شکر معاشرتی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت

شکر معاشرتی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت

﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠۝۱۵۲﴾ (البقرة:152)
انسانی معاشرے میں باہمی تعاون ایک بہت بڑی حقیقت اور ناگزیر عمل ہے۔ ہر انسان کو زندگی میں بہت سے معاملات میں دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ گذشتہ خطبات میں ہم نے سنا اور پھر خصوصی طور پر فقراء و مساکین کے ساتھ تعاون تو معاشرے کی بہت بڑی ضرورت اور بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس ایک مسئلے کے ساتھ دیگر بہت سارے معاشرتی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔
اگر آدمی ایمان کی دولت سے مالا مال نہ ہو تو غربت وافلاس بہت سارے مسائل کو جہنم دیتا ہیں، بہت ساری اخلاقی برائیاں پیدا ہوتی ہیں چوری چکاری ، لڑائی جھگڑا، امن وامان کی خرابی اور ہر قسم کی بے راہ روی زور پکڑتی ہے، عوام اور حکمرانوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو جاتی ہے، نفرتیں اور عداوتیں بڑھنے لگتی ہیں، سول نافرمانی کے خیالات ابھرنے لگتے ہیں، سازشیں ہوتی ہیں، اکھاڑ پچھاڑ ہونے لگتی ہے، گویا کہ ہر طرف افراتفری، لوٹ مار اور دنگا فساد کا بازار گرم ہوتا ہے، احترام ختم ہو جاتا ہے اور خود غرضی چھا جاتی ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے کے بہت سارے مسائل میں سے دو مسئلے بہت بڑے اور بہت بنیادی ہیں اور وہ ہیں بھوک اور خوف، جو معاشرہ ان دو مسائل پر قابو پالیتا ہے وہ خوشحال تصور ہوتا ہے۔
ان مسائل کی اہمیت کا اندازہ کیجئے کہ اللہ تعالی نے قریش مکہ کے انہی دو مسائل کو دو انعامات کے ذریعے حل کرتے ہوئے ان سے شکر اور عبادت کا مطالبہ کیا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ۝۳
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠۝۴﴾(القريش:3۔4)
’’ انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچاتے ہوئے کھانا دیا اور خوف سے بچاتے ہوئے امن عطا کیا۔‘‘
اور اگر ان کے ساتھ تیسری نعمت بھی شامل ہو جائے جو کہ جسمانی امراض و آفات سے عافیت وسلامتی ہے تو پھر تو گویا دنیا کی نعمتوں کا نچوڑ اسے حاصل ہو گیا، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((مَنْ أَصْبَحَ مِنكُمْ آمِنًا في سِرْبِه، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوْتُ يَوْمِهِ ، فَكَأَنَّمَا حِيْزَتْ لَهُ الدنيا)) (ترمذي: 2364)
’’جس شخص کا دن یوں شروع ہو کہ گھر میں امن وامان ہو، جسم بیماریوں سے پاک اور سلامت ہو اور اسے ایک روز کا کھانا دستیاب ہو، تو اُس کے لیے گویا پوری دنیا سمیٹ کر رکھ دی گئی ہے۔‘‘
بھوک کے وقت کھانا دستیاب ہونا کتنی بڑی ضرورت اور کتنی بڑی نعمت ہے یہ تو سب جانتے ہیں، مگر خود بھوک کتنی بڑی نعمت ہے شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔
آپ اندازہ کر سکتے ہوں گے کہ انسان اگر بھوک محسوس نہ کرے تو کیا ہو سکتا ہے وہ بھوک سے مر سکتا ہے، وہ بھوک سے مر جائے گا اور موت کا سبب بھی معلوم نہ ہوگا۔
جیسے گاڑی کے انجن میں آئل ختم ہو جائے اور Low Engine Oil کا کوئی انڈیکیٹر ہی نہ ہو تو انجن (Seize) خراب ہو جائے گا۔
اسی طرح بھوک ایک انڈیکیٹر ہے، پیاس ایک انڈیکیٹر ہے اور اگر بھوک اور پیاس کا احساس ختم ہو جائے تو انسان بھوک اور پیاس کی شدت سے مرسکتا ہے، اگر چہ بھوک کے اور بھی فائدے ہیں جیسا کہ بھوک کی وجہ سے ہی کھانے کی لذت آتی ہے اگر بھوک نہ ہو تو کھانا چاہے کتنا ہی لذیذ کیوں نہ ہو کھانے کو جی نہیں چاہتا اور اس کی لذت نہیں آتی تا ہم بھوک اور پیاس کا احساس اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔
شکر کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کی بات ہو رہی تھی کہ کسی کی خیر خواہی ، تعاون اور احسان کے بدلے میں شکر ادا کرنا عقلی ، فطری، اخلاقی اور شرعی لحاظ سے لازم و واجب ہوتا ہے۔
اور انسانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا معاشرتی ضرورت اور مجبوری ہے، لہذا آپس میں تعاون کے بغیر معاشرہ بھرا ہوا، غیر منظم اور مسائل کا شکار ہوتا ہے ہے، اسی طرح شکر کے بغیر بھی معاشرہ غیر مہذب اور خود غرض ہوتا ہے۔
شکر کی اہمیت کا اندارہ اس بات سے بھی کیجئے کہ اعانت چاہے کسی نوعیت کی بھی ہو، آدمی کو اس کا ذاتی طور پر فائدہ نہ بھی ہوتا ہو، تب بھی اخلاقی لحاظ سے اس کا شکر ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ سے کلام یقینًا اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز تھے، جیسا کہ اللہ تعالی خود گواہی دیتے ہیں: ﴿وإِنَّكَ لَعَلٰى خُلْقٍ عَظِيمٍ﴾ ( القلم:4)
’’ آپ یقینًا اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔‘‘
اور آپﷺ نے یقینًا دنیا کے لئے اخلاق کے سب سے اعلی نمونے پیش کئے، جن میں سے ایک یہ بھی ہے:
غزوہ حنین کے موقع پر مسلمانوں کو بہت سا مانِ غنیمت ہاتھ لگا، جس میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور تقریبا چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔
آپ ﷺنے واپس آکر جعرانہ کے مقام پر مال غنیمت تقسیم کیے بغیر چند روز قیام فرمایا اور مقصد یہ تھا کہ اگر شکست خوردہ قبیلہ ہوازن کا وفد تائب ہو کر آجائے تو ان کا مال ان کو واپس کر دیا جائے، لیکن جب کئی روز تک وہ واپس نہ آئے تو آپﷺ نے مال کی تقسیم شروع کردی۔
آپ ﷺنے قبائل کے سردار اور مکہ کے اشراف کو کہ جو بڑی شدت سے مال کی تقسیم کے منتظر تھے انہیں بڑے بڑے حصے عطا فرمائے ، سید نا ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کو تقریبًا چھ کلو چاندی اور ایک سو اونٹ عطا کیے انہوں نے کہا میرا بیٹا یزید رضی اللہ تعالی عنہ ؟ آپ نے اتنا ہی ان کو بھی دیا، انھوں نے کہا: اور میرا بیٹا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ؟ آپ نے اتنا ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی دیا۔
ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے ، ان کی بیٹی سیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کو ام المؤمنین بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔
غزوہ حنین میں ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ آپ ﷺکے ساتھ شریک تھے اور اُس وقت ان کی عمر ستر سال تھی، جبکہ مسلمانوں پر اچانک حملے کے دوران شروع میں کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے مگر وہ ثابت قدم رہے، دوران معرکہ ان کی آنکھ میں ایک تیر آکے لگا جس سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی، انہوں نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری آنکھ جاتی رہی۔ تو آپﷺ نے فرمایا :
((إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ فَرُدَّتْ عَلَيْكَ وَإِنْ شِئْتَ فَالْجَنَّةُ))
’’اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں تمہاری آنکھ واپس آجائے گی اور اگر چاہو تو اس کے بدلے میں جنت لے لو۔‘‘
((فَقَالَ: الْجَنَّةُ)) (الاصابة في تمييز الصحابة ، ج: 3، ص:334 ، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: 3526)
’’ تو انہوں نے کہا: مجھے جنت چاہیے۔‘‘
تو اسی طرح آپﷺ نے دوسرے سرداران قبائل اور اشراف مکہ کو بڑے بڑے حصے عطا فرمائے حتی کہ مشہور ہو گیا کہ محمد ﷺاس طرح بے دریغ عطیہ دیتے ہیں کہ انہیں فقر کا کوئی اندیشہ ہی نہیں ہے۔
چنانچہ عطیات حاصل کرنے کے لئے بدو آپ پر ٹوٹ پڑے اور آپﷺ پیچھے چلتے چلتے ایک درخت کی جانب سمٹنے پر مجبور ہو گئے اور آپﷺ کی چادر ایک درخت میں پھنس کر رہ گئی، تو آپ ﷺنے فرمایا: لوگو! میری چادر دے دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد میں بھی چوپائے ہوں تو میں انہیں بھی تم پر تقسیم کر دوں اور تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔
ان لوگوں کو عطیات دینے کے بعد آپ ﷺ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ مال غنیمت کو فوج پر تقسیم کا حساب لگا ئیں، انہوں نے حساب لگایا تو ایک ایک فوجی کے حصے چار چار اونٹ اور چالیس چالیس بکریاں آئیں، جو شہوار تھے انہیں بارہ بارہ اونٹ اور ایک سو بیس فی کس بکریاں ملیں۔
تقسیم یقینًا بہت حکیمانہ تھی مگر شروع شروع میں بہت سے لوگوں کو سمجھ نہ آئی، بالخصوص انصار نے اس کو محسوس کیا، کیونکہ انہیں ان عطیات سے بالکل محروم رکھا گیا حالانکہ مشکل کے وقت انہیں کو پکارا گیا اور وہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر اس طرح جنگ لڑی کہ شکست فتح میں بدل گئی، لیکن انہوں نے دیکھا کہ تقسیم کے وقت انہیں بالکل محروم رکھا گیا ہے، جو انہوں نے ہی ہی ہی میں محسوس کیا، اس پر چہ مگوئیاں ہونے لگیں، یہاں تک کہ کسی ایک نے یہ بھی کہہ دیا کہ آپﷺ ہم اپنی قوم سے جاملے ہیں۔
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا اور تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
تو انہوں نے کہا: کہ میں بھی تو اپنی قوم ہی کا ایک آدمی ہوں ، گویا کہ انہوں نے بھی اسی طرح محسوس کیا ہے۔
تو آپ ﷺنے فرمایا: ٹھیک ہے انصار کو اس گودام میں جمع کرو۔ وہ جمع ہوئے تو آپﷺ نے حمد وثنا بیان کرنے کے بعد ان سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:
((يا معشر الأنصار! مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنكُمْ))
’’انصار کے لوگو! تمہاری یہ کیا چہ مگوئیاں مجھ تک پہنچی ہیں۔‘‘
((وَجْدَةً وَجَدتُّمُوهَا فِي اَنْفُسِكُم))
’’اور میرے متعلق جی ہی جی میں تم نے کیا محسوس کیا ہے؟‘‘
((أَلَمْ أَتِكُم ضُلَّا لًا فَهَدَا كُمُ اللهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي))
’’ کیا ایسا نہیں ہے کہ میں تمہارے پاس اس حالت میں آیا کہ تم گمراہ تھے، اللہ نے تمہیں میرے ذریعے ہدایت دی۔‘‘
((وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي))
’’تم محتاج تھے، اللہ نے تمہیں میرے ذریعے غنی بنا دیا۔))
((وأعْدَاءً فَأَلَّفَ اللهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ))
’’اور باہم دشمن تھے اللہ نے تمہارے دل جوڑ دیئے ۔‘‘
قالو ، بلى الله وَرَسُولُهُ اَمَنُّ وَأَفْضَلُ))
’’لوگوں نے کہا کیوں نہیں، اللہ اور اس کے رسول کا بڑا فضل و کرم ہے۔‘‘
((قال: ألا تُجيبوني يا معشر الأنصار))
’’اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا: انصار کے لوگو! مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘
((قَالُوا بِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ))
’’انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بھلا ہم آپ کو کیا جواب دیں، اللہ اور اس کے رسول کا فضل و کرم ہے‘‘
((قَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُم فَلصَدَقتُم وصُدِّقْتُم))
’’آپﷺ نے فرمایا: دیکھو! اللہ کی قسم اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہارا کہنا سچ ہی ہوگا اور تمہاری بات سچ ہی مانی جائے گی۔‘‘
اب یہاں وہ بات بیان ہونے جارہی ہے جس کے حوالے سے میں نے یہ سارا قصہ بیان کیا ہے، تا کہ بات سمجھنے میں آسانی ہو اور وہ بات یہ تھی کہ کسی کی مدد و اعانت چاہے کسی نوعیت کی بھی ہو اس سے چاہے آدمی کی ذات کو قطعاً کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو، پھر بھی اس کی نیکی کا اور اس کی مدد و اعانت کا اقرار و اعتراف کرنا چاہیے یہ اس کا اخلاقی تقاضا ہے۔
تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ بات کہہ سکتے ہو اور تمہارا کہنا سچ ہو ہوگا اور اسے سچ ہی مانا جائے گا۔ تم کہ
ہ سکتے ہو کہ: ((أَتَیْتَنا مُكَذَّباً فَصَدَّقْنَاكَ))
’’آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا ، ہم نے آپ کی تصدیق کی۔‘‘
((وَمَخْذُوْلاً فَنَصَرْنَاكَ))
’’آپ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کی مدد کی۔‘‘
((وَطَرِيْداً فَأَوَيْنَاكَ))
’’ آپ کو دھتکار دیا گیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکا نہ دیا۔‘‘
((وَعَائِلاً فأسيناك))
’’ آپ محتاج تھے، ہم نے آپ کی غم خواری اور غم گساری کی۔‘‘
((أَوَجَدْتُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِكُمْ فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا، وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ))
’’اے انصار کے لوگو! تم اپنے جی میں دنیا کی اس عارضی دولت کے لئے ناراض ہو گئے جس کے ذریعے میں نے لوگوں کا دل جوڑا، تالیف قلب کی ، تا کہ وہ مسلمان ہو جائیں تم کو تمہارے اسلام کے حوالے کر دیا تھا‘‘ (یعنی تا کہ وہ لوگ مالی اعانت سے خوش ہو کر اور اسلام پر ثابت قدم رہیں اور چونکہ تمہارے دلوں میں اسلام رائج ہو چکا ہے جس کے متنازل ہونے کا ڈر نہیں تھا اس لئے تمہیں تمہارے اسلام کے حوالے کر دیا تھا۔ )
((أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وترجعونَ بِرَسُولِ اللهِ فِي رِحَالِكُمْ))
’’اے انصار کے لوگو! کیا تم اس سے راضی نہیں کہ لوگ اونٹ بکریاں لے کر جائیں اور تم رسولﷺ کو لے کر اپنے گھروں کو پلٹو۔‘‘
((فَوَ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأَ مِنَ الانصار))
’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاری کا ایک فرد ہوتا ۔‘‘
یعنی دین کی خدمت کے حوالے سے یہ جو دو نسبتیں ہیں: ایک ہجرت کرنا اور دوسری ہجرت کرنے والوں کی مدد کرنا دین کی سربلندی کے لئے مدد کرنا۔ اگر مجھے اختیار ہوتا تو میں انصار کے ساتھ ہوتا، مگر ہجرت چونکہ لکھی جاچکی تھی اور اس کا حکم تھا اس لئے میری نسبت اس کی طرف رہے گی۔ اور پھر انصار کی دل جوئی کے لئے آپﷺ نے یہ بھی فرمایا:
((ولوسلك النَّاسُ شعباً، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْباً لَسَلَكْتُ شعب الأنصار))
’’ اگر سارے لوگ ایک راہ پر چلیں اور انصار دوسری راہ پر تو میں انصار ہی کی راہ پر چلوں گا۔‘‘
(( اللهم ارحم الانصار، وابناء الْأَنْصَارِ وَابْنَاء أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ))
’’اے اللہ رحم فرما انصار پر اور ان کے بیٹوں پر اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں پر۔‘‘
((قال: فبكى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ))
’’آپ ﷺکا یہ خطاب سن کر لوگ اس قدر روئے کہ ان کی ڈاڑھیاں تر ہو گئیں۔‘‘
((وَقَالُوا رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ قِسْمَا وَحَظًّا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ وتفرقوا)) (مسند احمد: 11730، ج: 18، ص254۔255)
’’ اور کہنے لگے ہم راضی ہیں کہ ہمارے حصے اور نصیب میں رسول اللہﷺ ہوں ، اس کے بعد رسول ﷺواپس ہو گئے اور لوگ بھی بکھر گئے ۔‘‘
آپ نے دیکھا کہ کسی کی نیکی، ہمدردی ، خیر خواہی اور احسان پر اس کی شکر ادا کرنا اس کا اقرار و اعتراف کرنا کتنا ضروری ہے اور کتنی بڑی اخلاقی خوبی ہے۔
حالانکہ یقینًا ان کی مدد و نصرت کا آپﷺ کو ذاتی طور پر قطعًا کوئی فائدہ نہ تھا، وہ سب اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے تھا، اسلام کی سربلندی کے لئے تھا۔ مگر اس کے باوجود آپﷺ نے ان کی اُس مدد کا اقرار و اعتراف کیا۔
آپ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لئے مدد نہیں مانگی تھی، بلکہ حدیث میں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
((مَكَثَ رَسُولُ الله عشر سنين يتبع النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعكاز ومجنة، وفي الموسم بمنًى))
’’آپ ﷺدس سال تک لوگوں کے پیچھے پیچھے موسم حج میں موقع منی میں ان کے خیموں میں ، ان کے ڈیروں میں اور عکا ز و مجنہ کے بازاروں میں لوگوں کو دعوت اسلام دیتے پھرتے ‘‘
اور کہتے:
((من يؤويني، من ينصرني حَتَّى أَبْلَغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ))
’’مجھے کون ٹھکانہ دے گا اور کون میری مدد کرے گا حتی کہ میں اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں اور اس کے لئے جنت ہوگی ۔‘‘ (مسند احمد:14456)
تو یہ مدد آپﷺ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اللہ کے لئے اور اس کے دین کی سربلندی کے مانگتے تھے مگر اس مدد و نصرت کا اقرار و اعتراف پھر بھی کیا۔
دین کے لئے مدد و نصرت کسی پر احسان نہیں ہے، اپنے ہی فائدے کے لئے ہے جتی که مسلمان ہونا بھی کسی پر احسان نہیں ہے۔
﴿ یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝﴾(الحجرات:17)
’’اے پیغمبرﷺ) یہ لوگ آپ (ﷺ) پر احسان جتلاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ، ان سے کہوا اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی ، اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو۔ ‘‘
لہٰذا کوئی عالم، کوئی مجاہد اور کوئی مالدار ہرگز نہ سمجھے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺکا فائدہ کر رہا ہے بلکہ خود اس کے اپنے لئے سعادت کی بات ہے کہ اس سے دین کی کوئی خدمت کی جارہی ہے۔ وہ یقینًا خوش قسمت لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ تعالی خدمت دین کے لیے چن لیتا ہے یا ان سے کسی بھی لحاظ سے اور کسی بھی سطح پر خدمت دین کا کوئی کام لے لیتا ہے ، اللہ تعالی ہمیں بھی ایسے خوش نصیبوں میں شامل فرمائے اور اللہ تعالی کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے کی جانے والی ٹوٹی پھوٹی کوششوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………….

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں