معاشرے پر قربانی کے اثرات
﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۱۶۲﴾(الانعام162)
گذشتہ جمعے عیدالاضحی کے روز عید اور جمعے کے خطبے میں ہم نے فريضہ حج، عبید الاضحی اور قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور اس کی حکمت کے بارے میں چند باتیں جائیں۔ جہاں ان باتوں کا جاننا مفید اور ضروری اور باعث تجدید ایمان ہے وہاں افراد اور معاشرے پر قربانی کے اثرات اور نتائج کے بارے میں گفتگو کرنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ قربانی یا کسی بھی عمل صالح کی حکمت، مقصد اور فرض و غایت جانتا حصول مقصد کے لئے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، وہ جان کاری اور آگاہی آدمی میں جوش و جذبہ اور ہمت پیدا کرتی ہے، ایک تعلق اور لگن پیدا کرتی ہے اور تقویت ایمان کا باعث ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قربانی کا ایک بڑا مقصد تقرب الی اللہ ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے کہ جس کا اللہ تعالی نے حکم فرمایا، آپ سے کہ ہم نے اس پر عمل فرمایا اور اس کی تاکید فرمائی۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ (الكوثر:2)
’’اپنے رب کے لئے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔‘‘
اور فرمایا:﴿ وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ ۖ﴾ (الحج:36)
’’اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں سے ایک شعیرہ اور نشانی بنا دیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے۔ یعنی ثواب ہے۔‘‘
اس طرح آپ ﷺنے خود بھی قربانی کی اور امت کو بھی اس کی تاکید فرمائی جیسا کہ احادیث میں ہے۔ تو قربانی کا ایک بڑا مقصد تقرب الی اللہ ہے، مگر قربانی کے تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خالص اللہ کے لئے ہو جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۱۶۲﴾(الانعام162)
’’کہیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرحا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔‘‘
عبادات کا خالص اللہ کے لئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ریا کاری اور دکھلاوا نہ ہو اس میں نمود و نمائش نہ ہو اس سے کوئی دنیوی مقصد مطلوب نہ ہو، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہو اور صرف اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عمل میں اخلاص پیدا کرنا اور پھر اس پر قائم رہنا ایک مشکل ترین کام ہے، اخلاص انسان کی اخروی کامیابی کے لئے کتنا اہم ہے، اندازہ کیجئے کہ بندے کی نیت اور اخلاص اللہ تعالی کا مرکز نگاہ ہے اور اللہ تعالی کے ہاں نیتوں پر ہی فیصلے ہوتے ہیں، اللہ تعالی انسان کی شکل وصورت کو نہیں دیکھتا اور نہ مال و دولت کو دیکھتا ہے بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے جو کہ نیتوں کا مسکن اور مقام و محل ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا :
((إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُورِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِن يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمالِكُمْ)) (صحيح مسلم:2564)
’’اللہ تعالی تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کی طرف اور تمھارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے جو دلوں میں ہوتی ہیں۔‘‘
تو کامیابی کا مدار اور انحصار نیتوں کی صحت و درستی اور خلوص پر ہوتا ہے، بظاہر کسی کے اعمال کیسے بھی ہوں اور کسی بھی حالت پر اسے موت آئے ، قیامت کے دن اس کے ساتھ معاملہ اس کی نیت کے مطابق ہی ہوگا، جیسا کہ اس حوالے سے متعدد احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
((عَبَثَ رَسُولُ اللهِ فِي مَنَامِهِ))
’’ ایک بار آپ ﷺنیند میں گھبراہٹ اور ڈراؤنی کیفیت میں دو چار نظر آئے۔ ‘‘
((فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ))
’’تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ہے کہ آج آپ سے اس نے نیند میں کچھ ایسا کیا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایسا نہ کیا تھا؟ ‘‘
((فقال: العَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأ بِالْبَيْتِ))
’’فرمایا تعجب ہے! میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ پر حملہ آور ہوں گے، قریش کے ایک آدمی کو قتل کرنے کی نیت سے کہ جس نے وہاں پناہ لے رکھی ہوگی ۔‘‘
((حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ))
’’حتی کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔‘‘
((فَقُلْنَا يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاس))
’’تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ راستے میں تو ہر طرح کے لوگ اکٹھے چل رہے ہتے ہیں۔‘‘
((قال: نعم فيهم المُستَبْصِرُ وَالْمَجبور وَابْنُ السَّبِيل))
’’فرمایا: ہاں۔ راستے پر چلنے والے ایک خاص مقصد اور ارادے سے چلنے والے بھی ہوتے ہیں کچھ مجبوری کی حالت میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور کچھ راہگیر بھی ہوتے ہیں۔‘‘
((يَهْلِكُونَ مَهْلَكاً وَاحِداً وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّي))
’’وہ سب ایک ہی ساتھ ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف حالتوں میں ان کا انجام ہوگا۔‘‘
((يَبْعَثُهُمُ الله علٰى نِيَّاتِهِم)) (صحيح مسلم:2884)
’’ اللہ تعالی انہیں ان کی نیتوں پر اٹھائے گا۔ یعنی ان کے ساتھ معاملہ ان کی نیتوں کے مطابق ہوگا۔ ‘‘
لہٰذا اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے نیتوں کا خالص اور درست ہونا ضروری ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں قبولیت عمل کے لئے صحت نیست شرط لازم ہے مگر ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ نیت کو درست کرنا اور پھر اس پر قائم رہنا نہایت ہی مشکل ہے اور سبب اس کا یہ ہے کہ جس طرح دل حسی طور پر ہر دم متقلب اور مضطرب رہتا ہے اسی طرح معنوی طور پر بھی یعنی عقائد و نظریات، افکار و خیالات اور احساسات میں بھی مضطرب و بے قرار رہتا ہے، یعنی افکار و نظریات اور خیالات و احساسات بڑی تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے آپﷺ نے فرمایا:
((لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ اِنْقلاباً مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اسْتَجْمَعَتْ غَلَيَانًا)) (مسند احمد:23812)
’’ابن آدم کا دل ہنڈیا کے اہبنے سے بھی زیادہ متقلب و مضطرب رہتا ہے، اس کو ہرگز قرار نہیں ہے۔‘‘
چنانچہ اسی لئے تو دعاء سکھلائی گئی ہے۔
((يا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلٰى دِيْنِكَ)) (سنن ترمذی:2140)
’’ اے دلوں کو الٹ پلٹ اور متقلب کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت و مستحکم کردے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ دل کی اس فطری کیفیت کے سبب دین پر قائم اور کسی نیکی پر ثابت قدم رہنا اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اصلاح نیت ایک بہت حساس مسئلہ ہے، یہ تسلسل اور خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، ایک بار نیست درست کر کے چھوڑا نہیں جاسکتا، بلکہ مسلسل اس کی تجدید کی ضرورت رہتی ہے اس کی اصلاح کی ضرورت پڑتی ہے اور بار بار پڑتی ہے۔
اس ضرورت کو کبار علماء کرام ، محد ثین اور فقہائے عظام نے بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اس مسئلے کی حساسیت کے بارے میں یوں گویا ہوئے فرمایا:
((مَا عَالَجْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ نِيَّتِي ، لأَنَّهَا تَتَقَلَّبُ عَلَىَّ)) الجامع الأخلاق الراوي وآداب السامع ، رقم: 692)
میں نے اپنی نیت سے زیادہ سخت کبھی کسی چیز کی اصلاح اور معالجہ نہیں کیا، کہ وہ مجھ پر پلٹ پلٹ جاتی ہے، یعنی جو نہی درست کرتا ہوں، کچھ دیر بعد کوئی اور شکل اختیار کر لیتی ہے، پھر درست کرتا ہوں، پھر کسی اور طرف پلٹ جاتی ہے، اس لئے مسلسل اس کی اصلاح کرتے رہنا پڑتا ہے۔
اسی طرح ایک اور عالم فرماتے ہیں کہ:
((إِثْنَتَانِ أَنَا أُعَالِجُهُما منذُ ثَلَاثِيْنَ سَنَةً))
’’ دو چیزیں ایسی ہیں کہ تیس سال سے میں ان کی اصلاح کر رہا ہوں۔‘‘
))تَرْكُ الطَّمَعِ فِيْمَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ))
’’ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے میں طمع اور لالچ سے بچ سکوں۔‘‘
((وَاِخْلاصُ العَمَلِ لِلَّهِ عَزَّ وجل)) (حلية الأولياء وطبقات الاصفياء، ج ۷، ص:271)
’’اور عمل کو اللہ تعالی کے لئے خالص کر سکوں۔‘‘
اللہ تعالی کی طرف چلتے ہوئے مسافر کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں ہوتی ہیں، کہیں نشیب و فراز ہوتے ہیں، راہ نا ہموار ہوتی ہے کہیں کھنڈے اور کھائیاں ہوتی ہیں، کہیں خونخوار درندے ہوتے ہیں، کہیں دشمن ہمدردی اور خیر خواہی کا بھیس بدلے سبز باغ دکھا رہا ہوتا ہے اور نسل انسانی کے سب سے بڑے دشمن کا سب سے بڑا حملہ انسان کی نیت پر ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اسے شاباش دی جاتی ہے کہ تم بہت اچھا کر رہے ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ اس کی خراب نیت کی وجہ سے اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہی نکلنے والا ہے۔
تو اصلاحِ نیت کا معاملہ گویا انسان کی زندگی کا خلاصہ ہے کہ اس پر اُس کی کامیابی کا انحصار ہے، چنانچہ اس کی اہمیت کو بعض علماء کرام نے یوں بیان کیا کہ:
((وَدِدْتُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ مَنْ لَيْسَ لَهُ شُغْلٌ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَ النَّاسَ مَقَاصِدَهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ، وَيَقْعُدَ لِلْتَدْرِيسِ فِي أَعْمَالِ النِّيَّاتِ)) (المدخل لابن الحاج ، ج:1، ص:2)
’’میری خواہش ہے کہ کاش کچھ فقہائے کرام ایسے ہوں کہ جن کا کام صرف اعمال کے مقاصد سکھلاتا ہو، اور جو بیٹھ کر لوگوں کو نیتوں کی درستی کا سبق دیں ۔‘‘
کسی انسان کو نیکی کے کام سے روکنا شیطان کے لئے بہت مشکل کام ہے، کیونکہ جب وہ نیکی بہت جذبے، ولولے اور شوق سے کر رہا ہو اور شیطان اس کو آکر کہے کہ چھوڑ و اس فضول کام کو تو اس کو بات آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے، مگر اس کی نیت کو بدل دینا اس کے لئے بہت آسان کام ہوتا ہے، کیونکہ شیطان اُس کی فطری کمزوری کو بیچ میں لے آتا ہے، تعریف اور شہرت کی خواہش کے تار چھڑ دیتا ہے کہ جس کی پراثر اور ترنم سے بھر پور آواز اس کے کانوں میں رس گھول دیتی ہے اور وہ اس سے محفوظ اور لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔
شیطان کی چالوں کو سمجھنا ایک عام آدمی کے لئے آسان کام نہیں ہے حتی کہ خواص کے لئے بھی اللہ کی توفیق کے بغیر اسے سمجھنا مشکل ہے، شیطان کیسی کیسی چالیں چلتا ہے، غور فرمائیے: کہتے ہیں کہ ابو الحسین المنوری اللہ ایک کشتی کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ اس میں شراب کے ملکے پڑے ہوئے ہیں، ملاح سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے اور کس کا مال ہے؟
اس نے کہا کہ ان میں شراب ہے اور فلاں شخص کی ہے، ایک بڑے آدمی کا نام لیا، تو ابو الحسین نے آگے بڑھ کر اپنی لاٹھی سے ایک ایک کو توڑنا شروع کر دیا، جب ایک باقی رہ گیا تو اس کو چھوڑ دیا۔
اتنے میں اس بڑے آدمی (خلیفہ معتضد) کے ملازمین اور خدام پہنچ گئے اور انہوں نے پکڑ کر انہیں اپنے مالک کے سامنے پیش کر دیا تو اُس نے ان سے پوچھا کہ: ((ما الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ)) ’’یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا ہے؟‘‘
((قَالَ: شَفْقَةً عَلَيْكَ وَلِدَفْعِ الضَّرَرِ عَنْكَ))
’’ کہا تم پر ترس کھاتے ہوئے اور تمہیں نقصان سے بچانے کے لئے۔‘‘
اور دعوتی نقطہ نظر سے یہ بڑا حکیمانہ جواب تھا:
((قَالَ: وَلِأَيِّ شَيْءٍ تَرَكْتَ مِنْهَا وَاحِدًا))
’’ کہا تو پھر اس میں سے ایک کو کیوں چھوڑ دیا ؟‘‘
((قَالَ: لِأَنِّي إِنَّمَا أَقْدَمْتُ عَلَيْهَا فَكَسَرْتُهَا إِخْلَالًا لِلهِ تَعَالَى فَلَمْ أبَالِ أَحَدًا))
’’کہا: اس لئے کہ میں انہیں اللہ تعالی کی تعظیم کرتے ہوئے تو ڑ رہا تھا اس لئے مجھے کسی شخص کی پر داد نہیں تھی۔‘‘
((فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَى هَذَا الأَخِيرِ دَخَلَ فِي نَفْسِي إِعْجَابٌ مِنْ قَبِيلَ أَنِّي أَقْدَمْتُ عَلَى مِثْلِكَ))
مگر جب میں اس آخری ملنے پر پہنچا تو میرے دل میں خود پسندی، غرور اور اعجاب پیدا ہو گیا کہ میں نے اتنے بڑے آدمی کے خلاف یہ کام کر دکھایا ہے۔
((فَتَرَكْتُهُ)) ’’تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔‘‘
((قَالَ: إِذْهَبْ قَدْ أَطْلَقْتُ يَدَكَ فَغَيَّر مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُغَيِّرَهُ مِنَ المُنْكَرِ)) (البداية والنهاية، ج:14، ص:704)
’’ کہا جاؤ آج سے میں نے تمہارے ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دیا ہے جس طرح چاہو برائی کو روکو۔‘‘
مطلقًا نیت کی اصلاح کے حوالے سے گفتگو تو ایک طویل موضوع ہے جو کہ ان شاء اللہ کسی دوسرے موقع پر عرض کریں گے، مگر آج کے خطبے میں خصوصی طور پر قربانی کے حوالے سے نیت کی اصلاح پر بات کرنا چاہیں گے۔
قربانی کا عمل جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کی عملی کوشش کی یاد تازہ کرتا ہے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا سبب اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنتا ہے اور جس کے ضمنی مقاصد میں سے ایک لوگوں کے دلوں میں جذبہ ایمان بڑھانا، ایمانی حرارت میں اضافہ کرنا، جوش اور ولولہ پیدا کرنا، معاشرے کے افراد میں ایک دوسرے کے لئے ایثار و قربانی کے جذبات پیدا کرنا اور اخروی کامیابی کے لئے اپنی نماز، اپنی قربانی، اپنی دیگر تمام تر عبادات، اپنی جان، اپنا مال اپنی عزت، حتی کہ اپنا جینا اور مرنا اللہ تعالی کے لئے خالص کر دینے کے جذبے اور عقیدے اور نظریے کو مضبوط کرتا ہے۔
آج ہمارا وہ عمل اپنے مقاصد پورے کرتا ہوا نظر نہیں آتا، اس لئے کہ ظاہری طور پر ہم اپنے معاشرے میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ایک مصنوعی سی چیز نظر آتی ہے، اس میں قربانی کی روح نا پید ہے، اس میں خود نمائی ، شہرت اور نمود و نمائش نظر آتی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قربانی کے عمل کی تضحیک نظر آتی ہے۔ جب قربانی کے جانور کے ساتھ سلفیاں بنائی جائیں ، جب ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر قربانی کے جانوروں کی نمائش کی جائے جب قربانی کے جانوروں کے نام اداکاروں اور اداکاراؤں کے نام پر رکھے جائیں تو اسے ساتھ ابراہیمی کہتے ہوئے کیا قربانی کی تضحیک نہیں ہوگی!
اور قربانی کی تضحیک کا ایک دوسرا پہلا ملاحظہ کیجئے کہ قربانی کی حکمت اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کرنے اور ان کی تشریح کرنے کے لئے میڈیا پر زیادہ تر فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے، صحافت سے تعلق رکھنے والے اور نام نہاد دانشوروں کو بلایا جاتا ہے اور اپنے پروگراموں کو پرکشش بنانے کے لئے نام رکھا جاتا ہے فلسفہ قربانی اور وہ لفاظی کے زور پر قربانی کا خود ساختہ فلسفہ بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
شرعی اصطلاحی الفاظ میں ایک چاشنی ہے، ایک تعلق خاطر محسوس ہوتا ہے، دین کی طرف رغبت شوق اور محبت پیدا ہوتی ہے جبکہ فلسفیانہ الفاظ میں صرف واہ واہ ہوتی ہے اور کھوکھلاپن نظر آتا ہے اور پھر اس فلسفے کا اثر ان کے عید کے دیگر پروگراموں میں ناچ گانے کی صورت میں بہت واضح نظر آرہا ہوتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
آج ہمیں اصلاح نیت کے لئے قربانی کی حکمتیں، اجر و ثواب، فضائل و محاسن اور العراض و مقاصد جاننے کی ضرورت ہے تا کہ ہم میں مطلوبہ اوصاف و محاسن اور صفات و مکارم پیدا ہوں۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين