قدرِ خود شناس
﴿اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْـًٔا۶۷﴾(مريم:67)
گذشتہ جمعے انسان کی پہچان کا ایک پہلو ذکر ہوا، آج ایک دوسرے پہلو سے تھوڑا سا ذکر کریں گے ان شاء اللہ، اور پھر رمضان المبارک سے متعلق کچھ عرض کریں گے۔
انسان کی ایک پہچان تو یہ ذکر ہوئی کہ وہ حیوان ناطق ہے، اور یہ اسے جسمانی طور پر دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے کے لئے ہے اور اس کے ساتھ تخلیق کے لحاظ سے اس کی پہچان کا ذکر ہوا کہ انسان کی پیدائش ایک مخلوط نطفے سے ہوئی۔ اس پہچان کو اللہ تعالی نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے ، جیسا کہ فرمایا:
﴿هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا﴾ (الدهر:1)
’’ کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت نہیں گزرا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔‘‘
﴿فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ﴾( الطارق:5)
’’ انسان ذرا دیکھے تو سہی کہ وہ کسی چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
﴿اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْـًٔا۶۷﴾(مريم:67)
’’ کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ ‘‘
﴿وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ ؕ﴾(يس:78)
’’اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے۔‘‘
﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ۱
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ﴾ (العلق:1۔2)
’’پڑھیے اے نبی! اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، مجھے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا۔‘‘
تو انسان کی یہ پہچان اللہ تعالی نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بیان فرمائی، جس میں یقینًا بہت سی حکمتیں ہوں گی۔
ان میں سے ایک حکمت یہ نظر آتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو اپنے انعامات و احسانات یاد دلا کر انہیں احسان مندی اور شکر گزاری کی راہ دکھا رہے ہیں اور یہ انعام و احسان اتنا بڑا انعام و احسان ہے کہ دیگر تمام انعامات و احسانات کی بنیاد ہے، کہ اسے وجود بخشا ہے جبکہ وہ اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا، اس کا نام و نشان تک نہ تھا، پھر کیونکر وہ احسان فراموشی کی روش اختیار کرے۔ اور یہ پہچان اس لئے بھی کروائی تاکہ انسان کو اپنی کمزوری اور فقر و احتیاج کا احساس رہے اور وہ سرکشی پر نہ اتر آئے ، اور اس لئے بھی تاکہ اسے موت کے بعد والی زندگی کو سمجھتا آسان ہو، جیسا کہ فرمایا:
﴿اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۷۷﴾ (یس:77)
’’انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا ۔‘‘
﴿وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ۷۸﴾ (يس:78)
’’اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے۔ کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں۔‘‘
﴿قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ﴾ (یس:79)
’’ اس سے کہو، انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا جو ہر طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے۔‘‘
تو یہاں مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی حقیقت کو سمجھانے کے لئے اس کی پیدائش کا حوالہ دیا، کہ جو انسان کو عدم سے وجود میں لایا، وہ اس کے بوسیدہ وجود کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔ غرضیکہ اپنی پیدائش کی حقیقت کو اور تخلیقی عمل کو سمجھے اور یاد رکھنے میں بہت سی حکمتیں ہیں اور اس کے بہت سے فوائد ہیں۔
ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان تکبر نہیں کرتا، اگر اسے اپنی پیدائش کا عمل یاد رہے تو نہ تکبیر کرتا ہے اور نہ کسی سے ظلم و زیادتی کرتا ہے، بلکہ تواضع اور عجز وانکساری سے رہتا ہے۔
مالک ابن دینار رحمہ اللہ ایک مشہور تابعی ہیں، بالخصوص زہد و تقوی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، ایک بار خراسان کے گورنر المهلب اُن کے پاس سے فخر و غرور کے ساتھ اکرتے ہوئے گزرے۔
((مَرَّ الْمُهَلِّبُ عَلَى مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ مُتَبَخْتِرًا))
’’ایک روز مہلب، مالک بن دینار کے پاس سے اکڑتے ہوئے گزرے۔‘‘
((فَقَالَ: أَمَا عِلِمْتَ أَنَّهَا مِشْيَةٌ يَكْرَهُهَا اللهُ إِلَّا بَيْنَ الصَّفَيْنِ))
’’تو مالک بن دینار رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالی کو یہ چال نا پسند ہے، سوائے اس کے کہ جب دو صفیں آمنے سامنے کھڑی ہوں یعنی سوائے میدان جنگ کے!‘‘
((فَقَالَ الْمُهَلَبُ: أَمَا تَعْرِفْنِي ؟))
’’ تو مہلب نے کہا آپ مجھے جانتے نہیں؟‘‘
((قَالَ: بَلَى))
’’ کہا: میں جانتا ہوں۔‘‘
((أَوَّلُكَ نُطْفَةٌ مَذِرَةٌ))
’’تمہاری ابتداء ایک سیال نطفہ ہے۔ ‘‘
((وَآخِرُكَ جِيفَةً قَذِرَةٌ))
’’اور تمہاری انتہا اک غلیظ مردار ہے۔‘‘
((وَأَنْتَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ تَحْمِلُ الْعَذِرَة)) (سیر اعلام النبلاء ، ج:5 ، ص:363)
’’ اور ان کے درمیان تم ہر وقت اپنے اندر گندگی اٹھائے پھرتے ہو۔‘‘
تو وہ شرمند و در یختہ ہوتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
چنانچہ اللہ تعالی انسان کو اس کی پیدائش کی حقیقت اور اس کے تخلیقی عمل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ۵﴾(الطارق:5)
’’ انسان ذرا دیکھے تو سہی کہ وہ کسی چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
اور پھر آگے اس کی تفصیل بیان کی۔ اور بھی اللہ تعالی اس کی طرف اشارے پر ہی اکتفا فرماتے ہیں جیسا کہ فرمایا:
﴿كَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ﴾(المعارج:39)
’’ ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں۔‘‘
تو اپنی پیدائش کی بلکہ کائنات کی تخلیق کی حقیقت جاننے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے محسن و منعم کی اور کائنات کے خالق و مالک کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور انسان ہے بے احتیار پکار اٹھتا ہے:
﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾(آل عمران:191)
’’اے ہمارے رب! یہ سب کچھ تو نے بے کار اور عبث نہیں بنایا، تو اس سے پاک ہے اور ساتھ ہی اعتراف قصور کرتے ہوئے التجا کرتا ہے کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔‘‘
یہ تو اپنی پیدائش کی حقیقت جاننے کے چند فوائد کا ذکر تھا دوسری طرف اپنی پیدائش کی حقیقت سے ناواقفیت اور عدم معرفت کے نقصانات بھی ہیں۔
جو انسان اپنی پیدائش سے آگاہ نہیں ہوتا ، یا اسے نظر انداز کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کسی کا احسان مند اور شکر گزار نہیں سمجھتا، وہ بے پرواہی اور بے نیازی دکھاتا ہے اور بالآخر بے نیازی اس کی سرکشی کا باعث بنتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤیۙ۶ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰیؕ۷﴾(العلق:6۔7)
’’ انسان سرکشی کرتا ہے اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے۔‘‘
اور سرکشی کیا ہوتی ہے؟ حد سے تجاوز کرنا، جب انسان سرکشی کرتا ہے تو پھر وہ کسی کے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا کسی کی عزت کو خاطر میں نہیں لاتا، وہ کسی کی جان، مال اور عزت و آبرو اور نظام کی پرواہ کرتا ہے اور نہ احترام کرتا ہے، دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے اور پابندی کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اپنی پیدائش کو نظر انداز اور فراموش کر دینے والا فخر وغرور اور تکبر کرتا ہے، اللہ کی نعمتوں پر اس کا احسان مند اور شکر گزار ہونے کے بجائے ان پر اتراتا ہے اور انہیں اپنی محنت، علم، عقل اور تجربے کا نتیجہ سمجھتا ہے اور شیطان اس کی اس سوچ اور خیال کو اُس کے دل و دمانع میں رائخ اور پیوست کر دیتا ہے کہ تم تم ہو، تمہارے جیسا ذہین، زیرک ، عقلمند اور دانا اور محنت کش دنیا میں بھلا کون ہو سکتا ہے؟ اور پھر آدمی کی چال ڈھال اور گفتگو اور رہنے سہنے کے انداز ہی بدل جاتے ہیں۔ غرضیکہ اپنی پہچان نہ رکھنے کے بہت سے نقصانات ہیں، اندازہ کریں، اس لاعلمیت اور ناواقفیت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ایک ایسی نسبت اور شرف کا دعوی کرنے لگتا ہے کہ جو اس کی سوچ سے بھی بلند تر ہوتی ہے۔ جیسا کہ یہود و نصاری کے بارے کے میں اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ ؕ ﴾ (المائدة:18)
’’ یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔‘‘
اور فرعون نے تو اس سے بھی بڑھ کر دعوی کر ڈالا ۔
﴿فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلٰى﴾ (النازعات:24)
’’ اُس نے تو یہ تک کہہ دیا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘
لہٰذا اپنی پہچان حاصل کرنا انسان پر لازم اور ناگزیر ٹھہرتا ہے ، تاہم یہ باتیں تو گذشتہ جمعے کی گئی باتوں کی کچھ مزید تفصیل تھیں، آج ہم انسان کی پہچان ایک دوسرے پہلو سے جانتا چاہیں گے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے سب سے مکرم و محترم مخلوق ہے، انسان بہت بڑی فضیلت والا اور اللہ کی تخلیق کا شاہکار ہے، اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے اسے بنایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا اور پھر اُن میں سے مسلمانوں کو دنیا کا لیڈر، امام اور رہنما بنایا اور خیر امت کا اعزاز بخشا۔
﴿كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ (آل عمران:110)
’’تم دنیا میں دو بہترین گروہ ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا۔‘‘
اور انسان کو سب سے بڑا اعزاز یہ فرمایا کہ اسے اپنی عبادت کے لیے منتخب فرمالیا اور صرف اور صرف اسی مقصد کے لیے اس کی تخلیق فرمائی:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنَ﴾ (الذاريات:56)
’’میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ ‘‘
تمام مخلوقات میں سے اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے چن لیا! یہ یقینًا ایک بہت بڑا شرف اور اعزاز ہے، تو انسان کی پہچان کا یہ ایک دوسرا پہلو ہے کہ اسے اللہ تعالی کے ہاں ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ انسان کی یہ پہچان اور اس کا یہ مقام اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان اپنے اندر الیسی صفات پیدا کرے کہ جو اُسے اس مقام پر قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں، ورنہ اس کے یہ اعزازات چھن بھی سکتے ہیں ، اور جب کسی آدمی سے بڑا اعزاز چھنتا ہے تو اسے اس قدر بڑی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے بلندیوں پر پرواز کرنے والا گرے گا تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کی کوئی چیز سلامت نہیں رہے گی۔
اسی طرح انسان جو کہ اللہ تعالی کی سب سے مکرم و محترم مخلوق ہے ، جب وہ اس مقام کے لیے اہلیت ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو پھر انسان کے مقابلے میں جاندار مخلوقات میں سے جو حقوق سب سے کم تر سمجھی جاتی ہو اس کی سطح پر اسے گرا دیا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی کم تر حیثیت اسے دے دی جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ۖؗ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا ؗ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا ؗ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴾(الاعراف:179)
’’اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے، ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ۔ ان کے پاس کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں یہ دو لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔‘‘
یہاں اللہ تعالی کے اس فرمان کہ ’’بہت سے جن وانس ایسے ہیں جنہیں ہم نے جنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم نے ان کو پیدا ہی اس غرض کے لیے کیا ہے۔
بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے ان کو دل ، دماغ ، آنکھیں اور کان دے کر پیدا کیا تھا، تا کہ وہ ان اعضاء کو استعمال کرتے ہوئے جنت کے حقدار بنیں اور جہنم سے بچ جائیں ۔ مگر وہ تو سرے سے انہیں کام میں لائے ہی نہیں ، اپنی آخرت بنانے کے لیے انہوں نے دل اور دماغ سے کام نہیں لیا ، کان اور آنکھ سے کام نہیں لیا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ان کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو جہنم کا حقدار بنا لیا اور یہ پہلے سے ہمارے علم میں تھا۔ ہم انفرادی طور پر اگر اپنا اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ کیا ہم ابھی تک اسی مقام و مرتبے پر فائز ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے ، یا اس سے گر کر جانوروں کی سطح پر آگئے ہیں، تو ہماری حیثیت ہم پر منکشف ہو جائے گی مگر شاید ہم میں سے اکثر لوگ یہ جانتا نہیں چاہیں گے ، وہ اپنے آپ کو اس حالت سے بے خبر رکھنا چاہیں گے اور محض حسن ظن پر گزارا کرنا چاہیں گے جیسے کچھ لوگ اپنا میڈیکل چیک اپ اس لیے نہیں کرواتے کہ انہیں اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں کوئی خطرناک بیماری نہ نکل آئے ، ان کی اس سوچ کو آپ جو نام دینا چاہیں دے لیں ، مگر دین کے معاملے میں یہ سوچ سراسر حماقت و نادانی شمار ہوگی ۔ ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو قرآن وحدیث پر پیش کریں ، اس چیک اپ کے لیے ہمیں کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی ، اور نہ لیب کے رزلٹ کا انتظار کرنا پڑے گا، بلکہ ایک ایک آیت پڑھتے جائیں رزلٹ ساتھ ساتھ ملتا جائے گا۔
قرآن پاک آغاز سے پڑھیں اور اہل جنت کی صفات و خصوصیات پڑھتے جائیں اور نوٹ کرتے جائیں کہ دو صفات آپ میں موجود ہیں یا نہیں۔
اسی طرح جہنم کی طرف لے جانے والی صفات کو بھی نوٹ کرتے جائیں اور دیکھیں کہ کہیں ہم ان کے مرتکب تو نہیں ہور ہے۔ تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کہاں کھڑے ہیں۔ اگر آپ خیال کریں کہ پورا قرآن پاک پڑھنے میں تو بہت وقت لگ جائے گا کوئی ایسی صورت ہو کہ کسی طرح جلد رزلٹ سامنے آجائے، تو پھر سورۃ المؤمنون کی ابتدائی دس گیارہ آیتیں پڑھ لیں، آپ کا ضمیر آپ سے جھوٹ نہیں بولے گا، آپ کو سچ سچ بتا دے گا۔ اگر آپ واقعی اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ہمت کریں اور سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات پڑھ لیں۔ میں ایسی خوش قسمت ماؤں کو جانتا ہوں جو اپنے بچوں کو ان آیات کی تلاوت کرنے کو کہتیں کہ ذرا پڑھو تو تاکہ میں دیکھوں کہ یہ صفات مجھ میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور اگر کوئی کمی کوتاہی پائیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک کی صورت میں اصلاح نفس کا جو موقع عنایت فرمایا ہے تو اس میں اصلاح اور تلافی کی کوشش کریں۔
اصلاح اور تزکیہ نفس یوں تو ہر وقت مطلوب ہے کہ ایک عمومی قاعدہ بیان کر دیا گیا ہے۔ ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ۹
وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ۱۰﴾(الشمس:9۔10)
’’یقینًا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔‘‘
مگر رمضان المبارک خصوصی طور پر تزکیہ نفس کا مہینہ ہے، کیونکہ اس میں تزکیہ نفس کے اسباب پائے جاتے ہیں اور ماحول پایا جاتا ہے۔
تزکیہ نفس کے اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کا ہونا بھی ضروری ہے اور جب کبھی لوگ روزے کی حالت میں ایک ہی کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں تو انسان کو ہم آہنگی میسر آتی ہے جو کہ کسی بھی کام کے لئے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………….