آئیڈیل ازم ایک گمنام حقیقت

آئیڈیل ازم ایک گمنام حقیقت

﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ۠۝۹۰﴾(الانعام:90)
یہ دنیا جو دار الامتحان اور دار الابتلاء ہے، مصیبتوں، تکلیفوں اور آزمائشوں کا گھر ہے، جو دکھوں، غموں اور پریشانیوں کی آماجگاہ ہے۔
یہ دنیا کہ جہاں نشیب و فراز ہیں، پگڈنڈیاں اور کھایاں ہیں، بھول بھلیاں ہیں، پیچ در یچ راستے ہیں ظلمات اور تاریکیاں میں جہاں دھوکے اور خود غرضیاں ہیں ظلم و ستم ہیں، جہاں بہت سے انسانی شکل میں بھیڑیئے اور درندے بستے ہیں، جہاں شیاطین الجن والانس ہیں اور جہاں نفس امارہ بھی ہے۔
اس دنیا میں سیدھی اور صاف ستھری، امن وامان والی، ہمدردی اور خیر خواہی والی، پیار محبت والی، ایثار و قربانی والی اور طمانیت والی زندگی گزارنا کتنا کٹھن ، دشوار اور مشکل ہے اندازہ کرنا شاید کسی کے لئے بھی مشکل نہ ہو۔
ایسی زندگی کے لئے انسان کو جہاں بہت زیادہ محنت و مشقت، اور سعی و جہد کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اسے ایک آئیڈیل اور مثالی شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کی رہنمائی میں اور جسے اپنے لئے نمونہ اور مشعل راہ بتا کر وہ زندگی گزار سکے۔
جب کوئی شخص کسی کو اپنا آئیڈیل بنالیتا ہے تو پھر وہ شخصیت پوری طرح اس کے دل و دماغ اور اس کے افکار و نظریات پر چھا جاتی ہے اور پھر آدمی کا ہر عمل اس آئیڈیل شخصیت کے طرز زندگی کا پر تو اور عکس ہوتا ہے۔ اور ہر شخص کا کوئی نہ کوئی آئیڈیل ضرور ہوتا ہے کہ جس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ انسان کی فطری خواہش اور ضرورت ہے اور انسان
شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے ہی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔
سب سے پہلی آئیڈیل شخصیت انسان کی اس کے والدین ہوتے ہیں کہ جن کی گود میں پرورش پاتا ہے، ان کا رہن سہن ان کا انداز گفتگو، ان کا طرز بود و باش اس کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے، پھر جیسے جیسے اس کا حلقہ احباب وسیع ہوتا جاتا ہے، معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، شعور میں پختگی اور افکار و نظریات میں تبدیلی آتی ہے، پسند اور ناپسند کا معیار بدلتا ہے تو اس کی آئیڈیل شخصیت کا انتخاب بھی بدل جاتا ہے۔
لفظ آئیڈیل اور مثالی کا مفہوم تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے رویوں میں ایک مثال اور نمونہ ہو کہ جس کے نقش قدم پر چلا جائے ۔
ایسا آئیڈیل شخص کہ جس کی ہر معاملے میں آنکھیں بند کر کے اقتداء کی جاسکے دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی نہیں ہے اور ان کے سرفہرست آپﷺ کی ذات اقدس ہے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام جیسا کامل اور حقیقی آئیڈیل کوئی نہیں ہو سکتا۔
ہاں جزوی اور اجمالی آئیڈیل ہو سکتے ہیں اور وہ بھی کامل نہیں جزوی آئیڈیل کا مطلب ہے کہ کسی ایک صفت اور خوبی میں یا کسی ایک شعبے میں کوئی شخص کسی کا آئیڈیل ہو سکتا ہے، اور عملی دنیا میں ایسا ہوتا بھی ہے ہر شخص کسی نہ کسی معاملے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی آئیڈیل کی تلاش میں ہوتا ہے، اور اگر اس کی یہ تلاش اور خواہش قرآن وحدیث سے ٹکرائی نہ ہو تو اس میں انسان کو آزادی اور اختیار حاصل ہے۔
مثال کے طور پر مرد کو ایک آئیڈیل بیوی کی تلاش اور خواہش ہوتی ہے اور عورت کو آئیڈیل خاوند کی ، اگر ان کے آئیڈیل ازم اور مثالیت کا معیار قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہو تب تو ایسے آئیڈیل کی تلاش اور خواہش نا جائز ہے۔
جیسا کہ کوئی مرد ایسی بیوی کی خواہش کرے کہ جو ٹاپ ماڈل گرل ہو، یا بہترین ایکٹریس ہو یا گلوکارہ ہو، تو چونکہ ایسی خواہش یقینًا قرآن و حدیث سے ٹکراتی ہے، لہذا ایسی صفات والی آئیڈیل بیوی کی تلاش جائز نہ ہوگی ، اسی طرح عورت کو اگر اس قسم کے خاوند کی تلاش ہو تو اس کے آئیڈیل ازم اور مثالیت کا معیار بھی قرآن وحدیث سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے نا جائز قرار پائے گا۔
لیکن اگر مرد کے نزدیک آئیڈیل بیوی کا معیار اس کا خوبصورت ہوتا، مالدار ہوتا اور حسب و نسب والی ہوتا ہو تو یہ جائز ضرور ہے مگر ترجیح اس کو ہے کہ:
((فَاظْفُرْ بِذَاتِ الدِّيْن)) (ابن ماجه:1858)
’’آپﷺ نے فرمایا: دین دار عورت کو ترجیح دو اس میں کامیابی پاؤ۔‘‘
اسی طرح عورت کو بھی اگر ایسی صفات والے خاوند کی تلاش ہو تو اس میں حرج نہیں، لیکن اس میں آپ سے تعلیم نے زیادہ تاکید کے ساتھ ہدایات فرمائیں اور مخالفت کی صورت میں وعید بھی سنائی، فرمایا:
((إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَونَ دِيْنَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوه))
’’ جب کوئی نکاح کی طلب لے کر تمہارے پاس آئے اور تمہیں اس کا دیدار ہونا اور با اخلاق ہونا پسند ہو تو اس سے شادی کردو۔‘‘
((إلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضُ (ترمذي:1084)
’’اگر ایسا نہیں کرو گے تو دنیا میں اس کی وجہ سے فتنہ اور لمبا چوڑ افساد بر پا ہوگا۔‘‘
یعنی اگر دنیا داری کو دینداری پر ترجیح دو گے تو معاشرے میں ایک بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔
لہٰذا د بیدار کو ترجیح دینی چاہیے، اس میں دنیوی فائدے بھی ہیں اور دینی بھی۔ جیسا کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ میں کسی طرح کے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کروں؟ تو فرمایا:
((مِمَّنْ يَتَّقِي الله))
’’جو اللہ سے ڈرتا ہو۔‘‘
(فَإِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمُهَا) (النفقة على العيال لابن ابی الدنيا ، رقم:125، شرح السنة للبغوي، رقم:2241)
’’اگر اسے پسند ہوگی تو اس کی تکریم کرے گا اور اگر نا پسند ہوگی تو ظلم نہیں کرے گا۔‘‘
تو بات یہ ہو رہی تھی کہ دنیا کے معاملات میں آدمی اپنا آئیڈیل مقرر کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے آئیڈیل ازم کا معیار قرآن وحدیث سے ٹکراتا نہ ہو اور اسے اپنے لئے آئیڈیل بنانے میں دین کی یادین کے کسی شعبے کی توہین ، تخفیف اور تحقیر نہ ہوتی ہو تو ایسی صورت میں آدمی کو آزادی ہے کہ وہ اپنی پسند نا پسند کے حوالے سے کسی کو اپنا آئیڈیل بنالے۔
جیسا کہ حضرت ثابت بن قیس اور جمیلہ بنت سَلول رضی اللہ تعالی عنہما کا قصہ مشہور ہے۔ حضرت ثابت جنہیں مغیث بھی کہا جاتا تھا اور حضرت جمیلہ جن کا نام بریرہ بھی تھا، چنانچہ مغیث اور بریرہ کے نام سے قصہ مشہور ہے۔
میاں بیوی دونوں غلام تھے، حضرت بریر ہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت خوبصورت تھیں اور حضرت مغیث نہایت نا پسندید شکل کے تھے البتہ انہیں اپنی بیوی سے شدید محبت تھی، مگر یہ محبت یک طرفہ تھی۔
حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کر لی ، چنانچہ ساتھ ہی انہوں نے حضرت مغیث رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا، کیونکہ وہ ان کے آئیڈیل خاوند نہیں تھے۔
وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو ئیں اور عرض کیا: (( يَا رَسُولَ الله ثَابِتُ بنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلْقٍ وَلَا
دين وَلَكِنِّي أكره الكُفْرَ فِي الإسلام ))
’’اللہ کے رسول ﷺ میں ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق میں کسی قسم کا نقص اور کمی نہیں پاتی مگر میں مسلمان ہوتے ہوئے کفر کو پسند نہیں کرتی۔‘‘
مطلب یہ کہ چونکہ میں اسے پسند نہیں کرتی اور اگر اس حالت میں اس کے ساتھ رہوں گی تو خطرہ ہے کہ میں کہیں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھوں کہ جس سے اسلام کی نفی اور انکار ہوتا ہو۔ اس کا مطلب گناہ کے ارتکاب کا ڈر بھی ہو سکتا ہے اور خاوند کی نافرمانی کا خطرہ بھی۔ حضرت مغیث رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ ان سے شدید محبت کرتے تھے، چنانچہ وہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے اس فیصلے کے بعد مدینہ کی گلیوں میں ان کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھرتے تھے، مگر حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا چونکہ ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی تھیں لہٰذا وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں.
آپﷺ نے انہیں سمجھانا چاہا اور فرمایا:
((فَإِنَّهُ زَوْجُكِ وَ أَبُو وَلَدِكِ ))
’’فرمایا: وہ تمہارا خاوند ہے اور تمہارے بچوں کا باپ ہے۔‘‘
((قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْمُرُنِي بِذَلِكَ؟))
’’تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!کیا یہ آپ کا حکم ہے؟‘‘
((قَالَ: إِنَّمَا أَنَا شَافِعُ ‘‘
’’فرمایا: نہیں، بلکہ صرف سفارش کر رہا ہوں،‘‘
((قَالَتْ: لا حاجة لي فيه))
’’کہا تو پھر مجھے اس میں کوئی رغبت نہیں ہے۔‘‘
یعنی اگر آپ کا حکم نہیں ہے تو پھر میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں ۔
تو آپ ﷺنے فرمایا:
((اَتُرّدِّيْنَ عَلَيه حَدِيْقَتَه))
’’کیا تم اس کا باغ واپس کرنے کو تیار ہو؟‘‘
((قالت: نعم))
’’کہا: جی ہاں۔‘‘
((قَالَ رَسُولُ اللهِ: أَقبل الحديقة وطلقها تطليقة))(صحيح البخاری:5273)
’’تو آپ ﷺنے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔‘‘
اندازہ کریں، ابتداء بات تو دنیا کے جائز معاملات میں کسی کو اپنا آئیڈیل بنانے کی تھی، مگر اس واقعے میں وہ دین کی شکل اختیار کرگئی، تو یہ ایک جزوی آئیڈیل ہے، یعنی کسی ایک صفت اور خوبی کے حوالے سے ، قبول صورت ہونے کے حوالے سے۔ اور ایک آئیڈیل ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر عمومی طور پر اور اوسط کے اعتبار ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لَاهْلِي)) (سنن ترمذی:3895)
’’تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے اچھا ہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہوں۔‘‘
اب جو شخص بیوی کے لئے اچھا ہے، ضروری نہیں کہ وہ معاملات میں بھی اچھا ہو، عبادات میں بھی اچھا ہو، مگر اس کے اچھا اور آئیڈیل ہونے کا ایک عمومی معیار بیان فرمایا کہ جو گھر والوں کے لئے اچھا ہے وہ ازدواجی زندگی کے لئے ایک اچھا اور آئیڈیل ہے۔
اسی طرح فرمایا:
((إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخلاقًا)) (صحيح البخاري:6035)
’’تم میں سے اچھے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔‘‘
اب یہ بھی ضروری نہیں کہ جو اچھے اخلاق والا ہو، وہ دین کے دوسرے تقاضے بھی پورے کرتا ہو، مگر معاشرتی زندگی میں خوشگوار ماحول کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے حسن اخلاق والے کو ایک بہترین انسان قرار دیا ہے، ورنہ حقیقی آئیڈیل اور مثالی وہ ہے جو ہر میدان اور ہر شعبے میں، زندگی کے تمام پہلوؤں سے مثالی ہو، دین اور دنیا کے لحاظ سے مثالی ہو۔ یادر ہے کہ حقیقی مثالی، دنیا کی مادی نعمتوں کے لحاظ سے نہیں ہوتا ، بلکہ اخلاق و کردار اور رویوں کے لحاظ سے مثالی ہونے سے مثالی ہوتا ہے۔ لہٰذا انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کامل اور حقیقی مثالی شخص کوئی نہیں ہے۔
لہذا جو شخص جتنا دین کے قریب ہوگا اتنا ہی زیادہ مثالی اور آئیڈیل ہوگا اور اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے انہی لوگوں کو، یعنی صحابہ کرام میں مین کو جو کہ افضل الخلق بعد الانبیاء علیہم السلام ہین ہمارا آئیڈیل بنایا اور انہی کے نقش قدر پر چلا کر کامیابی حاصل کرنے کا حکم دیا اور جو لوگ ان کے نقش قدم پر چلنے سے اعراض کریں انہیں وعید سنائی۔ فرمایا:
﴿فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ۝﴾(البقرة:137)
’’پھر اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو ہدایت پر ہیں اور اگر دہ منہ پھیریں تو پھر دو ہٹ دھرمی پر ہیں، لہذا اطمینان رکھو کہ اللہ تعالی ان کے مقابلے میں تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘
لہٰذا صحا بہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ہمارے لئے آئیڈیل، مثالی اور نمونہ ہونے میں کوئی شک نہیں اور جوان کے طریقے سے ہٹ کر چلتا ہے اس کے بھٹکے ہوئے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
قرآن و حدیث میں صحابہ کرام بھی مین کے شرف وفضیلت، ان کے مقام و مرتبے اور ان کے ہمارے لئے ایمان کا معیار ہونے کے بارے میں بہت زیادہ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک مسلم شریف کی حدیث ہے: حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد ابو موسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا:
((النُّجُومُ آمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ إِلَى السَّمَاءِ مَا تُوعَدُ))
’’ستارے آسمان کے لئے امن کا باعث ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر جس بات کا وعد وہ ہے وہ آجائے گا۔‘‘
آسمان کے ستاروں کا آسمان کے امان کی ضمانت ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب تک ستارے موجود ہیں قیامت نہیں آئے گی اور جب سورج لپیٹ لیا جائے گا، ستارے بے نور ہو جا ئیں کے پہاڑ چلائے جائیں گے، جب قیامت قائم ہو جائے گی۔
((وَأَنَا آمَنةٌُ لاصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ)) (صحیح مسلم:2531)
’’اور میں اپنے صحابہ (رضی اللہ تعالی عنہم) کے لیے امان کا باعث ہوں ، اور جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ (رضی اللہ تعالی عنہم) پر جس چیز کا وعدہ ہے وہ آجائے گا۔‘‘
اور آپ ﷺکا وجود مسعود صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے امان کی ضمانت تھا۔ اس کی عملی تشریح آپ نے دیکھ لی، کہ آپﷺ کے بعد کتنے فتنوں نے سر اٹھایا۔ لڑائیاں ہو ئیں ، اختلافات پیدا ہوئے۔
((وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي ما يُوعَدُونَ)) (مسلم:2531)
’’اور میرے صحابہ ( رضی اللہ تعالی عنہم) میری اُمت کے لیے امان ہیں ، پس جب میرے صحابہ ( رضی اللہ تعالی عنہم) چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ حالات آجائیں گے جن کا وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘
اسی طرح صحابہ کرام رضی ا للہ تعالی عنہم بھی اُمت کے لیے امان تھے اور آپ نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے جانے کے بعد مزید کتنے فتنے پیدا ہوئے ، کیسی کیسی بدعتیں ایجاد ہوئیں اور دین کے نام پر بے دینی کے کیسے کیسے رسم و رواج شروع ہو گئے ، اللہ تعالی ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اقول قولي هذا واستغفر الله العظيم لي ولكم ولسائر المسلمين من كل ذنب انه هو الغفور الرحيم .
………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں