ماہ رمضان المبارک ایک قیمتی خزانہ
﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۱۸۳﴾ (البقرة:183)
اللہ کا شکر اور اس کا احسان ہے کہ اُس نے ایک بار پھر ہمیں مہات عمر عطا کرتے ہوئے رمضان المبارک کی برکتوں اور سعادتوں سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔
رمضان المبارک یقینًا ایک بہت ہی بابرکت و با سعادت مہینہ ہے، مگر اس کی برکت و سعادت اور اہمیت وافادیت سے شاید ہم میں سے کم ہی لوگ آگاہ ہوں گے۔
یوں تو تقریبا سبھی مسلمان رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت سے آگاہ ہیں کیونکہ بچپن ہی سے اس کی فضیلت اور اہمیت کے حوالے سے آیات و احادیث سنتے چلے آ رہے ہیں اور اس سے استفادے سے متعلق وعظ ونصیحت اور تاکید و ترغیب سنتے آئے ہیں اور ایک مذہبی تہوار کے طور پر بھی ہم اس سے واقف ہیں، مگر رمضان المبارک سے متعلق یہ واقفیت چند ابتدائی معلومات سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔
رمضان المبارک کی برکت و سعادت سے متعلق حقیقی اور گہری معرفت کہ جو انسان کو زندگی کے تمام معمولات پس پشت ڈالتے ہوئے اس سے استفادے پر مجبور کردے اور گناہوں کی بخشش کا آخری موقع سمجھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ کر دے ایسی معرفت رکھنے والے افراد شاید انگلیوں پر گئے جاسکتے ہیں۔
پھر اس سے زیادہ کچی اور حقیقی معرفت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوں یعنی جب ان کی روح قبض ہو رہی ہو، کیوں کہ اس وقت دنیا کی حقیقت ان پر منکشف ہو جاتی ہے اور وہ اسے خوب سمجھ چکے ہوتے ہیں، چنانچہ دو اس کی روشنی میں دنیا میں موجود نیکی کے مواقع سے مستفید ہونے کے لیے بے ساختہ اللہ تعالی کے حضور درخواست گزار ہوتے ہیں:
﴿ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ۱۰﴾ (المنافقون:10)
’’ اے میرے پروردگار! تھوڑی سی مہلت اور دے دی ہوتی ، تاکہ میں کچھ صدقہ خیرات کر لیتا اور نیکوں میں شامل ہو جاتا۔‘‘
مگر افسوس کہ ان کی وہ درخواست حسرت و ندامت بن کر رہ جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے۔
((مر النَّبِيُّ عَلَى قَبْرٍ دُفِنَ حَدِيثًا))
’’ آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قبر کے پاس سے ہوا جس میں کوئی شخص نیا نیا فن ہوا تھا۔‘‘
((فَقَالَ: مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ))
تو آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس قبر والا کون ہے؟‘‘
((فَقَالُوا: فلان))
’’لوگوں نے کہا: فلاں شخص ہے۔‘‘
((فَقَالَ: رَكْعَتَانِ أَحَبُّ إِلَى هَذَا مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ)) (معجم الأوسط للطبراني:920)
’’ فرمایا تمہاری باقی کی ساری دنیا سے دور کعتیں اسے زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے:
((رَكْعَتَانِ خَفِيفَتَانِ مِمَّا تَحْقِرُونَ وَتَنْفِلُونَ يَزِيدُهُمَا هٰذَا فِي عَمَلِهِ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ)) (سلسلة الصحيحه:1388 ، الزهد لابن المبارك:1)
’’ دو ہلکی سی رکعتیں ، جنہیں تم معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہو یہ شخص ان دورکعتوں کا اپنے عمل میں اضافہ کرے تمہاری باقی کی ساری دنیا سے اسے زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘
یعنی اگر اسے دنیا میں دوبارہ آنے کی اجازت دی جائے اور اختیار دیا جائے کہ دنیا میں جا کر دو ہلکی سی رکھتیں پڑھ لو، یا باقی دنیا کے سارے خزانے لے کر قیامت تک ان سے لطف اندوز ہوتے رہو، تو اسے یہ ملک کی دو رکعتیں تمہاری ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہوں گی۔
آپﷺ نے ایک فوت شدہ شخص کی تمنا اور آرزو ہمیں بیان فرمائی کہ اگر اسے دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو وہ دو ہلکی سی رکعتوں کو پوری دنیا کے مقابلے میں ترجیح دینا پسند کرے گا۔
اور اگر دو ہلکی سی رکعتوں کی جگہ اسے پورے رمضان المبارک کا تحفہ دیا جائے کہ جس میں ایک قدرو منزلت والی رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کی خوشی کا عالم کیا ہوگا تو رمضان المبارک کی سعادت، برکت ، اہمیت اور افادیت کو اس طرح سمجھنے والا اس دور میں شاید ہی کوئی نظر آئے۔
اور ظاہر ہے کہ جب اس کی اہمیت سمجھ نہیں آئے گی تو اس کے مطابق کوشش بھی نہیں ہوگی اور توجہ بھی نہیں دی جائے گی۔
ہمیں یہ کیوں گمان ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی اہمیت کو اس طرح سمجھنے والے دنیا میں بہت کم ہیں اور اتنے کم ہیں کہ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہوں؟
ظاہر ہے! اپنے گردو پیش کے حوالے سے بات ہو رہی ہے کہ جہاں تک ہماری معلومات کی رسائی ہے، ورنہ دنیا ایسی سوچ اور فکر اور ایسی معرفت رکھنے والوں سے ہرگز خالی نہیں ہے، یقینًا دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے بہت سے لوگ ایسی معرفت کے حامل ہوں گے۔
تو ہمارے طرز عمل سے ایسے لگتا ہے کہ ہم رمضان المبارک کی اہمیت کو نہیں سمجھے رمضان المبارک سے ہمارا برتاؤ، ہمارا تعلق اور ہماری وابستگی ظاہر کرتی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کو ہم ایک معمول کی گردش دوراں سمجھتے ہیں، کہ رمضان المبارک ہر سال یوں ہی آتا اور گزر جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی اہمیت کو جو لوگ سمجھتے ہیں ان کا حال کیا ہوتا ہے، تاریخ کے اوراق نے اسے ہمارے لئے محفوظ کر رکھا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ:
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ نَفَرَ مِنْ قِرَاءَةِ الْحَدِيثِ وَمُجَالَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَأَقْبَلَ عَلَى تِلاوَةِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُصْحَفِ) (لطائف المعارف لابن رجب ، ص:171)
کہ جب رمضان المبارک داخل ہوتا تو وہ حدیث کا پڑھنا پڑھانا، درس و تدریس اور اہل علم کی مجالس کو ترک کر کے تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہو جاتے ، (اور زبانی نہیں بلکہ قرآن پاک سے دیکھ کر پڑھتے ) اور شاید دیکھ کر پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض اہل علم کے نزدیک قرآن پاک سے دیکھ کر پڑھنے کا ثواب، زبانی پڑھنے کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، کہ ایک پڑھنے کا ثواب اور ایک دیکھنے کا ثواب اور پھر غلطی کا امکان بھی نہیں رہتا۔
تا ہم امام مالک رحمہ اللہ تمام کام چھوڑ چھاڑ کر قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف ہو جاتے، کہ اس مبارک مہینے کو قرآن پاک سے خصوصی نسبت ہے کہ :
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ (البقرة:185)
’’ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا ہے۔‘‘
اور یہ کہ ہر سال رمضان میں آپﷺ پر ایک بار قرآن پاک پیش کیا جاتا، پڑھا جاتا ،
((كَانَ يُعْرَضُ عَلَى النَّبِيِّ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ عَامِ مَرَّةً))
’’نبی کریم ﷺ کے سامنے ہر سال رمضان میں ایک بار قرآن پڑھا جاتا، ((فَعُرِضَ عَلَيهِ مرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ (صحيح البخاری:4997)
’’ اور جس سال آپ سے ہم نے وفات پائی ، آپ سے کام کے سامنے دو بار قرآن مجید ختم کیا گیا۔‘‘
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ:
((لِأَنَّ جِبْرِيلَ الله كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى ينسلخَ))
’’اور جبریل علیہ السلام رمضان المبارک میں، رمضان المبارک گزرنے تک ہر رات آپ ﷺسے ملا کرتے ۔
((يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ الْقُرْآن‘‘ (صحيح البخاري :4998)
آپ ﷺہم انہیں قرآن مجید سناتے۔
تو رمضان المبارک اور قرآن پاک کا آپس میں گہرا تعلق ہے، لہذا سلف صالحین بصیر بھی رمضان المبارک میں قرآن پاک پر خصوصی توجہ دیتے حتی کہ تراویح میں بھی لمبی قراءت اور لمبا قیام ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:
((وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ))
’’امام ایک رکعت میں سو سو آیتیں پڑھتے۔‘‘
((حَتّٰى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ))
’’حتی کہ لیے قیام کی وجہ سے ہم لاٹھیوں کے سہارے کھڑے ہوتے۔‘‘
((ومَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ)) (موطا امام مالك:280)
’’ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: اور ہم لوگ فجر کے وقت گھروں کو لوٹتے۔‘‘
اور اسی طرح دیگر سلف صالحین رحمہم اللہ رمضان المبارک میں تلاوت قرآن پاک کا خصوصی اہتمام کرتے اور توجہ دیتے ، اور ایسے ہی دوسری نیکیوں کا بھی اہتمام کرتے جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا:
((لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الأكل وَالشَّرْبِ إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ والرفثِ)) (صحیح ابن خزیمه:1996)
’’روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ بیہودہ اور فحش کاموں سے رکنے کا نام ہے‘‘
اور فرمایا: ((الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفثْ ولا يَجْهَلْ)) (سنن ابی داود: (2363)
’’روزہ ڈھال ہے، لہذا جب کوئی روزہ رکھے تو فحش گوئی اور بے وقوفی اور حماقت سے باز رہے۔‘‘
چنانچہ کئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین ان باتوں سے بچنے کے لئے اپنا اکثر وقت مسجد میں ہی گزارتے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ: ((أَنَّهُ كَانَ وَأَصْحَابُهُ إِذَا صَامُوا قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ وَقَالُوا نُطَهِّرُ صِيَامَنَا)) (ابو نعيم، حلية الأولياء: 1/384)
’’ کہ وہ اور ان کے ساتھی جب روزہ رکھتے تو مسجد میں ہی بیٹھے رہتے اور کہتے کہ ہم اپنے روزوں کو پاک کرتے ہیں۔‘‘
غرضیکہ سلف صالحین رحیم اللہ رمضان المبارک کی اہمیت کو کچھ اس طرح سمجھے تھے ان کی سمجھ اور ہماری سمجھ میں کیا فرق ہے وضاحت کی محتاج نہیں ہے۔
بہت سادہ سی بات ہے، ہم کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لہذا ہم کم از کم آٹھ گھنٹے روزانہ اس کو دیتے ہی ہیں، اگر چہ کتنے ہی لوگ ایسے بھی ہیں جو رمضان المبارک میں بھی کم از کم روزانہ بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔
اور جس طرح دنیا کے کاموں کے بارے میں یہ حقیقت ہے کہ محنت کے مطابق صلہ مانتا ہے، اسی طرح آخرت کے بارے میں بھی یہ حقیقت ہے کہ محنت و مشقت کے مطابق اجر ملتا ہے، جیسا کہ ایک موقع پر آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا: ((وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ أَوْ نَصَبكِ)) (صحيح البخاري:1787)
’’عمرے کا اجر و ثواب تمہیں تمہارے خرچ یا مشقت کے مطابق ہی ملے گا۔‘‘
اس کا مطلب یقینًا یہ نہیں کہ کوئی آدمی کسی نیک کام کے لئے جان بوجھ کر مشتقات اٹھائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہر کام کے لئے مشقت اٹھانا ہی پڑتی ہے اور جس کام میں مشقت زیادہ ہوگی اس کا ان شاء اللہ اجر بھی زیادہ ملے گا۔
اور مشتقات مالی بھی ہو سکتی ہے، بدنی بھی ہو سکتی ہے اور ذہنی اور اعصابی بھی ہو سکتی ہے۔
ہم رمضان المبارک سے استفادے کے لئے کون کون سی اور کس کس قدر مشقت ہیں، ہر شخص اپنے بارے میں خوب جانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک سے استفادے کے لئے آخر اس قدر محنت و مشقت کیوں درکار ہے؟
ممکن ہے رمضان المبارک سے استفادے کے حوالے سے کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہوں کہ رمضان المبارک کے روزے ہم رکھتے ہیں، فرض نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں اور حسب توفیق صدقہ خیرات بھی کر لیتے ہیں اور اس سے زیادہ ایک مسلمان سے کیا مطلوب ہے اور اللہ قبول کرنے والا ہے۔
الظاہر یہ بات بڑی معقول معلوم ہوتی ہے اور اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو کہ ہماری یہ ٹوٹی پھوٹی عبادتیں ہی قبول ہو جائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی پہلوؤں سے یہ بات صحیح نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات تو وہی ہے کہ ایسی سوچ رمضان المبارک کی اہمیت سے ناواقفی کا نتیجہ ہے۔
رمضان المبارک اصلاح نفس، تزکیہ و تربیت اور قرب الہی کا ایک خصوصی پیکیج ہے اور خصوصی پیکیج کے ساتھ خصوصی معاملہ ہوتا ہے اور وہ خصوصی معاملہ آپ سے کم اور صحابہ کرام کے طرز عمل کی صورت میں ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
اس خصوصی پیکیج کی اہمیت کو آپ سے کی انم نے اپنے ارشادات کے ذریعے بھی واضح کیا، اس کی ترغیب دیتے ہوئے اور اس سے صحیح معنوں میں مستفید نہ ہونے والوں کو ترہیب کرتے ہوئے اور انجام بد سے خبردار کرتے ہوئے ، جیسا کہ اس بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں اور یاد دہانی اور نصیحت و موعظت کے لئے ہم ہر سال انہیں سنتے ہیں۔
جن میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے جب ایسے شخص کے لئے بد دعا فرمائی کہ: ((بَعُدَ منْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ))
’’ہلاکت اور تباہی و بربادی ہے ایسے شخص کے لئے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی بخشش حاصل نہ کر سکا‘‘
تو اُس پر آپ ﷺنے آمین فرمائی ۔ یعنی اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ (معجم الکبیر للطبرانی: 19 /144 ، رقم:315)
اسی طرح لیلۃ القدر کی فضیات بیان کرتے ہوئے، اس کی ترغیب دیتے ہوئے اور اس سے محرومی کی صورت میں بد نصیبی سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
((إِنَّ هٰذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ))
’’یہ جو مہینہ تم پر آیا ہے، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
((مِنْ حُرمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ))
’’جو اس کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہا دو ہر بھلائی سے محروم رہا۔‘‘
’’ولا يُحرم خيرها إلا محروم‘‘ (سنن ابن ماجه:1644)
’’ اور اس کی سعادت سے صرف بد نصیب ہی محروم کیا جاتا ہے۔‘‘
اور پھر اس پر آپ ﷺکا خود اپنا عمل، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
((كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئزَرَهُ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ ، وأيقظ أهله)) (صحيح البخاري:2024)
’’ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ سے یہ عبادت کے لئے کمربستہ ہو جاتے ، راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی جگاتے ۔‘‘
اور پھر رمضان المبارک کے روزوں کی فضیلت کا بنیادی مقصد جو اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے وہ مسلمانوں میں تقوی پیدا کرتا ہے، اور تقوی کیا ہے، اس کا ذکر بھی کسی موقع پر کریں گے ان شاء اللہ۔ اور اس میں سب سے اہم بات ہوگی کہ تقوی کے تقاضے کیا ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں۔
تاہم تقوی کوئی عبادت سرسری طور پر کر لینے سے نہیں آتا بلکہ یہ ایک مسلسل و پیہم اور طویل جدو جہد کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے، اور ایک مہینے کی مسلسل اور انتھک جدو جہد اس کے حصول کا ایک معیاری وقت ہے۔ تقوی کی تفصیلات معلوم نہ ہونے کے باوجود اگر آدمی جانتا چاہے کہ اس میں تقوی پیدا ہوا ہے کہ نہیں تو وہ دیکھے کہ اس کے رمضان سے پہلے کے طرز زندگی اور رمضان کے بعد کے طرز زندگی میں کچھ مثبت فرق آیا ہے کہ نہیں۔ اگر وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سواب بھی ہے والا معاملہ ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہما را تقوی کے قریب سے بھی گزر نہیں ہوا، پورے مہینے کی محنت کے بعد اگر آدمی کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو تو معنی یہ ہوگا کہ روزوں کی فرضیت کا مقصد پورا نہیں ہوا، اور اگر مقصد پورا نہ ہو اور آدمی پھر بھی خوش ہوتا پھرے کہ اس نے خوب محنت کی ہے، تو اس کو اُس کی سادگی ہی کہیں گے۔
آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی چیز بنائی جاتی ہے تو وہ ایک حالت سے گزر کر دوسری شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مثلا کھانا پکانا چاہیں تو گھٹے، دو گھنٹے کی محنت کے بعد جب کھانا پک کر تیار ہو جائے گا، تو ہم دیکھیں گے کہ وہ چیز، دال، سبزی یا گوشت کی تمام خصوصیات سراسر بدل چکی ہوں گی۔ اب نہ وہ شکل ہو گی، نہ وہ تختی رہے گی، نہ وہ خوشبو اور نہ وہ ذائقہ سب کچھ بدل چکا ہوگا ۔ لیکن اگر وہ پہلی صفات اس میں بدستور موجود ہوں ۔ وہی تختی، وہی بدمزہ اور بے ذائقہ پن اور وہی خوشبو جو ریکی سبری میں ہوتی ہے، تو کون عقلمند اسے کہے گا کہ کھانا پک کر تیار ہو گیا ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان المبارک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس موقعے کو نقیمت جانیں اور آج کا کام کل پر نہ ڈالیں۔
اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين