رمضان المبارک کی ضرورت و اہمیت اور افادیت جاننا ضروری کیوں؟

رمضان المبارک کی ضرورت و اہمیت اور افادیت جاننا ضروری کیوں؟

﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۝﴾ (البقرة:183)
گذشتہ جمعے ہم نے رمضان المبارک کی اہمیت اور قدر و قیمت جاننے کی کوشش کی ، اس لئے کہ جب تک کسی چیز کی اہمیت ، ضرورت، افادیت اور قدروقیمت کا علم نہ ہو آدمی اس کے لیے اپنی رغبت شوق اور دلچسپی ظاہر نہیں کرتا ، اس طرف راغب اور مائل نہیں ہوتا ۔ کچھ چیزوں کی طلب ، خواہش اور ضرورت چونکہ انسان کی جبلت میں ہوتی ہے لہٰذا انسان ان کی حقیقت ، اہمیت اور افادیت جانے بغیر بے اختیار ان کی طرف لپکتا اور مائل ہو جاتا ہے اور ان کی شدید خواہش دل میں رکھتا ہے، لیکن ایسی چیزیں کہ جن کا انسان کی فطری ضرورتوں اور دنیا کی ضرورتوں اور سہولتوں سے کوئی تعلق نہ ہو بلکہ اس کے برعکس وہ اس کے آرام میں خلل کا باعث بنتی ہوں ان کی طرف میلان طبع بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔ تو آخرت کی باتیں کچھ ایسی ہی ہیں کہ جن کی انسان اس دنیا کی زندگی میں کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا، بلکہ انہیں دنیا کی زندگی سے لطف اندوز ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سمجھتا ہے لہذا ایسی باتوں کی ضرورت اہمیت اور افادیت کو جانتا اور سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے
تو رمضان المبارک کے روزے کا تعلق بھی چونکہ آخرت کی باتوں سے ہے ، آخرت کی کامیابی اور ناکامی سے اس کا ایک بڑا اور گہرا تعلق ہے لہذا بے اختیار انسان اس کی طرف مائل نہیں ہوتا بلکہ اس پر غور و فکر کرنا پڑتا ہے، اس کی ضرورت واہمیت کو سمجھنا پڑتا ہے۔
اگر چہ حقیقت میں رمضان المبارک کے روزوں کا دنیا کی زندگی سے بھی ایک گہرا تعلق ہے ، ان سے انسان کی جو تربیت ہوتی ہے نفس کا جو تزکیہ ہوتا ہے اس کا روز مرہ کی زندگی پر ایک مثبت اثر ہوتا ہے۔ آخرت کی باتیں اگر چہ ہم بحسب استطاعت سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی باتیں پہلے تو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں اور اگر سمجھ آجائیں تو پھر دل جلد اس طرف مائل نہیں ہوتا۔
آخرت کی باتیں سمجھ نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے اور ان کے مجھنے کے لئے کوئی بہت زیادہ علم اور عقل و فہم درکار ہوتا ہے، بلکہ اس کا سمجھتا تو خصوصی طور پر آسمان کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝﴾ ( القمر:17)
’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسمان بنا دیا ہے، پھر کیا، ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ۔‘‘
قرآن پاک کا یاد کرنا بھی آسان ہے اور اس کا معنی و مفہوم بھی آسان ہے، اس میں حلال اور حرام کے احکام جزاء اور سزا کا عقیدہ، امر اور نہی کی باتیں اور عبرت و موعظت کے لئے گذشتہ قوموں کے ذکر کئے گئے واقعات سمجھنے میں نہایت آسان، گویا کہ ہر بات فطرت انسانی کے مطابق اور ایک عام انسان کی عقل اور فہم کی سطح کے مطابق آسان ، بشرطیکہ کوئی غفور و تدبیر کرنا چاہے تو ، اور اگر پھر بھی کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ۔
﴿اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ۝﴾ (النحل:43)
’’ پس اہل ذکر ( یعنی علماء) سے پوچھ لو، اگر تم خود نہیں جانتے ۔ ‘‘کی سہولت بھی موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی سمجھنا چاہے تو دین کا اور آخرت کی باتوں کا سمجھنا آسمان اور وسائل دستیاب ہیں، لیکن معاملہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اسے سمجھتا ہی نہیں چاہتے ، کیوں کہ اہمیت انھوں نے اپنے لیے زندگی گزارنے کے طریقے مقرر اور راہیں متعین کر رکھی ہوتی ہیں اور جن کاموں کے وہ خوگر ہو چکے ہوتے ہیں ان سے ہٹنے کے تصور سے بھی انہیں خوف آتا ہے۔
لہٰذا دین کی باتیں ان پر گراں گزرتی ہیں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کا سوچ کر دولرز جاتے ہیں اور اسی ڈر سے وہ سنتا بھی پسند نہیں کرتے کہ پھر یہ سب کچھ تو چھوڑنا پڑ جائے گا اور ہم چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں گے۔
حالانکہ عافیت اور دنیا و آخرت کی خیر اور بھلائی اس میں ہے کہ آدمی چودہ سو سال پیچھے جائے، مگر وہ اس سے ڈرتا ہے، حالانکہ ڈرا سے آگے جانے سے ہونا چاہیے، کہ جو وہ مسلسل اور بے اختیار چلا ہی جارہا ہے۔
﴿یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ۝﴾ (الانشقاق:6)
’’اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، پس اس سے ملنے والا ہے۔‘‘
تو ڈر تو آگے جانے سے ہونا چاہیے اور اگر ڈر اور خوف پیدا ہو جائے تو پھر انسان ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے اور اسے دین کی باتیں خوب سمجھ آنے لگتی ہیں۔ تو بات ہورہی تھی کہ پہلے تو دین کی باتیں آسانی سے سمجھ ہی نہیں آتیں اور اگر کسی حادثے اور اتفاق کے نتیجے میں کسی مجبوری سے یا کسی وقتی ، عارضی اور کھو کھلے جذبات کی رو میں بہہ کر حالات اور موسم کے تقاضے کے تحت دین کی طرف آبھی جائے تو پھر اُسے عبادت میں وہ لذت نہیں آتی جو آنی چاہیے جو کہ ایمان کی لذت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ((ذاق طعم الإيمان)) ’’اُس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا‘‘
((مَنْ رَضِي بِاللهِ رَبَّا، وَبِالاسْلامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) (صحیح مسلم:34)
’’جو اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺکے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔‘‘
تو جو شخص دل کی گہرائی سے دین کو قبول کرتے ہوئے اور پختہ ارادے سے دین کی طرف نہیں آتا ، صرف چند دن گزارنے کی نیت سے آتا ہے وہ عبادت میں لذت نہیں پا سکتا، ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کر سکتا، کیوں کہ اس نے دل کے بکرے میں بہت سے بت بیسا رکھے ہوتے ہیں اور ایسے میں دو عبادت میں لذت کیسے پا سکتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
ایمان کی لذت محسوس کرنے کی ایک شرط تو یہ ہے کہ:
(مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا)
’’جو اللہ کے رب ہونے پر راضی ہو جائے ‘‘
مگر وہ شخص اللہ کے رب ہونے پر کیسے راضی ہو سکتا ہے جس نے دل میں بہت سے بت پال رکھے ہوں۔ اور آدمی اگر اپنے گریبان میں جھانکے تو اسے وہ بہت بآسانی نظر آسکتے ہیں، کہیں درہم و دینار کا بت ہے، تو کہیں اولاد کی محبت کا بت ہے اور کہیں دیگر خواہشات نفس کا بت ہے، اور جو شخص ایسے بتوں کی پوجا کرتا ہو وہ اللہ کے رب ہونے پر کیونکر راضی ہو سکتا ہے اور اسے ایمان کی لذت کیسے آسکتی ہے۔
اور ان بتوں کی پوجا کا مطلب ہے کہ انہیں دین پر ترجیح دینا، جب مؤذن اللہ اکبر کہتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے لہذا اس کی عبادت کے لئے آؤ، نماز کے لئے آؤ! تو ان بتوں کا پجاری اپنے عمل سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ نہیں! میرا کاروبار سب سے بڑا ہے، اس لئے وہ اپنا کاروبار چھوڑ کر نماز کے لئے نہیں جاتا۔
تو بات ہو رہی تھی کہ گذشتہ جمعے ہم نے رمضان المبارک کی اہمیت اور قدر و قیمت جاننے کی کوشش کی، یہ حقیقت ذہن میں رکھتے ہوئے کہ اول تو دین کی باتیں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں اور اگر کچھ سمجھ آجا ئیں تو پھر مکمل کی ہمت نہیں ہوتی۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ وہ کسی بات کی اہمیت کو سمجھ رہا ہوتا ہے مگر نفسیاتی طور پر وہ پست ہمت ہوتا ہے، کسی چیز کی قدر و قیمت جانتے ہوئے بھی اس کے حصول کے لئے ہمت نہیں کر پاتا۔
کم ہمتی، یا پست ہمتی انسان کی ایک بہت بڑی کوتاہی اور خامی ہے اس کی یوں تو متعدد وجوہات ہیں مگر پست ہمتی اگر کسی انسان کی جبلت میں ہو، تو اس کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اسے کسی کام کی ترغیب دلانا، جذ بہ اور شوق پیدا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ پست ہمتی، ستی اور کاہلی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔
اور سستی اور کسل کتنی بڑی خامی ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آپ سے ہم نے باقاعدہ اس کا نام لے کر اس سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
((اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسْلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدِّينِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ)) (بخاري:2893)
’’اے اللہ! میں پریشانیوں اور غموں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، عجز اور کسل سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پھل اور بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
لہٰذا اس کا علاج یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالی کی پناہ کی دعا مانگی جائے۔ کم ہمتی حقیقت میں اک نہایت ہی پست و بے حیثیت شخصیت کی علامت ہوتی ہے، کیونکہ آدمی اپنی ہمت سے پہچانا جاتا ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں کہ:
(قِيمَةُ كُلُّ امْرِى مَا يَطْلُبُ)
’’آدمی کی حیثیت اور قدرو قیمت اس کام کے لحاظ سے ہے جسے وہ کرنے کی خواہش اور عزم رکھتا ہے۔‘‘
اور عزم وارادہ اور اہتمام ایک ایسی چیز ہے کہ جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے آپ ﷺنے فرمایا:
((أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللهِ تَعَالَى عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ))
’’اللہ تعالی کے ہاں سب سے پسندیدہ نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں۔‘‘
((وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ)) (ابو داود:4950)
’’ اور سب سے سچے نام حارث اور ھمام ہیں۔‘‘
حارث کا معنی ہے: کام کرنے والا اور ھمام کا معنی ہے۔ کسی کام کا عزم اور ارادہ کرنے والا اور یہ سچے اس لئے کہ ہر آدمی کچھ نہ کچھ تو ضرور کرتا ہے، اچھا کرے یا برا۔ اسی طرح ہر آدمی کسی نہ کسی کام کا عزم اور ارادو ضرور رکھتا ہے۔
چونکہ یہ نام واقع کے مطابق اور حقیقت حال کے عین مطابق ہیں اس لئے نام کی نسبت سے سب سے بچے ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی نام ہو تو ضروری نہیں کہ وہ حقیقت حال کے مطابق بھی ہو۔ مثلاً: اگر کسی کا نام عادل ہو کہ عدل و انصاف کرنے والا، مگر عملا وہ آدمی ظالم ہو، تو اس کی شخصیت کے ساتھ اُس کے نام کی نسبت تو سچی نہ ہوئی، اسی طرح دوسرے نام ہیں۔
تو ہر آدمی کسی نہ کسی کام کے کرنے کی سچی نیت، پختہ ارادہ اور عزم مصم ضرور رکھتا ہے، تو جس طرح کے کام کا وہ عزم اور ارادہ رکھتا ہو اسی کے مطابق اس کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ مثلا: کوئی شخص تھوڑی سی چیز پر قناعت کر جاتا ہے اور کوئی آسمان پر کمند ڈالنے کی ہمت رکھتا ہے، کوئی دنیا کی تھوڑی سی دولت کے لئے مارا مارا پھرتا ہے اور کوئی آخرت کی حقیقی کامیابی کے لئے طلب و جستجو کرتا ہے، کوئی متاع قلیل کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے اور کوئی جنت الفردوس کی خواہش سے کم پر راضی نہیں ہوتا۔
اپنی اپنی پسند ہے، اپنی اپنی ہمت ہے اور اپنا اپنا ذوق ہے۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں
اور کرگس گدھ کو کہتے ہیں جو مردار پر بیٹھتی ہے اور شاہین آپ جانتے ہیں کہ اپنے لئے شکار خود کرتا ہے۔ تو کرگس اور شاہین میں بھلا کیا موازنہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ پھولوں پر بیٹھنے والی بھی مکھی ہوتی ہے اور گندگی پر بیٹھنے والی بھی مکھی ہی ہوتی ہے، مگر پھولوں پر بیٹھنے والی مکھی لوگوں کے لئے لذت وحلاوت کا اہتمام کرتی ہے اور شفا کا باعث بنتی ہے، جبکہ غلاظت پر بیٹھنے والی مکھی بدبو اور بیماری کا باعث بنتی ہے۔
اور یہ فرق ان کے طلب و جستجو ، ان کی ہمت اور ان کے عزم وارادے کے فرق سے ہے ہم اگر جانا چاہیں کہ ہمت اور عزم و ارادے کے لحاظ سے ہم کہاں کھڑے ہیں تو یقینًا کوئی مشکل نہ ہوگی، اس مبارک مہینے میں بھی جبکہ نیکی کا ہر لحاظ سے ماحول سازگار ہے، ہمیں نیکی کی توفیق نہ ہو اس کے لئے ہمت نہ ہو، طلب و جستجو نہ ہو اور سعی و جہد نہ ہو، بلکہ اس کے بر عکس ہم دنیا کو ترجیح دیتے ہوں تو بقول شاعر ہم وہ نادان ہوں گے جو چند گلیوں پر قناعت کر بیٹھے ہوں۔
توہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ور نہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے
آخرت کے مقابلے میں اس حقیری دنیا پر قناعت کر بیٹھنے والا بھلا کیونکر دانا ہو سکتا ہے۔ اور اس وقت تعجب اور افسوس کی انتہا نہیں رہتی جب صورت حال یہ ہو کہ کوئی شخص بلند مقصد اور بلند مرتبے کو بے بسی اور بے چارگی کی وجہ سے ترک نہ کر رہا ہو کہ وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو بلکہ محض پست ہمتی کی وجہ سے بڑے مقصد کو ترک کر رہا ہو، اور پست ہمتی انسان کی نہایت ہی پست شخصیت پر دلالت کرتی ہے۔
اور متنبی نے ایسے شخص کی حالت پر افسوس کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا کہ:
ولَمْ أَرَ فِي عُيُوبِ النَّاسِ عَيْبًا
كَنَقْصِ القَادِرِيْنَ عَلَى التَّمام
اور لوگوں کے عیوب میں مجھے کوئی ایسا عیب نظر نہیں آیا جیسا کسی کام کی استطاعت رکھنے والے شخص کے ہمت ہار جانے کا ہے۔
چنانچہ امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ شخصیت کے اس عیب اور نقص سے کچھ یوں اللہ تعالی کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ:
((أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ جَلَدِ الفَاجِرِ وَعَجْزِ الثِّقَةِ) (مجموعة رسائل عبدالله بن زيد آل محمود ، ص:62، عجز الثقات:1 ، الفتاوى:245/28)
’’میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں فاجر و فاسق کی جفاکشی سے، اور ثقہ شخص کی عجز و بے ہمتی سے۔‘‘
پست ہمت انسان کبھی بڑا آدمی نہیں بن سکتا، بڑے لوگ ہمیشہ بلند ہمت ہوا کرتے ہیں، مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ، چنانچہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
وَإِذَا كَانَتِ النُّفُوسُ كِبَارًا
تَعِبَتْ فِي مُرَادِهَا الأَجسام
’’جب نفوس عظمتوں کی بلندیوں کو چھو رہے ہوں تو ان کے اجسام اپنا مطلوب و مراد پانے میں چور چور ہو جایا کرتے ہیں۔‘‘
لوگوں کے بنائے ہوئے معیارات کی روشنی میں بڑا آدمی اس کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس مال و دولت زیادہ ہو، اختیارات زیادہ ہوں اور بہادر اس کو سمجھا جاتا ہے جو کسی کو پچھاڑ اے شکست دے دے اور مرد اس کو سمجھا جاتا ہے جو دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ مگر اسلام میں یہ اصطلاحات مختلف معنوں میں ہیں۔ قرآن پاک جواں مرد ان کو کہتا ہے جو اولو العزم اور بلند ہمت ہوں، جن پر دنیا کی چنک ایک اثر انداز نہ ہو ۔
﴿رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ ﴾ (النور:37)
’’ایسے مرد جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز سے فاضل نہیں کرتی۔‘‘
تو رمضان المبارک سے استفادے کی بات ہو رہی تھی ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کی اہمیت کو سمجھے بغیر اس کے لیے شوق پیدا نہیں ہوتا ، دل اس کی طرف مائل نہیں ہوتا، اسی طرح جو دنیا کی چمک دمک کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے، ثابت قدم نہیں رہتا ، اور مردانگی نہیں دکھاتا وہ بھی رمضان المبارک کی برکتوں سے کما حقہ مستفید نہیں ہو سکتا چنانچہ رمضان المبارک کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور اسے موقع نقیمت جان کر بھر پور مستفید ہونے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں