محسنوں کو یاد رکھیں
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہے۔
الرحمن : 60
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ ".
ابوداؤد : 1672 ، صحیح
جس نے تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو، اسے اس کا بدلہ دو؛ اگر تمہارے پاس اسے بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرتے رہو، یہاں تک کہ تمہیں محسوس ہو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔
*لوگوں پر احسان کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتے ہیں*
فرمایا :
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
آل عمران : 134
*اپنے محسنین کے لیے دعائیں کرتے رہیں*
یحیی بن خالد برمکی ہارون رشید کے وزیر تھے اور آپ سفیان بن عیینہ کو ہر ماہ ایک ہزار درہم دیا کرتے تھے تاکہ سفیان کی کمزور معیشت اسے لوگوں میں قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت سے روک نہ سکے
اور اس کے بدلے میں سفیان، یحیی کے لیے سجدوں میں دعا کیا کرتے تھے
*اللهم إنَّ يحيى كفاني أَمرَ دُنياي، فاكفِهِ أمر آخِرتِهِ*
اے اللہ! یحییٰ نے میری دنیا کے مسائل اپنے ذمے لے کر مجھے بے فکر کردیا ہے تو اس کو آخرت کی پریشانیوں سے بے فکر کردے
پھر جب یحییٰ فوت ہو گئے تو ان کے بعض دوستوں نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا :
*ما فعل اللهُ بك؟*
اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
تو انہوں نے کہا :
*غَفرَ لي بِدُعاءِ سُفيانَ*.
وَفياتُ الأعيان 6/228.
البداية والنهاية 679/13
اللہ تعالیٰ نے مجھے سفیان کی دعا کی وجہ سے بخش دیا ہے
*شعب ابی طالب میں ساتھ دینے والوں کو فتوحات اور خمس کی تقسیم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد رکھا*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد عبدمناف کے چار بیٹے تھے :
ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل
آگے پھر انہی سے چار خاندان مشہور ہوئے :
بنوہاشم ‘بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل
بنوہاشم خاندان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے گویا یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا خاندان تھا
باقی تینوں خاندان شریکے میں نبی کریم کے برابر کے رشتہ دار تھے
جب خیبر فتح ہوا اور بہت بڑی دولت مال غنیمت میں ملی تو اس میں سے خمس یعنی پانچواں حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا
جب نبی کریم نے اپنا حصہ اپنے رشتہ داروں میں بانٹا تو اپنے خاندان بنوہاشم کے ساتھ ساتھ بنومطلب کو بھی حصہ دیا
لیکن
بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو کچھ نہیں دیا
چنانچہ ان دونوں خاندانوں کے دو افراد جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہمارا آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کا آپ سے ہے۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ
بخاری : 3140
بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہیں
جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو کچھ نہیں دیا تھا
*اس کی وجہ کیا ہے؟*
اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو مطلب دور جاہلیت اور دور اسلام میں بنو ہاشم کے قریب اور معاون رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمدردی میں پیش پیش تھے۔
حتی کہ شعب ابی طالب میں بنو ہاشم کے ساتھ ساتھ بنو مطلب بھی محصور رہے۔
اور بنوشمس اور نوفل نے کسی بھی موقع پر آپ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ وہ آپ سے جنگ و قتال کرتے رہے اور دوسرے قبائل کو بھی آپ سے لڑائی پر آمادہ کرتے رہے
چنانچہ جاہلیت اور اسلام کے دور میں ان کی باہمی الفت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں "شیئ واحد” (ایک ہی چیز)
قرار دیا تھا
*خدیجہ رضی اللہ عنھا کے احسانات کو یاد رکھتے*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنھا کی وفات کے بعد ان کی خوبیوں کا تذکرہ کیا کرتے تھے
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
نبی کریم ﷺ جب حضرت خدیجہؓ کا ذکر فرماتے تو ان کی تعریف کرتے اور نہایت عمدہ انداز میں ان کی خوبیاں بیان فرماتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک دن مجھے غیرت محسوس ہوئی، تو میں نے عرض کیا: آپ اس سرخ مسوڑھوں والی عورت کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما دی ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
” مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ ".
مسند احمد : 24864، حسن
اللہ عزوجل نے مجھے اس سے بہتر کوئی عطا نہیں کی۔ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا، اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، اس نے اپنے مال کے ذریعے اس وقت میری مدد کی جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا، اور اللہ عزوجل نے مجھے اس کی اولاد عطا فرمائی جب دوسری عورتوں سے مجھے اولاد نہیں دی۔
*ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے احسانات کا تذکرہ کرتے*
ایک دفعہ کسی کی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراضگی ہو گئی جس کی وجہ سے ابوبکر کافی پریشان ہوگئے جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا اور آپ نے ابوبکر کی پریشانی کو دیکھا تو فرمایا :
” إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ ؛ فَقُلْتُمْ : كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي ؟ ” مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا
بخاری : 3661
اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بناکر بھیجا تھا ۔ اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان ومال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی تو کیا تم لوگ میرے دوست کو ستانا چھوڑتے ہویا نہیں ؟ آپ نے دودفعہ یہی فرمایا : آپ کے یہ فرمانے کے بعد پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا
*ابوبکر کے احسان کے بدلے کی ایک صورت یہ بنائی کہ مسجد میں ان کا دروازہ بند نہ ہونے دیا*
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا :
إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ .
صحیح البخاری 3654
کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے ( جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے ) سب بند کر دیئے جائیں۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو
*جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہو انہیں بھولایا نہیں جاتا*
جب اللہ نے تبوک سے پیچھے رہ جانے کے مسئلے میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول کی اور وہ ایک تکلیف دہ بائیکاٹ کے بعد مسجد میں داخل ہوئے, تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے استقبال کو لپکے اور انہیں گلے سے لگایا. سیدنا كعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي، وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ، مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ میری طرف لپک کر آئے، یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی شخص میری طرف نہیں
پھر فرماتے ہیں :
وَلَا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ
بخاري : 4418
"میں طلحہ کا مجھے یوں مبارکباد دینا کبھی نہیں بھول سکتا !”
*ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے احسانات کو بھی یاد رکھا*
مطعم بن عدی کافر تھا اور حالت کفر میں ہی مرا تھا لیکن اس نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک احسان کیا تھا کہ ایک موقع پر جب آپ مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے تو کفار مکہ نے پروگرام بنا لیا کہ اب کسی صورت بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے
تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخلے کے لیے مطعم بن عدی کو پیغام بھیجا تو اس شخص نے اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ بھی دی اور مکہ میں داخل بھی کیا
بعد میں جب جنگ بدر میں مشرکین کے ستر بندے گرفتار ہوئے تو جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ
بخاری : 3139
آج اگر مطعم زندہ ہوتا اور ان لوگوں کے متعلق کہتا تو میں اس کے کہنے پر میں ان سب کو چھوڑ دیتا
*ایک منافق کے احسانات کو بھی نہیں بھولے*
عبداللہ بن ابی منافق جب فوت ہوا تو ان کے متعلق جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
بخاری : 5795
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیض پہنائی
اس کی وجہ کیا ہے
شارح صحیح بخاری داؤد راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
بعضوں نے کہا کہ جنگ بدر میں جب حضرت عباس ؓ قید ہو کر آئے تو وہ ننگے تھے۔
ان کا یہ حال زاردیکھ کر اسی عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتا ان کو پہنادیا تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ ادا کردیا کہ یہ احسان باقی نہ رہے
داؤد راز رحمہ اللہ
*اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد کرنے والے ایک چھوٹے سے جانور کو احسان کا بدلہ دیا*
محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (8392) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ كَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وَكَانَ الْوَزَغُ يَنْفُخُ فِيْهِ فَنَهَی عَنْ قَتْلِ هٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ هٰذَا ]
’’مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔‘‘
*سعودی عرب کے احسانات*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ "
ترمذی : 1955، صحیح
جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا
*پرندے ان کھڑکیوں کو نہیں بھولتے جن سے انہیں دانہ ڈالا جائے*
جی ہاں سعودی عرب ایک کھڑکی ہے جہاں سے وطن عزیز پاکستان کو بیسیوں مرتبہ دانہ ڈالا گیا
*ریالوں اور ڈالروں کی مد میں چند دانے ملاحظہ فرمائیں*
حالیہ جنگ کے دوران دبئی کیساتھ معاملہ بگڑا تو سعودیہ ہی تھا جس نے ہمیں سہارا دیا اور ہم نے اربوں کا قرض واپس کیا ، آج بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس سعودی عرب کے پانچ ارب ڈالر ڈپازٹ موجود ہیں
ذرا تاریخ میں نظر دوڑائیں
1973 – 1980 پاکستان کو عالمی ادائیگیوں کے لیے 502 ملین ڈالر قرض دیا گیا
2005: زلزلہ
سعودی عرب نے 573 ملین ڈالر امدادی پیکج دیا
شاہ عبداللہ نے عوامی مہم چلا کر مزید 168 ملین جمع کیے
2008: عالمی مالی بحران
سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک میں کیش ڈپازٹ کیا اور تیل ادھار کی سہولت دوبارہ دی
2010: سیلاب
105ملین ڈالر سے زیادہ امداد، اس سال پاکستان کا سب سے بڑا عالمی ڈونر سعودی عرب تھا
2014 – 2015: نواز شریف دور
1.5 ارب ڈالرکا تحفہ دیا گیا
2018 – 2019: عمران خان دور
6 ارب ڈالر پیکج: 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر کا تیل ادھار
اس دورے میں 20 ارب ڈالر کے معاہدے سائن ہوئے جن میں گوادر میں آئل ریفائنری شامل تھی
2021 – 2023: مشکل وقت میں دوبارہ مدد
4.2 ارب ڈالر پیکج: 3 ارب ڈالر ڈپازٹ اور 1.2 ارب ڈالر تیل
ء2022 کے سیلاب پر جنیوا کانفرنس میں 1 ارب ڈالر کا اعلان اور 4000 ٹن خوراک (8 لاکھ لوگوں کے لیے)
جنوری 2023 میں 1 ارب ڈالرکے تیل کے معاہدے پر دستخط
اپریل 2023 میں مہمند ڈیم کے لیے 204 ملین قرض
آزاد کشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس کے لیے 90 ملین گرانٹ
2024 سے اب تک
اسٹیٹ بینک میں موجود 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ ہر سال رول اوور کیا جا رہا ہے
سعودی ولی عہد نے ڈپازٹ کو 3 سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنے کا حکم دیا ہے
*ایف سولہ طیاروں کی کہانی*
پاکستان نے دسمبر 1981ء میں امریکہ کے ساتھ 40 ایف-16 طیاروں (F-16A/B) کی خریداری کا معاہدہ کیا۔
پاکستان کی طرف سے قیمت کا بیشتر حصہ ایڈوانس ادا کر دیا گیا لیکن بعد میں انڈین لابنگ اور امریکی منافقت نے اپنا کام دکھایا اور امریکہ نے طیارے دینے سے انکار کردیا، جس پر پاکستان نے سعوی عرب سے درخواست کی کہ امریکہ کو راضی کیا جائے سعودی نے امریکہ سے بات کی تو امریکہ نے مزید بھاری رقم کا مطالبہ کر دیا پاکستان کے لیے ان مہنگے لڑاکا طیاروں کی قیمت کا بڑا حصہ چکانا مشکل تھا
تب سعودی عرب آگے بڑا اور امریکہ کی منہ مانگی رقم اپنی جیب سے ادا کی جس کے نتیجے میں یہ طیارے 1982ء سے 1986ء کے دوران پاکستان کو ملے
*آرامکو کمپنی اور پاکستانی موٹریں*
مکہ اور مدینہ پر اٹیک کی خبریں جب دنیا کے سامنے آئیں اور دشمنان اسلام کے چہرے بے نقاب ہوئے تو آگے سے جواب دیا گیا کہ نہیں جی ہم نے تو مکہ پر نہیں آرامکو کمپنی پر اٹیک کیا ہے لاہور میں ایک نقوی ذاکر بھی مسلسل یہ ہرزہ سرائی کر رہا ہے کہ جی یہ تو آرامکو پر حملہ ہے مکہ پر نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ظالموں نے مکہ اور آرامکو دونوں پر حملے کیے ہیں
اچھا بھائی اگر آرامکو پر حملہ کیا ہے تو کیا آرامکو کا آپ کے اوپر کوئی احسان نہیں ہے
کیا تیل کی انہی تنصیبات نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کو سہارا نہیں دیا ؟
1998 میں جب ہم نے ایٹمی دھماکے کیے تو دنیا نے معاشی دھماکے کردیے اور تمام تر بین الاقوامی پابندیوں کا طوق ہمارے گلے میں ڈال دیا گیا، تب کیا سعودی عرب ہی نہیں تھا جس نے ہمیں یومیہ 50 ہزار بیرل خام تیل فراہم کیا؟
کیا سعودی عرب نے اس کٹھن وقت میں پاکستان کو 4.5 ارب ڈالر کا مفت تیل دیا
یہ پاکستان کی کل تیل کی ضرورت کا 23% تھا
ایٹمی دھماکے کے بعد پہلے 2 سال روزانہ 80,000 بیرل، پھر 40,000 بیرل روزانہ مفت تیل دیا گیا
اور لطف کی بات ہے کہ یہ سہولت 5 سال تک جاری رہی
اس کے علاوہ 2018 کے معاشی بحران میں جب ملک کو ڈالرز کی اشد ضرورت تھی، کیا سعودی عرب نے 3 ارب ڈالرز کا تیل مؤخر ادائیگیوں پر نہیں دیا؟
کیا 2025 اور 2026 کے لیے بھی مؤخر ادائیگیوں پر 1.2 ارب ڈالرز کا آئل پیکیج سعودی عرب ہی کا مرحونِ منت نہیں؟
*نمک حرامی سے تیل حرامی تک*
یہ محض نمک حرامی نہیں، بلکہ صریح ‘تیل حرامی’ ہے کہ جس ملک کے تیل سے دہائیوں سے ہمارا معاشی چولہا جل رہا ہے، اسی کی تباہی پر بغلیں بجائی جا رہی ہیں۔
یہ کس قسم کی بیمار اور تخریبی ذہنیت ہے جو کبھی پاکستان کے سب سے مخلص دوست ملک سعودی عرب کو جلتا دیکھنا چاہتی ہے؟تو کبھی دبئی کے برج خلیفہ کے گرنے کے خواب دیکھ کر اپنے حسد کی تسکین کرتی ہے
اپنی عقل شریف کو ذور کا ہاتھ ماریں اور اس تخریبی ذہنیت سے نجات پائیں۔
منقول
*مستقل احسانات جو ہر سال ہیں*
اس وقت سعودی عرب 40 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دے رہا ہے جو سالانہ 6.5 ارب ڈالر کی پاکستانی انکم بنتی ہے
لاکھوں پاکستانیوں کو طلباء کو سعودی یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم دی جا رہی ہے
رمضان، قربان اور سحر و افطار پیکجز اس کے علاوہ ہیں
*سعودی عرب کیساتھ ہمارے دو رشتے ہیں*
ایک رشتہ ایمان کا ہے اور دوسرا ہمارے ملک کے مفاد کا ہے
ایمان کی وساطت سے دیکھیں تو
کسی انصاف پسند قلم کار نے کیا ہی خوب لکھا ہے:
”مجھے صرف ایسا ایک کیس دکھاؤ کہ حرمین شریفین میں مولوی صاحب نے کسی حاجی کو ترغیب دی ہو کہ ‘چندہ برائے توسیع و تعمیر حرمین شریفین’؟”
کسی کو چندے کا ڈبہ نظر آیا ہو؟ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت فیس ایک ہزار ریال؟
شیخین کی قبروں کی زیارت فی کس پانچ پانچ سو ریال؟
بدر و احد، بقیع و خندق فی کس 1000 ریال؟
زمزم فی گلاس 10 ریال؟
کسی حاجی اور حاجن سے شرطہ (پولیس) نے راز و نیاز میں اپنی جیب گرمانے کی فرمائش کی ہو؟
حاجی صاحب تھانے پہنچے ہوں کہ شرطہ نے مجھے گالی دی ہے، وہ بھی ٹھوس پنجابی میں؟!
حیرت ہے جعلی مقامات پر مزارات بنا کر تجارت کرنے والے بھی کہتے ہیں کہ آلِ سعود حج کے پیسے کھا گئے!!!”
جو لوگ رسول اللہ کے وطن میں بد امنی دیکھنا چاہتے ہیں پتا نہیں وہ کس مٹی کے بنے ہیں ؟
*اسلام کی تبلیغ اور سعودی عرب*
سال 2017 کے دوران اس ملک میں 34 ہزار مزدورں،محنت کشوں اور غیر ملکیوں نے اسلام قبول کرلیا ۔
ہر 2 گھنٹے بعد اس ملک میں 1 غیر مسلم غیر ملکی اسلام قبول کرتا ہے۔
اس ملک میں 452 دعوتی اور تبلیغی مراکز ہیں،دنیا کی تمام اہم زبانوں پر دسترس رکھنے والے سینکڑوں مبلغین اور داعی ان مراکز سے جڑے ہوئے ہیں
اس ملک کی پانچ بڑی این جی اوز
(لجنة مسلمي إفريقيا، موسسة الحرمين الشريفين،حيأة الإغاثة العالمية،الندوة العالمية لشباب الإسلامي،إدارة المساجد والمشروعات الخيرية)26 سے زائد افریقی ممالک میں دعوت کا کام کرتی ہیں
اس ملک نے پانچ برے اعظموں میں 210 شاندار اسلامک سینٹرز اور 1500 سے زائد مسجدیں بنائی ہے
*مظلوموں کا پشتیبان*
سعودی عرب نے بنگلہ دیش میں روہنگیا اقلیت کے لیے 500 ہاوسنگ یونٹ بنانے کا ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے
پچیس لاکھ شامیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی
دس لاکھ یمنی سعودی عرب میں پناہ گزین ہیں
غزہ کو مالی امداد دینے میں پہلے نمبر پر سعودی عرب ہے
*پاکستانی عوام اور سعودی مملکت*
ہمارے اس وقت چالیس لاکھ کے قریب لوگ سعودیہ میں جاب کر رہے ہیں ، ایک خاندان کے چار پانچ لوگ بھی اگر ہوں تو یہ تعداد کروڑوں میں بنتی ہے ، سعودیہ میں بد امنی سے ہمارے کروڑوں لوگ متاثر ہونگے ، ہم مسلکی تعصبات میں اندھے ہو کر کیوں اپنے لوگوں کے نقصان کا سوچیں ؟
اس وقت حج و عمرے کے نام پر ہزاروں کمپنیاں مارکیٹ میں چل رہی ہیں۔ ہزاروں لوگوں کے چولھے عمرہ اور حج کرنے کے سبب چل رہے ہیں ، سعودیہ بد امنی سے ہمارے یہاں بے شمار لوگ ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں گے ، آپ اپنے لوگوں کو کیوں بھوکا دیکھنا چاہتے ہیں ؟
سعودیہ اس وقت پاکستان میں آئل کا کاروبار کر رہا ہے سعودیہ کمپنیاں یہاں کام کر رہی ہیں ہمارے لوگ ان سے ٹھیکے لے رہے ہیں سعودیہ بد امنی کا مطلب ہے کہ ہم تیل کے ذخائر سے ہاتھ دھو بیٹھیں ،
سعودیہ کے اس وقت کئی تعلیمی اور صحت کے پروجیکٹ یہاں چل رہے ہیں خود ہمارے اپنے شہروں میں کئی اسپتال مساجد ، روڈ اور پانی کی اسکیمیں سعودیہ کی چل رہی ہیں ، تعمیراتی کام ہو رہے ہیں سعودیہ بد امنی کی وجہ سے یہاں حالات ڈسٹرب ہونگے
ہمارے ملک میں بننے والے کئی ڈیمز ایسے ہیں جن میں فنڈز سعودیہ نے دیے ، ہمارے گھروں کی روشنی کے پیچھے سعودیہ ہے ، جو ملک ہمارے گھروں تک روشنی کا ذریعہ بنے ہم اسکے اندھیرے پر خوش ہوں ، کیوں ؟
ریاست پاکستان کے لیے پڑوسی بھی اہم ہیں لیکن سعودیہ جیسا دوست پڑوسیوں سے کہیں زیادہ اہم ہے ، پڑوسیوں سے ہمیں شکایات رہی ہیں ، پڑوسیوں کیساتھ بد امنی سے بچنے کے لیے ہمارے حکمران ثالثی کروا رہے تھے اور آئندہ بھی کروانی چاہیے لیکن سعودیہ کو گالی کی قیمت پر نہیں
*29 کروڑ 40 لاکھ افراد کی کفالت برائے راست یہ چار عرب ملک کررہے ہیں*
سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اور کویت ان چار ملکوں میں دو کروڑ چرانوے لاکھ غیر ملکی افراد روز گار میں مصروف ہیں
سعودی عرب نے 148 لاکھ ۔
متحدہ عرب امارات نے 102 لاکھ ۔
قطر نے 22 لاکھ ۔
اور کویت نے بھی 22 لاکھ غیر ملکیوں کو روزگار دیا۔
یہ ٹوٹل 294 لاکھ افراد بنتے ہیں
ان غیر ملکیوں میں 60 لاکھ سے زائد پاکستانی بھی شامل ہیں
مزید یہ کہ ان دو سو چرانوے لاکھ افراد میں سے ہر فرد اپنے والدین بیوی بچوں بہن بھائیوں کی شکل میں اوسطا دس افراد کا بھی کفیل ہو تو گویا 29 کروڑ 40 لاکھ افراد کی کفالت برائے راست یہ چار عرب ملک کررہے ہیں
*افسوس ہے کہ*
یہاں لوگ اٹھتے ہیں اور محسن کو گالیاں دینا شروع ہو جاتے ہیں ، ہم اپنے محسن ملک کا ساتھ دینے کی بجائے ان حوثیوں کی وکالت کرتے ہیں ؟
ایسے ہی نا شکروں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے :
” مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ”
ترمذی : 1955، صحیح
جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا
*اپنے محسنوں کے ساتھ اس قسم کی بے وفائی کرنے والوں کے متعلق ہی یہ اشعار ہیں*
وطن عزیز پاکستان کو ہر نازک وقت میں سہارا دینے والی سعودی آئل کمپنیوں اور حکومت کی طرف سے یہاں کے نمک حرامی کرنے والوں کے نام شکوہ
فيا عجباً لمن ربيتُ طفلاً
اُف! مجھے اس شخص پر بڑا تعجب ہے جسے میں نے بچپن میں پالا۔
أُلقّمه بأطرافِ البنانِ
میں اپنی انگلیوں کے پوروں سے اسے لقمے کھلاتا تھا۔
أعلِّمه الرمايةَ كلَّ يومٍ
میں اسے ہر روز تیر اندازی سکھاتا تھا۔
فلمّا اشتدَّ ساعدُه رماني
لیکن جب اس کا بازو مضبوط ہوگیا تو اسی نے مجھے نشانہ بنا کر تیر مار دیا۔
وكم علَّمتُه نظمَ القوافي
اور میں نے اسے کتنی ہی بار شعر کہنا سکھایا۔
فلمّا قالَ قافيةً هجاني
لیکن جب وہ شعر کہنے کے قابل ہوا تو اسی نے اپنے شعر میں میری ہجو کی۔
أُعلِّمُه الفتوّةَ كلَّ وقتٍ
میں ہر وقت اسے جوانمردی اور بہادری کے آداب سکھاتا رہا۔
فلمّا طرَّ شاربُه جفاني
لیکن جب اس کی مونچھیں نکل آئیں تو اس نے مجھ سے بے رخی اختیار کرلی۔
رمى عيني بسهمٍ أشقذيّ
اس نے میری آنکھ کو ایک تیز و خطرناک تیر سے نشانہ بنایا۔
حديدٍ شفرتاهُ لهذُمانِ
ایسا فولادی تیر جس کے دونوں کنارے نہایت تیز اور کاٹنے والے تھے۔
توخّاني بقدحٍ شكَّ قلبي
اس نے ایک تیر سے مجھے نشانہ بنایا جو میرے دل کو چیر گیا۔
دقيقٍ قد برتْه الراحتانِ
وہ نہایت باریک تیر تھا جسے دونوں ہتھیلیوں نے خوب تراش کر تیار کیا تھا۔
فلا ظفرتْ يداهُ حين يرمي
جب وہ تیر چلائے تو اس کے ہاتھ کبھی کامیاب نہ ہوں۔
وشلّتْ منه حاملةُ البنانِ
اور اس کا وہ ہاتھ شل ہوجائے جس سے وہ تیر چلاتا ہے۔
فابكوا يا بنيَّ عليَّ حولاً
اے میرے بیٹو! میرے انتقال پر ایک سال تک میرے لیے ماتم کرو۔
ورثّوني وجازوا من رماني
اور میرا مرثیہ کہو، اور جس نے مجھے قتل کیا ہے اسے اس کے کیے کی سزا دو۔
جزاهُ اللهُ من ولدٍ جزاءً
اللہ اس بیٹے کو اس کے کیے کا بدلہ دے۔
سليمةَ إنّه شرّاً جزاني
سلیمہ! اس نے مجھے بہت برے طریقے سے بدلہ دیا ہے۔