مسجد اقصیٰ اسلام کا ایک مرکز

مسجد اقصیٰ اسلام کا ایک مرکز

﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۝﴾(الاسراء:1)
یہ دنیا مسائل کا گھر ہے، یقینًا کسی کو اس سے اختلاف نہ ہوگا، ہر انسان کو زندگی میں بے شمار مسائل سے گزرنا پڑتا ہے، وہ مسائل ذاتی اور انفرادی بھی ہو سکتے ہیں اور اجتماعی بھی ہو سکتے ہیں، علاقائی بھی ہو سکتے ہیں اور عالمی بھی ہو سکتے ہیں، دینی بھی ہو سکتے ہیں اور دنیوی بھی ہو سکتے ہیں، غرضیکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
اس میں باعث تشویش بات یہ ہے کہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ جن سے اجتناب ممکن نہیں ہے، آدمی بلا واسطہ ملوث نہ بھی ہو، تب بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کی آلودگی سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔
اس کی بہت ساری واقعاتی اور تاریخی مثالیں بھی ذکر کی جاسکتی ہیں مگر چونکہ یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے، اس لئے صرف قرآن وحدیث کی دو ایک مثالوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے۔
﴿وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۝﴾ (الانفال:25)
’’ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو، اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
اور آپ جانتے ہیں، بیسیوں مثالیں آپ کے سامنے ہوں گی کہ فتنہ کوئی ایک شخص یا ایک گروہ پیدا کرتا ہے، مگر بہت سے لوگ یونہی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے اور ایسے ہی حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((لَيُخْسَفَنَّ بِقَوْمٍ يَغْرُونَ هَذَا البيت بيداء مِنَ الْأَرْضِ))
’’ ایک لشکر اور قوم کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا جو بیت اللہ پر حملہ کرنے کے لئے آئے گا۔‘‘
((فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ((يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِمُ الْكَارِهُ قَالَ: يُبْعَثُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى نيته)) (مسند احمد:26747)
’’ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ اور اگر ان میں کوئی شخص نا پسند کرنے والا بھی ہو؟ فرمایا: ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا۔‘‘
اور اسی طرح کی ایک اور مشہور حدیث ہے، جس میں آپ ﷺنے فرمایا:
((إذا ظهرت المعاصي في أُمَّتِي عَمَّهُمُ اللهُ بِعَذَابٍ مِنْ عنده))
’’ جب میری امت میں گناہ اور نافرمانیاں عام ہو جائیں گی تو اللہ تعالی ان سب پر عذاب نازل فرمائے گا۔‘‘
ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا۔
((يَا رَسُولَ اللهِ! أَمَا فِيهِم يَوْمَئِذٍ أَنَاسٌ صَالِحُونَ))
’’ کیا اُس وقت ان میں نیک لوگ نہ ہوں گے؟‘‘
((قال: بلي))فرمایا:
’’ہاں کیوں نہیں ۔‘‘
قلْتُ: ((كَيْفَ يُصْنَعُ بِأولائك))
’’تو میں نے عرض کیا: پھر ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟‘‘
((قَالَ: يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ))
’’فرمایا: جو دوسروں پر بیتے گی وہی ان پر بھی بیتے گی۔‘‘
((ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَان)) (مسند احمد:26596)
’’ پھر وہ اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف جائیں گے۔‘‘
تو اس طرح کے اجتماعی مسائل اور فتنے قوموں کی زندگی میں آتے رہتے ہیں اور آتے رہیں گے، ان سے بچنے کی صورت تو یہی ہے کہ آدمی ان سے دور رہے، مگر دنیا میں رہتے ہوئے ان کے نتائج سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے، خصوصی طور پر اس دور میں، کیونکہ اگر کوئی شخص آبادی سے دور کہیں جنگل میں بھی جا کر بسیرا کرلے تو اگر کوئی دشمن ملک اس ملک پر ہائیڈ روجن بم پھینکتا ہے تو اس کے اثرات سے قریبی جنگلات بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔
تو خیر ان اجتماعی مسائل میں سے کہ جو دینی لحاظ سے کسی مسلمان کو متاثر کرتے ہیں اور جن سے کوئی مسلمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس سے مسلمان کی غیرت وحمیت کو تھیں پہنچتی ہے وہ اس دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور وہ ہے بیت المقدس کا مسئلہ ہے۔
بیت المقدس کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس میں صرف ایک نیا موڑ آیا ہے، اس میں ایک شدت پیدا ہوئی ہے۔ مسجد اقصی، بیت المقدس فلسطین وغیرہ ناموں سے یوں تو ہم سب خوب مانوس ہیں، بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں اور ان سے ایک جذباتی سا تعلق بھی رکھتے ہیں۔ مگر ہم میں سے اکثر لوگ مسجد اقصی کے بارے میں شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے کہ مسجد اقصی ہمارا قبلہ اول رہی ہے۔ قبلہ اول کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ پھر کسی وقت کریں گے اور اس میں علماء کرام کے اقوال و آراء کا ذکر کریں گے۔
البتہ آج کی گفتگو میں ہم مسجد اقصی کے بارے میں چند مزید باتیں جاننے کی کوشش کریں گے کہ اسلامی نقطہ نظر سے مسجد اقصی کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے اور مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق ہے۔ مسجد اقصی جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہی ہے ہجرت کے بعد سولہ یا سترہ مہینے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی رہی ہے۔ آپﷺ کی خواہش تھی کہ مرکزیت بیت اللہ کو حاصل ہو، چنانچہ آپﷺ اس خواہش کے اظہار کے طور پر بار بار اپنا چہرہ مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے ، جسے بالآخر شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے اللہ تعالی نے آپﷺ کو ان الفاظ سے مطلع فرمایا:
﴿قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا ۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ﴾ (البقره:144)
’’ بلا شبہ آپ ﷺکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو ہم اسی قبلے کی طرف آپ کو پھیر دیتے ہیں، جسے آپﷺ پسند کرتے ہیں ہیں اب مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اور جہاں کہیں بھی تم ہو اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرو۔‘‘
تحویل قبلہ کی تفصیلات میں جائے بغیر مسجد اقصی کی اہمیت اور فضیات کو دیگر آیات و احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسجد اقصی کی اہمیت وفضیلت کی توثیق اسراء و معراج کے واقعے سے بھی ہوتی ہے جو کہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا جسے اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا:
﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۝﴾(الاسراء:1)
’’ پاک ہے وہ جو لے گیا رات کے مختصر حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اصلی تک جس کے ماحول کو اُس نے برکت دی ہے، تا کہ اسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے، حقیقت میں اللہ ہی ہے سب کچھ سنے اور دیکھنے والا ۔‘‘
اسراء اور معراج کی تفصیلات میں نہیں جاتے بلکہ احادیث کی روشنی میں مسجد اقصی کی فضیلت جانتے ہیں، حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ((لا تُشَدُّ الرحال إلا إلى ثلاثةِ مَسَاجِد، مسجد الحرام ومسجدي هذا، ومسجد الاقصی)) (صحیح مسلم:1397)
’’ تین مسجدوں کے علاوہ تبرک ، ثواب ، فضیلت اور عبادت کی نیت سے سفر نہیں کیا جاسکتا اور وہ تین مسجد میں ہیں: المسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی‘‘
اور ایک حدیث میں ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کون کی مسجد افضل ہے۔ مسجد نبوی یا مسجد اقصی ، تو آپﷺ نے فرمایا:
((صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيهِ)) (السلسلة الصحيحة: 954/6)
’’ میری مسجد میں نماز اس سے یعنی مسجد اقصی سے چار گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘
اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت اور اجر و ثواب ایک ہزار ہے تو یوں مسجد اقصی میں نماز پڑھنے سے اڑھائی سونماز کا ثواب ملتا ہے۔ تو یہ چند وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مسلمانوں کا بیت المقدس سے ایمانی اور دینی رشتہ ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن میں چند مزید کا ذکر کریں گے ان شاء اللہ۔
جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بارے میں حدیث ہے ایک حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا:
((إذ بعث الله المسيح بن مريم))
’’جب اللہ تعالی حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا۔
((فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ البَيْضَاءِ شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين .))
’’ تو دمشق کے مشرقی حصہ میں مسجد کے سفید بیمار کے پاس زرد کپڑوں میں ملبوس اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔‘‘
((إِذَا طَأْطَأَ رَأَسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كاللؤلؤ))
’’ جب حضرت عیسی علیہ السلام اپنا سر جھکا ئیں گے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے نیکیں گے اور جب اپنا سر اٹھائیں گے تو چاندی کے موتیوں کی طرح سفید قطرے ان کے بالوں سے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔‘‘
((فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرِ يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ اِلاَّ مَاتَ))
’’ ان کے سانس کی ہوا جس جس کا فر تک پہنچے گی وہ مر جائے گا۔‘‘
((ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه))
’’اور ان کی سانس کا اثر وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی۔‘‘
((فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فيقتله)) (صحيح مسلم:2937)
’’اور حضرت عیسی علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے اور لڈ کے مقام پر اسے قتل کردیں گے۔‘‘
اور ایک حدیث میں ہے آپ ﷺنے فرمایا:
((لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ القيامة))
’’فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لئے لڑتا رہے گا، وہ گروہ قیامت تک حق پر غالب رہے گا۔‘‘
((فينزل عيسى ابن مريم، فيقولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صل لنا .))
’’ جب حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر حضرت عیسی علیہ السلام سے گزارش کرے گا کہ تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھا ئیں ۔
((فَيَقُولُ: لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمَرَاءُ ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأمة)) (صحيح مسلم:156)
’’ تو حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے نہیں! تم خود ہی آپس میں ایک دوسرے کے امام ہو، یہ اس امت کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ اعزاز ہے۔‘‘
تو ان احادیث سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کا مسجد اقصی، فلسطین اور اس پورے علاقے کے ساتھ ایک خاص تعلق اور واسطہ ہے۔ تاہم ارض فلسطین کے ساتھ دیگر کئی پہلوؤں سے مسلمانوں کا ایک خاص تعلق اور استحقاق ہے وہ بھی ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
………………….

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں