شکر ایک اخلاقی، عقلی ، فطری اور شرعی ضرورت
﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠۱۵۲﴾ ( البقرة:152)
’’ تم میرا ذکر کرو، میں تمھیں یاد رکھوں گا، میرا شکر ادا کرو، اور ناشکری نہ کرو۔‘‘
گذشتہ جمعے ہم نے شکر کی مبادیات سنیں، آج ذرا تفصیل جاننے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ تو آیئے جانتے ہیں کہ شکر کیا ہے، شکر کی اہمیت کیا ہے اور انسانی معاشرے میں شکر ضروری کیوں ہے؟
ایک شکر گزار انسان بننے کے لئے ان چند نہایت ہی بنیادی باتوں کا جاننا اور سمجھتا ضروری ہے، کیونکہ جب تک انسان کو کسی چیز کی ضرورت اور اہمیت سمجھ نہیں آتی، تو اس کی طرف عموماً دل مائل نہیں ہوتا، اس کام کے کرنے کا ذوق ، شوق اور جذبہ پیدا نہیں ہوتا، اور جب سمجھ آجاتی ہے تو پھر وہ کام آسان ہو جاتا ہے، آدمی اسے بجالاتے ہوئے تو چین محسوس نہیں کرتا اور اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتا، بلکہ جوش و جذبے سے کرتا ہے اور اپنی ضرورت سمجھ کر کرتا ہے۔
تو شکر کہ جس کی ضرورت و اہمیت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، انسان کی ضرورت ہے اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے یہ دنیا بنائی، انسان کو اس میں لا بسایا اور زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز انسان کے لئے مسخر کردی، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۱۳﴾ (الجاثية:13)
’’ اُس نے زمین اور آسمان کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔‘‘
زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز انسان کے لیے بنائی، مگر انسان کا قیام اس دنیا میں عارضی اور مختصر رکھا، کیونکہ وہ صرف امتحان کے لئے ہے۔ ایک طرف اگر چہ اللہ تعالی نے انسان کے لئے زمین و آسمان اور ان کے مابین کی ہر چیز کو جو مسخر کر دیا ہے، وہ انسان کے اللہ تعالی کے ہاں مقام و مرتبے اور عزت و تکریم کی دلیل ہے، مگر دوسری طرف اللہ تعالی نے اُس کے امتحان کے تقاضے بھی پورے کیے ہیں، اس کی فطرت میں کچھ ضرور تھیں، کچھ خواہشیں اور چاہتیں اور کچھ خامیاں اور کمزوریاں رکھ دیں، خیر اور شر میں فرق و امتیاز کرنے کی صلاحیت سے نوازا اور راہ راست اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ انسان کے اندر اللہ تعالی نے جو بہت سی کمتر دریاں رکھی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں ایک دوسرے کا ضرورت مند اور محتاج بنا دیا، جیسا کہ فرمایا:
﴿اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۳۲﴾(الزخرف:32)
’’ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدر جہا فوقیت دے دی ہے، تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ ‘‘
اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت لوگوں کے درمیان درجات و تفاوت رکھے ہیں تا کہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں، کوئی امیر ہے، کوئی غریب ہے، کوئی طاقتور ہے، کوئی کمزور ہے۔ اللہ تعالی نے کسی انسان کو ایسا نہیں بتایا کہ اسے سب کچھ دے دیا ہو، کہ اسے کسی کی خدمت کی ضرورت نہ رہے، کوئی آدمی دنیا میں ایسا نہیں ہے کہ وہ بیک وقت ڈاکٹر بھی ہو، انجینئر بھی ہو، عالم بھی ہو، مکینک بھی ہو، پائلٹ بھی ہو، الیکٹریشن بھی ہو، پلمبر بھی ہو ۔ غرضیکہ دنیا میں سینکڑوں قسم کے علوم وفنون ہیں مگر کوئی آدمی ان سب کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ہم کر ہر آدمی کو کسی نہ کسی کی خدمات اور تعاون کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ خود بھی کسی نہ کسی طرح دوسروں کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔
اور اس سب کا مقصد یہ ہے کہ لوگ باہمی تعاون سے زندگی گزاریں، مل جل کر ر ہیں، کہ اصل میں تمام انسان ایک ہی خاندان ہیں، ایک ہی آدمی کی اولاد ہیں۔ تو انسانوں کا مل جل کر رہنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے اسے بہت سارے مسائل، پیچیدگیوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، بہت ساری مصیبتیں جھیلنا پڑیں گی اور تنہائی تو ویسے بھی انسان کو ڈستی ہے، انسان تبائی سے گھبراتا ہے۔ لہذا اللہ تعالی نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی پسند کرتا ہے اور تنہائی سے بھاگتا ہے اس لیے اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے کا تعاون ناگزیر ہے۔
معاشرتی اور اجتماعی زندگی میں انسان کو دوسروں سے کسی طرح کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ؟ یوں تو انسان کو اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے سے بیسیوں معاملات میں تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں دینی معاملات بھی ہیں اور دنیاوی معاملات بھی ہیں۔
رشتہ دار کی حیثیت سے، دوست کی حیثیت سے، پڑوی کی حیثیت سے، مسافر اور اجنبی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے تعاون کیا جاتا ہے، اور اس تعاون کی اسلام بہت زیادہ ترغیب دیتا ہے اور اسے صدقہ قرار دیتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((كُلُّ سُلامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ))
’’ ہر روز کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر آدمی کے ہر جوڑ کے بدلے اس پر ایک صدقہ لازم ہے ۔ ‘‘
((يعدل بين اثنين صدقة))
’’ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرے تو صدقہ ہوگا۔‘‘
((يُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَيَحْمِلْ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صدقة))
’’کسی آدمی کی سواری کے معاملے میں اس کی مدد کرنا کہ اس کو اس پر سوار ہونے میں مدد دے یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھ دے تو صدقہ ہوگا۔‘‘
(والكَلِمَةُ الطيبة صدقة))
’’ اچھی بات بھی صدقہ ہے۔‘‘
((وبكل خطوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ))
’’اور ہر قدم جو وہ نماز کے لیے چل کر جائے صدقہ ہے۔‘‘
((وَيُميط الأذى عن الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ)) (صحيح البخاری:2989)
’’راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دے تو صدقہ ہے۔‘‘
اور ایک حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا: ((كل معروف صدقة)) (صحيح البخاری:6021)
’’ہر نیکی اور بھلائی صدقہ ہے۔‘‘
اور حدیث میں ہے:((إِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهِ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفِرِغَ مِنْ دلوك في إناء أخيك)) (سنن ترمذی:1970)
’’اور بھلائی میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو اور یہ بھی بھلائی ہے کہ تم اپنے بالٹی اور ڈول میں سے اپنے بھائی کے برتن میں کچھ ڈال دو۔‘‘
اور ایک حدیث میں ہے، فرمایا: ((لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهِ طلق ” (صحيح مسلم:2626)
’’ نیکی اور بھلائی کو بھی ہا کا مت جانو، چاہے تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
اور عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:
((يا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لا تحقرن جارة لجارتها، ولَوْفِرسِنَ شَاةٍ)) (صحيح البخاري:2566)
’’اے مسلمان عور تو! کوئی پڑوسن کسی پڑوسن کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے کسی نیکی اور بھلائی کو کبھی حقیر اور کمتر نہ جانے، چاہے بکری کے پائے ہی کیوں نہ ہوں ۔‘‘
یعنی بکری کے پائے یا اس کی ٹانگ کی ہڈی کہ جس پر گوشت بھی نہیں ہوتا، اگر کسی کو وہ بڑی بھی دے سکو تو ضرور دو اور اسے ہلکا نہ جانو۔
اور اسلامی معاشرے کا یہ خاصہ ہے کہ اس میں ایسی نیکیاں اور احسانات بھر پور طریقے سے عملی طور پر پائی جاتی ہیں، بالخصوص حقیقی اسلامی معاشرے میں، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ایک روز آپ ﷺنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا:
((مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِماً))
’’آج تم میں سے کون روزے سے ہے؟‘‘ ((قَالَ: أَبُو بَكْرٍ: أَنَا)) ’’ تو حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں۔‘‘
پھر آپﷺ نے فرمایا: ((فَمَن تَبِعَ مِنْكُمُ اليوم جنازة))
’’آج تم میں سے جنازے پر کون گیا ہے؟‘‘
((قال أبو بكر أنا))
’’ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں۔‘‘
((قَالَ: فَمَنْ أطعم منكم اليوم مسكينا))
’’ آپﷺ نے پوچھا آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ؟‘‘
((قال أبو بكر أنا)) ’’تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں نے ۔‘‘
((قَالَ رَسُولُ الله: مَا اجْتَمَعْنَ فِي أَمْرِي إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) (صحیح مسلم:1028)
’’تو آپ ﷺنے فرمایا: جس شخص میں یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘
یقینًا اتنی ساری خوبیاں ایک ساتھ کسی شخص میں پایا جانا آسان بات نہیں، وہ بہت خوش قسمت اور بہت عظیم لوگ ہوتے ہیں جو لوگوں کے اس قدر ہمدرد اور خیر خواہ ہوں، جو لوگوں کے ساتھ ان کے دکھ درد بانٹتے ہوں، انہیں ان کی مصیبتوں، پریشانیوں اور تکلیفوں میں سہارے اور تسلیاں دیتے اور تعزیتیں کرتے ہوں۔ یہ کوئی محض اتفاق نہیں تھا کہ حضرت ابوبکر بنی ہ نے ایک دن میں اتنی نیکیاں اور احسان کئے ہوں، بلکہ یہ ان کے مستقل اخلاق تھے، حتی کہ ان کے ان اخلاق کریمہ کے غیر بھی معترف تھے، جیسا کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر اذیتوں کی انتہا کر دی تو حضرت ابو بکر بھی نہ نے ہجرت حبشہ کا ارادہ کیا، رخت سفر باندھا، راستے میں ابن الدغنہ ملا جو ایک سردار تھا، پوچھا کہاں جارہے ہو؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
((أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ فَأَعْبُدَ رَبِّي))
’’تو فرمایا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، اب میں زمین میں گھوموں پھروں گا اور اپنے رب کی عبادت کروں گا۔‘‘
تو ابن الدغنہ نے کہا۔
((إِنَّ مِثْلَكَ لا يَخْرُجُ وَلا يُخْرِجُ))
’’تمہارے جیسا نہ نکلتا ہے اور نہ نکالا جاتا ہے‘‘
((فَإِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكُلَّ وَتَقْرِي الضَّيْف وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ))
’’تم تہی دستوں کا بندو بست کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، در ماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہو۔‘‘
((وَأَنَا لَكَ جَارٌ فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ)) (صحيح السيرة النبوية للألباني: 214)
’’ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں ، واپس چلو اور اپنے شہر میں رہ کر اپنے رب کی عبادت کرو‘‘
تو حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ خوبیاں مستقل خوبیاں تھیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دولت اللہ کی تقسیم ہے اسی طرح یہ خوبیاں بھی اللہ کی تقسیم ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ الله قسم بينكم أخلاقكُمْ كَمَا قسم بينَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ)) (مسند احمد:3672)
’’اللہ تعالی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق خوبیاں اور صفات تقسیم کر رکھی ہیں جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کئے ہیں ۔‘‘
کسی کو اخلاق اور خوبیوں کا وافر حصہ عطا ہوا ہے اور کسی کو کم اور کسی کو بہت کم ۔ تاہم جس کسی کو جس میدان اور جس شے شعبے میں کوئی اخلاقی خوبی عطا ہوئی ہے، اسے چاہیے کہ وہ اس میں اس میں مزید بہتری لانے کی کوشش کرے، اور اپنے اندر مزید خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
بدیہی بات ہے کہ جو شخص اپنے اندر کوئی خوبی دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہے۔ کوئی شخص مالدار اور امیر ہونا چاہتا ہو مگر اس کے لئے کوشش نہ کرے تو اسے کیا کہا جائے گا ؟ آپ بہتر سمجھتے ہوں گے مگر کم از کم اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امیر ہوتا، اس کی خواہش ہے ارادہ نہیں ہے۔ کیونکہ جب ارادہ ہوتا ہے تو آدمی اس کے لئے کوشش کرتا ہے، جیسا کہ منافقین کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً ﴾ (التوبة:46 )
’’اگر واقعی ان کا ارادہ جہاد کے لئے نکلنے کا ہوتا تو اس کے لئے کچھ تیاری کرتے ۔‘‘
اور جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ))
’’ کہ علم حاصل کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور حلم ، بردباری کا مظاہرہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (شعب الايمان للبيهقي: 10254)
یعنی جو شخص علم حاصل کرنا چاہتا ہے، یقینًا وہ استاد کے سامنے زانوئے طے کرے گا، اس کے لئے وقت صرف کرے گا اور محنت کرے گا، اسی طرح جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے اندر علم اور بردباری پیدا ہو تو وہ لازماً برد باری دکھانے کی اور اپنے آپ کو اس کی عادت ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ غصے کے وقت وہ اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرے گا اور تزکیہ نفس کی عادت ڈالے گا۔
صرف خواہشات سے نہ دنیا حاصل ہوتی ہے اور نہ آخرت۔ بلکہ اس کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور عملی جدو جہد کرنا پڑتی ہے۔ تو معاشرے میں باہمی تعاون کی بات ہو رہی تھی کہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی انسان کی ضرورت اور مجبوری ہے اور وہ باہمی تعاون کے بغیر مشکل ہے، چنانچہ اسلام نے باہمی تعاون پر بہت زور دیا ہے، بہت زیادہ ترغیب دی ہے اور بہت اجر و ثواب بتلایا ہے۔ اب تک کی گفتگو میں ہم نے جاتا کہ اسلام نے ہر قسم کے تعاون کی ترغیب دی ہے، صرف شرط اتنی ہے کہ:
﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ۪﴾
’’جو کام نیکی اور تقویٰ کے ہیں ان میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور جو کام گناہ اور زیادتی کے ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔‘‘
اور تعاون کے بارے میں آپﷺ نے ایسی شدید ترغیب اور تاکید فرمائی کہ فرمایا: ((لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبُّ لَا خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ)) (صحیح البخاری:13)
’’ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہ کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرے۔‘‘
ہر شخص اپنے لئے پسند کرتا ہے کہ اسے کوئی اذیت نہ دے، زیادتی نہ کرے، برا بھلا نہ کہے، نقصان نہ پہنچائے ، اس کی غیبت نہ کرے، اس کی تو ہین نہ کرے۔ اور ایک سچے مسلمان سے مطلوب ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی ایسے ہی جذبات اور خیالات رکھے اور ان کی دل آزاری نہ کرے۔ اور فرمایا: ((المؤمِنُ لِلْمُؤْمِنُ كَالبنيان يشد بعضه بعضا وشبك بين أصابعه)) ’’مؤمن مؤمن کے لئے عمارت اور دیوار کی طرح ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہے۔ اور آپ ﷺنے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر دیں۔‘‘
کسی عمارت کی اینٹیں اگر بغیر گارے اور سیمنٹ کے صرف ساتھ جوڑ جوڑ کر رکھ دی جائیں تو ایسی عمارت یقینًا ملکی می لرزش سے زمین بوس ہو جائے گی۔ لیکن جب سیمنٹ سے ان کو جوڑ دیا جاتا ہے تو اب وہ چونکہ ایک دوسری کو اسپورٹ کر رہی ہوتی ہیں لہذا عمارت بہت مضبوط رہتی ہے۔
ایمان کے جذبے سے جب باہمی تعاون ہوتا ہے تو وہ معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ باہمی تعاون کو ایک اور مثال کے ذریعے آپ سے تم نے بیان فرمایا اور وہ ہے۔ جسد واحد
((مثلُ الْمُؤْمِنِينَ في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضو تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالشَّهْرِ والحمى ” (صحيح البخاری:2585)
’’اہل ایمان کی مثال ان کی آپس میں رحمہ لی ، محبت و مودت اور نرم دلی کے معاملے میں جسد واحد کی سی ہے۔ کہ جب جسم کا کوئی ایک حصہ اور عضو تکلیف میں جتنا ہو تو پورا جسم ایک دوسرے کو بے خوابی اور بخار کی طرف بلاتا ہے۔‘‘
یعنی جب آدمی کو جسم کے کسی ایک حصے میں وارد ہو تو آدمی سو نہیں سکتا اور جب وہ سو نہ پائے تو پھر بخار کی سی کیفیت ہو جاتی ہے۔
اسی طرح دیگر آیات واحادیث میں باہمی تعاون کی بہت تاکید کی گئی ہے، اور یہ ترغیب دین اور دنیا کے معاملات میں ہے۔ خصوصی طور پر دین کے معاملے میں بھی الگ سے باہمی تعاون کی بہت ترغیب دی گئی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے، صحابہ نے عرض کیا: ((أي المال خير فنَتخذه))’’کون سا مال اچھا ہے کہ ہم اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں؟‘‘
تو فرمایا: أَفْضَلُهُ لِسَانُ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى ايمانه (جامع ترمذی:3094)
’’سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان ، شکر کرنے والا دل اور ایمان والی بیوی جو اس کا اس کے ایمان پر تعاون کرے۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ: ((تعين أحدكم على أمر الآخرة ” (سنن ابن ماجه:1856)
’’ ایسی بیوی جو آخرت کے معاملے میں تمہاری مدد کرے، یعنی نیکی کی طرف لگائے اور برائی سے روکے۔‘‘
آپ نے دیکھا کہ معاشرے میں باہمی تعاون کی کسی قدر اسلام میں ترغیب دی گئی اور تاکید کی گئی ہے اور کتنا ضروری ہے اور اس تعاون پر شکر ادا کرنے کا جو اخلاقی اور شرعی حق بنتا ہے اسے کیونکر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور اگر اس میں سے شکر کو نکال دیں تو معاشرتی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے شکر گزار بندے بنائے اور ہمیں آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ احسان مندی کے معاملات کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………..