قدرتی آفات، اسباق اور کرنے کے کام

قدرتی آفات، اسباق اور کرنے کے کام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے اور کیا تیرا رب کافی نہیں اس بات کے لیے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
فصلت : 53

مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے کتنے ہی دن وطن عزیز پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی میں وقفے وقفے سے مسلسل ہلکا ہلکا زلزلہ آتا رہا
اسی سال مئی اور جون میں اتنی شدید گرمی تھی کہ پرانے بوڑھے لوگوں کی زبان پر بھی یہ الفاظ تھے کہ ایسی گرمی کبھی نہیں دیکھی گئی
اور اب بارشوں اور سیلابوں کے ایسے مناظر سامنے آ رہے ہیں کہ شاید کبھی پہلے ایسا نہیں دیکھا گیا
زلزلے،سیلاب،بارشیں ،اولے وبائیں،ہیپاٹائٹس،ڈینگی وائرس،کرونا وائرس ،جنگیں ،دھماکے
ڈرون اٹیک ،ہارٹ اٹیک، اچانک اموات ،سیاسی انتشار،قحط سالی، مہنگائی

*یہ سب کیا ہے؟*

شاید کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الارم لگایا جا رہا ہے کہ اے بنی آدم ! سنبھل جا

*کیوں کہ جب کسی چیز کا خاتمہ قریب ہوتا ہے تو وہ بار بار خرابی کا شکار ہوتی ہے*

نیا پنکھا، نئ موٹر، نئ گاڑی اور نیا موبائل-فون بہت کم خراب ہوتے ہیں، چلتے رہتے ہیں کام نہیں نکالتے لیکن جیسے جیسے پرانے ہوتے جاتے ہیں اور اپنے اختتام کے قریب ہوتے جاتے ہیں تو ان میں تبدیلیاں اور خرابیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں دو چار مرتبہ ریپیئرنگ کے بعد بالآخر انہیں کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے
یہی حال دنیا کا ہے
ہم دیکھ رہے ہیں کہ حالیہ چند سالوں میں ماحول بار بار تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، اور ایسی تبدیلیوں کا پوری دنیا کو سامنا ہے، نت نئی آفتوں،وباؤں اور بلاؤں کا بار بار سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کچھ بیماریاں، کچھ آفتیں اور کچھ سانحات تاریخ سے ہٹ کر سامنے آ رہے ہیں
اللہ کی پناہ، یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ نظامِ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، قیامت کے الارم بج رہے ہیں، اشارے مل رہے ہیں

*یہ آفات اور سانحات اپنے اندر بے شمار دروس سمیٹے ہوئے ہیں*

1️⃣ *اللہ سب سے طاقتور ہے*

حالیہ سیلاب سے ہمیں ایک بہت اہم اور ضروری سبق یہ ملتا ہے کہ اے لوگو! تم سائنس اور ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کرلو بہرحال تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور نہیں بن سکتے
اللہ تعالیٰ بہت طاقتور ہے
یہ اسی کی صفت ہے
(وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ)

*جائیں اور ایک نظر سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھیں تاکہ پتہ چلے کہ ہمارا رب کتنا طاقتور ہے*

بپھرے ہوئے پانی نے طویل و عریض علاقوں ،مضبوط چٹانوں اور قد آور درختوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اور یہ اللہ کا لشکر ہے جو تھوڑی دیر کے لیے کنٹرول اوور ہوا، اس کے سامنے دنیا جہان کی ساری ٹیکنالوجی اور احتیاطی و حفاظتی تدابیر ناکام ہیں، آنا فانا شہروں کے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں، گھروں میں پڑے روپے پیسے مٹی میں مل گئے، دکانیں اور مارکیٹیں بہہ گئیں ،بیڈ، صوفے، گدے، ڈریسر، ڈنر سیٹ، کپڑے، لحاف، ملبوسات، جیولری، اے سی، ہیٹر، لگزری گاڑیاں سب فنا ہو گئیں اونچے اونچے پل ٹوٹ گئے حتی کہ انسانوں کے اعضاء بکھر گئے
یہ منظر دیکھ کر قرآن کی یہ آیت یاد آ گئی
فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ
پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں
الکہف : 45

*ٹنوں وزنی اور بلند و بالا بلڈنگز ایسے کھرچ کر رکھ دی گئیں گویا کہ کبھی یہاں تھیں ہی نہیں*

اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی ایک بات کا قرآن میں ذکر کیا ہے :
فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو خوب سوچتے ہیں۔
يونس : 24

*جی ہاں سمجھ جاؤ کہ وہ رب بڑا مضبوط ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے*

یہ اسی کا فخر ہے :
فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ
کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔
البروج : 16

اور یہ بھی اسی کی قدرت و طاقت ہے :
إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ
یقینا میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
القلم : 45

اور یہ بھی اس نے کیا خوب فرمایا :
إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ
بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے
الطلاق : 3

اور یہ بھی اسی کا اعلان ہے کہ :
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
البروج : 12

اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ :
وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اورزمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
الفتح : 7

*وہ اربوں کھربوں میلوں تک پھیلے زمین و آسمان کو ایسے لپیٹ سکتا ہے جیسے کوئی شخص کسی کھلی کتاب کو بند کر دیتا ہے*

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ
جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔
الأنبياء : 104

کتاب تو پھر بڑی ہوتی ہے ایک جگہ یوں بھی ہے کہ وہ زمین و آسمان کو روٹی کی طرح اٹھائے، گھمائے اور لپیٹے گا

*بونیر کے لوگوں سے پوچھیں لوگوں نے جاگتی آنکھوں سے ٹنوں وزنی پتھر چلتے دیکھے گئے*

اب آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کبھی قرآن میں پڑھا کرتے تھے :
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
التكوير : 3
اور
وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔
النباء : 20
اور
وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے
الكهف : 47
اور
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا
اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توُکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔
طه : 105 تا 107

*اللہ اللہ*

حالیہ سیلاب سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کا کس قدر اظہار ہوا ہے، لوگوں نے فزیکلی دیکھا، لائیو دیکھا، سوشل میڈیا پر دیکھا، سینکڑوں ٹن وزنی پتھر گیندوں کی طرح اچھلتے دیکھے ، اللہ جی ہم تیری قدر و طاقت کو مان گئے ،جان گئے، تسلیم کر گئے بس اب ہمارے حال پر رحم فرما، رحم خدایا رحم

*کلاؤڈ برسٹ اور اللہ تعالیٰ کی طاقت*

شاید کہ بہت سے لوگ پہلی مرتبہ کلاؤڈ برسٹ کی اصطلاح سے واقف ہوئے ہیں مگر میرا رب کلاؤڈز کی فک و ترکیب ،برسٹنگ، سیونگ اور کلوزنگ پر ازل سے ابد تک پوری طرح قادر ہے

*رب کی کلام میں کلاؤڈ برسٹ کرنے والی ہواؤں کا تذکرہ*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا
قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں!
الذاريات : 1

یہ بھی پڑھیں :
وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا
اور جو(بادلوں کو اٹھاکر) خوب پھیلا دینے والی (ہوائیں) ہیں! ۔
المرسلات : 3
فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا
پھر جو (انھیں) پھاڑ کر جدا جدا کر دینے والی ہیں!
المرسلات : 4

اور یہ بھی پڑھیں :
فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا
پھر ایک بڑے کام (بارش) کو تقسیم کرنے والی ہیں۔
الذاريات : 4

*ماضی میں کلاؤڈ برسٹ کا ایک عبرتناک واقعہ*

قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا عذاب بھیجا، جانتے ہیں کیسے؟ اللہ تعالیٰ نے کلاؤڈ برسٹ کیا تھا، جی ہاں رب کا قرآن کہتا ہے :
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے، ایسے پانی کے ساتھ جو زور سے برسنے والا تھا۔
القمر : 11

لفظ "أَبْوَابَ السَّمَاءِ” سے سمجھ آتی ہے کہ یکبارگی بادلوں کے سارے منہ کھول دیے گئے تھے ورنہ چھوٹے چھوٹے قطروں کے لیے تو باریک جھالی اور چھاننی ہی کھلتی ہے دروازے نہیں کھلتے

*اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ قطروں اور اولوں کی شکل میں بارش برساتا ہے برف کے تودوں اور ٹنوں کی شکل میں نہیں برساتا*

*اللہ تعالیٰ کیسے لاکھوں ٹن وزنی پانی کو ہواؤں میں اچھالے رکھتے ہیں*

فرمایا :
فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا
پھر ایک بڑے بوجھ (بادل) کو اٹھانے والی ہیں۔
الذاريات : 2
فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا
ھر آسانی سے چلنے والی ہیں۔
الذاريات : 3

اور فرمایا :
وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ
اور ہم نے ہوائوں کو بار آور بناکر بھیجا۔
الحجر : 22

*پانی کو ہانکنے، چلانے، رخ پھیرنے اور سمتیں بدلنے کا کنٹرول اللہ تعالیٰ کے پاس ہے*

فرمایا :
أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ
پانی کو ہم چلاتے ہیں

وہ چاہے تو سمندر کی لہروں کو حکم دے کر اشرفیوں سے بھری لکڑی کو عین اسی جگہ پہنچا دے جہاں پھینکنے والے نے کہا ہو
بخاری

وہ چاہے تو سمندر کو کہہ دے کہ نہ صرف یہ کہ صندوقِ موسی کو ڈوبنے نہیں دینا بلکہ ساحل پر عین اس جگہ لے جانا ہے جہاں فرعون کا گھر ہے تو یقین کریں کہ سمندر ویسا ہی کرتا ہے

وہ چاہے تو ایک ہی سمندر میں موسیٰ علیہ السلام کے لیے راستے اور فرعون کے لیے تباہی پیدا کر دے

وہ چاہے تو دو مختلف مزاج رکھنے والے پانیوں کو مکس نہ ہونے دے
فرمایا :
وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا
اور اس نے دو سمندروں کے درمیان رکاوٹ بنا دی؟

وہ چاہے تو 71 فیصد سمندر کو 29 فیصد خشکی پر چڑھ دوڑنے سے روکے رکھے فرمایا :
وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ
اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کر دیا
النحل : 14

*جی ہاں اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سمندر جیسی عظیم مخلوق کو پابند فرما دیا کہ اپنی حدود میں رہے ورنہ اگر بپھر جائے تو خشکی پر چڑھ کر ہر قسم کی زندگی درہم برہم کر ڈالے*

*چند سال پہلے جاپان اور سری لنکا میں آنے والے سمندری طوفان سونامی کو یاد کریں جب اللہ تعالیٰ نے مسخر کیے ہوئے سمندر کو بپھرنے کی ہلکی سی اجازت دی تو کیسے انسانوں کی بستیوں کی بستیاں اور شہروں کے شہر پانی میں ڈوب گئے تھے*

مسند احمد کی ایک روایت بھی پڑھ لیں :
” لَيْسَ مِنْ لَيْلَةٍ إِلَّا وَالْبَحْرُ يُشْرِفُ فِيهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ عَلَى الْأَرْضِ، يَسْتَأْذِنُ اللهَ فِي أَنْ يَنْفَضِخَ عَلَيْهِمْ، فَيَكُفُّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ "
کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں سمندر تین مرتبہ زمین پر جھانک کر نہ دیکھتا ہو، وہ ہر مرتبہ اللہ سے یہی اجازت مانگتا ہے کہ زمین والوں کو (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ڈبو دے، لیکن اللہ اسے ایسا کرنے سے روک دیتا ہے“۔
(مسند احمد : 303)

2️⃣ *انسان انتہائی بے بس ہے*

حالیہ سیلاب سے دوسرا بڑا اور اہم سبق یہ ملتا ہے کہ انسان انتہا درجے کا بے بس ہے اس کے پاس پانی ختم ہو جائے تو بھی اور پانی وافر ہو جائے تو بھی بے بس ہے، یہ رب کی قدرت کا ایک جھٹکا نہیں سہہ سکتا،
دیکھا ہے کیا بنا؟ محکمہ موسمیات کی ایڈوانس پیشگوئیوں اور فاسٹ خبروں کے باوجود بھاگنے کا موقع ہی نہیں ملا
اور تیز رفتار گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں اور جہازوں کے باوجود بھاگ ہی نہیں سکے

اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی قدرت کو ایک جگہ یوں بیان کیا ہے :
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
اے جن و انس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔
الرحمن : 33

*سو اے انسان! ہمیشہ اپنے رب سے یوں کہا کر*

انت القوی ونحن الضعفاء
آپ ہی اے اللہ ! طاقتور ہیں اور ہم کمزور ہیں۔

*ایک گھنٹہ جی ہاں صرف ایک گھنٹہ*

بعض کو چند لمحے ،بعض کو چند منٹ اور بعض کو چند گھنٹے لگے ہیں، لوگ جو کل کے ہیرو تھے ایک رات میں زیرو بن گئے، اپنے ہاتھوں آنکھوں سے اپنے بیوی بچوں بوڑھے والدین کو پانی میں بہتے ہوئے دیکھا، جو رات کے آغاز میں اچھے اچھے مکانوں کے مکین تھے وہ رات کے اختتام تک سڑکوں ،خیموں اور فٹ پاتھوں پہ آگئے ،جو کل تک دینے والے تھے، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ غیرت مند پختون کبھی بھیک نہیں مانگتے اور واقعی جن کی تاریخ ایسی خودداری اور غیرت سے بھری ہوئی ہے وہ بے چارے صبح ہوتے ہی ایک ایک لقمے کے محتاج بن گئے

*اے انسان! کر دھیان، سن اپنے رب کا اعلان*

وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔
آل عمران : 140

3️⃣ *رجوع الی اللہ بہت ضروری ہے*

حالیہ سیلاب سے تیسرا بڑا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنے انتہائی کریم اور شفیق رب کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے اور اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے
فرمایا :
أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ
اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔
التوبة : 126

اور فرمایا :
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔
السجدة : 21

*رجوع الی اللہ کی دو صورتیں ہیں :*

1 کسی آفت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی پناہ لے لینا

2 آفت کے بعد توبہ و استغفار کرنا

(1) *کسی آفت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی پناہ لے لینا*

اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہی رہا کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي
(سنن ابی داود: ۵۰۷۲)
اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل و مال میں۔

اور کبھی یہ دعا کرتے :
اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَاعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءَ عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا اثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
مسلم : 1118
”اے اللہ ، میں تیری خوشنودی کے ذریعے تیرے غضب سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعے تیرے عذاب سے ، اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری خوبیاں شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسی تو نے اپنی تعریف کی۔“

*آندھی اور طوفانی ہواؤں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑنا*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا کے متعلق یہ دعا کیا کرتے تھے :
(( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَها، وأعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ))
اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں

اور جب بارش دیکھتے تو یہ دعا کر تے :
"اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا”
” اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔۔”بخاری

یہ دعا بھی کیا کریں :
(( اللَّهُمَّ اسقِنَا غَيثاً مُغيثاً مَريئاَ مَريعاً نافِعاً غير ضارٍّ، عاجِلاً غيرَ آجِلٍ ))
اے اللہ! ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر جو مددگار، خوشگوار، سرسبز و شاداب نفع بخش، نقصان نہ دینے والی، جلد برسنے والی ، دیر سے برسنے والی نہ ہو
(صحیح بخاری 1014 ، صحیح مسلم 897)

بجلی کی گرج اور کڑک سنتے دیکھتے وقت یہ دعا کریں :
‘اللَّهُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ’
ترمذی، نسائی، حسن
اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ فرما، اور ہمیں اپنے عذاب سے نہ تباہ کر، اور اس سے پہلے ہمیں عافیت عطا فرما۔

*بپھرے ہوئے پانی سے بچنے کے لیے پانی کے مالک کی پناہ میں چلے جائیں*

پانی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے :
فرمایا
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ
پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟
الواقعة : 68
أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟
الواقعة : 69

*جو قطرے کی رفتار روک سکتا ہے وہ کلاؤڈ برسٹ بھی روک سکتا ہے*

بارش کا پانی تقریباً 1200میٹر کی بلندی سے گرایا جاتاہے۔ اور شروع میں اس کی نیچے گرنے کی رفتار 558 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی مگر زمین پر آتے آتے رب کائنات اس کی رفتار کو 8 سے 10کلومیٹر فی گھنٹہ تک لے آتے ہیں۔ سوچئے اگر رفتار وہی رہتی تو زمین پر کس قدر تباہی پھیلتی

سو دنیا کے لوگو ! اپنے رحیم و کریم رب کی پناہ میں آ جاؤ
جو قطرے کی رفتار روک سکتا ہے وہ کلاؤڈ برسٹ بھی روک سکتا ہے

(2) *آفت کے بعد توبہ کرنا*

اللہ کے بندوں کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ آزمائش کے وقت اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کا جائزہ لیتے ہیں کہ کہیں کسی لغزش کے نتیجے میں تو یہ مصیبت نازل نہیں ہوئی؟

*نماز، ذکر، دعا اور استغفار کے ذریعے*

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی آیات (سورج گرہن اور آسمانی آفات وغیرہ) کے متعلق فرمایا :
فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ "
بخاري1058
"جب تم اس طرح کی چیزیں دیکھو تو نماز کی طرف لپکو”

اور ایک روایت میں ہے :
فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ "
1059بخاري
"جب تم اس طرح کی چیزیں دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف لپکو”

*کوفہ میں زلزلہ آیا تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ساری قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کا حکم دیا*

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ میں زمین میں زلزلہ آیا تو انہوں نے یہ اعلان کیا:
"أيها الناس! إن ربَّكم يستعتِبُكم فأعتِبُوه”؛ أي: فاقبَلُوا عتبَه، "وتوبوا إليه قبل ألا يُبالِيَ في أي وادٍ هلكتُم”.
 اے لوگو!  یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوچکا ہے اور اپنی رضا مندی چاہتا ہے تو تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کرو، وگرنہ اسے یہ پرواہ نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔

*شام میں زلزلہ آیا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ساری قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کا حکم دیا*

اور شام میں زلزلے کے موقع پر سیدنا عمر  بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں یہ لکھ کر بھیجا :
"اخرُجوا، ومن استطاعَ منكم أن يُخرِجَ صدقةً فليفعَل؛ فإن الله تعالى يقول:قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى  [الأعلى: 14، 15]”.
کہ نکل جاؤ، اور جو شخص صدقہ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:  بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا ۔ اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا

*مدینے میں قحط پڑا تو عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو توبہ کرنے کا حکم دیا*

زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جس سال مدینہ میں قحط پڑا میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا :
أيها الناس إني أخشى أن تكون سخطة، عمّتنا جميعا فأعتبوا ربكم وانزعوا وتوبوا إليه واحدثوا خيرًا
طبقات ابن سعد: 3؍ 322

” لوگو مجھے ڈر ہے کہ (یہ قحط) ہم سب پر اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار ہے۔ اس لیے اپنے رب کو راضی کر لو، اس کی ناراضگی سے ہاتھ کھینچ لو۔ اس کی بارگاہ میں توبہ کر لو اور اچھے اعمال کر کے دکھاؤ۔”

عبد اللّٰہ بن ساعدہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :
"أيها الناس استغفروا ربكم ثم توبوا إليه وسلوه من فضله
طبقات ابن سعد: 3؍ 320
لوگو اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔”

4️⃣ *متاثرین کی مدد، احساس اور خیر خواہی کریں*

قحط اور بھوک کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلانے والے روز محشر دائیں ہاتھ والے ہوں گے*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ
پھر (بھی) وہ مشکل گھاٹی میں نہ گھسا۔
البلد : 11
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ مشکل گھاٹی کیا ہے؟
البلد : 12
فَكُّ رَقَبَةٍ
(وہ) گردن چھڑانا ہے۔
البلد : 13
أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ
یا کسی بھوک والے دن میں کھانا کھلانا ہے۔
البلد : 14
يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ
کسی قرابت والے یتیم کو۔
البلد : 15
أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ
یا مٹی میں ملے ہوئے کسی مسکین کو۔
البلد : 16
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ
پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔
البلد : 17
أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ
یہی لوگ دائیں ہاتھ والے ہیں۔
البلد : 18

*ایک ایک انسانی جان کی فکر اور مدد کی جائے*

اللہ تعالیٰ نے ایک انسانی جان کو بچانے پر کتنا بڑا انعام مقرر کیا ہے :
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
المائدہ : 32

یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔

*خدمت خلق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ ".
بخاري : 5353
بیوہ اور مسکین کے لیے تگ و دو کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا ساری رات قیام اور دن بھر روزہ رکھنے والے کی طرح ہے

*اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کو نفع دیتے ہیں*

ایک عربی مقولہ ہے :
خَیرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس
إقبال نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
جی ہاں !
اچھے بننے کے لیے خدمت، ایثار، قربانی رحمدلی کا مظاہرہ بہت ضروری ہے

*کرو مہربانی تم اہلِ زمین پر*
*خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر*

آپ نے فرمایا :
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ
رحم کرنے والوں پر رحمان (اللہ) رحم فرماتا ہے۔

اور فرمایا :
ارْحَمُوا تُرْحَمُوا
رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا۔

اور فرمایا :
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

*دکھی انسانیت کی خدمت اور امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ*

18 ہجری کی بات ہے امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ حکومت میں مدینہ اور گردونواح میں قحط پڑ گیا، حتی کہ قحط یمن تک پھیل گیا، لوگوں بھوکوں مرنے لگے، جانور سوکھ گئے ، سبزہ ختم ہو گیا اور حالات بے حد خراب ہو گئے
ایسے حالات میں امیر المومنین کا کیا کردار تھا چند مناظر ملاحظہ فرمائیں

*امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں بذات خود لوگوں کے گھروں اور خیموں تک کھانا اور راشن پہنچایا کرتے تھے*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں :

اللّٰہ تعالیٰ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ قحط کے سال میں نے دیکھا کہ ہاتھ میں گھی کا برتن اور پشت پر دو بوریاں لادے جا رہے ہیں۔
.طبقات ابن سعد:3؍314

آپؓ عموماً گھی استعمال کرتے تھے لیکن جب قحط پڑا تو فرمایا :
لا آكله حتى يأكله الناس
طبقات ابن سعد:3؍313
”جب تک لوگوں کو کھانے کےلیے نہیں ملتا میں بھی نہیں کھاؤں گا۔”

ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے گھی پیش کیا تو آپ نے فرمایا:
ما أنا بذائقه حتى يحيا الناس
مناقب عمر :ص 72
” جب تک لوگ بارانِ رحمت سے فیض یاب نہیں ہوتے، میں اسے چکھنے والا نہیں۔”

گوشت بھی چھوڑ دیا
"لم يأكل عمربن الخطاب سمنا ولا سمينا حتى أحيا الناس”
طبقات ابن سعد:3؍313
”یعنی عمر بن خطاب نے نہ تو گھی کھایا، نہ گوشت یہاں تک کہ بارش ہوئی۔”

عام لوگوں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھتے اور وہی کھانا تناول فرماتے جو عام لوگ کھاتے:
"و كان عمر يأكل مع القوم كما يأكلون”
.طبقات ابن سعد:3؍312
”حضرت عمر لوگوں کے ساتھ مل کر انہی کی طرح کھاتے۔”

*خلقِ خدا کی پریشانی اور فکر میں رہ رہ کر چہرے کی رنگت بدل گئی*

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
"فأسود لونُ عمر رضي الله عنه وتَغيَّر جسمه”
البدایہ والنہایہ:7؍103
”حضرت عمر کا رنگ سیاہ پڑ گیا اور جسم کمزور ہونے لگا۔”

اسامہ بن زید بن اسلم اپنے دادا اسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ
"كنا نقول لو لم يرفع الله المحل عام الرمادة لظننا أن عمر يموت همًّا بأمر المسلمين”
طبقات ابن سعد:3؍315
”یعنی رمادہ کے سال ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ قحط ختم نہ کیا تو حضرت عمر یقیناً مسلمانوں کے غم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔”

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں