
خالق اور مخلوق کے درمیان بندگی کا رشتہ محبتوں اور چاہتوں پر مبنی ہے، جس میں محب اپنے ہر قول و فعل کو محبوب کی مرضی میں ڈھال دیتا ہے۔ گویا عشرہ ذوالحجہ کے محبوب وافضل ایام انسان کے لیے عبدیت کا بلند درجہ پانے اور قرب الہی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ جس میں چاند کے طلوع کے ساتھ ہی کبریائی کے کلمات زبان پر جاری ہو جاتے ہیں اور قربانی کا عظیم عمل ان دنوں میں کیے جانے والے تمام اعمال سے زیادہ عظمت و فضیلت والا ہے کہ ذبح کرتے ہوئے بھی تکبیرات اور اللہ کا نام بلند کر کے رضائے الہی کی خاطر قربانی کی جاتی ہے۔
کتاب وسنت کا علم اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے بندہ ساری زندگی بھی عبادت کرتا رہے، نفس کو عذاب میں منتا! رکھے، مختلف ریاضتوں اور چلوں میں ڈالے رکھے؛ وہ کبھی اللہ کا محبوب و مقرب بندہ نہیں بن سکتا۔ ، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے ایمان، اخلاص اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔