شکر کیسے ادا کریں؟

شکر کیسے ادا کریں؟

﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠۝۱۵۲﴾ (البقرة:153)
’’ تم میرا ذکر کرو، میں تمھیں یاد رکھوں گا، میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔‘‘
عید کے خطبے میں شکر کی بات ہو رہی تھی کہ اللہ تعالی کا شکر کیسے ادا کیا جاسکتا ہے، تو آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے شکر کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ شکر ادا کرنا کتنا ضروری ہے، اور کیوں ضروری ہے۔ کسی انسان کا شکر ادا کرنا کتنا ضروری ہے اس کی اہمیت کو کچھ نہ کچھ تو ہم ضرور سمجھتے ہوں گے، کیونکہ جو چیز انسان کی فطرت میں ہوتی ہے اسے کم از کم سمجھنا مشکل نہیں ہوتا اور یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ احسان مندی اور شکرگزاری کو پسند کرتا ہے اور ناشکری اور احسان فراموشی کو نا پسند کرتا ہے۔
احسان مندی کسی انسان کی بڑی بڑی اخلاقی خوبیوں میں سے ایک ہے اور احسان فراموشی کسی انسان کی بڑی بڑی خامیوں میں سے ایک ہے۔ یہ خامی ایسی قابل مذمت و نفرت ہے اور آدمی کی شخصیت کو ایسی مجروح کرتی ہے کہ کسی احسان فراموش انسان کو دیکھ کر اس سے گھن سی آنے لگتی ہے اور آدمی اس سے فاصلے پر رہنا چاہتا ہے اس سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتا ، حالانکہ اس نے احسان فراموشی کسی دوسرے سے کی ہوتی ہے۔
شکر گزاری کی یہ اہمیت تو انسان کے فطری تقاضوں کے لحاظ ہے، جبکہ عقل و منطق کے لحاظ سے اس کی اہمیت اور زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
کسی کی نیکی اور احسان پر اُس کا احسان مند ہوتا اور تبہ دل سے اس کا شکر گزار ہوتا ایک انصاف پر چینی اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہوتا ہے، کسی کی خوبی، برتری، سخاوت اور احسان کا اعتراف اور قدر دانی آدمی کی شرافت اور عالی ظرفی کی علامت اور اظہار ہوتا ہے، اور عمومًا کسی کی اس طرح کی خوبی پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص خاندانی آدمی ہے۔
جبکہ اس کے برعکس احسان فراموش انسان کے بارے میں تجزیہ اور تبصرہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص گھٹیا، کمینہ، خود غرض اور کسی گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
اسی طرح سائنسی اعتبار سے اگر احسان مندی اور ممنونیت کا جائزہ لیا جائے تو اس پر ریسرچز اور سٹڈیز موجود ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ شکر ایک بہت بڑی طاقت ہے، شکر انسان کی زندگی میں عجیب و غریب اور بحر انگیز اثر رکھتا ہے، شکر کامیابی کے راستے کو آسان کرتا ہے اور شکر انسان کو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچاتا ہے۔
Dr. John Gray a Psychiatrist ڈاکٹر جان گرے ایک ماہر نفسیات ہے وہ ایک کامیاب انسان کی زندگی میں شکر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ عورت مثال کے طور پر خاوند کی خدمات کے صلے میں اور اسے سراہتے ہوئے جب اس کا شکر یہ ادا کرتی ہے تو وہ شکریہ اس میں مزید ایجاد و اختراع اور کامیابیوں کے لئے ترغیب و تحریک اور جذبہ پیدا کرتا اور اس کے لئے کامیابیوں کا راستہ آسمان کرتا ہے۔
اور اسی طرح دیگر ریسرچرز نے بھی شکر کے متعدد فوائد و ثمرات اخذ کئے ہیں۔ غرضیکہ انسانوں کا شکر ادا کرنا فطری تقاضوں کے لحاظ سے عقل و منطق کے لحاظ سے اور سائنسی طریقوں اور اصولوں کی روشنی میں نہایت ہی مفید، ضروری اور بہت سے فوائد و ثمرات کا حامل ہے۔
اور جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، تو شریعت نے انسانوں کا شکر ادا کرنے کو سب سے بڑھ کر اہمیت دی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ((لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ)) (ابو داود:4811)
’’وہ اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا، جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔‘‘
اب اس حدیث میں لوگوں کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور نہ کرنے کی مذمت کی گئی ہے، اور ایک دوسری حدیث میں مزید تاکید کے ساتھ لوگوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، فرمایا:
((مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُم مَعْرُوفًا فَكَافِئُوه))
’’جو تمہارے ساتھ کوئی نیکی اور احسان کرے تو اس کو اس کا صلہ دو۔‘‘
((فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ کافئْتُمُوه)) (ابو داود:1972)
’’اور اگر تمہارے پاس اس کا بدلہ چکانے کو کچھ نہ ہو تو اُس کے لئے دعا کر وحتی کہ تم محسوس کرو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔‘‘ یعنی سرسری نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس کے لئے دعا کرو۔ اور اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے، فرمایا:
((مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ اَبْلَغَ فِي الثناء)) (ترمذي:2035)
’’جب کسی کے ساتھ نیکی اور احسان کیا جائے اور وہ نیکی کرنے والے کو جزاک اللہ خیرا کہیے، تو اس نے اس کی انتہائی مدح و تعریف کی۔‘‘
کیونکہ جب کوئی اپنے ساتھ کی گئی نیکی کا بدلہ چکانے کے لئے اللہ تعالی کے حضور درخواست کرتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیکی کا بہترین بدلہ عطا فرمائے تو اس نے بہت بڑی بات کہہ دی، اس لئے کہ اللہ تعالی تو پھر نیکی کا کم از کم بدلہ دس گنا دیتا ہے اور پھر آدمی کے خلوص کے حساب سے اجر و ثواب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اور پھر اس سے بڑھ کر۔
((إِلٰى أَضْعَافٍ كَثِيرةٍ)) ( بخاري:6491)
’’اس سے بھی کئی گنا زیادہ۔‘‘
اور بعض نیکیوں کا ثواب سیدھا جنت بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ((وَالْحَج المبرور ليسَ لَهُ جَزَاء إِلَّا الْجَنَّةُ)) (بخاري:1773)
’’مقبول حج کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
یہ تو فرض نیکی کی جزاء ہے، جبکہ نفلی نیکی کی جزاء بھی بسا اوقات جنت قرار دی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ((مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنٍ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ فَقَالَ: وَاللَّهِ لأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ لَا يُؤْذِيهِمْ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ)) (مسلم:1914)
’’ ایک شخص درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا جو راستے پر پڑ رہی تھی ، تو اس نے کہا واللہ! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تا کہ انہیں تکلیف نہ پہنچے، تو اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔‘‘
اسی طرح کسی کی چھوٹی سی نیکی کے بدلے اس کے گناہوں کو بخش دینے کا مٹر دو سنایا گیا ہے اور کسی کی تھی اور تکلیف دور کرنے کا بدلہ قیامت کے دن کی سختیوں اور تکلیفوں کو دور کرنا ہلایا گیا ہے۔
تو جب کوئی اپنے ساتھ کی گئی نیکی کی جزا کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں اس انسان کا شکر ادا کرتا ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ دل کی گہرائیوں سے کسی آدمی کی نیکی کا اقرار و اعتراف کرنا، اسے سراہنا اور اس کا شکر گزار ہونا عام بات نہیں ہے اور آسان بات نہیں ہے، کیونکہ اکثر لوگ اسے Taken for Granted لیتے ہیں۔ اسے کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے، قدردانی نہیں کرتے ، بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ اسے بدھو سمجھتے ہیں، حالانکہ چیوں کے معاملے میں کوئی آدمی بدھو نہیں ہوتا حتی کہ دو لوگ بھی جنہیں دنیا پاگل یا مجذوب سمجھتی ہے وہ بظاہر چاہے کتنی ہی احمقانہ حرکتیں کر رہے ہوں لیکن جب انہیں پیسے دیئے جاتے ہیں تو وہ انہیں خوب سنبھال کے رکھتے ہیں۔
اس لئے جس طرح مال و دولت کے ذریعے کسی کے ساتھ نیکی کرنا بہت مشکل کام اور بہت بڑی نیکی ہے، اسی طرح دل کی گہرائیوں سے اس کا شکر گزار ہونا آدمی کی شرافت نفسی حقیقت پسندی اور عاجزی اور انکساری کی علامت ہوتی ہے۔
مخلوقات میں سے آپ ﷺکا جو مقام و مرتبہ ہے، اپنے تو اپنے رہے، اختیار بھی اس کے معترف ہیں، اس میں آپﷺ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود آپﷺ کسر نفسی اور تواضع کی ایک مثال اور نمونہ تھے۔
بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے: حدیث میں ہے کہ: ((أتى النَّبِي رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ)) ’’ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، آپ سے باتیں کرتے ہوئے آپﷺ کے رعب و جلال کی وجہ سے کا نپنے لگا۔‘‘ فرمایا: ((فَقَالَ لَهُ: هَوِّنْ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا ابْنُ إِمْرَأَةِ تأْكُلُ الْقَدِيدُ)) (ابن ماجة:3312) ’’حوصلہ رکھو! میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں ایک عورت کا بیٹا ہوں جو قدید کھایا کرتی تھی۔‘‘
اور قدید گوشت کے سوکھے کھڑے ہوتے ہیں، جنہیں نمک لگا کر دھوپ میں خشک کر کے رکھ لیا جاتا ہے۔
آپ ﷺاحسان پوری امت پر با خصوص اور پوری انسانیت پر بالعموم موجود ہے اور قرآن وحدیث کے واضح دلائل کی روشنی میں ثابت شدہ ہے، مگر آپ ﷺکی تواضع اور انکساری، حلم و بردباری اور شرافت و نجابت کا عالم ملاحظہ فرمائیے۔
آپﷺ کسی کی نیکی اور احسان کی کسی طرح قدردانی کرتے ہیں۔ فرمایا: ((مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَأْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ)) ’’ہمارے ساتھ جس کسی نے بھی کوئی نیکی اور احسان کیا ہے، ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے سوائے ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے۔‘‘
((فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِتُهُ اللهُ بِهَا يَوْمَ القيامة)) (صحيح الجامع:5661)
’’اس کی ہمارے ساتھ نیکی ہے کہ اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالی ہی ادا کرے گا۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی کون سی ایسی نیکی تھی جس کا بدلہ آپ ﷺنے نہیں چکایا ؟ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی یقینًا بہت سی نیکیاں تھیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے جان، مال، اولاد، عزت، ہر چیز آپﷺ کی ذات اقدس پر اللہ کی راہ میں پورے خلوص ، جوش و جذبے اور دل کی گہرائیوں سے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی چند خوبیوں ، نیکیوں اور مناقب کا ذکر سنتے ہیں: حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ((مَا كَلَّمْتُ فِي الإسلام أَحَدًا إِلَّا أَبِي عَلَى وَرَاجَعَنِي الكَلام إلا ابن أبي قحافة ، يعني أبا بكرٍ ، فَإِنِّي لَمْ أَكَلِّمُهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا قبله واستقام عَلَيْهِ)) (الفردوس صحيح المعنى:6226)
’’ میں نے جس کسی سے بھی اسلام کی بات کی تو اس نے بے رغبتی دکھائی اور مجھ سے بحث و تکرار کی ، سوائے ابن ابی قحافہ کے یعنی ابوبکر کے ، کہ میں نے جس چیز میں بھی اس سے بات کی تو اس نے قبول کی اور اس پر ڈٹ گیا۔‘‘
ایک جگہ فرمایا: ((مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ ، مَا نَفَعَنِي مَالٌ أَبِي بَكْرٍ)) (صحيح الجامع:5661)
’’ مجھے کبھی کسی مال کا اتنا فائدہ نہیں ہوا، جتنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے مال کا فائدہ ہوا۔‘‘
ایک موقع پر فرمایا: ((إِنَّ مِنْ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَى فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبا بكر)) (بخاري:3904)
’’میرا ساتھ نبھانے اور مجھ پر مال خرچ کرنے میں سب سے زیادہ جو کسی کا احسان ہے تو وہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔‘‘
اور ایک حدیث میں ہے: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ((كَانَتْ بين أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مُحَاوَرَةٌ فَأَغْضَبَ أَبو بكر عمرَ، فَانْصَرَفَ عَنْهُ عُمَرُ مُغْضَبًا))
’’حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان کسی بات پر بحث و تکرار ہوئی ، حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو کسی بات پر ناراض کر دیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ناراضی کی حالت میں وہاں سے چلے گئے ۔‘‘
((فَاتَّبَعَهُ أبو بكر يسأَله أَن يَسْتَغْفِرْ لَهُ ، فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى أَغْلَقَ بابَهُ فِي وَجْهِهِ ، فَأَقبل أبو بكرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ عِندَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: أَمَّا صَاحِبُكُمْ هذا فَقَدْ غَامَرَ ، قَالَ: وَنَدِمَ عُمَرُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى سلَّمَ وجلس إلى النبي وَقَصَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ الخبر ، قَالَ أَبو الدَّرْدَاءِ: وَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ يَارَسُولَ اللهِ لَأَنَا كُنْتُ أَظْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ الله: هَلْ أَنتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي ، هَلْ أَنتُمْ تَارِكُونَ لِي صاحبي ، إِنِّي قُلْتُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا، فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ)) وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، فَمَا أُذِي بَعْدَهَا)) (بخاري: 4640 ، 3661)
’’حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ان کے پیچھے گئے اور ان سے معذرت کی اور درخواست کی کہ وہ انہیں معاف کر دیں، مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے معاف نہ کیا۔ حتی کہ انہوں نے ان کے سامنے دروازہ بند کر لیا ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آپ ﷺکے پاس چلے آئے، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: تمہارا یہ ساتھی لگتا ہے کسی سے جھگڑا کر کے آرہا ہے۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی اپنے فعل پر ندامت ہوئی (وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گئے ان سے صلح کرنے کے لئے مگر وہ نہ ملے، تو وہ بھی آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو گئے ۔ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ آئے ، سلام کیا، بیٹھے اور سارا ماجرا سنایا ، آپﷺ کو اس پر بہت غصہ آیا کہ ان کے ساتھ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسا کیا، ان کو معاف نہیں کیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب آپ ﷺ کا غصہ دیکھا تو کہنا شروع کیا کہ اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ! اس میں میرا قصور تھا۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم میرے ساتھی کو میرے لیے چھوڑ نہیں سکتے ، کیا تم میرے لیے میرے ساتھی کو چھوڑ نہیں سکتے ۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے تم لوگوں کی طرف بھیجا تو تم لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ آپ سچ کہتے ہیں۔ اور اس نے اپنی جان اور اپنے مال سے مجھے تسلی دی اور میری دلجوئی کی۔ تم میرے ساتھی کو میرے لئے چھوڑ نہیں سکتے دوبار آپ ﷺنے یہ فرمایا: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: پھر اس کے بعد ان کی کبھی دل آزاری نہ کی گئی اور کسی نے کبھی کوئی دکھ نہ پہنچایا۔ ‘‘
تو یہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے چند فضائل و مناقب اور ان کی خوبیاں تھیں، ور نہ ان کے فضائل اور خدمات اور بہت زیادہ ہیں۔ تو سوال یہ تھا کہ حضرت ابویکر رضی اللہ تعالی عنہ کی کون سی ایسی نیکیاں تھیں جن کا آپﷺ نے بدلہ نہ چکایا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی بہت کی خوبیاں بہت کی صفات، بہت کی خدمات اور بہت سے احسانات کے باوجود آپﷺ کا یہ احسان سب سے بڑا ہے کہ آپ ﷺکے ذریعے اللہ تعالی نے انہیں ہدایت دی اور نعمت اسلام سے نوازا۔ اور اگر یہ احسان نہ بھی ہوتا تو آپﷺ ان کے لئے مال، اولاد اور عزت کی دعا کر کے حساب برابر کر سکتے تھے، مگر آپ ﷺ نے اس کا اجر اور بدلہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے بڑے بڑے انعامات اور اجر و ثواب سے نوازنے کا شاید ارادہ کر رکھا تھا۔ اور دوسری طرف شاید کسی انسان کی شکر گزاری اور حسان مندی کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرنا تھا اور یقینًا کسی انسان کی احسان مندی کی اس سے بڑی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں