رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے
الأحزاب : 06

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود لوگوں کے لیے ڈھال*

فرمایا :
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔
الأنفال : 33

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی امت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے*

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ»
( مسلم : 6466 )
ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔
اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔
اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)

*حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک شعر*

آپ کی طرف منسوب ایک شعر ہے
اگر اس کی نسبت حسان رضی اللہ عنہ کی طرف ثابت ہے تو فبھا ونعمت لیکن اگر نہیں بھی ثابت تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
کیونکہ حسان نہیں تو کوئی اور اس کا قائل ہوگا لیکن بہر حال بات سو فیصد درست ہے
وہ شعر یہ ہے :
وَما فَقَدَ الماضونَ مِثْلَ مُحَمَّدٍ
وَلا مِثْلُهُ حَتَّى القِيامَةِ يُفقَدُ

گزرے ہوئے لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قیمتی کوئی شخصیت نہیں کھوئی اور نہ ہی مستقبل میں قیامت تک کھوئی جانے والی کوئی شخصیت آپ جیسی قیمتی ہو سکتی ہے

*اس حسرت کا کوئی مداوا ہے؟*

امام صنابحی رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم یمن سے یہ نیت کر کے نکلے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے شرف صحابیت کو حاصل کریں گے ، ہم جحفہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ ایک سوار آملا اور کہنے لگا :ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ راتیں قبل دفنا چکے ہیں۔
سیر اعلام النبلاء 505/2

*بعد میں آنے والے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی شدید خواہش کریں گے*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ
صحیح مسلم : 2832

"میری امت میں میرے ساتھ بڑی شدت سے محبت رکھنے والے وہ لوگ بھی ہوں گے ، جو میری وفات کے بعد آئیں گے ، ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش ! وہ اپنے اہل و عیال اور مال قربان کر کے میرے چہرے کی ایک جھلک دیکھ لے۔“

*شہیدِ ملت علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی شدید خواہش کرتے ہیں*

اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں :
کاش ہم وہ پتھر ہوتے جو نبی ﷺ کے قدموں کو چومہ کرتے تھے

کاش ہم کپڑے کی وہ ٹاکیاں ہوتیں۔
جو خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نبی کے زخموں پر رکھا کرتی تھیں۔

کاش ہم بھی بھی اس وقت ہوتے
اور اپنے آقا کے چہرے کو دیکھ کر
اپنی آنکھوں پر جہنم حرام کر لیتے۔

کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ
جن کو سرور گرامی کے رخ زیبا کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا
ان کی قسمت کا کیا کہنا
او وہ تو انسان تھے
اللہ نے تو ان بستیوں کو مقدس بنادیا ہے جن بستیوں نے میرے آقا کے چہرے کو دیکھا ہے
وہ بستیاں مقدس ہو گئیں
والتین والزیتون وطور سینین وھذا البلد الامین
ان لوگوں کا کیا کہنا ہے؟

*انس رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے ملنے والے سیب کو بوسہ*

سیدنا ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوالعالیہ کو ایک سیب دیا تو
وَجَعَلَ يَمْسَحُهَا وَيُقَبِّلُهَا وَيَمْسَحُهَا بِوَجْهِهِ
وہ اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس پر ہاتھ پھیرنے لگے، اسے بوسہ دینے لگے اور اپنے چہرے پر لگانے لگے اور فرمانے لگے :
تُفَاحَةٌ مَسَّتْ كَفَّا مَسَّ كَفَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
القبل والمعانقة والمصافحة لإبن الأعرابي : 35، (ت: سليم)
اس سیب کو اس ہاتھ نے چھوا ہے جس نے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو چھوا تھا۔

*سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں کو چومنا شروع کر دیا*

ہم سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے اپنا ہاتھ ہمیں دکھایا وہ (کسی وجہ سے) اونٹ کے پاؤں کی طرح موٹا ہو چکا تھا اور فرمانے لگے :
” ﺇﻧﻲ ﺑﺎﻳﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻴﺪﻱ ﻫﺬﻩ.”
میں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے
فرماتے ہیں :
«ﻓﺄﺧﺬﻧﺎﻫﺎ ﻓﻘﺒﻠﻨﺎﻫﺎ»
القبل والمعانقة والمصافحة لإبن الأعرابي : 35 ، سنده حسن، وأخرجه ابن سعد 306/4 من طريق سعيد بن منصور بهذا الإسناد
ہم نے اس ہاتھ کو پکڑ لیا اور اس کا بوسہ لینے لگے

*استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں*

اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ھوں گے
خلد میں جب کہ محمد کی رفاقت ھو گی
صلی اللہ علیہ وسلم

*قیامت کا خوفناک دن مگر ایک تسلی*

قیامت کا دن اپنی خوفناکی کی وجہ سے ایک لرزہ طاری کردیتا ہے
لیکن
یہاں کسی صاحب دل نے لکھا ہے :
"ایک شخصیت ایسی ہے جن کی وجہ سے قیامت کا خوفناک دن بھی کسی خوبصورت امید کا محور بن جاتا ہے
اور وہ ہیں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم”

*کوئی ایسی بات بیان کرو کہ جنت کا شوق بڑھ جائے*

سلف میں سے کسی سے کہا گیا :(بعض اسے قعقاع الأوسی کی طرف منسوب کرتے ہیں، بہرحال جو بھی اس کا قائل ہے)

قُلْ لنا شيئًا عن الجنة يشوّقنا إليها
ہمیں جنت کے متعلق کوئی ایسی بات بتاؤ کہ اس کے لیے ہمارا شوق بڑھ جائے
تو انہوں نے کہا :
فيها رسولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم
جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگی

*میرا تو بس یہی سوال ہے کہ جنت میں آپ کا ہمسایہ بن جاؤں*

ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گزارتا اور آپ کے وضو کا پانی اور ضرورت کی اشیاء لاتا، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلـهٖ وسلم نے فرمایا :
"تم سوال  کرو ”
میں نے کہا :
أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ.
میں جنت میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلـهٖ وسلم نے فرمایا : ” کوئی اور سوال” ؟
میں نے کہا : بس یہ ہی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلـهٖ وسلم نے فرمایا :
” فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ "
مسلم : 489
” تم کثرت سجود ( یعنی  نوافل کی کثرت )  کے ذریعے اپنے لئے میری مدد کرو”۔

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تڑپ*

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک روز گھر سے باہر نکلے ، وقت ایسا تھا کہ عموما اس وقت گھر سے باہر نہیں آتے تھے ۔ حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے ، آپ نے پوچھا :
ابو بکر ! اس وقت کیا مجبوری تجھے گھر سے باہر اٹھا لائی ہے ۔؟
تو بے خودی سے یوں گویا ہوئے :
الشوق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم والنظر إلى وجهه
الزهد للمعافى بن عمران (242)
اور ترمذی میں ہے
خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ.
ترمذی : 2369 ، 2370
حديث صحيح عندالالبانی رحمہ اللہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھرے کے دیدار کی بے پناہ تڑپ اور شوق اس وقت مجھے گھر سے نکال لایا ہے ۔ "

*يا رسول الله! آپ کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں*

سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:
"يا رسول الله! إني إذا رأيتُك طابَتْ نفسي وقَرَّتْ عيني”.
(مسند إسحاق بن راهويه : 133)
یا رسول اللہ صلی الیم آپ کو دیکھ لیتا ہوں تو میراجی خوش ہو جاتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں“۔

*اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے بینائی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف بخشا*

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو اسید الساعدي رضی اللہ عنہ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ وقت پہلے بینائی ختم ہو گئی تو آپ کہنے لگے :
الحمد لله الذي متعني ببصري في حياة النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، فلما أراد الله الفتنة في عباده كف بصري عنها
المستدرك على الصحيحين 6246
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ہیں جس نے مجھے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بینائی دے کر (آپ کی زیارت کا) شرف بخشا اور اب جب لوگوں میں فتنہ آگیا تو میری بینائی ختم کر دی

*آپ کی جدائی میں آپ کے خادم انس کی تڑپ اور دردمندانہ جذبات*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :
وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَقُولَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ
مسند احمد 13317، وسندہ صحیح
اللہ کی قسم ! مجھے اس بات کی پوری امید ہے کہ میں روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا اور عرض کروں گا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کا ادنی سا خادم(انس)ہوں

*معاذ رضی اللہ عنہ کو الوداع کیا تو آپ رو پڑے*

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ(دس ہجری کو) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوار تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا:
((یَا مُعَاذُ إِنَّکَ عَسَی أَنْ لَا تَلْقَانِی بَعْدَ عَامِی ہٰذَا، أَوْ لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِی ہٰذَا أَوْ قَبْرِی۔)) فَبَکٰی مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔))
(مسند احمد : 22602)
معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روپڑے۔

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی یاد کرتے تو رو پڑتے*

قاضي أبو العباس عبد الله بن طالب 275 ھجری میں فوت ہوئے ہیں
ان کے بارے قصري نے کہا کہ :
«ما رأيتُ أكثر دموعا عند ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم منه»
(ترتيب المدارك للقاضي عياض المالكي رحمه الله)
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے ان سے زیادہ کسی کو آنسو بہاتے نہیں دیکھا

*جب بھی حدیث بیان کرتے تو رو پڑتے*

امام مالک رحمہ اللہ ﺳﻴﺪ اﻟﻘﺮاء ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﻨﻜﺪﺭ کے بارے فرماتے ہیں :
ﻭﻻ ﻳﻜﺎﺩ ﺃﺣﺪ ﻳﺴﺄﻟﻪ ﻋﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﺇﻻ ﻛﺎﻥ ﻳﺒﻜﻲ
(التاريخ الكبير:١/ ٢١٩،حلية الأولياء:٣/ ١٤٧،حكم الأثر:، صحيح)
ان سے کوئی بھی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے سوال کرتا تو وہ رو پڑتے

*جنہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایک دن میں کئی کئی مرتبہ آپ کی زیارت کی، انہوں نے یہ صدمہ کیسے برداشت کیا ہوگا*

آج ہم سینکڑوں سال بعد جب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ،جدائی اور رحلت کا تذکرہ کرتے ہیں تو دل شدت غم میں چلے جاتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
تو
تصور کیجئے کہ صحابہ کا کیا حال ہوگا جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا ، آپ پر ایمان لائے، آپ کے قرب سے مانوس ہوئے اور آپ کی سیرت سے براہ راست روشنی پائی۔ آپ کے دیدار سے ان کے چہرے چمک اٹھتے تھے اور وہ آپ کے حسن اخلاق اور لطف و کرم سے ہر وقت فیض یاب ہوتے تھے، پھر اچانک سب کے امام، روشن چراغ اور پیغمبر کا ئنات ان کے سامنے وفات پا جاتے ہیں ؟؟ کیا ہولناک صدمہ تھا، کتنی مشکل گھڑی تھی اور کیا دل دہلا دینے والا منظر تھا!

*مدینہ شہر تاریکی میں ڈوب گیا*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر بجلی بن کر گری۔ مدینہ طیبہ تاریک ہو گیا اور اسے تاریک ہونا بھی چاہیے تھا کہ مصیبت اور صدمہ ہی بہت بڑا تھا
سیدنا انس بن مالک نے فرمایا تھا :
لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ؛ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ؛ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْء
ترمذی : 3618 صحيح عند الألباني رحمہ اللّٰہ
ایک دن نبی نے مدینہ کوروشن کردیا اور ایک دن مدینہ کو تاریک کردیا۔
روشن کب کیا جب ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہوئے اس دن یہ منور تھا ،روشن تھا، اور تاریک کب ہوا جب اللہ کے پیغمبر فوت ہوگئے۔

*ابوبکر رضی اللہ عنہ واقعہ غار والی آیت سن کر رونے لگے*

ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے مجلس میں فرمایا :
تم میں سے کون سورت توبہ کی تلاوت کرے گا؟
ایک شخص نے عرض کیا:
میں،، پھر اس نے تلاوت شروع کر دی؛ جب وہ اس آیت پہ پہنچا:
إذ يَقولُ لصاحِبهِ لا تَحزَن…
(جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا–)
فبكى الصديق وقال:
"والله أنا صاحبه!”
صدیق اکبر رونے لگے اور فرمایا:
”اللّٰہ کی قسم! میں آپ کا صاحب یعنی ساتھی ہوں!“
(تفسیر الطبری، 14: 260)
(تفسير ابن أبي حاتم، 1800/6)

عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِي هَذَا ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ رَجُلٌ بَعْدَ الْيَقِينِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ الْمُعَافَاةِ ثُمَّ قَالَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
اوسط کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس جگہ گذشتہ سال نبی ﷺ کھڑے ہوئے تھے یہ کہہ کر آپ رو پڑے پھر فرمایا سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی اور اللہ سے عافیت کی دعا مانگا کرو کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی پھر فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو بغض نہ کرو قطع تعلقی مت کرو ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو اور اے اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو ۔
مسند احمد:17

*ابوبکر نرم دل ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز نہیں پڑھا سکیں گے*

ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ
کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں
إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ
کہ وہ نرم دل ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا
یا آپ نے کہا
إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ
کہ ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو روتے روتے وہ ( قرآن مجید ) سنا نہ سکیں گے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا
مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ
کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں
بخاری 678

*وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غم سے ابوبکر صدیق کمزور ہوتے چلے گئے*

سیدنا عبدالله بن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بیان کرتے ہیں :
«ﻛﺎﻥ ﺳﺒﺐ ﻣﻮﺕ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﻣﻮﺕ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺎ ﺯاﻝ ﺟﺴﻤﻪ ﻳﺠﺮﻱ ﺣﺘﻰ ﻣﺎﺕ»
(المستدرك علی الصحیحین : 4410)
"ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے آپ کی وفات کے بعد ابوبکر کا جسم مسلسل گُھلنے لگا حتیٰ کہ اِسی سبب وفات پا گئے!”

*عمر رضی اللہ عنہ کی ٹانگوں نے تو بوجھ اٹھانا ہی چھوڑ دیا*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر شدت غم اور صدمے کی تاب نہ لاکر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا انکار کر ہی دیا۔
لیکن جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نصیحت کرتے ہوئے یہ آیت مبارکہ پڑھی
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول، بے شک اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے تو کیا اگر وہ فوت ہو جائے، یا قتل کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جائو گے اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔
آل عمران : 144
تو
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’اللہ کی قسم ! میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گر گیا۔‘‘
[ بخاری : 4452 ]

*ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو رلا دیا*

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لئے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے ۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے ۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ
أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ. فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا
اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے
مسلم 6318

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں کھجور کے تنے نے رونا شروع کر دیا*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں کھجور کے ایک تنے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر آپ کے لیے منبر بنا دیا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے جب آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو کھجور کا تنا رونے لگا
صحیح بخاری میں ہے :
فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ.
بخاری : 2095
تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ لپٹ جائے گی۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی۔

امام حسن بصری رحمه الله فرماتے ہیں :
جب کھجور کے تنے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ کی جدائی میں رونے والی حدیث بیان فرماتے تو خود بھی رونے لگتے اور کہتے :
”اللہ کے بندو! ایک تنا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مچلتا ہے، تو تم زیادہ حق دار ہو کہ ان سے ملاقات کی تڑپ رکھو!“

(مثير الغرام الساكن لابن الجوزي : ٤٧٠)

*ابن عباس رضی اللہ عنہ اتنا روتے کہ پاس پڑی کنکریاں آنسوؤں سے بھیگ جاتیں۔*

سعید بن جبیر کہتے ہیں :
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے :
ہائے جمعرات کا دن اور کیا ہے جمعرات کا دن ؟
ثُمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَ دَمْعُهُ الْحَصْبَاءَ
پھر اتنا روتے کہ پاس پڑی کنکریاں آنسوؤں سے بھیگ جاتیں۔
میں نے کہا:
جمعرات کے دن کیا ہوا ؟
تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا:
اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ
صحیح البخاری (3053) صحیح مسلم (1637)
اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی۔۔۔۔

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تڑپ*

آپ کی وفات کے موقع پر فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زبان پر یہ شعر تھا :
صُبَّتْ عَلَيَّ مصائبُ لو أَنھا
صُبَّتْ علی الایامِ صِرْنَ لَیَالِھا
(الدر المنثور)
مجھ پر رنج والم کےپہاڑ توڑ دیئے گئے اگر یہ دنوں پر توڑے جاتے تو سارے دن شدت الم کی بنا پرراتیں بن جاتیں اور دن کانور ختم ہوجاتا

*تڑپا دینے والا تلخ ترین الوداع*

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے آخری دن چاشت کے وقت کا واقعہ ہے
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے رازی داری سے فاطمہ کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں ۔ جب آپ نے ان کی شدید بے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو ہنس پڑیں ۔
( بعد میں ) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا :
آپ مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟
انھوں نےکہا : پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا کہ اجل ( مقررہ وقت ) قریب آگیا ہے ، اس لئے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبرکرنا ، میں تمھارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا ۔ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا
پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا :
فاطمہ ! کیا تم اس پرراضی نہیں ہوکہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا ( فرمایا : )اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟ کہا : تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا
مسلم 6313

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاؤں گی۔ اس پر میں ہنسی
بخاری 4434

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جذبات*

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت فاطمہ نے فرطِ غم سے فرمایا:

يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ
يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ
يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ
صحیح بخاری : 4462
”ہائے ابا جان ! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان ! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔

*امام ثابت البنانی تابعی رحمہ اللہ یہ اشعار سن کر اتنا روئے کہ ان کی پسلیاں ہلنے لگی*

فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ان اشعار والی حدیث کو انس رضی اللہ عنہ سے ثابت بنانی اور ان سے حماد بن زید نے بیان کیا ہے
حماد بیان کرتے ہیں
فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.
(سنن ابن ماجہ : 1630)
امام ثابت البنانی تابعی رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو میں نے انہیں دیکھا کہ اس قدر روئے کہ ان کی پسلیاں ہلنے لگیں۔

*وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدہ فاطمہ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا*

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ آپ کے آنسو تھمتے نہ تھے۔ بسا اوقات کسی معاملے میں مخاطب کیا جاتا تو گویا سننے اور سمجھنے سے قاصر رہتیں۔ اہل مدینہ جب آپ کو غمگین دیکھتے تو ان کا غم تازہ ہو جایا کرتا۔“
(سلوة الكئيب بوفاة الحبيب لابن ناصر الدين : ١٦٥)

*اے انس ! تم نے مٹی کیسے ڈال دی*

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفن کر دئیے گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا :
يَا أَنَسُ ! أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ ؟
بخاری : 4462
”انس ! تمہارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش پر مٹی ڈالنے کے لیے کس طرح آمادہ ہو گئے تھے۔“

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں