*موت*
بقلم
*عمران محمدی*
عفا اللہ تعالیٰ عنہ
*===================*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر جان موت کو چکھنے والی ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
العنكبوت : 57
اور فرمایا :
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
ہر ایک جو اس( زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔
الرحمن : 26
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ". يَعْنِي الْمَوْتَ
ترمذی : 2307 حسن عندالالبانی رحمہ اللہ
لذتوں کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو بہت یاد کیا کرو
جب یہ خیال آتا ہے کہ موت اعمال کے دفتر کو لپیٹ دے گی، اور یہ کہ وہ اچانک آتی ہے اور ذرا سی مہلت بھی نہیں دیتی، تو بدن کانپ اٹھتا ہے اور دنیا کی لذتیں ختم ہو جاتی ہیں
*عبرت کے لیے قبرستان جایا کریں*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا ؛ فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً
مسلم : 3698
میں تمہیں قبروں میں جانے سے منع کیا کرتا تھا اب تم جایا کرو کیونکہ قبریں دیکھنے سے نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے
اور سنن ترمذی 1054 نمبر حدیث میں ہے :
فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ
قبریں آخرت یاد دلاتی ہیں
اور مسند احمد 13615 اور مستدرک حاکم میں ہے :
أنَّها تُرِقُّ القُلوبَ، وتُدمِعُ العَينَ،
قبروں کو دیکھنا دلوں کو نرم اور آنکھوں سے آنسو جاری کرتا ہے
اور مسلم کی 976 نمبر روایت میں ہے :
فَزُورُوا الْقُبُورَ ؛ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ
قبرستان جایا کرو وہ موت یاد دلاتی ہیں
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرستان جانے کی سنت*
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع ( کے قبرستان میں ) تشریف لے جاتے اور فرماتے :
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ
مسلم 2255
اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو ، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا ، وہ تم تک پہنچ گیا ۔ تم کو ( قیامت ) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی ، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ!بقیع غرقد ( میں رہنے ) والوں کو بخش دے ۔ قتیبہ نے ( اپنی روایت ) میں واتاكم ( تم تک پہنچ گیا ) نہیں کہا
*اعمش رحمہ اللہ کھلی قبر میں لیٹ گئے*
امام زائدہ بن قدامہ رحمہ اللہ (١٦١ھ) فرماتے ہیں :
”میں نے ایک روز اعمش رحمہ اللہ کا پیچھا کیا۔ وہ قبرستان میں داخل ہوئے اور ایک کُھلی قبر میں جا کر لیٹ گئے۔ پھر قبر سے سر جھاڑتے ہوئے باہر نکلے اور فرما رہے تھے : ہائے! کس قدر تنگ ٹھکانہ ہے!“
(الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي : ٥٦٢/٢)
فرشِ مخمل پہ اے سونے والو! تمہیں قبر میں سونا پڑے گا
اپنے اعمال کا جائزہ لو، ورنہ قبر میں رونا پڑے گا
چھوڑ دے زندگی کا یہ میلا، جائے گا تو یہاں سے اکیلا
پہن کے کفن کاایک جوڑا، جب جنازے میں سونا پڑے گا
عمرو بن عتبہ رات کے وقت اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر قبرستان کی طرف نکل جاتے اور قبروں کے پاس کھڑے ہو کر کہتے :
یا اھل القبور قد طویت الصحف وقد رفعت الاعمال. ثم یبکی .
حلیہ الاولیاء : 4/ 158
اے قبروں والو !
اعمال نامے لپیٹ دیے گئے ہیں اور اعمال اوپر چڑھ چکے ہیں
بس پھر رونا شروع کر دیتے
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس بیٹھ گئے*
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی
(یعنی قبر کھودی جا چکی تھی مگر ابھی تک اس کی لحد یعنی قبر کے اندر ایک جانب، نہیں نکالی گئی تھی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا:
عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔
*جس دن جنازہ پڑھ لیتے کھانا نہ کھا پاتے*
یحیٰ بن ابی کثیر رحمة اللہ علیہ کا شمار عبادت گزاروں میں ہوتا تھا۔
ابن حبان رحمہ اللہ نے ان کے متعلق لکھا ہے :
إذا حضر جنازة لم يَتَعَشّ تلك الليلة، ولا يقدر أحد من أهله يكلمه!
(الثقات لابن حبان، ٥٩٢/٧)
جس دن کسی جنازے میں شریک ہوتے تو رات کا کھانا نہ کھا پاتے اور نہ گھر کا کوئی فرد ان سے بات ہی کر پاتا!!
*عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے*
یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں“، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی“۔
(ابن ماجہ)
*موت کا وقت مقرر ہے ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہو گا *
”انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔
وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے
گھر والوں سے باتیں کرتا ہے
ہنستا ہے، مسکراتا ہے
مستقبل کے منصوبے بناتا ہے.
مگر اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے
آخری مسکراہٹ ہے
آخری گفتگو ہے
آخری سانسوں کا دن ہے۔
زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آخری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔
پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور”
اور جس میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں ہو گی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔
الأعراف : 34
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کے کلمات یوں ارشاد فرمائے ہیں :
«إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ».
بخاری : 1284
’’بے شک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے عطا فرمایا، اور اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، لہٰذا اسے صبر کرنا چاہیے اور ثواب کی امید رکھنی چاہیے۔‘‘
پھر انہوں نے دوبارہ قس
*جی ہاں وقت مقرر ہے*
*”شاید آپ فجر کی نماز پڑھیں اور ظہر کی نماز میں آپ کا جنازہ پڑھا جائے۔۔۔”*
”اور شاید کہ اپنی گاڑی کا دروازہ تو خود آپ بند کریں مگر اسے ریسکیو 1122 کا کوئی اہلکار آ کر کھولے”
”اور شاید آپ اپنے کپڑوں کے بٹن تو خود بند کریں لیکن انہیں وہی کھولے جس نے آپ کو غسل دینا ہے”
*جلدی کر لیں*
لھذا جلدی جلدی پرچہ حل کر لیں کسی وقت بھی ایگزیمینیشن حال سے ایگزیٹ کر دیا جائے گا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ
لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔
الأنبياء : 1
*نوجوان قبریں*
اگر کبھی قبرستان میں جانا ہو تو بہت سی قبریں ایسی بھی ملیں گی جن میں مدفون لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ابھی تو ہم جوان ہیں ابھی تو لمبا عرصہ زندہ رہیں گے لیکن انہیں اچانک موت نے دبوچ لیا پھر جب آنکھ کھلی تو اندھیری قبر میں ہی کھلی
نوجوانوں میں سے ایک کہتا ہے: "رات بھر کی گیمنگ اور ہنسی مذاق کے بعد فجر کی اذان ہوئی تو میں نے دوست سے کہا: "اٹھو، نماز پڑھ کر سوتے ہیں۔”
اس نے سستی سے چادر منہ پر لی اور بولا: "تھک گیا ہوں، اٹھ کر پڑھ لوں گا۔”
الارم بجنے پر میں نے اسے جگانے کے لیے کندھا ہلایا، مگر جسم ساکت تھا۔ چادر ہٹائی تو چہرہ زرد اور اعضاء اکڑے ہوئے تھے۔ ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر کے الفاظ نے میری روح کاپ کر رکھ دی: "یہ تو گھنٹوں پہلے سوتے میں ہی دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔”
اس کے آخری الفاظ میرے کانوں میں چیخ بن کر گونجنے لگے: "اٹھ کر پڑھ لوں گا…”
افسوس! وہ ایسی نیند سویا کہ پھر کبھی نہ جاگ سکا—اور اپنے رب سے اس حال میں ملا کہ آخری نماز اس کے ذمے باقی رہ گئی
*پانی کا بلبلا*
انسان تو پانی کا ایک بلبلا ہے جوکہ کسی بھی وقت بجھ سکتا ہے
ابھی گیا تو ابھی مٹا
اس بلبلے کو کوئی ہلکی سی آہٹ بھی بجھا سکتی ہے
اسے بجھانے کے لیے ہوا کا جھونکا ہی کافی ہے
چھوٹی سی کنکر سے ختم ہو سکتا
چیونٹی کا کاٹنا اور سوئی کی نوک بھی اس کا کام تمام کر سکتی ہے
*جیسے ابوالہاشم بھائی رحمہ اللہ*
کا سیڑھیوں سے پاؤں پھسلا ایسے ہی ہمارا بھی پھسل سکتا ہے
چار پانچ سال پہلے اسی طرح کا واقعہ سیالکوٹ میں ہمارے بھائی سمیر رحمہ اللہ کے ساتھ پیش آیا وہ بھی نماز کے لیے گھر کی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے پاؤں پھسلا، گرے اور موقع پر ہی رب کے حضور پیش ہو گئے
چند سال قبل کامونکی میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص مسجد میں بیٹھا وضوء کررہا تھا دوران وضوء طبیعت کچھ بے چین ہوئی تو ٹوٹی پر سر رکھ دیا ادھر ہی موت آگئ
ایک شخص نے انتہائی عجیب واقعہ سنایا کہ اس کا ایک عزیز مالٹے کھا رہا تھا اسی دوران مالٹے کا پانی اس کی ناک میں چڑھ گیا صرف اتنی بات پر اس کی موت واقع ہو گئی
کوئی مالٹا کھاتے مر گیا
کوئی وضو کرتے مر گیا
کوئی خطبہ دیتے مر گیا
کوئی سجدہ کرتے مر گیا
کوئی نہاتے مر گیا
کوئی پاؤں کی ٹھوکر سے مر گیا
کوئی اے سی کی گیس لیکج سے مرگیا
کوئی بجلی کے شاٹ سرکٹ سے مر گیا
کوئی نکاح کی تقریب میں مرگیا
کوئی ابھی نکاح کرکے دلہن کو ساتھ لیے گھر کی طرف جا ہی رہا تھا کہ راستے میں مر گیا
اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے سے بتا دیا ہے :
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
الواقعة : 60
*جس نے لہنگا پہننا تھا اس نے کفن پہن لیا*
ایک بہن کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ اس نے اپنے لیے قیمتی اور خوبصورت لہنگا آرڈر کیا تھا، مگر اچانک موت نے ساری خوشیاں ماتم میں بدل دیں۔
شام کو جب اس کی میت گھر سے اٹھائی جا رہی تھی، عین اسی وقت کوریئر والا دروازے پر لہنگا لیے کھڑا تھا۔
جس لہنگے کو پہن کر اس نے نئی زندگی کا آغاز کرنا تھا، وہ تو آ گیا، مگر اسے پہننے والی سفید کفن میں لپٹ کر جا چکی تھی
اللہ اکبر
یہ ہے دنیا کی حقیقت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
الحديد : 20
*ایک شخص نے شو روم سے نئی چمکتی ہوئی گاڑی پرچیز کروائی، جس دن گاڑی گھر کے باہر پہنچی، اسی دن اس کا جنازہ وہاں سے اٹھ رہا تھا۔*
*کوئی اپنے نئے بننے والے گھر کا آخری پلستر دیکھنے،نئی دکان کا افتتاح کرنے یا نئی زندگی کا آغاز کرنے گیا اور وہیں دل کا دورہ پڑنے سے گر کر فوت ہو گیا، مکان اور دکان وہیں رہ گیے اور وہ قبر کے اندھیرے کمرے میں منتقل ہو گیا۔*
*زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں*
اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے سے بتا دیا ہے :
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
الواقعة : 60
اور فرمایا :
هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتاہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہو جا ‘‘تو وہ ہو جاتا ہے۔
غافر : 68
*اگر وہ کسی کو بچانا چاہے*
تو کراچی میں کریش کرنے والے جہاز پر سوار نوے افراد میں سے دو کو زندہ بچا لے
اور چاہے تو مچھلی کے پیٹ سے یونس علیہ السلام کو بچا لے
اور چاہے تو دشمن کے ہجوم میں پھنسے اکیلے عیسی علیہ السلام کو بچا لے
اور چاہے تو سمندر کی لہروں میں تیرتے ہوئے ننھے موسی علیہ السلام کو بچا لے
اور چاہے تو دس بھائیوں کے نرغے اور گہرے کنویں سے یوسف علیہ السلام کو زندہ نکال باہر کرے
اور چاہے تو شعلے مارتی آگ کی تہوں میں گرائے ہوئے خلیل کو صحیح سالم باہر نکال دکھائے
*اور اگر وہ کسی کو موت دینا چاہے*
تو بے خوف و خطر، نوکروں، چاکروں، لونڈیوں اور غلاموں کے بیچ خوشحال کھڑے سلیمان علیہ السلام کو موت کی آغوش میں سلا دے
اسی کے ہاتھ میں زندگی ہے اور اسی کے پاس موت ہے
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
الحديد : 2
*ہر صورت موت آ کر رہے گی*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ
کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے۔
الجمعة : 8
*جتنے چاہیں حفاظتی انتظامات کرلیں بالآخر موت ہے*
فرمایا :
أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔
النساء : 78
لَا تَأْمَنِ الْمَوْتَ فِي طَرْفِ وَلَا نَفَسٍ
وَإِنْ تَمَنَّعْتَ بِالْحُجَابِ وَالْحَرَسِ
وَاعْلَمْ بِأَنَّ سِهَامَ الْمَوْتِ قَاصِدَةٌ
لِكُلِّ مُدْرَعٍ مِنَّا وَمُتَرِّسِ
”آنکھ جھپکنے یا ایک سانس لینے کے وقفے میں بھی موت سے بے خوف نہ ہو جاؤ، خواہ تم پردوں اور پہرے داروں کے پیچھے ہی کیوں نہ چھپ جائیں۔”
”اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ موت کے تیر ہم میں سے ہر زرہ پوش اور ڈھال والے (بہادر یا محفوظ شخص) پر سِدھی تاک لگا کر آ رہے ہیں۔”
*موسی علیہ السلام*
کو اللہ تعالیٰ نے یہ آفر دی کہ بیل کی پشت پر ہاتھ رکھیں جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال زندگی مل جائے گی
موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ پھر اس کے بعد کیا ہو گا
تو فرمایا کہ پھر موت آئے گی
کہا اگر پھر بھی موت ہی آنی ہے اور اس کے بغیر چارہ نہیں ہے تو پھر ابھی قبول ہے
بخاری
*سلیمان بن عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ*
نے آئینے میں دیکھا تو خود کو بڑا خوب صورت جانا
کہنے لگا: میں نوجوان بادشاہ ہوں!
پھر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا کہ موت کی آغوش میں چلا گیا!!
(تاریخ الخلفاء از سیوطی، ص: 312)
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گٔیٔے لا مکاں کیسے کیسے
ھؤے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گٔیٔ آسماں کیسے کیسے
*ٹائیٹینک کے مالک نے کہا تھا:*
رب بھی میری کشتی نہیں ڈبو سکتا
پھر پہلے سمندری سفر میں ہی ڈوب گیا اور نشان عبرت ہے۔
*ٹانکریڈو نیوس(Tancredo Neves)*
جو 15 جنوری 1985ء کو برازیل کا صدارتی الیکشن پانچ لاکھ کی لیڈ سے جیتے، اس نے کہا تھا :
“Not even God would remove me from the Presidency.”
یعنی: ’’خدا بھی مجھے صدارت سے نہیں ہٹا سکتا۔‘‘
جب ووٹ پڑے تو صدارت کا حلف لینے سے پہلے بیماری سے مارا گیا اور نشان عبرت بنا
*بچنے کی ہزار کوشش بھی کر لی جائے پھر بھی نہیں بچ سکتے*
فرمایا :
قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا
کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہیں دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو اور اس وقت تمھیں فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔
الأحزاب : 16
*دل کے 16 ہزار آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کو دل کے دورے سے ہی موت آ گئی*
دل کے 16 ہزار آپریشن کرنے والے مشہور بھارتی ڈاکٹر گوروَ گاندھی goro ghandhi
جون 2023ء میں ہارٹ اٹیک سے فوت ہوئے تھے
کیا مطلب ہے اس کا؟
کبھی بھی اپنے تجربے، ہنر، عہدے، منصب یا مال پر اترانا نہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے عافیت اور پناہ مانگتے رہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
کہہ دے پھر اپنے آپ سے موت کو ہٹا دینا، اگر تم سچے ہو۔
آل عمران : 168
*موت لذتوں کو کیسے توڑتی ہے*
*غفلت میں ڈوبے انسان کو موت آ کر اٹھاتی ہے*
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ
تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔
التكاثر : 1
حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔
التكاثر : 2
*کیا ہے یہ دنیا اور اس کا مال؟ بالآخر خالی ہاتھ واپسی ہوگی*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ
اور بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آئے ہو، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ آئے ہو جو کچھ ہم نے تمھیں دیا تھا۔
الأنعام : 94
*موت آ جائے تو آپ کے پاس کیا بچے گا*
"فرض کرلو کہ ساری دنیا تمہارے ہاتھ میں آجائے اور دنیا کے برابر اور دنیا بھی اس میں ملا دو، پھر مشرق و مغرب تمہارے پاس چلے آئے، اب موت تمہارے سامنے آجائے تو یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس بچا کیا رہ گیا؟”
|[ سیر أعلام النبلاء للذهبي : ٣٣٠/٨ ]
*موت کی سختی کا تصور لذت کو ختم کر دیتا ہے*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔
ق : 19
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان*
عائشہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انھیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے :
[ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ]
[ بخاري : 4449 ]
’’لا الٰہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔ ‘‘
*عمر رضی اللہ عنہ کا بیان*
ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ (جب وفات کے بالکل قریب تھے تب آپ) نے فرمایا:
وَالَّذِيْ لَا إِلَہَ غَیْرُہُ، لَوْ أَنَّ لِي مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ صَفْرَاءَ وَبَیْضَاءَ لَافْتَدَیْتُ بِہِ مِنْ ہَوْلِ الْمُطَّلَعِ
(صحیح، اثبات عذاب القبر للبیہقی: 219، اشاعۃ الحدیث: 126/ 14، بتحقیق الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ)
’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اگر میرے پاس ساری زمین کی دولت، سونا چاندی ہوتے تو میں موت کی سختیوں سے بچنے کے لئے فدیہ دے دیتا۔‘‘
*موت کا پیغام*
موت ایک بہترین نصیحت ہے
موت کا ڈر انسان کو سیدھا رکھتا ہے اور اس کی یاد سے انسان گناہوں سے بچا رہتا ہے
فرمایا
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔
الملك : 2
مالک بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو جانتا ہے کہ اس کا انجام موت ہے اور قبر اس کا ٹھکانا ہے، پھر اس کی آنکھ دنیا سے کیسے ٹھنڈی ہوتی ہے؟!
اور اسے دنیا کی عیش و عشرت اچھا کیسے لگتا ہے؟!۔
پھر اس قدر روئے کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی۔
(صفة الصفوة : ١٦٤/٢)
*موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جانو!*
عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
«اِغْتَنِمْ خمساً قَبْلَ خمسٍ :……. وَ حَیٰوتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»
رواه الحاكم وصححه الألباني في صحيح الجامع الصغير (رقم 1077)
”پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو!……. اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔”
*اس کے ہاتھ سے تو یہ موقع نکل گیا مگر دیکھو تم سے چھوٹنے نہ پائے*
امام حسن بصری رحمہ اللّٰہ اپنے ایک ساتھی کو دفن کرنے کے بعد قبر کے کنارے کھڑے ہو گئے۔ پھر اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: اگر اس شخص کو دنیا میں واپس لوٹ آنے کا موقع ملتا تو تمھارے خیال میں یہ کرتا؟
اس نے عرض کیا: استغفار کرتا، نماز پڑھتا اور بھلائیاں سمیٹنے کی کوشش کرتا۔
امام نے فرمایا : اس کے ہاتھ سے تو یہ موقع نکل گیا مگر دیکھو تم سے چھوٹنے نہ پائے..!
*اب مہلت ہے بعد میں نہیں ملے گی*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو۔
المؤمنون : 99
لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے، ایک پردہ ہے۔
المؤمنون : 100
دنیا کے اے مسافر !منزل تیری قبر ہے
طےکر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے
جب سے بنی ہے یہ دنیا،لاکھوں کروڑوں آئے
باقی رہا نہ کوئی مٹی میں سب سمائے
اس بات کو نہ بھولو سب کا یہی حشر ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
آنکھوں سے تو نے اپنے کتنے جنازے دیکھے
ہاتھوں سے اپنے تو نے دفنائے کتنے مردے
انجام سے تو اپنے اتنا بےخبر کیوں ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
یہ اونچے اونچے محل کچھ کام کے نہیں ہیں
یہ عالی شان بنگلے کچھ کام کے نہیں ہیں
دوگز زمین کا ٹکرا چھوتا سا تیرا گھر ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
مخمل پہ سونے والے مٹی پہ سو رہے ہیں
شاہ گدا یہاں پہ سب ایک ہو رہے ہیں
دونوں ہوئے برابر یہ موت کا اثر ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
مٹی کے پتلے تو نے مٹی میں ہے سمانا
اک دن یہاں تو آیا اک دن یہاں سے جانا
رہنا نہیں جہاں پر جاری تیرا سفر ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
اے فانی عرفاں!اپنے مولا سے دل لگالے
کر لے رب کو راضی ،کچھ نیکیاں کمالے
ساماں تیرا یہی ہے تو صاحب سفر ہے
دنیا کے اےمسافر منزل تیری قبر ہے
طےکر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے
چار یاروں کے کاندھوں پہ جس دم تیری بارات نکلے گی گھر سے
خوبصورت حسیں یہ بدن ہے، اِس کو بے جان ہونا پڑے گا
خاک سے یہ بنا جسم تیرا، خاک میں ہی یہ مل جائے گا
ایک روز یہاں پہ تو آیا، اک روز یہاں سے تو جانے پڑے گا