
نظریہ کسی بھی قوم اور ملک و ملت کی جان اور روح ہوتا ہے، جس کی خاطر تن من دھن اور ہر چیز کو قربان کیا جا سکتا ہے مگر نظریہ کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی تاریخ میں جتنے بھی انقلاب آئے وہ سب کسی نظریے کے تحت تھے ، خواہ وہ
نظریات اسلامی ہوں یا غیر اسلامی۔ ویسے تو تھیوری اور فلسفہ حیات بہت ساروں نے پیش کیا ہے، جو فکری حد تک تھا۔ لیکن مدنی معاشرے میں جو نظریہ حیات پیغمبر اسلام نے پیش کیا۔ اس پر عمل کر کے دیکھایا، ایسا فکری و نظریاتی انقلاب برپا کیا ،