*سانحہ بلوچستان اور ہماری چند گزارشات*

 *سانحہ بلوچستان اور ہماری چند گزارشات*

*غیرت کے نام پر بیٹیوں کو قتل کرنا جاہلیت کی رسم ہے*

زمانہ جاہلیت میں بعض عرب عار سے بچنے کے لیے لڑکیاں زندہ دفن کر دیتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں یا کوئی ان کا داماد نہ بنے۔

*قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسی بیٹیوں کے ظلم کا از خود نوٹس لیں گے*

اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے :
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
التكوير : 8
بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
التكوير : 9

*غیرت ایک اچھی اور قابل تعریف چیز ہے*

ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی ہے
آپ کے صحابی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا :
لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرُ مُصْفِحٍ عَنْهُ
کہ اگر میں نے کسی شخص کو اپنے بیوی کے ساتھ پالیا تو میں تلوار کی دھار سے اس کا خاتمہ کردوں گا
یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا :
«أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ، فَوَاللهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي، مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا، وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ
لوگو! کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔
اسی غیرت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ہر ظاہری اور باطنی فحاشی وبے حیائی کو حرام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی شخص غیرت والا نہیں ہوسکتا۔

اور مسلم کی 1498 نمبر روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّهُ لَغَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ. وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي
بے شک وہ غیرت مند ہے، اور میں اُس سے زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔

*یہ غیرت اتنی اہم ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ سخت غصہ کرتے ہیں*

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ، وَالدَّيُّوثُ”
نسائی : 2562 حسنہ الألباني رحمہ اللّٰہ
تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ عزّ و جلّ قیامت کے دن نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا:
(1) والدین کا نافرمان
(2) مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت
(3) دَيُّوث (یعنی جو اپنے گھر والوں میں بے حیائی پر غیرت نہ کرے)۔

*اگرچہ اپنے اہل خانہ ،بیویوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، حرمت، پردہ داری، چادر اور چار دیواری کے تقدس اور عفت و عصمت کی حفاظت کی خاطر غیرت و حمیت کی بہت اہمیت ہے مگر شریعت نے ہر چیز کی طرح اس کے بھی حدود اربعہ متعین کررکھے ہیں اور حد اعتدال سے تجاوز مذموم ہی قرار دیا ہے اور غیرت کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے اور پھر قتل کر ڈالنے کو کسی طور بھی جائز اور درست نہیں سمجھا*

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :
يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَؤُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟
"اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں، تو کیا میں اُسے مہلت دوں یہاں تک کہ چار گواہ لے کر آؤں؟”
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نَعَمْ”
مسلم : 1498
جی ہاں چار گواہ لانے پڑھیں گے

*جو غیرت کے نام پر کسی کو قتل کرے گا تو وہ بدلے میں قتل ہی کیا جائے گا*

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا :
لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، أَوْ قَتَلَ ؛ قَتَلْتُمُوهُ، أَوْ سَكَتَ، سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ
مسلم : 1495
’’اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو وہ یا تو بات کرے گا تو تم اسے کوڑے مارو گے، یا وہ (اسے) قتل کر دے گا، تو تم اسے قتل کر دو گے، یا خاموش رہے گا تو دلی غیظ پر خاموش رہے گا۔‘‘

سھل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا :
يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ
بخاری : 4746
اے اللہ کے رسول! بتایئے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے، تو کیا وہ اُسے قتل کر دے اور آپ لوگ (بدلے میں) اُسے قتل کر دیں؟

ان دونوں روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ اگر کوئی شخص غیرت کے نام پر اپنی بیوی یا کسی اور کو قتل کرتا ہے تو اسے بدلے میں قتل کیا جائے گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش رہنا اور کہنے والے کے اس موقف کا رد نہ کرنا، اس روایت کو تقریری حدیث بنا دیتا ہے

*غیرت کے نام پر قتل انتہائی قابل مذمت فعل ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہاں تک نوبت کیوں آتی ہے؟*

غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین جرائم کی مذمت اور حوصلہ شکنی ضرور کریں لیکن اس سے پہلے ان تمام مراحل ،عوامل اور عناصر کی مذمت اور کنٹرول بھی بے حد ضروری ہے کہ جن کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے
دراصل غیرت کے نام پر قتل، ایک پہلے جرم کا ردّ عمل ہے، اور اس قتل پر تبصرہ و تجزیہ اور اس کی مذمت کرتے ہوئے پہلے جرم کی شناعت و قباحت بیان کرنا اور اس کا سد باب از حد ضروری ہے

*گھی یا تیل کو دھکتے چولہے پہ رکھ کر یہ اعتراض نہیں بنتا کہ کڑکتا اور اچھلتا کیوں ہے اگر آپ کو اس کی اچھل کڑک پسند نہیں ہے تو اسے کوسنے کی بجائے چولہا ٹھنڈا کرنا ہوگا*

1️⃣ *ایسے سنگین جرائم کی راہ ہموار کرنے والا پہلا عنصر*

*بیٹیوں کو یہ راستہ کس نے دکھایا کہ گھر سے بھاگ جاؤ گی تو عدالتی نکاح بھی چل جائے گا*

کتنی لڑکیاں ہیں جنہوں نے عدالتی نکاحوں کا ڈھونگ رچایا اور یوں اپنے باپ دادا، چچا تایا سے لے کر بھائیوں اور بیٹوں کی عزتوں اور پگڑیوں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا، مانتا ہوں کہ اس مسئلے میں فقہاء کے مابین طویل مدت سے اختلاف چلتا آ رہا ہے لیکن کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ بطورِ متفقہ علیہ مسئلہ نہیں تو کم از کم بطورِ قانون ہی ایسے نکاحوں پر پابندی لگا دی جائے تاکہ یہ راستہ ہی بند ہو جائے، اس المیے کے پیچھے ان تمام فتووں کا بھرپور کردار ہے جو ولی کو بائی پاس کرکے نکاح کو سندِ جواز فراہم کرتے ہیں اور ان تمام عدالتی فیصلوں کا پورا ہاتھ ہے جو ایسے کیسز کی پشت پناہی کرتے ہیں

*شریعت کا فتویٰ کیا ہے؟*

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ”
(سنن ابی داؤد : 2085، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
کہ ولی کی اجازت کے بغیر کوئی نکاح، نکاح نہیں ہے

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ”
(سنن ترمذی : 1102، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
"جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔”

*کیا ہمارے مفتیان، قاضیان اور ذمہ داران نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی جس میں مرد و خواتین کو چھپی یاریاں لگانے سے منع کیا گیا، اور چھپی یاریوں کو نکاح کے منافی قرار دیا گیا ہے، تو پھر ایسے خفیہ یارانے نکاح کے مقدس لحاف میں کیوں لپیٹ دیے جاتے ہیں؟*

نکاح کے بیان میں اللہ تعالیٰ کے یہ فرامین کس قدر صاف اور واضح ہیں
مردوں کے متعلق فرمایا :
مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ
اس حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہوں ، نہ کہ بدکاری کرنے والے۔
النساء : 24

اور عورتوں کے بارے فرمایا :
غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ
بدکاری کرنے والی نہ ہوں اور نہ چھپے یار بنانے والیاں ہوں
النساء : 25

اب اس کا صاف مطلب ہے کہ خفیہ آشنائی اور چھپی یاری کا خفیہ پن اور چھپاؤ تبھی دور ہوسکتا ہے جب دونوں کا اکٹھ کم از کم ولی کے علم اور اجازت سے ہو ،نکاح ظاہر اور علی الاعلان ہوتا ہے اس کا اخفاء سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، اور وہ کیسا اظہار اور کیسا اعلان ہے کہ جس سے عورت کا سب سے قریبی رشتہ یعنی ولی ہی لاعلم اور بے تعلق ہو

*الغرض کہ ماوراءِ عدالت قتل کی آڑ میں ماوراء ولائت نکاح کو ایپریشیٹ کرنا ایک دوسری انتہا اور زیادتی ہے*

مانتے ہیں کہ عدالت کے بغیر خود قانون ہاتھ میں لینا اور کسی کو قتل کر دینا، چاہے مقتول جیسا بھی قصور وار ہو، قطعاً جائز اور درست نہیں ہے
لیکن
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح کی ڈور مطلق طور پر بے سمجھ ،کم عقل اور نادان لڑکی کے ہاتھ میں دے دینا اور مذہبی، سماجی اور خاندانی سبھی اچھی روایات کو روند ڈالنا بھی کسی طور درست نہیں ہے

*لوگوں کے زہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے بلکہ لبرلز اور ملحدین تو اس کو اسلام پر بطور اعتراض پیش کرتے ہیں کہ ولی کے ہاتھ میں لڑکی کے شوہر کے انتخاب کا اختیار دے کر اسلام نے عورت پر ظلم کیا ہے، جس نے ساری زندگی ایک مرد کے ساتھ گزارنی ہے رشتے کے انتخاب کے وقت اس سے پوچھا بھی نہیں جاتا، آخر کیوں؟*

اس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ایسا اعتراض کرنے والے یا تو اسلام کی تعلیمات سے پوری طرح واقف ہی نہیں ہیں یا پھر واقفیت کے باوجود دور دراز کے بعض قبائلی، مقامی رواجات ،رسومات اور غلط رویوں کو زبردستی اسلام کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں

آئیے دیکھتے ہیں
کیا واقعی اسلام نے انتخابِ زوج کے سلسلے میں عورت کی رضا مندی اور پسند ناپسند کو کوئی اہمیت نہیں دی؟
کیا واقعی اسلام نے سلیکشن ریجیکشن میں سارا اختیار ولی کو سونپ دیا ہے؟

نہیں ،
ہرگز ایسا نہیں ہے
*بلکہ اگر اسلام نے ایک طرف نکاح کی صحت کو ولی کی اجازت سے مشروط کرکے نادان اور بے سمجھ لڑکی کو فرطِ جذبات میں آکر کسی بھی غلط قدم اٹھانے سے بچا لیا ہے*
*تو دوسری طرف لڑکی کی رضا مندی کو لازم قرار دے کر ولی کی طرف سے ہونے والے ممکنہ اور متوقع مظالم کا دروازہ بھی خوب بند کردیا ہے*

اگر ایک طرف
"لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ” کا حکم دیا ہے
تو دوسری طرف ولی کو سختی سے اس بات کا پابند کیا ہے کہ لڑکی سے اجازت لینا ازحد ضروری ہے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ
بخاري : 6971
کنواری (لڑکی) سے(رشتہ طے کرتے وقت) اجازت لی جائے۔

اور ایک روایت میں ہے :
وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ
مسلم : 1421
اور کنواری سے حکم ،مشورہ (رضامندی) لیا جائے۔

اور بیوہ، مطلقہ کو تو اس سے بھی کچھ زیادہ اختیار دیتے ہوئے فرمایا :
” الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا
مسلم : 1421
بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ اپنی ذات کی حق دار ہے۔

اسلام کے اتنے واضح ارشادات اور احکامات کے باوجود یہ اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اسلام انتخاب زوج کے سلسلے میں عورت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا؟

بلکہ
اسلام تو یہاں تک عورت کی مرضی کا خیال رکھتا ہے کہ نکاح ہوجانے کے باوجود بھی اگر عورت کو اپنے ولی کا فیصلہ پسند نہیں ہے تو وہ اس نکاح کو بذریعہ عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے

صحیح بخاری کی 6969 نمبر حدیث میں آتا ہے :
فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
بے شک خنساء بنت خذام کا نکاح اس کے والد نے اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سنن ابی داؤد : 2069
ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے جبکہ وہ ناپسند کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔

2️⃣ *ایسے جرائم کو ہوا دینے والا دوسرا بڑا سبب*

*ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کے جواز والے فتوے کو چھتری دینے والے بھی برابر کے مجرم ہیں*

وطن عزیز پاکستان میں کسی بھی ضلعی عدالت میں چلے جائیں حتی کہ تحصیل لیول کی عدالتوں میں بھی دیکھ لیں،ہر عدالت میں روزانہ پندرہ بیس کیس تو معمول ہیں کہ بھاگے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں عدالت میں نکاح کروارہے ہوتے ہیں
یہ راستہ کس نے دکھایا ؟
یہ دروازہ کس نے کھولا ؟
یہ سہولت کس نے دی؟
اور کیوں دی؟

وطن عزیز پاکستان میں ایسے سینکڑوں واقعات موجود ہیں، کوئی لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ معاشقہ کرتی ہے ،دونوں بھاگ کر عدالت میں پیش ہوتے ہیں، عدالت دونوں کا نکاح کروادیتی ہے ،چند دنوں کے بعد کسی طرح لڑکی والے مقامی جرگوں یا پنچائیتوں کے ذریعے لڑکے والوں پر پریشر ڈال کر اپنی بیٹی کو گھر واپس لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ابھی لڑکی گھر پہنچتی ہی ہے کہ لڑکا قانون کا سہارا لیتے ہوئے، اپنے نکاح فارم کو ہاتھ میں پکڑے، پولیس کی دو تین گاڑیوں کے ساتھ لڑکی کے گھر میں گھستا ہے ،اس کے جوان بھائیوں اور باپ کے سامنے زور زبردستی ان کی بیٹی کو پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر رفو چکر ہوجاتا ہے، اب یہاں سے اگلا خوفناک سین شروع ہوتا ہے، لڑکی کا جوان بھائی اگر گلی محلے میں اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو دوست باتیں نہ بھی کریں بہرحال یہ ان کے سامنے نظریں نہیں اٹھا سکتا، اگر عدالت میں جائے گا تو قانونی طور پر اس کے مقدمے میں کوئی جان نہیں ہے یہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، گھر سے لیکر گلی محلے اور عدالت کی دیواروں تک ساری زمین اس پر تنگ ہو جاتی ہے، ایسے حالات میں اس نوجوان کے پاس صرف دو ہی آپشن بچتے ہیں یا اپنے آپ کو مار کر دنیا سے اوجھل ہو جائے گا یا پھر جیسے ہی موقع ملے گا اپنی بہن اور اس کے عدالتی شوہر کو قتل کردے گا
میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہر دو صورتوں میں اس کا یہ اقدام درست نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کس نے کیا ہے؟ ہمارے گندے معاشرے اور جھوٹے قوانین نے اس کے لیے تیسرا آپشن چھوڑا بھی کون سا ہے؟؟

*لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے پر اس لیے مجبور ہوتے ہیں کہ ایک طرف مذہب اور ان کی درست سماجی روایات اُن کو اپنی عزت و حرمت کے سلسلے میں غیرت مند بننے کی تلقین کرتے ہیں اور دوسری طرف عدالتوں میں رائج انگریزی قوانین ایسے تمام احساسات سے ماوراء ہو کر الگ ہی ایک عجیب سین چلا رہے ہوتے ہیں*

پاکستانی معاشرہ اس وقت جس المیہ سے دوچار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت عوام کے سماجی اور دینی رجحانات کو مدنظر رکھ کر قانونی اقدامات نہیں کررہی ، اس سے معاشرے میں شدید بے چینی اور بے راہ روی پروان چڑھ رہی ہے۔

*ایک اسلامی ملک کی عدالتوں میں اس حدیث مبارکہ کو قانون کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا کہ "لا نکاح الا بولي”*

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ”
(سنن ابی داؤد : 2085، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
کہ ولی کی اجازت کے بغیر کوئی نکاح، نکاح نہیں ہے

3️⃣ *تیسرا بڑا محرک*

*سوشل میڈیا کی بے لگام بدتمیزیوں کو کون روکے گا*

بلوچستان کے حالیہ واقعہ کے حوالے سے میں اپنی بات کو پھر دہراتا ہوں کہ ہم کسی طور بھی اس قتل کو جائز اور درست نہیں سمجھتے
مگر سوچئے گا ضرور کہ کوئی کتنا بھی ظالم کیوں نہ ہو بہرحال یہ نوبت کسی انتہائی شدید اور ناقابل برداشت عمل کے رد عمل سے ہی پیش آتی ہے کہ سگے بھائی، باپ، چچے تائے اور خاندان کے بڑے لوگ اپنی ہی بیٹی کو قتل کر ڈالیں

بلوچستان کی مقتولہ بانو کی والدہ کا ایک ویڈیو بیان آیا ہے ایک دفعہ اسے ضرور سن لیجیے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ مجرم صرف بانو کو گولی مارنے والے ہی نہیں ہیں بلکہ معاملے کو یہاں تک پہنچانے والے بھی صف اول کے مجرم ہیں

بانو کی ماں کہتی ہے :
"حقیقت یہ ہے کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی، وہ کوئی بچی نہیں تھی۔
اس کا بڑا بیٹا 18 سال کا ہے ۔
کیا ایک بلوچ کا ضمیر یہ گوارا کرے گا کہ اتنے بچوں کی ماں کسی دوسرے مرد کے ساتھ بھاگ جائے؟
میری بیٹی بانو اور احسان اللہ پڑوسی تھے۔ بانو 25 دن احسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور وہ اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔
25 دن بعد وہ واپس آ گئی۔ تب بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا اور اسے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گیا۔
مگر احسان اللہ باز نہیں آیا۔ وہ ہمیں ویڈیوز بھیجتا تھا۔ ٹک ٹاک پر ہاتھ پر گولی رکھ کر کہتا تھا:
’جو مجھ سے لڑنے آئے، وہ شیر کا دل رکھ کر آئے۔‘
وہ ہمیں دھمکیاں دیتا تھا۔
میرے بیٹے کی تصویر پر کراس کا نشان لگا کر کہتا تھا:
’میں اسے مار دوں گا۔‘
اتنی رسوائی اور بے غیرتی ہم برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

اب بتائیں
جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے کہ سوشل میڈیا پر نہ صرف یہ کہ کسی کی عزت و حرمت کو بار بار اچھالا جائے بلکہ گولیاں دکھا دکھا کر انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی جائیں تو ایسے میں آپ انہیں قانون ہاتھ میں نہ لینے کی ہزار دلیلیں بھی پیش کریں تب بھی وہ نہیں سمجھیں گے

*یہ صرف ایک کہانی ہے ایسی ہزاروں کہانیاں سوشل میڈیا پر چل پھر رہی ہیں لڑکی اور لڑکے کی دوستی ہوتی ہے ایک دوسرے کی تصاویر کا لین دین کرتے ہیں پھر جب اَن بَن ہو جاتی ہے تو وہی تصاویر اور وہی وڈیوز سوشل میڈیا پر پھینک دی جاتی ہیں اور تو اور لوگ اپنی منکوحہ بیوی کی پرسنل اور پرائیویٹ تصاویر طلاق کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں، اخلاقیات کے جنازے نکل گئے ہیں جس سے معاشرے میں ایک خوفناک بیگاڑ آئے روز شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے*

اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس بدتمیز، بے لگام، اور منہ زور گھوڑے کو روکنا اور قابو میں لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ سائبر کرائمز کے یہ بڑھتے ہوئے کیسز سانحہ بلوچستان جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں حادثات کو جنم دے رہے ہیں

4️⃣ *چوتھا بڑا سبب*

*جب وزیروں ،وڈیروں ،سرداروں اور چوہدریوں کی ناک کے نیچے بیسیوں ٹیلی ویزن چینلز پر چلنے والے ڈراموں میں بار بار کسی لڑکی کو کسی لڑکے کے ساتھ بھاگتے، خفیہ دوستیاں گانٹھتے ،اور یارانے نبھاتے دکھایا جاتا ہے اور قوم کی معصوم بیٹیوں کو مفت میں زہریلی ٹیوشن پڑھائی جاتی ہے، اور خاندانی سسٹم کے خلاف ان کے دماغوں میں زہر گھولا جاتا ہے ،تب کوئی پاور فل جرگہ، کوئی قبائلی سردار، کوئی غیرت مند بدو اور کوئی ضرورت سے زیادہ حساس قوم حرکت میں کیوں نہیں آتی؟ اس ناسور کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھتی؟ جانتے بوجھتے اس بیغیرتی کو کیوں برداشت کیا جاتا ہے؟ حکومت سے ایسے فحش مناظر پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ فقط بلوچستان کا بدو اور قبائلی ہی نہیں پورا ملک ہی مجرم ہے*

*اور تو اور کرکٹ میچ ہی کو دیکھ لیجیے، شائقین، اور تماش بین کے مجمع سے بار بار فحش مناظر سکرین پر نمایاں کیے جاتے ہیں، کیمرے والے خصوصی طور پر ایسے مناظر کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سامنے لاتے ہیں، کراؤڈ میں جہاں کہیں مرد و زن ،قابلِ اعتراض حالت میں، نیم برہنہ لباس میں بیٹھے ہوتے ہیں انہیں بار بار دکھایا جاتا ہے، ان پر کیمرہ فوکس کیا جاتا ہے ،زوم کر کر کے دکھایا جاتا ہے، کھلے بالوں،اونچے پائنچوں اور ننگے گریبان کے ساتھ ایک لڑکی ہاتھ میں مائک پکڑے کسی بھی کھلاڑی کے سامنے انٹرویو کے بہانے انتہائی نازیبا حرکتیں اور سوال لیے کھڑی ہو جاتی ہے اور یوں اسے صحافت کے نام پر گند پھیلانے کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے اور طرفہ تماشہ یہ کہ اسے فقط کھیل، فن اور گیم کے نام پر نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی اس کے خلاف دو الفاظ بولنے کی جسارت کر بیٹھے تو اسے تنگ نظری اور فرسودہ زہنی کے طعنے کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے*

*وطن عزیز پاکستان میں سفر کرنے کے لیے کوئی ایک ٹریول ایجنسی اور کوئی ایک ایسی گاڑی دکھا دیں جس میں وڈیو یا آڈیو شکل میں دوران سفر فحش بینی اور فحش گوئی نہ ہوتی ہو*

*کسی اخبار کا کوئی ایک ایڈیشن ایسا دکھا دیں جس میں برہنہ تصاویر نہ ہوں*

*کوئی ایسا سنڈے میگزین سامنے لائیں کہ جس کا ٹائٹل پیج ماڈل گرلز کی فل سائز تصاویر سے خالی ہو*

*شہروں کی بڑی شاہراؤں اور چوکوں پر کسی بھی کمپنی کی پبلسٹی کے لیے لگا ہوا کوئی ایک بینر یا فلیکس ایسا دکھا دو جو عورت کی تصویر کے بغیر ہو*

*سوائے چند تعلیمی اداروں کے، نوے فیصد اداروں میں کو ایجوکیشن اور مخلوط نظام تعلیم مغربی تہذیب کی خوب خوب آبیاری کررہا ہے*

*نادرا، پولیس ،میڈیا،عدلیہ، پارلیمنٹ الغرض کون سا ایسا ادارہ ہے جہاں ہم نے ہر مرد کے ساتھ غیر محرم عورت کو نہیں بٹھا دیا*

*جب زندگی کے روز مرہ شیڈول میں دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچے ہر طرف فحش اور بے حیائی منہ کھولے دعوتِ گناہ دے رہی ہو تو ایسے حالات میں اگر کوئی خاتون ایک ناجائز قدم اٹھاتی ہے اور اس کے خاندان کے لوگ غیرت میں آ کر اسے قتل کر دیتے ہیں تو جہاں وہ خاتون اور اس کا خاندان قابلِ مذمت ہے وہاں پورا ملک اور معاشرہ اس سے ہزار گناہ زیادہ قابلِ مذمت ہے*

یہاں تھوڑی دیر رک کر اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان سنیں اور بار بار سنیں
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
بے شک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بے حیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
النور : 19

*یہ آیت مبارکہ تو گویا گلے سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی ہے اور بار بار کہہ رہی ہے کہ جب تم سب من حیث القوم فروغِ فحاشی کے خواہاں ہو تو پھر تمہیں "لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا” کے مصداق سانحہ بلوچستان اور حمیرا اصغر کی داستان جیسے بھیانک مناظر تو دیکھنے پڑیں گے*

*نیٹ پر پورن سائٹس اور پورن انڈسٹریز کا سیلاب ہے ،سو پچاس کے نیٹ پیکج سے ایک ایک کلک پر برہنہ جسموں کا ایک ایک انگ کھل کر سامنے آجاتا ہے*

وطن عزیز پاکستان کی قیادت کہاں ہے، ایسی سائٹس پر سخت سے سخت پابندی کیوں نہیں لگاتے؟

5️⃣ *پانچواں بڑا سبب*

*انصاف کی عدم فراہمی*

*جب عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا تب لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں*

*جب لفافہ جیب میں ڈال کر ہمارا قاضی مجرم کو بری کر رہا ہوتا ہے تب لوگوں کا اعتماد قانون سے اٹھ جاتا ہے*

*جب ہم ہزار روپے کے دھنیا چور کو دس سال قید سناتے ہیں اور اربوں روپے کے کرپٹ کو تاج و تخت پہ بٹھاتے ہیں تب لوگ اپنے فیصلے خود کرنے کو ترجیح دیتے ہیں*

*جب ہمارے معزز منصفین کسی کے اشارہِ ابرو کو دیکھ کر مجرم کو بری کرتے ہیں اور وہ وکٹری بناتا ہوا فاتحانہ اسٹائل میں نکلتا ہے تو پھر لوگوں عدالتوں کا نہیں طاقتوں کا رخ کرتے ہیں*

آج وطن عزیز پاکستان میں سانحہ بلوچستان سے لیکر قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ، مار دھاڑ، چوری ڈاکہ، عصمت دری اور اغواء کے سبھی واقعات کی ایک بڑی وجہ نظام عدل و انصاف کا مفلوج ہو جانا ہے، بدمعاش مافیا سرعام دندناتا پھر رہا ہے خوف و ہراس کا عجیب سماں بندھ گیا ہے لوگ اپنے بچوں کو سکول وکالج بھیجتے وقت پریشان نظر آتے ہیں

اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ جملہ معاشرتی جرائم کی روک تھام کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فی الفور حدود اللہ کا نظام لاگو کردیا جائے

*قصاص میں زندگی ہے*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور تمھارے لیے بدلہ لینے میں ایک طرح کی زندگی ہے اے عقلوں والو! تاکہ تم بچ جاؤ۔
البقرة : 179

اس میں اللہ تعالیٰ نے قصاص کی عظیم حکمت بیان فرمائی ہے، کہ قصاص میں زندگی ہے، اس لیے کہ جس کے ذہن میں یہ بات ہر وقت رہے گی کہ اگر اس نے کسی کو قتل کیا تو قتل کردیا جائے گا، تو وہ کسی کو قتل نہیں کرے گا، اسی طرح جب لوگ قاتل کو قتل ہوتا دیکھ لیں گے، تو دوسروں کو قتل کرنے سے خائف رہیں گے، لیکن اگر قتل کی سزا قتل کے علاوہ کچھ اور ہوتی تو شاید شر کا وہ دروازہ بند نہ ہوتا جو قاتل کھول دیتا ہے۔
(تفسیر تیسیر الرحمن)

*عھد نبوی سے قبل اور بعد کے جرائم*

عھد نبوی سے قبل دور جاہلیت میں نظر دوڑائیں قتل و غارت کا بازار گرم نظر آتا ہے اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہوچکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی
لیکن اسی معاشرے میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان تقوی اور للھیت کی بنیاد پر لوگوں کی ذھن سازی کرنے کے ساتھ ساتھ شرعی حدود کا نفاذ کیا تو ایسا مثالی معاشرہ بن کر ابھرا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی

*عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پراسرار قتل اور آپ کا فیصلہ*

عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک لڑکا قتل ہوگیا اس کے قاتل مل نہیں رہے تھے آپ نے سخت آرڈر جاری کرتے ہوئے فرمایا
لَوْ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ
بخاري معلقا
اگر اس لڑکے کے قتل میں صنعاء کے سارے لوگ ملوث پائے گئے تو ان سب کو قتل کروں گا

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں