جہنم کی گرمی

جہنم کی گرمی

﴿قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ۝۸﴾( التوبة:81)
اللہ تعالی نے اپنے مسلمان بندوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے خطبہ جمعہ کی صورت میں جو انتظام اور انعام فرمایا ہے وہ اس کا بہت بڑا احسان ہے، اس پر جتنا بھی اس کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
دنیا میں انسان کو راہ راست سے بھٹکانے ، راہ حق سے بہکانے، اس کی مصنوعی خوبصورتی کا گرویدہ بنانے ، عارضی، ناقص، ادھوری اور ناتمام نعمتوں کی کشش اور لذت کے ساتھ ورغلانے اور کھیل تماشے میں مشغول ومگن کرنے اور الجھانے کے سامان بہت زیادہ ہیں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ انسان قدم قدم پر اپنی اصلاح کی فکر اور سعی و جہد کرے اور اس کے بہانے تلاش کرے، مگر اس چیز کے لئے کہ جو سر کی آنکھ سے دیکھی نہیں جا سکتی صرف تصور ، ایمان اور دل کی آنکھ سے نظر آتی ہے انسان کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ اُس کے لئے کچھ اضافی وقت نکالے، چنانچہ خطبہ جمعہ کے لئے ہی حاضر ہو جانا ایک بہت بڑی تعظیمت اور سعادت سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس کی بھی توفیق نہیں ہوتی اور بہت سے ایسے بھی ہیں کہ وہ یوں تو جمعے کے لئے ایک خصوصی اہتمام کرتے ہیں، مگر وہ پھر بھی اس کی سعادت سے محروم رہتے ہیں اور وہ یوں کہ وہ صرف نماز میں شامل ہونے کے لئے آتے ہیں خطبہ سننے نہیں آتے شاید کہ وہ نصیحت کی باتیں سننا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
خیر خطبہ جمعہ اہل ایمان پر اللہ تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑا انعام اور احسان ہے۔ کہ اس کے ذریعے لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے بے شمار مسائل اور معاملات میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی ملتی ہے، اس میں عقائد و نظریات کی اصلاح ہوتی ہے، معاملات کی درستی ہوتی ہے، اخلاقیات کی تطہیر ہوتی ہے، ایمان کی تجدید ہوتی ہے، اور نت نئے پیدا ہونے والے مسائل میں آگاہی اور سمت و جہت ملتی ہے اور اگر اصلاح احوال کی یہ سہولت میسر نہ ہوتی تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اسلامی معاشرہ کسی قدر بے راہ روی کا شکار ہوتا ، اب جبکہ مسلمانوں کو یہ سعادت حاصل ہے تو حال یہ ہے کہ معاشرے میں بہت بڑا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
معاشرے کی بے راہ روی کے یقینًا بہت سے اسباب میں ان اسباب کا تفصیلاً ذکر تو اس وقت ممکن نہیں ، البتہ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جب کسی معاشرے کے سرکردہ اور خوشحال لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا۝۱۶﴾(الاسراء:16)
’’ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے بر باد کر کے رکھ دیتے ہیں۔‘‘
یعنی یہ ایک قانون فطرت ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آنے والی ہوتی ہے تو اس کے خوشحال لوگ فاسق ہو جاتے ہیں۔
آج ہم تمام انسانی معاشروں کے بجائے صرف اسلامی معاشروں کے خوشحال اور سر کردو لوگوں کو ہی دیکھیں، اُن کے لیڈروں اور رہنماؤں کو دیکھیں تو ان میں سے بہت سوں کا حال یہ ہے کہ وہ اخلاق و کردار کے بھی گندے، عقائد و نظریات کے بھی گندے، زبان و بیان کے بھی گندے، اپنے جلسوں اور جلوسوں میں بے حیائی، فحاشی اور عریانی پھیلانے والے ناچ گانا پیش کرنے والے اور سٹیجوں پر بد زبانی کرنے والے ہیں۔ اور جب کسی قوم کے سرکردہ اور خوشحال لوگ ایسے ہوں تو پھر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں رہتا کہ ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر اور رہنما ماننے والے کسی قماش کے لوگ ہوں گے، ان کی عقلی اخلاقی اور دین سے وابستگی کی سطح کیا ہوگی ۔
آپ اندازہ کریں! ایک لیڈر کی دین کے مسلمات کے بارے میں ہرزہ سرائی اور استہزاء کی جرأت اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک تقریر کے دوران دین کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر خدا نخواستہ اللہ نے مجھے جہنم میں پھینک دیا تو مجھے وہاں گرمی نہیں لگے گی اور وجہ یہ بتائی کہ اس نے الیکشن مہم کے دوران اپنے شہر میں گرمی بہت کی ہے۔ دین کا مذاق اڑانا حقیقت میں کفار و منافقین کی روش ہے، مگر آج اس دور میں بعض اسلام کا نام لینے والے مغرب زدہ لوگوں کا رویہ بن چکا ہے اور اس طرح وہ اسلام سے اپنی وابستگی کی شرمندگی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگ انہیں مذہبی نہ سمجھنے لگ جائیں مگر حقیقت میں یہ رویہ جہاں ان کی ذات کے لئے خطرناک ہے، وہاں اُس پورے معاشرے کے لئے بھی خطرناک ہے کہ جس میں وہ اپنی شعلہ بیانی کے جوہر دکھاتے ہوئے از راہ تفنن اسلام کے مسلمات اور شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔
کیونکہ ایک تو لوگوں کی اکثریت پہلے ہی دین سے بے زار ہوتی ہے، اور کافروں کا یہ طرز عمل تو ہے ہی، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ منکرین حق اور محرم لوگ جہنم میں جب جہنم کے دارہ نھے سے کہیں گے کہ تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے، تو وہ کہے گا :
﴿وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ۝۷۷
لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ۝﴾ (الزخرف:77،78)
’’مجرم لوگ جہنم میں جہنم کے دارہ نے سے کہیں گے کہ تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے تو اچھا ہے، تو جواب ملے گا تم یہیں پڑے رہو گے، تمہیں ہمیشہ یہیں رہتا ہے ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے ہیں ۔‘‘
اور کچھ ایسا ہی معاملہ آج مسلمانوں کا بھی ہے اور یہ آپ ﷺ کی پیشین گوئی ہے کہ مسلمانوں کی اپنے طرز عمل میں یہود و نصاری سے ایسی مماثلت ہوگی جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے۔ تو ایک تو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت پہلے ہی دین سے بے زار ہوتی ہے، اور پھر ادھر آپﷺ کی پیشین گوئی بھی ہے اور اوپر سے انہیں ایسے دین بیزار رہنما مل جائیں، جو دین کا مذاق اڑا کر ان کے حوصلے مزید بلند کر دیں، تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی دین بے زاری کے موقف پر کتنے پختہ ہو جا ئیں گے اور ویسے بھی ایسے لوگوں کو اپنا رہنما ماننے والے ناریل لوگ تو ہوتے نہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ:
﴿هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ﴾(الشعراء:221)
’’ کیا میں تمھیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں۔‘‘
﴿تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ۝﴾ (الشعراء:222)
’’وہ ہر ایک جھوٹے گناہگار پر اترتے ہیں۔‘‘
﴿یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ۝﴾
’’ سنی سنائی باتیں کانوں میں پھو سکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ۔‘‘
﴿وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ۝۲۲۴﴾
’’رہے شعراء تو بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں ۔‘‘
﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ۝﴾
’’ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔‘‘
﴿وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ۝﴾
’’اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں ۔‘‘
تو اکثر شعراء چونکہ بھٹکے ہوئے لوگ ہوتے ہیں چنانچہ ان کے ساتھ لگے رہنے والے لوگ بھی بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں اسی طرح دین بیزار قسم کے رہنماؤں کے ساتھ لگے رہنے والے لوگ بھی انہی جیسے ہوتے ہیں، نازل لوگ نہیں ہوتے۔

تو بات ہو رہی تھی کہ معاشرے کے خوشحال اور سر کر دہ لوگ ہی معاشرے کی تباہی اور پر بادی کا باعث بنتے ہیں، ان کا طرز عمل اور بود و باش کا طریقہ اور سلیقہ معاشرے کے ضعیف العقول لوگوں کے لئے مثال اور نمونہ ہوتا ہے، ان کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی ایسی بات کہ جس میں دین کا استہزاء اور استخفاف ہو لوگوں کو دین بے زاری پر اکساتی اور ابھارتی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ان کے دلوں میں دین کی اہمیت کم کرتی ہے اور دین کی کھلی مخالفت کی ن میں جرات پیدا کرتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ زہر آلود اور ایمان شکن عقائد و نظریات سے لوگوں کو بچانے کے لئے ان کی اصلاح کی جائے اور صحیح تصویر پیش کی جائے۔
تو جہنم کی گرمی کس قدر شدید ہوگی، اس کا اندازہ کرنا اور اس پر یقین و ایمان رکھنا ایک مسلمان کے لئے تو یقینًا بہت آسان ہے کہ اس بارے میں آیات و احادیث کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔
جہنم کی گرمی کا ذکر تو ہم بعد میں کریں گے پہلے میدان حشر کی گرمی کا اندازہ کر لیں۔ میدان حشر کے بارے میں تو آپ نے یقینًا سنا ہوگا کہ اُس روز سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور جب سورج ایک میل کے فاصلے پر ہو تو کتنی گرمی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ کرنے کیلئے سائنٹفک معلومات کا سہارا لیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو، چونکہ ہمارے ایمان کمزور ہیں اس لئے ہمیں سائنسی با تمہیں جلدی سمجھ میں آتی ہیں اور قرآن وحدیث کی باتیں بعد میں۔
آج سورج کا ہماری زمین سے فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے، اور سورج کی اس قدر روری کے باوجود جون جولائی میں گرمی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ننگے پاؤں زمین پر ایک منٹ کے لئے کھڑے ہونا مشکل ہوتا ہے۔
تو انداز و کیجئے کہ جس روز سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا تو اس کا مطلب ہوگا کہ اُس روز زمین کا درجہ حرارت آج سے 9 کروڑ درجہ زیادہ ہوگا۔
اُس گرمی کی شدت سے لوگوں کی کیا حالت ہوگی، آپ ﷺ نے فرمایا:
((تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقدار ميلٍ))
’’ قیامت کے روز سورج لوگوں کے قریب کر دیا جائے گا حتی کہ ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔‘‘
سُلیم بن عامر تابعی جو حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
((فوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيْلِ))
’’اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ میل آپ ﷺکی مراد کیا ہے۔
((اَمسافة الأرْضِ أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ))
’’کیا میل سے زمین کی مسافت مراد ہے، یا میل سے سرمہ سلائی مراد ہے،‘‘
لکڑی یا دھات کی وہ پتلی کی سلاخ کہ جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے، اس کو بھی میل کہتے ہیں۔
((فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ))
’’لوگ اپنے اعمال کے حساب سے پینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔‘‘
((فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلى حقويهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا ، قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ))(مسلم:2864)
’’ کوئی ٹخنوں تک پینے میں ڈوبا ہوا ہوگا ، کوئی گھٹنوں تک اور کوئی کمر تک اور کسی کو پسینے کی لگام آئی ہوگی اور یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺنے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ کوئی پینے میں مکمل ڈوبا ہوا ہوگا۔‘‘
سورج کی گرمی کی شدت سے لوگوں کا پسینہ اس قدر بہہ رہا ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا
((حَتَّى إِنَّ السُّفْنَ لَوْ أُجْرِيَتْ فِيهِ لَجَرَتْ)) (مجمع الزوائد: 10 /334)
’’ کہ اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو وہ چلنے لگیں ۔ اور وہ پسینہ انسان کے لئے اس قدر پریشان کن اور تکلیف دہ ہوگا کہ آدمی کہے گا۔
رَبِّ أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ)) (ابن حبان: ٧٣٣٥ ، السلسلة الضعيفة: ٣٠٤٢)
’’ اے میرے رب! اس مصیبت سے میری جان چھڑا، چاہے جہنم میں بھیج کر ہی ہو۔‘‘
تو حشر کے دن صرف سورج کی گرمی کی یہ شدت کہ لوگ جہنم کو اس پر ترجیح دینے لگیں گے۔ قیامت کے دن میدان حشر میں بھوکے پیاسے، نگے بدن، ننگے پاؤں ، گرمی کی شدت سے دو چار بد بودار لینے میں شرابور، لوگ تنگ آکر انبیاء علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تعالی سے حساب کتاب شروع کرنے کی سفارش کریں۔ چنانچہ حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ((يَجْمَعُ اللهُ النَّاسَ يَوْمَ القِيَامَةِ ، فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبَّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا))
’’اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ لوگ اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے ہمیں اپنے رب کے حضور کسی سے سفارش کروانی چاہیے تا کہ وہ ہمیں اس جگہ کی تکلیف سے یعنی حشر کی تکلیف سے نجات دے۔ ‘‘
((فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفْخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا عند ربنا))
’’چنانچہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ: آپ کو اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اپنی روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں تو انھوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور ہمارے لئے سفارش کر دیں۔ اور سفارش یہی کہ اللہ تعالی حساب کتاب شروع کرے اور حشر کی تکلیف سے چھٹکارا ملے۔‘‘
(فَيَقُولُ: لستُ هُنَاكم ويذكر خَطِيئَتَهُ ، وَيَقُولُ: إِئْتُوا نُوحًا . أَوَّلَ رَسُولِ بَعَثَهُ اللهُ))
تو آدم علیہ السلام کہیں گے: میں اس لائق نہیں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بھیجے ہوئے سب سے پہلے رسول ہیں۔‘‘
اسی طرح وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے اور ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے پاس اور موسیٰ علیہ السلام عیسی علیہ السلام کے پاس۔ اور عیسی علیہ السلام آپ ﷺکے پاس بھیجیں گے کہ تم لوگ محمد ﷺکے پاس جاؤ کہ:
((فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ))
’’اللہ تعالی نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں۔‘‘
تو آپ ﷺنے فرمایا:
((فَيَأْتُونِي ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي))
’’لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں اللہ تعالی سے باریابی کی اجازت چاہوں گا، بارگاہ الہی میں حاضری کی اجازت طلب کروں گا۔‘‘
((فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهُ وَقُلْ يُسْمَعُ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ))
’’اور جیسے ہی اپنے رب کو دیکھوں گا سجدے میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالی جتنی مدت چاہے گا مجھے سجدے میں پڑا رہنے دے گا پھر مجھ سے کہا جائے گا، سر اٹھاؤ ، سوال کرو، دیئے جاؤ گے، بات کروسنی جائے گی ، سفارش کر و قبول کی جائے گی۔‘‘
((فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي، ثُمَّ أَشْفَعُ)) (صحيح البخاري:6565)
’’ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور پھر اپنے رب کی حمد وثنا کروں گا ان الفاظ کے ساتھ جو اللہ تعالی مجھے اس وقت سکھائے گا اور میں اللہ کے حضور لوگوں کے لئے سفارش کروں گا، اور آپ ﷺکی اس سفارش کو شفاعت کبری یا شفاعت بھی کہا جاتا ہے۔
حشر کی گرمی، میدان حشر کی بہت سی ہولناکیوں میں سے ایک ہے، اور اس کی شدت کا اندازہ آپ کو ہوہی گیا ہوگا، رہی جہنم کی گرمی کی بات تو وہ تو معاملہ ہی کچھ اور ہے، اس کا محض نام لیتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، نہ جانے کوئی مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والا کیسے اس کا مذاق اڑا سکتا ہے ایسے شخص کو جاہل کہیں ، دین بے زار کہیں، احمق کہیں، بے لگام کہیں، یا فاسق کہیں! اس کے مسلمان ہونے پر حسن ظن کرتے ہوئے اسے جاہل اور بد زبان ہی کہہ سکتے ہیں۔ جہنم کی گرمی اور تپیش کا کیا پوچھتے ہو، بہت سخت ہے، تصور بھی نہیں کر سکتے ، بس اتنا جان لیں کہ وہ ایسی آگ ہے کہ:
﴿لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ﴾ (المدثر:38)
’’نہ کچھ باقی رکھے اور نہ کچھ چھوڑے۔‘‘
پس اس جسم کے ساتھ جہنم میں آدمی کا کیا بنے گا، شاید ایک لمحہ بھی آدمی نہ گزار سکے، اس میں تو لوگوں کو موٹے تازے کر کے پھینکا جائے گا تا کہ کچھ وقت بھی لگے، کچھ تکلیف بھی ہو۔ حدیث میں ہے۔
((ضِرْسُ الكَافِرِ مِثْلُ أَحدٍ ، وَغِلظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ)) (صحیح مسلم:2851)
’’کافر کی ڈاڑھ اُحد پہاڑ جیسی اور اس کی چمڑی کی موٹائی تین دن کے پیدل سفر جتنی ہوگی۔‘‘
اور اس پر بھی بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اللہ فرماتے ہیں:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا۝۵۶
(النساء:56)
’’جن لوگوں نے ہماری آیات سے کفر کیا ، انھیں ہم یقینًا آگ میں ڈال دیں گے ، اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تا کہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں، یقینًا اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔‘‘
اس لیے جہنم کی گرمی کو ہالکا نہ جانیں، وہ بہت شدید ہوگی کہ:﴿ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ۝۸۱﴾ (التوبة:81)
’’کہہ دیجیے کہ جہنم کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے ۔‘‘
کتنے افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالی لوگوں کو جس آگ کی گرمی سے ڈرا رہے ہیں لوگ اس کا استخفاف کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں، ایسے لوگ اللہ تعالی سے ڈر جا میں اور توبہ کریں کہ دین کا مذاق اُڑانے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
اللهم انا نعوذ بك من عذاب القبر ومن عذاب جهنم و من فتنة المحياو الممات ومن فتنة المسيح الدجال آمين اقول قولي هذا واستغفر الله العظيم لي ولكم ولسائر المسلمين من كل ذنب انه هو الغفور الرحيم .
…………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں