مسائل کے حل کے لیے علماء کی طرف رجوع کی ضرورت

مسائل کے حل کے لیے علماء کی طرف رجوع کی ضرورت

﴿فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ﴾(النحل:43)
یوں تو اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کو پیدا فرما کر ان کی ہدایت و رہنمائی کا انتظام بھی فرمایا ہے اور وہ یوں کہ زندگی گزارنے کے تمام بنیادی وسائل مہیا فرمائے، کھانے پینے سے متعلق، افزائش نسل سے متعلق ، اپنے دفاع کے حوالے سے، سردی اور گرمی سے بچاؤ کے حوالے سے، اور اپنے خالق و مالک کی پہچان کے حوالے سے انہیں عقل اور سمجھ عطاء فرمائی اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی رہنمائی بھی ان کے ضمیر ان کی فطرت، سرشت اور جبلت میں رکھ دی، جیسا کہ فرمایا:
﴿قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰی كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰی۝﴾ (طه:50)
’’ وہ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اُس کی رہنمائی دی۔ ‘‘
مگر تمام مخلوقات میں سے انسان کا معاملہ مختلف اور منفرد ہے۔ بنیادی طور پر تو انسان بھی اس ہدایت و رہنمائی میں شامل ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے مگر دیگر کئی پہلوؤں سے دو مختلف بھی ہے، جیسا کہ انسان کا مقصد تخلیق صرف اور صرف اللہ تعالی کی عبادت بتلایا گیا ہے۔
﴿وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۝﴾(الذاريات:56)
’’ میں نے جن وانس کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔‘‘
یہاں انسان کے ساتھ اس خصوصیت میں اگر چہ جنات بھی شریک ہیں مگر بہت کی خصوصیات میں انسان منفرد بھی ہے، جیسا کہ کائنات کا انسان کے لئے مسخر ہونا وغیرہ۔ تو انسان کے دیگر مخلوقات کی نسبت بہت کی خصوصیات کا حامل ہونے کی وجہ سے اس کی ہدایت و رہنمائی کا معاملہ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ تو انسان کی ہدایت و رہنمائی اس کی فطرت اور جبلت میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی عقل علم اور تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ بھی فرمائی۔
پھر اس کی ہدایت کے لئے انبیاء ورسل علیہم السلام کو بھی مبعوث فرمایا، پھر ان کے بعد علماء کرام کو ان کے وارث بنا کر ان کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا، اور اُس رہنمائی کا مطلب کوئی بات ایک بار بتا دینا نہیں، بلکہ بار بار بتانا اور یاد دہانی کراتے رہتا اور بدلتے ہوئے حالات میں نئے پیدا ہونے والے مسائل میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اور جب اُس رہنمائی کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے تو دنیا میں اندھیرا چھا جاتا ہے، معاشرے میں بے راہ روی اور بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، گمراہی عام ہو جاتی ہے لڑائی جھگڑے، بے حیائی فحاشی، عریانی اور فتنہ وفساد بر پا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں ان تمام برائیوں کا باعث اور سب اُس سلسلۂ ہدایت و رہنمائی کا فقدان ہی بتلایا گیا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ اللهَ لا يَقْبِضُ العِلم إِنْتِرَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ))
’’اللہ تعالی دین کا علم لوگوں سے چھین کر ختم نہیں کرے گا بلکہ علماء کی موت سے دین قبض کرلے گا۔‘‘
((حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُ وْسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا)) (صحيح مسلم:2673)
’’حتی کہ جب ایک بھی عالم نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا رہنما بنائیں گے۔ ان سے مسئلے دریافت کئے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں لوگوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور وہ مسائل ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، مگر ان مسئلوں میں سب سے بڑا مسئلہ اور پھر وہ سب سے بڑا مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مسئلہ بھی ہے کہ جس کے مسئلہ ہونے کا لوگوں کو احساس نہیں ہے، کوئی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور وہ ہے اپنے مسائل کے حل کے لئے علماء کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے مسائل کا حل کہیں اور سمجھ رکھا ہے، کوئی اپنے مسائل کا حل کسی سیاسی شخصیت کی رہنمائی میں سمجھتا ہے، کوئی اپنے مسائل کا حل خود ساختہ دانشوروں، تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کی گفتگو اور سفارشات میں سمجھتا ہے۔ حالانکہ یہ چیزیں تو مسائل کی آماجگاہ ہیں یہیں سے تو مسائل جنم لیتے ہیں، لوگ اپنے طور پر جن چیزوں کو اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں وہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کا سبب ہیں، مسائل کا حل صرف اور صرف قرآن وحدیث میں ہے۔ اپنے طور پر تو لوگ اپنے مسائل کا حل بسا اوقات کسی ایسی شخصیت میں سمجھ بیٹھتے ہیں جو پرلے درجے کا بے دین آدمی ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ:
((يُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ))
’’ کہ آدمی کے بارے میں لوگ کہیں گے کہ فلاں شخص کتنا عقلمند، کتنے بڑے ظرف والا اور کتنا بہادر ہے۔‘‘
((وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَان)) (صحيح البخاري:7086)
’’ لیکن وہ پرلے درجے کا بے ایمان آدمی ہوگا، اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے اچھائی اور برائی، کامیابی اور ناکامی کے اپنے اپنے معیار بنا رکھے ہیں اور وہ معیار حقائق کے بالکل برعکس ہیں اچھائی اور برائی کے معیار اور پیمانے بالکل الٹ کے رکھ دیئے گئے ہیں، تہہ و بالا کر دیئے گئے ہیں۔
اور یہ دنیا کا قریب ہے، دھوکہ ہے، قیامت کی نشانی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ))
’’عن قریب لوگوں پر ایک دھوکوں کا دور بھی آئے گا، کہ ہر طرف دھوکہ ہی دھو کہ ہوگا۔‘‘
((يُصدَّق فيها الكاذِبُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ))
’’ اس میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا ۔‘‘
((ويوتمَن فِيهَا الْخَائِنُ وَيَخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ))
’’ خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا۔‘‘
’’وينطق فيها الرويبضة‘‘
’’اور رویبضہ خوب بولے گا۔‘‘
((قِيلَ وَمَا الرويبضة))
’’ عرض کیا گیا کہ روبیضہ کون ہے؟‘‘
((قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ)) (ابن ماجة:4036)
’’فرمایا: گھٹیا اور کمینہ آدمی عامۃ الناس کے مسائل اور معاملات میں گفتگو کرے گا۔ ‘‘
لوگوں کے حقیقی مسائل کیا ہیں کون بتائے گا کس کی ذمہ داری ہے کون اس کا اہل ہے۔ آج لوگوں کے ہاں اس کا معیار بدل چکا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنے مسائل کا حل کہاں ڈھونڈتے ہیں؟ ٹاک شوز پر ۔ اور ہمارے مسائل کیا ہیں، ہم کن مسائل کو اپنے حقیقی مسائل سمجھتے ہیں؟ سڑکیں بنانا ، درخت لگاتا، گلیاں صاف کرتا، مغربی ممالک کی نقالی کرتا، کہ دیکھو اس ملک میں یہ ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے۔
ہمارے لیڈروں کا اور ہمارے رہنماؤں کا مبلغ علم کیا ہے، ان کا ایجنڈا کیا ہے۔ اقتصادی ترقی، معاشی خوشحالی، ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا وغیرہ۔
ہمارے یہ مخلص، ہمارے رہنما اور ہمارے خیر خواہ کون ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کی حیثیت کیا ہے، ان کی اہلیت کیا ہے؟
(الرويبضة): گھٹیا اور کمینہ آدمی ہو اور عامۃ الناس کے مسائل حل کرنے کا خود کو اہل سمجھے اور دعوی کرے ۔
کیا یہ لوگ بتائیں گے کہ دنیا میں زندگی کس طرح گزارتی ہے کیا یہ لوگ بتائیں گے کہ ہمارا سب سے بڑا اور اصل مسئلہ کیا ہے، ہماری کامیابی اور ناکامی کن چیزوں پر منحصر ہے؟ یقینًا سچ فرمایا آپ ﷺنے فرمایا:
((وينطق الروبيضة))
رو بیضہ خوب بولے گا۔
دنیا کی کامیابی کو دین سے الگ کر کے دیکھنا سراسر گمراہی ہے اور اس گمراہی کی پیشین گوئی آپ سے کلام نے فرما رکھی ہے کہ علماء کو فوت کر کے علم اٹھا لیا جائے گا، یعنی دین کا علم اٹھا لیا جائے گا، اور جب دین کا علم اٹھ جائے گا تو لوگ دین بے زار اور جاہلوں کو اپنا رہنما بنا لیں گے، چنانچہ جاہل رہنماؤں کے سارے فیصلے جہالت پر ہی بنی ہوں گے، تب وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ جب علم اٹھ جائے گا تو جہالت چھا جائے گی، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لأَيَّامًا يَنزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا العلم ، ويكثر فيها الهرج ، وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ)) (صحيح البخاري: ٧٠٦٢)
’’فرمایا: قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی علم اٹھ جائے گا اور ہر ج عام ہو جائے گا، اور ہرج سے مراد خون ریزی ہے۔‘‘
اور مشاہدہ یہ ہے کہ علم اٹھتا چلا جا رہا ہے، جب بھی کوئی عالم فوت ہوتا ہے تو اس پائے کا کوئی دوسرا عالم دیکھنے میں نہیں آتا۔
علماء کے فوت ہونے سے علم کا اٹھ جانا ایک حقیقت ہے اور اس کے کئی ایک مفہوم ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ علماء کی موجودگی کو غنیمت نہ جاننا اور ان سے علم حاصل نہ کرنا اور مسائل نہ جانا ان کے فوت ہونے کے بعد گمراہی کا سبب بنتا ہے۔
اور ایک یہ کہ جس معاشرے میں علماء کی موجودگی کو نقیمت نہ جانا جائے اور عامۃ الناس کے مسائل حل کرنے میں ان سے رہنمائی نہ لی جائے وہ معاشرہ گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ایک یہ کہ صرف دین کا علم ہی وہ علم ہے جو دنیوی اور اخروی زندگی کی کامیابی کا ضامن ہے۔ احادیث میں دنیا کا علم اٹھائے جانے کا ذکر نہیں ہوا بلکہ قرآن پاک میں اس کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ۝﴾ (الروم:7)
’’ وہ دنیا کی زندگی کا ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ غافل ہیں۔” یعنی آخرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘
آخرت کے بارے میں وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ پل صراط ، جو کہ جہنم کے اندر نہیں، بلکہ جہنم کے اوپر لگا ہوا ہوگا، اس پر سے گزرنا مشکل ہوگا، چہ جائیکہ کہ کسی کو جہنم کے اندر بھی گرمی نہ لگے۔ تو جو بات مجھنے کی ہے، عقلمندی، دور اندیشی اور حقیقت پسندی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے یہ جانیں کہ ہمارا سب سے بڑا اور اصلی اور حقیقی مسئلہ کیا ہے اور پھر اس کے بعد ہمیں یہ جانتا ہوگا کہ اس کا حل ہمیں کہاں تلاش کرنا ہے۔
ہمارا سب سے بڑا اور حقیقی مسئلہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت بناتا ہے، گمراہی اور بے راہ روی سے بچتا ہے اور اس کا حل آپ ﷺ نے نہایت مختصر مگر جامع اور دوٹوک الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے کہ:
((تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وسنة نبيه)) (مؤطا امام مالك:3338)
’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی سے کام کی سنت۔ (موطا امام )‘‘
تو اگر کوئی شخص جانتا چاہے کہ وہ حق پر ہے یا راہ حق سے بھونکا ہوا ہے تو وہ اپنے قول، اپنے فعل، اپنے طرز زندگی اور اپنے منصوبوں کو کتاب وسنت پر پیش کر کے دیکھ لے، حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ گمراہی سے بچنے کی اور آخرت سنوارنے کی فکر کرتے ہوئے ہمیں ایک بات خصوصی طور پر ذہن میں رکھتی ہوگی اور وہ یہ کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، قرب قیامت کا دور ہے۔ فتوں کا آغاز ہو چکا ہے اور قرب قیامت کی بہت سی علامات ظاہر ہو چکی ہیں، لیدا اپنے ایمان کو بچانے کی فکر دنیا کی ہر چیز پر مقدم ہونی چاہیے۔ اور ہم سب کو بار بار اس بات کی یاددہانی کی ضرورت ہے اور اسے پیش نظر رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی، کیونکہ دنیا میں بہت کشش ہے اور اس قدر شدید کشش ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی انسان اس کی طرف کھچا چلا جاتا ہے، اس کشش کے حوالے سے ذرا وہ حدیث ملاحظہ فرمائیے جو دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونے کے بارے میں ہے، حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((يُوشِكُ القُرآتُ أَنْ يُحْسَرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ))
’’عن قریب فرات میں سے ایک ہونے کا پہاڑ نمودار ہوگا۔‘‘
((فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ))
’’ لوگ جب اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے، یعنی اسے حاصل کرنے کے لئے۔‘‘
((فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لِيُذْهَبُ بِهِ كُلَّهُ))
’’جو لوگ اس وقت فرات پر موجود ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو یونہی چھوڑ دیا انہیں نہ روکا ، تو وہ سارے کا سارا پہاڑ ہی لے جائیں گے۔‘‘
((فيقتلون عليه))
’’چنانچہ وہ اس پر ایک دوسرے سے خوب لڑیں گے۔‘‘
((حَتّٰى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَة وتسعُونَ)) (صحيح الجامع:8179)
’’حتی کہ ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے ، یعنی ننانوے فیصد لوگ قتل ہو جائیں گے۔‘‘
((وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو)) (صحيح الجامع:7432)
’’ اور ان میں سے ہر آدمی یہی کہے گا کہ وہ ایک بچنے والا آدمی شاید میں ہی ہوں گا۔‘‘
اندازہ کریں کس قدر شدید کشش ہے، یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ صرف ایک آدمی ہی بچے گا، پھر بھی اس لڑائی میں کو درہے ہوں گے جبکہ بچنے کی امید ایک فیصد بھی نہیں ہوگی۔
اور دوسری طرف آپﷺ نے اس سے منع بھی فرما رکھا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، فرمایا:
((يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يأخذ منه شيئًا‘‘ (سنن ترمذی:2569) ’’قریب ہے کہ دریائے فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہو، پس جو کوئی وہاں موجود ہو، جو اس میں سے کچھ نہ لے۔‘‘
اس لئے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں، اگر چہ فتنوں سے بچنا یقینًا مشکل ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے ابھی جانا اور حقیقت میں وہ فتنہ ہی کیا جو آسان ہو، فتنے کا مطلب ہی آزمائش ہے۔
فتنے سے بچنے کی باری تو بعد میں آتی ہے، پہلے اس کو سمجھنا ہوتا ہے، مگر فتنہ آسانی سے سمجھ بھی نہیں آتا، آپ جتنی بھی آیتیں، حدیثیں بنالیں، بات کسی کی سمجھ میں بیٹھتی ہی نہیں، کیونکہ اس چیز کی محبت کہ جسے فتنہ کہا جاتا ہے انسان نے اپنے دل میں بسا رکھی ہوتی ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ابھی تک تو ساری باتیں مشکل ہی بتائی ہیں: پہلے یہ سمجھنا کہ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے، پھر یہ جانتا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے ہمیں کہاں رجوع کرنا ہے، پھر فتنوں کو سمجھنا اور پھر فتنوں سے بچنے کی کوشش کرنا، یقینًا یہ سب مشکل باتیں ہیں لیکن جیسا کہ حدیث میں آتا ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں:
((قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلْنِي الْجَنَّهُ ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ))
’’ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺوہ عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے ۔‘‘
((قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ عَظِيمٍ ، وَ إِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عليه)) (ترمذي:2616)
’’تو آپ ﷺنے فرمایا: تم نے ایک بہت عظیم سوال کیا ہے، البتہ وہ آسمان ہے کہ جس پر اللہ تعالی آسان کر دے۔‘‘
تو یہ باتیں جو آج ہم نے جائیں، اگرچہ بہت مشکل ہیں، لیکن جس کے لئے اللہ چاہے آسان ہوتی ہیں۔ لہذا ہمیں اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ان کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہمارے لئے آسان فرمادے۔ آمین۔
تو آخر میں ان مشکل باتوں کے ساتھ ایک اور مشکل بات کا اضافہ کر لیں کہ جس کی آسانی کے لئے ہمیں دعا کرتی ہے اور وہ یہ کہ آپﷺ نے ہمیں ایک اور چیز سے خبردار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ
(دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّم)
’’ کچھ لوگ جہنم کے دروازوں پر کھڑے لوگوں کو اس طرف بلا رہے ہوں گے۔‘‘
یعنی ان سے خبردار رہے ۔
(مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا) (ابن ماجة:3979)
’’ جو ان کی پکار پر لبیک کہے گا، وہ اسے اس جہنم میں پھینک دیں گے۔‘‘
تو ایک دعا یہ بھی کریں کہ اللہ تعالی ہمیں ان کو پہچاننے اور لکھنے میں آسانی فرمائے اور ان سے بچنے کی توفیق بخشے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں