمایا :
[ مَنْ بَدَأَ بِالْكَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيْبُوْهٗ ]
[ صحیح الجامع : 6122 ]
’’جو سلام سے پہلے بات کرے اسے جواب مت دو۔‘‘

ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہتر جواب دیا جو سورۂ نساء میں ہے
دیکھیے سورہ نساء :
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا
اور جب تمھیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔
النساء : 86

*ابراهيم علیہ السلام فرشتوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں*

فرمایا :
فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ
پھر دیر نہیں کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔
هود : 69

*ابراهيم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے*

معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے، یہ وصف ہر نبی خصوصاً ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بہت پایا جاتا تھا۔
ہماری ماں خدیجہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے موقع پر آپ کے اوصاف میں اس وصف کا خصوصی ذکر فرمایا : [ وَتَقْرِي الضَّيْفَ ]
[ بخاری : 3 ]
’’آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہ حال تھا کہ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
[ كَانَ ابْنُ عُمْرَ لَا يَأْكُلُ حَتَّی يُؤْتٰی بِمِسْكِيْنٍ يَأْكُلُ مَعَهٗ ]
[بخاری : 5393 ]
’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مسکین ان کے ساتھ کھانے کے لیے نہ لایا جاتا۔‘‘

*مہمان نوازی کا ایک زریں اصول اور ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ*

یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مہمان نوازی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، نہ ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ سورۂ ذاریات میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چپکے سے گھر گئے اور کھانا لے آئے۔ وقت کی مناسبت سے جو حاضر ہو پیش کر دیا جائے، مہمان کی خواہش ہے تو کھا لے، ورنہ اس کی مرضی۔

*فرشتوں نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھا*

ابراہیم علیہ السلام نے جب کھانا لا کر پیش کر دیا تو دیکھا کہ مہمان تو کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھا رہے
سورہ ھود میں ہے :
فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے
هود : 70

*ابراہیم علیہ السلام نے کھانے کے لیے اصرار کیا*

پہلے کہا :
«قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ»
[ الذاریات : 27 ]
’’فرمایا کیا تم کھاتے نہیں ہو؟‘‘

لیکن اس کے باوجود بھی جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا :
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ
اس نے کہا تو اے بھیجے ہوؤ! تمھارا معاملہ کیا ہے؟
الحجر : 57

*ابراهيم علیہ السلام خوف محسوس کرنے لگے*

اور دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا
هود : 70

اور سورۂ حجر میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے صاف کہہ دیا :
إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ
ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔
الحجر : 52

*خوف کی وجہ کیا تھی*

خوف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول نہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے
یا یہ بھی ہو سکتا ہے اور شاید یہی زیادہ موقع کے مناسب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

*علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔*

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام اولو العزم پیغمبر ہو کر بھی مہمانوں کو پہچان نہ سکے، ورنہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کرتے، کیونکہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام علم غیب نہیں رکھتے تھے تو پھر ان لوگوں کی کیا اوقات ہے جو نہ نبی ہیں اور نہ ان کے اصلی حالات اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کیا حیثیت ہے؟

*فرشتوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا:*

فرشتوں نے آپ کے خوف کو بھانپ لیا
تو کہنے لگے :
قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ
انھوں نے کہا ڈر نہیں، بے شک ہم تجھے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں۔
الحجر : 53

سورہ ذاریات میں ہے :
« وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ »
[ الذاریات : 28 ]
’’اور انھوں نے اسے (ابراہیم علیہ السلام ) کو ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘

فرشتوں نے انھیں ایک بیٹا عطا ہونے کے علاوہ مزید پوتا یعقوب عطا ہونے کی خوش خبری بھی دی

جیسا کہ فرمایا :
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔
هود : 71

*فرشتوں نے ایک اور تسلی دی*

فرمانے لگے :
قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ
انھوں نے کہا نہ ڈر! بے شک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
هود : 70

سورہ عنکبوت میں ہے فرشتے کہنے لگے :
قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ
انھوں نے کہا یقینا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، بے شک اس کے رہنے والے ظالم چلے آئے ہیں۔
العنكبوت : 31

لوط علیہ السلام کی ملعون قوم کی بربادی کی خبر بھی ابراہیم اور لوط علیھما السلام دونوں کے لیے خوش خبری ہے، البتہ قوم لوط کے لیے بری خبر ہے۔
یعنی آپ مت ڈریں، ہمیں (آپ کی بستی پر نہیں بلکہ) لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔

*فرشتوں کی طرف سے چار خوشخبریاں*

*پہلی اور دوسری خوشخبری*
بیٹے اور پوتے کی خوشخبری تھی
*تیسری خوشخبری*
اس کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہو گا، پھر اس کی شادی ہو گی اور اسے یعقوب عطا ہو گا
*چوتھی خوشخبری*
یہ ہوئی کہ انہیں حوصلہ مل گیا کہ یہ فرشتے ہماری نہیں کسی اور قوم کی طرف عذاب لے کر آئے ہیں
گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔

*آپ کی بیوی سارہ علیھا السلام ہنسنے لگی*

ان کی بیوی سارہ علیھا السلام مہمانوں کی خدمت کے لیے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی
فرمایا :
وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ
اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی
ھود : 71

*ہنسنے کی وجہ*

یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی
مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط علیہ السلام کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقینا خوشی ہوتی ہے۔

*سارہ علیھا السلام تعجب کرنے لگی*

بیٹے کی خوشخبری ایک ایسی چیز کی خوش خبری تھی جو ساری زندگی کی آرزو کا خلاصہ تھی اور یہ اس وقت ملی جب دنیاوی اسباب کے لحاظ سے اس کی امید ہی نہ تھی تو سارہ علیھا السلام کی ہنسی حیرت اور دہشت میں بدل گئی۔
کہنے لگی :
قَالَتْ يَا وَيْلَتَى أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے.
هود : 72

*ابراهيم علیہ السلام بھی تعجب میں پڑ گئے*

چنانچہ کہنے لگے :
قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ
اس نے کہا کیا تم نے مجھے اس کے باوجودخوشخبری دی ہے کہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے، تو تم کس بات کی خوشخبری دیتے ہو؟
الحجر : 54

*سارہ علیھا السلام کے تعجب پر فرشتوں کا جواب*

فرشتوں نے سارہ کو متعجب دیکھا تو کہنے لگے :
قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
هود : 73

یعنی آپ بڑھاپے میں بچے کی پیدائش پر تعجب کررہی ہیں وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کر سکتا ہے، پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ جب اللہ کے امر کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں تو تعجب کیسا؟۔
پھر اس گھر میں شروع سے اللہ کی رحمت وبرکت کے جو معجزے ظاہر ہوتے رہے ہیں، مثلاً آگ کا گلزار ہونا، اسماعیل علیہ السلام کا ذبح سے محفوظ رہنا، مصر کے اس ظالم جبار سے سارہ علیھا السلام کی عصمت کا محفوظ رہنا وغیرہ، ان کے بعد تو اللہ کے حکم سے کسی بھی ناممکن کام کے ہو جانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

*فرشتوں نے تعجب میں پڑے ابراہیم علیہ السلام کو بھی جواب دیا*

کہنے لگے :
قَالُوا بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْقَانِطِينَ
انھوں نے کہا ہم نے تجھے حق کی خوشخبری دی ہے، سو تو نا امید ہونے والوں سے نہ ہو۔
الحجر : 55

*ابراهيم علیہ السلام کا فرشتوں کو جواب*

آپ فرمانے لگے :
قَالَ وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ
اس نے کہا اور گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔
الحجر : 56

یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے، ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔

*ابراهيم علیہ السلام قوم لوط کے متعلق فرشتوں سے بحث کرنے لگے*

بیٹوں کی ابشار و تبشیر کے بعد ابراہیم علیہ السلام گفتگو کا رخ قوم لوط کی طرف موڑتے ہیں
سورہ ھود میں ہے:
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ
پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی اور اس کے پاس خوش خبری آگئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
هود : 74

*فرشتوں سے بحث کرنے کی وجہ*

فرشتوں سے بحث کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے بتایا کہ ہم قوم لوط کو تباہ کرنے آئے ہیں تو فوراً ابراہیم علیہ السلام کے دل میں لوط علیہ السلام کا خیال پیدا ہوا کہ اگر پورا شہر تباہ ہو گیا تو لوط اور اس کے گھر والوں کا کیا بنے گا
سورہ عنکبوت میں یہی وجہ بیان ہوئی ہے :
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا
ابراهيم علیہ السلام نے کہا اس میں تو لوط ہے۔
العنكبوت : 32

یعنی تم اس بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہو جبکہ وہاں تو لوط علیہ السلام بھی ہیں، مطلب یہ تھا کہ ان کا کیا بنے گا؟

فرشتوں کا جواب*

فرشتوں نے لوط علیہ السلام کے متعلق ابراہیم علیہ السلام کے تحفظات دور کرتے ہوئے کہا :
قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
انھوں نے کہا ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں ہے، یقینا ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو ضرور بچالیں گے، مگر اس کی بیوی، وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہے۔
العنكبوت : 32

سورہ حجر میں ہے فرشتوں نے کہا :
قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُجْرِمِينَ
انھوں نے کہا بے شک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
الحجر : 58
إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ
سوائے لوط کے گھر والوں کے کہ یقینا ہم ان سب کو ضرور بچا لینے والے ہیں۔
الحجر : 59
إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ
مگر اس کی عورت، ہم نے طے کر دیا ہے کہ بے شک وہ یقینا پیچھے رہنے والوں سے ہے۔
الحجر : 60

*بحث کرنے کی وجہ*

بحث کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم علیہ السلام نہایت بردبار، تحمل مزاج انسان تھے، اگرچہ انہیں مشرک اور ظالم قوم کی بربادی کی خوشی تھی لیکن شاید کہ وہ ان کی ھدائت کی امید سے مزید مہلت کے متمنی تھے
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ
بے شک ابراہیم تو نہایت بردبار، بہت آہ و زاری کرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔
هود : 75

*فرشتوں نے قوم لوط سے متعلق بات ختم کرتے ہوئے آخری فیصلہ سنایا*

بالآخر فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اب بحث و تکرار کا کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آ جانے کے بعد عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔
کہنے لگے :
يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ
اے ابراہیم! اسے رہنے دے، بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا حکم آچکا اور یقینا یہ لوگ! ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جو ہٹایا جانے والا نہیں۔
هود : 76

*ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے دیگر فضائل*

*اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور ان کی اولاد کو نیک بنایا ہے*

چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
اور ہم نے اسے اسحاق اور زائد انعام کے طور پر یعقوب عطا کیا اور سبھی کو ہم نے نیک بنایا۔
الأنبياء : 72

یہاں ’’كُلًّا‘‘ سے مراد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام ہیں کیونکہ پیچھے بات انھی کی ذکر ہوئی ہے۔

*اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی آل اولاد کو چن لیا گیا*

چناچہ فرمایا :
إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
بے شک اللہ نے آدم اور نوح کو اور ابراہیم کے گھرانے اور عمران کے گھرانے کو جہانوں پر چن لیا۔
آل عمران : 33

*اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں پیغمبر بنائے*

فرمایا :
أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا
یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا نبیوں میں سے، آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد سے اور ان لوگوں سے جنھیں ہم نے ہدایت دی اور ہم نے چن لیا۔ جب ان پر رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔
مريم : 58

اور فرمایا :
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔
الأنبياء : 73

اور فرمایا :
وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو نبی ہو گا، صالح لوگوں سے (ہو گا)۔
الصافات : 112

*ابراهيم علیہ السلام اور انکے بیٹے بڑی بصیرت والے تھے*

فرمایا :
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔
ص : 45

(ہاتھوں والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی بڑی قوت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے۔

اور (آنکھوں) کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد دینی بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔

*آپ کی اولاد کو کتاب، حکمت اور بادشاہت عطا کی*

دنیا ہی میں انھیں یہ انعام دیا کہ بڑھاپے میں انھیں نیک اولاد سے نوازا، ان کے بعد ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کر دیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

فرمایا :
فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا
ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔
النساء : 54

مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہت رہی ہے اور داؤد و سلیمان علیھما السلام اور دوسرے اولوا العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں

*ابراهيم علیہ السلام کا گھرانہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کی لپیٹ میں*

اللہ تعالیٰ نے اسی گھرانے سے ارشاد فرمایا :
رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
هود : 73

اور فرمایا :
وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَاقَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ
اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت نازل کی اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔
الصافات : 113

*درود ابراہیمی*

درود ابراہیمی میں بھی اس گھرانے پر اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کا تذکرہ اور حوالہ موجود ہے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

*ابراہیم علیہ السلام کی اپنی اولاد کے لیے دعائیں*

*دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو اپنا فرمانبردار بنا*

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماںبردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی نہایت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
البقرة : 128

*اے اللہ مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت سے بچا*

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم اور اپنے والد کی صنم پرستی اور اس پر اصرار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لیے وہ اپنے یا اپنی اولاد کے اس میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ تھے، سو انھوں نے یہ دعا کی۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔
إبراهيم : 35
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اے میرے رب! بے شک انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، پھر جو میرے پیچھے چلا تو یقینا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا توُ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
إبراهيم : 36

بے شمار قوموں کے صنم پرستی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ اے پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، مراد یہ ہے کہ یہ ان کی گمراہی کا باعث بن گئے، جیسے کہتے ہیں کہ سڑک لاہور لے جاتی ہے، وہ تو صرف ذریعہ ہے، جانے والا جاتا تو خود ہے۔

*ہمارے لیے سبق*

ہمیں بھی ہر وقت اس بات کی فکر رہنی چاہیے کہ ہم یا ہماری اولاد کسی طرح شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں، ہمیں اپنی اولاد کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اسے توحید کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔

*اپنی اولاد میں آخری رسول کے مبعوث ہونے کی دعا کرتے ہیں*

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
البقرة : 129

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[أَنَا دَعْوَةُ أَبِيْ إِبْرَاهِيْمَ]
[سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، ح : 1546]
’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘

*بوقت وفات اولاد کو وصیت*

وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی۔ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہرگز فوت نہ ہونا مگر اس حال میں کہ تم فرماں بردار ہو۔
البقرة : 132

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں