*ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کا بیان*

*ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کا بیان*

آگ سے بچ جانے اور ہجرت کی راہ پر گامزن ہونے کے وقت تک ابراہیم علیہ السلام کی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ جب وہ اپنی قوم سے مایوس ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پروردگارا! مجھے اپنی قوم اور خاندان کے عوض صالح اولاد عطا فرما، جو غریب الوطنی میں میری مونس و غم خوار اور مددگار ہو۔

*ابراهيم علیہ السلام نیک اولاد کی دعا کرتے ہیں*

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو ۔
الصافات : 100

*ایک سبق*

جو شخص اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے متبادل کے طور پر ضرور کوئی اچھی چیز عطا کرتا ہے
ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے لیے گھر ،وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد سے نوازا

*اولاد کی پیدائش کے وقت آپ بوڑھے ہو چکے تھے*

اس کی ایک دلیل تو خود ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ثابت ہے چنانچہ آپ کو جب بیٹے کی خوشخبری سنائی گئی تو آپ فرمانے لگے :
قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ
اس نے کہا کیا تم نے مجھے اس کے باوجودخوشخبری دی ہے کہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے، تو تم کس بات کی خوشخبری دیتے ہو؟
الحجر : 54

ابراهيم علیہ السلام کے الفاظ *مَسَّنِيَ الْكِبَرُ * سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے بڑی عمر اور بڑھاپے میں عطا کیے گئے

*بیٹوں کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر کتنی تھی*

لیکن یہ بات کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟ یہ بالتعیین کسی صحیح حدیث سے معلوم نہیں ہے ، اس کے لیے صرف اسرائیلی روایات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو ابراہیم علیہ السلام ننانویں (99) برس کے تھے اور اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ علیہ السلام کی عمر ایک سو بارہ (112) برس تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہم اس کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتے۔

*بیٹوں کی پیدائش پر ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں*

فرماتے ہیں :
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ
سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ بے شک میرا رب تو بہت دعا سننے والا ہے۔
إبراهيم : 39

*ہمارے لیے سبق*

ابراهيم علیہ السلام کے الفاظ *وَهَبَ لِي* سے معلوم ہوا اولاد اللہ تعالیٰ کا ہبہ ہے، یہ صرف اسباب جمع ہو جانے سے نہیں ہوتی، ورنہ ہر تندرست جوڑے کے ملنے سے اولاد ہو جاتی، بلکہ یہ محض عطائے الٰہی ہے، وہ بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے، چاہے تو لڑکے ہی دے، چاہے لڑکیاں، چاہے دونوں ملا کر دے اور چاہے تو بے اولاد رکھے۔

*ایک اور سبق*

اس سے ایک سبق اور ملتا ہے کہ اولاد کی پیدائش کے بعد اسے اللہ تعالیٰ کی عطا ہی سمجھا جائے اور اس پر اللہ ہی کا شکر ادا کیا جائے، ہمارے معاشرے میں یہ بڑی ظلم کی بات رائج ہو گئی ہے کہ لوگ اپنی اولادوں کو مختلف بابوں، پیروں اور فقیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ اللہ کے حق پر بہت بڑا ڈاکہ ہے

*بیٹے اسماعیل کی خوشخبری*

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔
یہ بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔
فرمایا :
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ
تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔
الصافات : 101

*بیٹے إسحاق علیہ السلام کی خوشخبری*

اسماعیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام بھی عطا کیے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے
عنکبوت : 27

اسحاق بیٹے اور یعقوب پوتے ہیں

*پہلے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا کچھ تذکرہ*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا
اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کر، یقینا وہ وعدے کا سچا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
مريم : 54

*اسماعیل علیہ السلام دنیا کے بہترین لوگوں میں سے ایک ہیں*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کراور یہ سب بہترین لوگوں سے ہیں۔
ص : 48

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيْمَ إِسْمَاعِيْلَ ]
[ ترمذي : 3605 ]
’’اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کو منتخب فرمایا۔‘‘

*اسماعيل علیہ السلام، اللہ کے رسول تھے اور وعدے کے بہت سچے تھے*

اسماعیل علیہ السلام بنو جرہم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیے گئے تھے، جن کے وہ داماد بھی تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا
اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کر، یقینا وہ وعدے کا سچا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
مريم : 54

گو تمام انبیاء وعدے کے سچے ہوتے ہیں مگر اسماعیل علیہ السلام میں یہ صفت خاص طور پر پائی جاتی تھی۔

*اسماعیل علیہ السلام کی تعلیمات*

آپ کی تعلیمات یہ تھیں :
وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔
مريم : 55

اسماعیل علیہ السلام کے اس عمل کی پابندی کا حکم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ذریعے سے ہمیں بھی دیا گیا
چنانچہ فرمایا :
« وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى »
[ طٰہٰ : 132 ]
’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘

*ابراہیم علیہ السلام کی بیٹے کے ذریعے آزمائش کہ اپنی اولاد کو ویران اور بے آب و گیاہ زمین میں چھوڑ آؤ *

بڑھاپے میں بیٹا ملا، دعائیں کر کر کے لیا، تب تک ایک ہی بیٹا تھا، اکلوتے بیٹے سے محبت بھی بہت زیادہ تھی
مگر
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش آ گئی، کیا آزمائش تھی، یہ کہ بیٹے کو صحراؤں میں چھوڑ آؤ

ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا

چھوڑنے کے بعد فرمانے لگے :
رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ
اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس
إبراهيم : 37

*جب اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑا تب وہ دودھ پیتے بچے تھے*

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا پھر ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور ان کے بیٹے اسماعیل کو ساتھ لے کر مکہ میں آئے
وَهِيَ تُرْضِعُهُ
اس وقت ابھی وہ اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں ۔

*ان دنوں مکہ میں کوئی انسان تھا نہ پانی*

ابراہیم علیہ السلام نے دونوں کو ایک بڑے درخت کے پاس بٹھادیا جو اس جگہ تھا جہاں اب زمزم ہے ۔ مسجد کی بلند جانب میں ۔
وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ، وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ
بخاری : 3364
ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہیں تھا ۔ اس لیے وہاں پانی نہیں تھا ۔

*ابراہیم علیہ السلام بیٹے اور بیوی کو کیا دے کر گئے*

ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں کو وہیں چھوڑدیا اور ان کے لیے ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجور اور ایک مشک میں پانی رکھ دیا ۔
بخاری : 3364

*ہاجر اور ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو اور ہاجر کا مثالی توکل*

پھر ابراہیم علیہ السلام ( اپنے گھر کے لیے ) روانہ ہوئے ۔ اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم ! اس خشک جنگل میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں ، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں ؟ انہوں نے کئی دفعہ اس بات کو دہرایا لیکن ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے ۔ آخر ہاجرہ علیہا السلام نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں ، اس پر ہاجرہ علیہ السلام بول اٹھیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا ، وہ ہم کو ہلاک نہیں کرے گا ۔ چنانچہ وہ واپس آگئیں اور ابراہیم علیہ السلام روانہ ہوگئے ۔
بخاری : 3364

*بیوی اور بچے کی نظروں سے اوجھل ہو کر دعا کرنے لگے*

جب وہ ثنیہ پہاڑی پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو ادھر رخ کیا ، جہاں اب کعبہ ہے ( جہاں پر ہاجرہ اور اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ کر آئے تھے ) پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھاکر یہ دعا کی :

رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انھیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔
إبراهيم : 37

اسی دعا کے الفاظ ایک اور مقام پر یوں بیان ہوئے ہیں :
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول کر۔
إبراهيم : 40

*ہمارے لیے سبق*

معلوم ہوا کہ آدمی کو خود بھی اور اولاد کو بھی ایسی جگہ ٹھہرانا چاہیے جہاں اہل توحید کی مسجد پہلے سے موجود ہو، یا جب آدمی وہاں سکونت اختیار کرے تو سب سے پہلا کام اپنا مکان اور مسجد بیک وقت بنانے کا کرے، خواہ کچی اینٹوں کی چار دیواری ہی ہو، جیسا کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی کیا تھا، تاکہ اقامت صلاۃ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور وہ آبادیاں تو رہنے کے قابل ہی نہیں جو نہایت عالی شان ہونے کے باوجود اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے بنائی ہوئی مسجدوں سے خالی ہیں، یا وہاں ایسی مسجدیں گھر سے اتنی دور ہیں کہ نماز کے لیے وقت پر پہنچنا مشکل ہے۔

*ابراهيم علیہ السلام کی دعا کا ایک عجیب انداز چیک کریں*

ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے اور بیوی کو صحرائے عرب میں چھوڑا تو اپنے رب کے سامنے ہاجر و اسماعیل علیھما السلام سے جدائی کے وقت گزرنے والی کیفیت، جو آنکھوں کے آنسوؤں یا دل کی بے قراری کی وجہ سے دونوں میاں بیوی پر گزر رہی تھی، پیش کردی مگر شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائے
دعا کے الفاظ کیا تھے؟
رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
اے ہمارے رب! یقینا تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر کوئی چیز نہیں چھپتی زمین میں اور نہ آسمان میں۔
إبراهيم : 38

یعنی ہماری چھپی ہوئی دلی خواہشوں کو اور جو کچھ ہم زبان سے مانگ رہے ہیں تو سب جانتا ہے۔ یہ مانگنے کا بہترین طریقہ ہے کہ صرف تعریف پر اکتفا کیا جائے۔

*اسماعیل علیہ السلام اور آپ کی والدہ پیاس سے تڑپنے لگے*

ادھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کو دودھ پلانے لگیں اور خود پانی پینے لگیں ۔ آخر جب مشک کا سارا پانی ختم ہوگیا تو وہ پیاسی رہنے لگیں اور ان کے لخت جگر بھی پیاسے رہنے لگے ۔ وہ اب دیکھ رہی تھیں کہ سامنے ان کا بیٹا ( پیاس کی شدت سے ) پیچ و تاب کھارہا ہے یا ( کہا کہ ) زمین پر لوٹ رہا ہے ۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں کیوں کہ اس حالت میں بچے کو دیکھنے سے ان کا دل بے چین ہوتا تھا ۔
بخاری : 3364

*پانی کی تلاش میں صفا مروہ کے چکر*

صفا پہاڑی وہاں سے نزدیک ترتھی ۔ وہ ( پانی کی تلاش میں ) اس پر چڑھ گئیں اور وادی کی طرف رخ کرکے دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی انسان نظر نہیں آیا وہ صفا سے اترگئیں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھالیا ( تاکہ دوڑتے وقت نہ الجھیں ) اور کسی پریشان حال کی طرح دوڑنے لگیں پھر وادی سے نکل کر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑی ہوکر دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا ۔ اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے ۔
بخاری : 3364

*صفا مروہ کی سعی کرنا ہاجر علیھا السلام کی ہی سنت ہے*

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( صفا اور مروہ کے درمیان ) لوگوں کے لیے دوڑنا اسی وجہ سے مشروع ہوا ۔
بخاری : 3364

*فرشتے نے زمزم کے کنوے کی نشاندہی کی*

اللہ تعالیٰ نے صحراء میں اسماعیل اور ان کی والدہ محترمہ کی حفاظت کی

( ساتویں مرتبہ ) جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی ، انہوں نے کہا ، خاموش !
یہ خود اپنے ہی سے وہ کہہ رہی تھیں اور پھر آواز کی طرف انہوں نے کان لگادئیے ۔ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی پھر انہوں نے کہا کہ تمہاری آواز میں نے سنی ۔ اگر تم میری کوئی مدد کرسکتے ہو تو کرو ۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اب زمزم ( کا کنواں ) ہے ، وہیں ایک فرشتہ موجود ہے ۔ فرشتے نے اپنی ایڑی سے زمین میں گڑھا کردیا ، یا یہ کہا کہ اپنے بازو سے ، جس سے وہاں پانی ابل آیا ۔
بخاری : 3364

*ہاجر نے اسے حوض کی شکل میں بنادیا*

حضرت ہاجرہ نے اسے حوض کی شکل میں بنادیا اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کردیا ( تاکہ پانی بہنے نہ پائے ) اور چلو سے پانی اپنے مشکیزہ میں ڈالنے لگیں ۔ جب وہ بھرچکیں تووہاں سے چشمہ پھرابل پڑا ۔
بخاری : 3364

*اگر ہاجر علیھا السلام حوض نہ بناتیں تو*

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ – أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ – لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ”
بخاری : 3364
اللہ ! ام اسماعیل پر رحم کرے ، اگر زمزم کوانہوں نے یوں ہی چھوڑ دیا ہوتا یا آپ نے فرمایا کہ چلو سے مشکیزہ نہ بھراہوتا تو زمزم ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت میں ہوتا ۔

*ہاجر اور ان کے ننھے بیٹے نے پانی پیا*

پھر ہاجرہ علیہ السلام نے خود بھی وہ پانی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا ۔
بخاری : 3364

*فرشتے نے ہاجر علیھا السلام کو تسلی دی*

اس کے بعد ان سے فرشتے نے کہا کہ اپنے برباد ہونے کا خوف ہرگز نہ کرنا کیوں کہ یہیں خدا کا گھر ہوگا جسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا ، اب جہاں بیت اللہ ہے ، اس وقت وہاں ٹیلے کی طرح زمین اٹھی ہوئی تھی ۔ سیلاب کا دھارا آتا اور اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کر لے جاتا ۔ اس طرح وہاں کے دن و رات گزرتے رہے
بخاری : 3364

*زمزم کے کنویں پر قبیلہ جرہم کی آمد*

اور آخر ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) قبیلہ جرہم کے چند گھرانے مقام کداء( مکہ کا بالائی حصہ ) کے راستے سے گزرکر مکہ کے نشیبی علاقے میں انہوں نے پڑاو کیا ( قریب ہی ) انہوں نے منڈلاتے ہوئے کچھ پرندے دیکھے
ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرندہ پانی پر منڈلارہا ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی ہم اس میدان سے گزرے ہیں یہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔ آخر انہوں نے اپنا ایک آدمی یا دو آدمی بھیجے ۔ وہاں انہوں نے واقعی پانی پایا چنانچہ انہوں نے واپس آکرپانی اطلاع دی ۔ اب یہ سب لوگ یہاں آئے ۔
بخاری : 3364

*قبیلہ جرہم کی ام اسماعیل علیھا السلام سے گفتگو*

راوی نے بیان کیا کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اس وقت پانی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑاو ڈالنے کی اجازت دیں گی ۔ ہاجرہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا ۔ انہوں نے اسے تسلیم کرلیا
بخاری : 3364

*اکیلی ہاجر کو ہمسائے مل گئے*

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اب ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے ۔ انسانوں کی موجودگی ان کے لیے دلجمعی کا باعث ہوئی ۔ ان لوگوں نے خود بھی یہاں قیام کیا اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلوالیا اور وہ سب لوگ بھی یہیں آکر ٹھہر گئے ۔ اس طرح یہاں ان کے کئی گھرانے آکر آباد ہوگئے اور بچہ ( اسماعیل علیہ السلام جرہم کے بچوں میں ) جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھ لی ۔
بخاری : 3364

*اسماعیل علیہ السلام کی شادی*

جوانی میں اسماعیل علیہ السلام ایسے خوبصورت تھے کہ آپ پر سب کی نظریں اٹھتی تھیں اور سب سے زیادہ آپ بھلے لگتے تھے ۔
چنانچہ جرہم والوں نے آپ کی اپنے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کردی ۔
بخاری : 3364

*اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ وفات پا گئی*

پھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہ السلام ) کا انتقال ہوگیا ) ۔
بخاری : 3364

*ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے ملنے آتے ہیں*

اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام یہاں اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے ۔

*اپنی بہو، یعنی اسماعیل کی بیوی سے ملاقات*

جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے ۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں ۔ پھر آپ نے ان سے ان کی معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے ، بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے ۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی
ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں ۔ پھر جب اسماعیل علیہ السلام واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا ، کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے ؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، میں نے انہیں بتایا ( کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں ) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزراوقات کا کیا حال ہے ؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزراوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے ۔
اسماعیل علیہ السلام نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی ؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں ۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں جدا کردوں ، اب تم اپنے گھر جاسکتی ہو ۔ چنانچہ اسماعیل علیہ السلام نے انہیں طلاق دے دی
بخاری : 3364

*اسماعیل علیہ السلام کی دوسری شادی*

پھر آپ نے بنی جرہم ہی میں ایک دوسری عورت سے شادی کرلی ۔

*ابراہیم علیہ السلام کی بیٹے سے ملاقات کے لیے دوبارہ تشریف آوری اور دوسری بہو سے گفتگو*

جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ، ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں نہیں آئے ۔
پھر جب کچھ دنوں کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر پر موجود نہیں تھے ۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے ؟ آپ نے ان کی گزربسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا ، انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھاہے ، بڑی فراخی ہے ، انہوں نے اس کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی ۔ ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو ؟انہوں نے بتایا کہ گوشت ! آپ نے دریافت کیا فرمایا کہ پیتے کیا ہو ؟ بتایا کہ پانی ! ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعاءکی ، اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا ۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے ۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا ۔ ابراہیم علیہ السلام نے ( جاتے ہوئے ) اس سے فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آجائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں
جب اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے ۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی پھر انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا ( کہ کہاں ہیں ؟ ) اور میں نے بتادیا ، پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے ۔ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں ۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ، انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں ۔
اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بزرگ میرے والد تھے ، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں ۔
بخاری : 3364

*ابراہیم علیہ السلام کا بیٹے کی ملاقات کے لیے تیسرا سفر اور اب کی بار ملاقات بھی ہوئی*

پھر جتنے دنوں اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ، کے بعد ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں ( جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے ) اپنے تیر بنارہے ہیں ۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہوگئے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا ۔

*ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کا ایک حکم سنایا*

پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : اسماعیل ! اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے ۔ اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا ، آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں ۔ انہوں نے فرمایا اور تم بھی میری مدد کرسکوگے ؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا ۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناوں اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے چاروں طرف !

*باپ بیٹا نے بیت اللہ کی تعمیر شروع کردی*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی ۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھااٹھاکر کر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے ۔
جب دیواریں بلند ہوگئیں تو اسماعیل یہ پتھر لائے اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے اسے رکھ دیا ۔ اب ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہوکر تعمیر کرنے لگے ، اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے تھے

*تعمیر کے دوران دعا کرتے ہیں*

اور یہ دونوں یہ دعا پڑھتے جاتے تھے ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
ہمارے رب ! ہماری یہ خدمت تو قبول کر بے شک تو بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
[بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب «یزفون » النسلان في المشي : 3334، 3335]

*بیٹے کے ذریعے ایک اور آزمائش، یہ آزمائش پہلے سے بھی بڑی آزمائش تھی*

اس کو تو خود اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا امتحان قرار دیا
فرمایا :
إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
بے شک یہی تو یقینا کھلی آزمائش ہے۔
الصافات : 106

*وہ آزمائش یہ تھی کہ بیٹے اسماعیل کو ذبح کر دو*

یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقینا یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔

ابراہیم علیہ السلام وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہو گیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ کر لیا اور بیٹے سے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ، تو کیا خیال کرتا ہے۔
سورہ صافات میں ہے :
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ
پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ د ھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں
صافات : 102

*بیٹے سے مشورہ کیوں کیا*

بیٹے کی رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر وہ نہ مانتا تو وہ اللہ کے حکم پر عمل نہ کرتے، بلکہ وہ اپنے ساتھ بیٹے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں شریک کرنا چاہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے ضرور آمادگی کا اظہار کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حلیم لڑکے کی بشارت دی تھی اور واقعی بیٹے نے یہ کہہ کر حلیم ہونے کا ثبوت دیا جو اگلے جملے میں مذکور ہے۔

*فرمانبردار بیٹے کا جواب*

اسماعیل علیہ السلام نے اسے محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھا اور کہا اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کیجیے۔

قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
اس نے کہا اے میرے باپ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا ۔
صافات : 102

*ذبح کرنے کے لیے بیٹے کو کنپٹی کے بل لٹا دیا*

اللہ اکبر
کیا سخت امتحان تھا
اور کیا کمال کی اطاعت اور فرمانبرداری تھی
سگے باپ نے سگے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا کہ حکم الہی پر عمل کرتے ہوئے ذبح کردوں
فرمایا :
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔
الصافات : 103

*لفظ "جبین” کا معنی کرنے میں عام مفسرین کی غلطی*

جبین کا معنی ’’جَبْهَةٌ‘‘ (ماتھے) کی ایک جانب ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ’’اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔‘‘
اس مقام پر جبین سے مراد ماتھا لینا بہت بعید ہے

عام طور پر مفسرین نے ’’اَلْجَبِيْنُ‘‘ کا ترجمہ پیشانی یا ماتھا کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں دل میں رِقّت اور ہاتھ میں لرزش پیدا نہ ہو جائے۔
بعض نے کچھ آثار بھی نقل کیے ہیں کہ اسماعیل علیہ السلام نے خود ابراہیم علیہ السلام کو ایسا کرنے کی وصیت کی۔
بعض نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے کہنے پر اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیے اور اسے الٹا لٹا لیا اور چاہتے تھے کہ نیچے سے گردن پر چھری پھیریں۔
مگر یہ سب اسرائیلیات ہیں اور ان میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں۔

*ذمین پر لٹانے کے بعد کیا منظر بنا؟*

جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا) تو پھر کیا ہوا؟
صاحب کشف نے فرمایا :
’’جواب یہ ہے کہ (كَانَ مَا كَانَ) یعنی پھر ہوا جو ہوا۔‘‘
اس سوال کا جواب یہاں ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ بات بیان میں آنا مشکل ہے کہ اس وقت باپ کے دل پر کیا گزری تھی، فرشتوں کی حیرانی کا کیا عالم تھا اور اللہ تعالیٰ، جس کے حکم پر وہ عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے تھے، کس قدر خوش اور مہربان ہو رہا تھا۔

*اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ابراہیم! آپ امتحان میں پاس ہو گئے ہیں*

جب ان دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا اور ہوا جو ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا۔
فرمایا :
وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ
اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم !
الصافات : 104
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
الصافات : 105

مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا : ’’اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو کیسے فرمایا کہ تو نے خواب سچا کر دکھایا، حالانکہ انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، خواب سچا تو اسی صورت میں ہونا تھا کہ اسے ذبح کر دیتے؟ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب سچا کر دکھانے والا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کر دی، جو کچھ کر سکتے تھے کیا، ذبح کرنے والا جو کچھ کرتا ہے وہ سب کیا، تو اللہ تعالیٰ کو جو مطلوب تھا وہ انھوں نے ادا کر دیا اور وہ تھا اللہ تعالیٰ کے حکم کے لیے پوری طرح مطیع اور فرماں بردار ہو جانا۔‘‘

*اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم ذبیحہ دیا۔*

فرمایا اللہ تعالیٰ نے :
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔
الصافات : 107

یہ ایک مینڈھا تھا جو ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے قربان کر دیا۔ اسے عظیم اس لیے فرمایا کہ وہ اسماعیل علیہ السلام جیسے عظیم شخص کا فدیہ تھا اور اس لیے کہ اس کی قربانی عظیم عبادت تھی، جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے سنت قرار پائی۔

*مینڈھے کے متعلق غیر ثابت شدہ روایات*

تفسیری روایات میں اس مینڈھے کا جنت سے آنے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ یہ وہی مینڈھا تھا جو آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بطور قربانی دیا تھا۔ وہ جنت میں پلتا رہا اور اس موقع پر ابراہیم علیہ السلام کے لیے اتارا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو پہاڑ سے اتارا گیا تھا۔
مگر یہ تمام روایات اسرائیلی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بھی ثابت نہیں۔

*آزمائش میں پورا اترنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام*

فرمایا :
سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ
کہ ابراہیم پر سلام ہو۔
الصافات : 109
كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔
الصافات : 110
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔
الصافات : 111

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں