طواف عبادت ہے اور اسے غیر اللہ کے لیے کرنا شرک ہے
362۔ ایسے شخص سے روایت ہے جسے نبیﷺ کی ملاقات کا شرف حاصل ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
((إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ، فَإِذَا طَفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ)) (أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ:15423، 16612)
’’طواف نماز ہی ہے، لہذا دوران طواف میں باتیں کم کیا کرو۔‘‘
363۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
((اَلطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ إِلَّا أَنَّ اللهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ فَمَنْ نَطَقَ فَلَا يَنْطِقُ إِلَّا بِخَيْرٍ)) (أَخْرَجَةُ التَّرْمِذي: 960، وابن حبان:3836، والحاكم:459/1، 267/2)
’’بیت اللہ کا طواف نماز ہے مگر اللہ تعالی نے اس میں بات کرنا جائز کر دیا ہے، لہذا جو کوئی بات کرنا چاہے وہ خیر کے علاوہ کوئی بات نہ کرے۔“
توضیح و فوائد: جس طرح غیر اللہ کے لیے نماز پڑھنا حرام ہے، اس طرح اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لیے یا اللہ کے گھر کے علاوہ کسی اور گھر کا طواف کرنا بھی شرک اور حرام ہے، تاہم نماز اور طواف میں یہ فرق ہے کہ طواف میں کلام جائز ہے۔ اسی طرح نماز کسی دوسرے شخص کی طرف سے ادا نہیں کی جا سکتی، تاہم حج اور عمرے میں طواف کسی دوسرے کی طرف سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
364۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا کہ آپ اس آیت کریمہ کی وضاحت کریں:
﴿اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا ؕ﴾
’’بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا و و صفا و مروہ کی سعی کرے۔(البقرۃ: 158:2)
اللہ کی قسم! اس سے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر صفا و مروہ کی سعی نہ بھی کریں تو کسی پر کچھ گناہ نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: بھانجے! تو نے غلط سمجھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ مطلب ہوتا تو آیت کریمہ یوں ہوتی:
((لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَوَّفَ بِهِمَا)) ’’ان کے طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ (أَخْرَجَهُ البُخَارِي:1643، وَمُسْلِمٌ:1277)
در اصل بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت کریمہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اسلام لانے سے پہلے منات کے لیے احرام باندھا کرتے تھے جس کی وہ مقام مشکل کے قریب عبادت کرتے تھے، اس لیے ان میں سے جو شخص احرام باندھتا تو وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا گناہ خیال کرتا تھا۔ جب یہ لوگ مسلمان ہوئے تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ تو صفا و مروہ کے درمیان سعی کو برا سمجھتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ﴿الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ…..﴾
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تو صفا و مروہ کی سعی کو جاری فرمایا ہے، اس لیے اب کوئی سعی کو ترک نہیں کر سکتا۔
صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قول ہے: بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے تھے، جنھیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا و مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈوا کر احرام کھول دیتے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا و مروہ) کا طواف (سعی) کرنا برا جانا کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف (سعی) کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اس پر اللہ نے یہ آیت: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ الله…﴾
’’بلاشبہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں….‘‘ آخر تک نازل فرما دی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عہا نے کہا: لوگوں نے پھر سے ان کا طواف شروع کر دیا۔
توضیح و فوائد: اس حدیث میں صفا و مروہ کی سعی کو طواف سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صفا و مروہ کی سعی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ انصار کا ذکر کردہ سبب خود ان کا ایجاد کردہ تھا، اس لیے اصل سبب کی وجہ سے سعی نہ صرف جائز بلکہ عبادت ہے اور انصار کے ذکر کردہ سبب کی وجہ سے حرام اور شرک ہے۔
365۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ)) (أَخْرَجَةُ البُخَارِيَّ: 7116، وَمُسْلِمٌ:2906)
’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ذو الخلصہ کے مقام پر قبیلہ دوس کی عورتوں کے سرین (طواف کرتے ہوئے) ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں گے۔‘‘
ذو الخلصہ، قبیلہ دوس کا بت تھا جس کی وہ زمانہ جاہلیت میں تبالہ کے مقام پر عبادت کیا کرتے تھے۔
توضیح و فوائد: یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ بیت اللہ کے علاوہ بتوں کا طواف کریں گے، حالانکہ طواف عبادت ہے اور عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔
366۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لَيَأْتِيَنَّ هٰذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلٰى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقِّ))
’’یقینًا یہ پتھر (حجر اسود) قیامت کے دن آئے گا، اس حال میں کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے وہ بات کرے گا۔ ہر اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جو اسے حق کے ساتھ استلام کرتا رہا ہوگا۔ ‘‘(أخرجه أحمد: 2215، 2398، 2643، 2796، 2797، 3511، والترمذي: 961، وابن ماجه:2944)
توضیح و فوائد: یہ اشکال پیدا ہو سکتا تھا کہ اگر طواف عبادت ہے تو پھر اس میں پتھر کو بوسہ دینا کیسے جائز ٹھہرا ؟ اس حدیث میں اس کا جواب ہے کہ یہ شرک نہیں کیونکہ حجر اسود اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اسے بوسہ دینے کی وجہ اس کا اللہ کی نشانی ہونا ہی ہے۔
367۔سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((وَلَهُ لِسَانٌ ذَلِقٌ يَشْهَدُ لِمَنْ يَسْتَلِمُهُ بِالتَّوْحِيدِ)) (أَخْرَجَهُ الْحَاكِم: 457/1 وإسناده ضعيف لضعف أبي هارون العبدي.))
’’حجر اسود کی فصیح و بلیغ زبان ہوگی، یہ قیامت کے دن) ہر اس شخص کے لیے گواہی دے گا جو اسے توحید کے ساتھ استلام کرے گا۔‘‘
………………….