*متحد قوم فاتح پاکستان*

*متحد قوم فاتح پاکستان*

*اسلام میں اتحاد کی اہمیت اور فرقہ کی مذمت*

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جاؤ
آل عمران : 103

*متحد رہنا اہل اسلام کا امتیاز ہے*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ
سنن ابی داؤد : 2751
"اور وہ (مسلمان) دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ (یعنی متحد) ہوتے ہیں۔”

مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔ اسی وجہ سے دشمن ان پر حملہ آور ہے
بقولِ شاعر :
نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں
کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں

عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ،وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ
ترمذی : 2165 ، صحیح
مسلمانوں کی جماعت سے چمٹے رہو اور فرقہ بندی سے بچو

*عیسائیوں کے خنزير چرانے سے بہتر ہے بھائیوں کے اونٹ چرا لوں*

اندلس کے حکمران خاندان کے ایک فرد کے اپنے خاندان کے افراد اور بھائیوں سے کچھ اختلافات ہو گئے یہ بات جب عیسائیوں تک پہنچی تو عیسائیوں نے اسے اپنے ساتھ مل کر اندلس کے مسلم حکمرانوں کے خلاف کام کرنے کا کہا اور اسے بھاری معاونت کی پیشکش بھی کی تو اس نے آگے سے جواب دیا، کہنے لگا :
میرے لیے عیسائیوں کے خنزير چرانے سے بہتر ہے کہ اپنے بھائیوں کے اونٹ چرا لوں

*اتحاد جتنا بھی ہو جائے کم ہے اور اختلاف تھوڑا سا بھی بہت زیادہ ہوتا ہے*

ایک عربی شاعر نے کہا ہے :
تَكَثَّر مِنَ الإِخوانِ ما اسطَعتَ إِنَّهُم
عِمادٌ إِذا استَنجَدتَهُم وَظُهورُ
وَما بِكَثيرٍ أَلفُ خِلٍّ لصاحِبِ
وَإِنَّ عَدُوًّا واحِدًا لَكَثيرُ

"جتنے زیادہ ہو سکیں، دوست بناؤ،
کیونکہ وہ مدد کے وقت ستون اور سہارا ہوتے ہیں۔
دوست ہزاروں بھی ہوں تو زیادہ نہیں ہوتے
لیکن دشمن ایک بھی ہو تو بہت زیادہ ہے!”

*اتحاد اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے*

جیسا کہ مختلف قبائل اور گروہوں میں بھٹے ہوئے عرب لوگ جب اپنے سبھی اختلافات اور قبائلی تعصبات چھوڑ کر اسلام کی چھتری تلے یکجان اور متحد ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی بہت بڑی نعمت قرار دیا، فرمایا :
وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
آل عمران : 103

*اتحاد اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا جہاں کی ساری دولت بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتی*

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطورِ احسان یہ بات ارشاد فرمائی کہ میں نے آپ کو ایک متحد اور آپس میں پیار، محبت اور الفت رکھنے والی جماعت دے کر آپ کی مدد کی ہے
فرمایا :
وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ
اور اگر وہ ارادہ کریں کہ تجھے دھوکا دیں تو بے شک تجھے اللہ ہی کافی ہے۔ وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔
الأنفال : 62
وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی، اگر تو زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتا ان کے دلوں کے درمیان الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بے شک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
الأنفال : 63

یعنی کہ آپ دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح اپنی خاص نصرت کے ساتھ آپ کو قوت بخشی، اہل ایمان ساتھی عطا کیے، ان کی باہمی عداوتیں، جو آپ کے پوری زمین کی ہر چیز خرچ کرنے پر بھی دور نہیں ہو سکتی تھیں، اس نے اپنے خاص فضل سے دور کر کے ایمان کی بدولت ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی اور انھیں یک جان کر کے آپ کی پشت پر کھڑا کر دیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جماعت کی اتفاق و اتحاد والی یہی خوبی اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ پر بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں
الفتح : 29

*فاتح بننے کے لیے متحد رہنا بہت ضروری ہے*

یہ بات یاد رکھیں کہ فتح کے لیے اتحاد بہت ضروری ہے، اگر آپ فاتح قوم بننا چاہتے ہیں تو کسی بھی قسم کے سیاسی، لسانی یا علاقائی تعصبات اور اختلافات کو ہوا نہ دیں، ان سب چیزوں کو چھوڑتے ہوئے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ اسی میں دفاع اسی میں بقاء اور اسی میں قوت ہے ورنہ نقصان ہی نقصان ہوگا

*وہی لشکر فاتح ہوگا جو بنیانِ مرصوص کی مانند متحد ہو گا*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
بلاشبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔
الصف : 4

یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ "بنیان مرصوص” بول کر چند اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے
1 عقیدہ و مقصد میں ایک ہو
2 ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں
3 ایک دوسرے پر اعتماد میں پوری طرح یک جان ہوں
4 جس طرح ’’بنیان مرصوص‘‘ میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا ان میں بھی کسی قسم کا کوئی رخنہ نہ پایا جائے۔
5 جس طرح ’’بنیان مرصوص‘‘ اپنی جگہ سے نہیں ہٹتی ان کے قدم بھی کسی صورت میدان سے اکھڑنے نہ پائیں

*اللہ تعالیٰ نے جنگ کے اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:*

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
الأنفال : 45
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہو جائو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
الأنفال : 46

ان دو آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے جنگ کی پانچ ھدایات بیان کی ہیں (ان میں سے) چوتھی ہدایت یہ کہ آپس میں جھگڑا اور اختلاف نہ کرو، ورنہ فتح کے بعد شکست نظر آنے لگے گی، جس سے تمھارے دلوں میں بزدلی پیدا ہو جائے گی اور تم ہمت ہار بیٹھو گے اور تمھاری ہوا جاتی رہے گی، یعنی تمھارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم پر غلبہ پانے کے لیے اپنے اندر جرأت محسوس کرنے لگیں گے۔

*اختلافات میں پڑنے کی شدید مذمت*

اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے اور اختلاف پیدا کرنے منع سے کیا اور فرمایا :
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جو الگ الگ ہو گئے اور ایک دوسرے کے خلاف ہوگئے، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
آل عمران : 105

*امت میں افتراق پیدا کرنے والا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کس قدر برا ہے*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ
مسلم : 1852
"پس جو شخص اس امت کے اتحاد کو توڑنا چاہے جبکہ وہ متحد ہو، تو اسے تلوار سے مار ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔”

*جو قوم جتنی متحد ہو گی وہ شیطان کے حملوں اور فتنوں سے اتنی محفوظ ہوگی*

عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنْ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، مَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ
ترمذی : 2165 ، صحیح

"اور تم لوگ فرقہ بندی سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے، اور دو (افراد) سے وہ دور ہوتا ہے، جو شخص جنت کے وسط (کشادہ جگہ) کا خواہشمند ہو، اسے جماعت کو لازم پکڑنا چاہیے۔”

اقبال کہتا ہے :
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

*اگر تم اختلافات میں بھٹ گئے تو بہت جلد ہلاک ہو جاؤ گے*

میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” وَلَا تَخْتَلِفُوا ؛ فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا ".
بخاری : 3476
"اور اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے۔”

اور فرمایا :
إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الِاخْتِلَافُ
مسند أحمد | 3981
تم سے پہلی قوموں کو اختلافات نہیں تباہ کر کے رکھ دیا

*جو اختلافات میں بھٹ جاتے ہیں ان کا رعب و دبدبہ ختم ہو جاتا ہے*

اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ‌ وَاصۡبِرُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ‌ۚ ۞
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا چلی جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
الأنفال 46

یعنی تمہارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے تمہارا رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم پر غلبہ پانے کے لیے اپنے اندر جرأت محسوس کرنے لگیں گے

*اندلس کے فاتحین کی مثال*

مسلمانوں نے جب اندلس فتح کیا تو فقط 12 ہزار تھے لیکن اہم بات یہ تھی کہ سب متحد تھے اور اسی اتحاد کی وجہ سے لاکھوں عیسائیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے فاتح بن گئے
مگر
جب اندلس کا سقوط ہوا ،مسلمانوں کی صدیوں پرانی حکومت تاراج ہوئی تب 12 ہزار نہیں بلکہ 10 لاکھ تھے مگر فرق یہ تھا اختلافات میں پڑے بکھرے ہوئے تھے

*قوم کو متحد رکھنے کے لیے صبر کرنے کی بہت ضرورت ہے*

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ "
ابن ماجہ : 4032 ، صحیح
"وہ مؤمن جو لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر اجر والا ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے۔”

ایک شاعر نے کہا ہے :
اس جذبہ گل بوسی میں کچھ کانٹے بھی چب جاتے ہیں
اپنوں کے نشتر سہہ لینا ٹکرانا فقط بیگانوں سے

*کبھی قوم کو اختلافات سے بچانے کے لیے اپنی خواہشات کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے*

جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا
مگر
آپ نے اسے گرا کر تعمیر نہ کیا اور وجہ یہ بیان کی کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں اختلاف نہ ہو جائے

*اتحاد قائم رکھنے کے لیے ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے*

خالد بن ولید اور سعد بن ابی وقاص رضي الله عنهما میں کسی مسئلے کی وجہ سے اَن بَن تھی۔ ایک شخص نے سعد رضي الله عنه کے سامنے خالد رضي الله عنه کی غیبت کرنی چاہی(اب خالد چونکہ مسلمانوں کے مضبوط کمانڈر تھے اور خالد کی غیبتیں اور ان کے متعلق غلط فضا اور منفی تبصروں سے اسلامی جمعیت کو نقصان پہنچ سکتا تھا)
تو آپ نے فرمایا :
”باز رہو! ہمارا باہمی معاملہ ہماری دینی اخوت پر حاوی نہیں ہو سکتا۔“
*المصنف لابن أبي شيبة | ٢٦٠٤٨*

*امت کو متحد کرنے کی خاطر حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دستبردار ہو گئے*

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کون واقف نہیں ہے سبحان اللہ بہت بڑی سلطنت کے خلیفہ تھے بڑی فوج رکھتے تھے خود بھی جوان تھے جسم میں گرم خون گردش کرتا تھا دولت بھی بے شمار تھی سلطنت، طاقت، صلاحیت، ذہانت الغرض بہت کچھ تھا لڑنا چاہتے تو لڑ سکتے تھے مدمقابل کو دبا سکتے تھے کوئی خوف اور ڈر نہ تھا
مگر
جب دیکھا کہ سامنے بھی اپنے ہی بھائی ہیں مسلمانوں کی ہی جماعت ہے سوچا اگر جنگ چھڑتی ہے پھر کوئی ادھر سے قتل ہو یا اُدھر سے بہرحال وہ امت کا ہی ایک فرد ہوگا دونوں صورتوں میں نقصان اپنا ہی ہے لھذا کسی طرح یہ جنگ رکنی چاہیے
قربان جائیں اس شہزادے صحابی پر نانا کی امت کو بڑی خون ریزی سے بچانے کے لیے اپنی سلطنت،قوت، طاقت، حکومت، فوج، اسلحہ الغرض سب کچھ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جھولی میں رکھ کر خود خلافت سے دستبردار ہوگئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی قربانی دی اور وہ بھی بغیر کسی شرط کے

سبحان اللہ
حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قدم اس قدر قابلِ تحسین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال پہلے ہی اس کی تعریف کردی تھی
فرمایا :
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
بخاری : 2704
میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔

*جب مقابلہ دشمن سے ہو اور تسخیرِ عالم کے پختہ عزم ہوں تو پھر اندرونی اختلافات چھوڑنے پڑتے ہیں*

ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے حضرت علیؓ کے زیرِ حکومت علاقے پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ جب حضرت معاویہؓ کو اس کی خبر ہوئی، تو انہوں نے رومی بادشاہ کو ایک سخت پیغام بھیجا :
"یہ مت سمجھنا کہ ہمارے باہمی اختلافات کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر تُو نے علیؓ کے علاقے پر حملہ کیا، تو یاد رکھ! میں سب سے پہلے علیؓ کی طرف سے تیرے مقابلے کے لیے نکلوں گا۔”
یہ سن کر رومی بادشاہ حملے سے باز آ گیا۔ یوں دشمن کی چال ناکام ہوئی اور اُمتِ مسلمہ کی عظمت و اتحاد کی ایک لازوال مثال قائم ہوئی۔

إقبال کہتا ہے :
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاں‌گیری، محبّت کی فراوانی

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

*یہود کی طرف سے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی ایک کوشش اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بروقت رد عمل*

ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ
مدینہ کا ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس، مسلمانوں (اوس و خزرج) کے باہمی اتحاد کو دیکھ کر سخت پریشان ہوا۔
کہنے لگا : ”اوہ ! اس ملک میں اوس و خزرج کے اشراف متحد ہوگئے ہیں۔ واللہ ! ان اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گذارا نہیں۔”
پھر اس نے اس اتحاد کو توڑنے کے لیے ایک چال چلی، اس نے ایک نوجوان یہودی کو اُن کے درمیان بھیجا تاکہ جنگِ بعاث اور قبائلی تعصب کی باتیں چھیڑ کر ان کے جذبات بھڑکائے۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا، نتیجتاً دونوں قبائل میں بحث و تکرار شروع ہوگئی اور بات لڑائی تک جا پہنچی۔ دونوں قبیلے ہتھیار لے کر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوگئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً صحابہ کے ساتھ وہاں پہنچے اور فرمایا:
"اللہ کا تقویٰ اختیار کرو! کیا تم میرے ہوتے ہوئے جاہلیت کی پکار دے رہے ہو؟”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت سن کر سب کو احساس ہوا کہ وہ شیطانی چال کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ رونے لگے، ایک دوسرے سے گلے ملے، اور توبہ کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سازش ناکام بنادی۔
الرحیق المختوم ص324(بتصرف یسیر)

*اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ*

متحد ہو کر جیئں تو ایک طاقت ہیں ہم
گر سلامت یہ وطن ہے، تو سلامت ہیں ہم

*اس واقعہ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ*

دشمن ہمیں تقسیم کرکے، مختلف گروپوں اور جماعتوں میں بانٹ کر، ہمارے درمیان گروہی تعصبات اور اختلافات کو ہوا دے کر ہمیں کمزور کرنے اور پھر ہم پر حکومت کرنے کی کوشش کرتے ہیں

*ڈیوایڈ اینڈ وار،دشمن کا پرانا ہتھیار*

انگریز جب ہندوستان میں آیا تھا تو اس نے یہاں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے یہی ہتھکنڈہ استعمال کیا تھا، جگہ جگہ فرقہ واریت کی آگ لگا دی، برادری ازم کھڑے کردیے، علاقائی اور لسانی تقسیم کو خوب استعمال کیا، مسلمانوں کی جمعیت کو منتشر کیا اور یوں پورے ہندوستان پر قابض ہو گیا

*300 رجسٹرڈ جماعتیں*

اس وقت وطن عزیز پاکستان بدترین فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اور اس فرقہ واریت کا سب سے بڑا محرک یہ پلید جمہوری نظام ہے آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت وطن عزیز پاکستان میں 300 کے لگ بھگ سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، ہر جماعت کا الگ ہی منشور، الگ ہی ماٹو اور الگ ہی نظریہ ہے، ہر جماعت حکومت کی طمع رکھتی ہے ،کرسی اور سیٹوں کی دوڑ ہے اسی دوڑ اور کشمکش میں اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے، سیاسی جلسوں اور بیٹھکوں میں مخالفین پر جھوٹے الزامات اور طعن و تشنیع کے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں، عجیب سین چل رہا ہے کہ اللہ کی پناہ

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں

*تھوڑی دیر کے لیے اتحاد و اتفاق اور تعاونِ باہمی کے حوالے چند قرآنی اور حدیثی ارشادات بھی سن لیں*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ
مومن تو بھائی ہی ہیں۔
الحجرات : 10

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ ]
[ بخاري : 2442 ]
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے۔‘‘

*تم ایک جسم ہو*

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی باہمی محبت کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا :
« كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالحُمَّى»
(بخاري : 6011 )

تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤگے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسی کہ نینداڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

بقول اقبال :
اخوت اس کو کہتے ہیں
چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر
پیرو جواں بیتاب ہو جائے

*تم ایک دوسرے کو مضبوط کرو*

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
«إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
(بخاري : 481)
ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔

آپ نے مواخات مدینہ قائم کی یہ اخوۃ اس قدر مضبوط قرار دی گئی کہ شروع میں اسی بنا پر وراثت میں حصہ دار بننے لگے
لوگوں نے اپنے اموال، جائیدادیں، زمینیں، کھیت اور باغات تک آدھے آدھے تقسیم کرکے اپنے بھائیوں میں بانٹنا شروع کر دیے

ایسے شیروشکر اور متحد ہوئے کہ سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور کوئی ان کے درمیان دراڑ نہ پیدا کرسکا اور یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے مقابلے میں ایک مضبوط جمعیت کھڑی کردی اور یہ ذہن پیدا گیا :وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ کہ تم اپنے دشمنوں کے خلاف ایک ہو

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں