زبان کی بے احتیاطی کے نقصانات
﴿یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۲۴﴾( النور:24)
زبان اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، اس کی ضرورت و افادیت معروف و مسلم ہے، لیکن اگر اس کے استعمال میں بے احتیاطی برتی جائے تو یہ بہت بڑے بڑے نقصانات کا باعث بھی بنتی ہے۔
گذشتہ خطبات میں زبان کی اسی بے احتیاطی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ذکر ہورہا تھا، زبان کی بے احتیاطی انسان سے دین اور دنیا کے ہر معاملے اور ہر شعبے میں واقع ہوتی ہے اور اسی نسبت سے اسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی زبان سے ایسی لغزش سرزد ہوتی ہے کہ اس کی دنیا تباہ ہو جاتی ہے اور کبھی زبان ایسی ٹھوکر کھاتی ہے کہ اس کی آخرت برباد ہو جاتی ہے۔
زبان سے نکلے ہوئے کسی لفظ سے کسی کی دل آزاری ہونا ایک عام سی بات ہے اور کہنے والا اکثر و بیشتر اسے محسوس کرتا ہے اور نہ معیوب اور گناہ سمجھتا ہے، مگر زبان سے نکلے ہوئے کسی لفظ سے کسی کا قتل ہو جائے، یا بہت بڑا فتنہ و فساد برپا ہو جائے ، یا خود کہنے والے کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے، تاریخ میں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں ہے اور واقعنا الفاظ کبھی اتنے ہی خطر ناک اور سنگین ہوتے ہیں کہ ان سے ایک بہت بڑا فتنہ بپا ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ ابو معبد عبد اللہ بن عُکیم الجھنی رحمہ اللہ ایک تابعی، حضرت عثمانرضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے۔
((وَاللهِ لَا أُعِينُ عَلَى دَم خَلِيفَةٍ بَعْدَ عُثْمَانَ أَبَدًا))
’’اللہ کی قسم حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کے بعد اب میں کسی خلیفہ کے قتل پر کبھی کسی کی مدد نہیں کروں گا۔‘‘
تو لوگوں نے خطاب ختم ہونے کے بعد ان سے پوچھا:
((يا أبا معبد! أو أعنت على دمه ؟))
’’اے ابو معبد! کیا آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر کسی کی مدد کی تھی؟‘‘
تو انہوں نے کہا:
((قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ ذِكْرَ مَسَاوَى الرِّجَالِ عَوْنًا عَلَى دَمِهِ)) (مصنف ابن أبي شيبة: 32043، الكنى والاسماء للدولابي ، ج:1، ص:268، الطبقات الكبرى ، ج:6، ص:115)
’’ کہا: میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی برائیوں کا ذکر کرنا، اس کے قتل پر کسی کی مدد کرتا ہے۔‘‘
اور یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے جس کا لوگ ادر اک نہیں رکھتے اور جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ بھی اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ زبان کی بے احتیاطی اس قدر خطر ناک ہے کہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:
((رُبَّ قَوْلِ يَسِيلٌ مِنْهُ دَم)) (المنهج المسلوك في سياسة الملوك . ص:447)
’’کتنے ہی کلمات ایسے ہوتے ہیں جن سے خون ٹپک رہا ہوتا ہے ۔‘‘
زبان کی بے احتیاطی یقینًا ایسی ہی خطرناک ہے ، زبان کی اس بے احتیاطی کی وجہ اور فتنہ و فساد ہوتا ہے۔ تو سے لوگوں میں اختلافات ہوتے ہیں، لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے ہیں قتل و غارت ہوتی ہے اور فتنہ وفساد ہوتا ہے۔
تو زبان کی ایک ہلکی سی لغزش سے بسا اوقات کسی کی دنیا تباہ ہو جاتی ہے، اسی طرح زبان کی پھسلن سے کبھی کسی کی آخرت تباہ ہو جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((أنَّ رَجُلًا قَالَ: والله لا يَغْفِرُ الله لفلانٍ))
’’ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالی فلاں شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘
(((وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَىَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لفلان))
’’تو اللہ تعالی نے فرمایا: کون ہے یہ جو میری قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا ؟‘‘
((فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ)) (صحیح مسلم:2621)
’’ میں نے فلاں شخص کو تو معاف کر دیا ہے اور تیرے عمل ضائع کر دیتے ہیں۔‘‘
تو یہاں ملاحظہ کیجئے کہ محض ایک جملہ کس قدر سنگین ثابت ہوا کہ وہ کہنے والے کی آخرت کی تباہی و بربادی اور نقصان کا باعث بن گیا۔ ہم اپنے ماحول، اپنے معاشرے اور اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں تو بڑی شدت کے ساتھ اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی زبانوں کی اصلاح کے لئے اس کے بے احتیاط استعمال کی سنگینی اور نقصانات کو بہت اچھی طرح بہت توجہ اور تفصیل کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے اور آیات واحادیث میں الفاظ کی اہمیت اور سنگینی اس کے فوائد اور نقصانات کو بہت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اسی طرح سلف صالحین رحمہم اللہ کے طرز عمل اور ان کے اقوال زریں سے بھی خوب رہنمائی ملتی ہے۔
زبان کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرنا ہوگا کہ زیادہ تر گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے وہ زبان کی وجہ سے ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود بنی نہ صفا پر کھڑے ہوئے اپنی زبان کو مخاطب کر کے کہہ رہے تھے:
يَالِسَانًا قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ ، وَاسْكُتْ عَنْ شَرٍ تَسْلَمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدِمَ))
’’اے زبان اچھی بات کہو غنیمتیں پاؤ گی ، خاموش رہو تو سلامت رہو گی اس سے قبل کہ تمہیں ندامت اٹھانی پڑے ۔ ‘‘
((فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحمن أَهٰذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ أَوْ شَيْءٌ سمعتَهُ))
’’تو لوگوں نے اُن سے پوچھا: اے ابو عبد الرحمن کیا یہ بات آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے سن رکھی ہے؟‘‘
((فَقَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ أَكْثَرَ خَطَايَا ابن آدم في لسانه)) ( شعب الايمان للبيهقي:4584 ، معجم الكبير للطبراني:10446)
’’ تو کہا نہیں میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی آدم کے اکثر گناہ اس کی زبان سے سرزد ہوتے ہیں۔‘‘
اس بات کی ایک دوسری حدیث میں مزید تاکید ملاحظہ فرمائیے ، حدیث میں ہے: حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی بنی نہ بیان کرتے ہیں کہ:
((قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ حَدَّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ))
’’میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺمجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو میں مضبوطی سے تمام لوں ، یعنی گویا کہ وہ دین کا خلاصہ ہو!‘‘
((قَالَ: قُلْ رَبِّي اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ))
’’تو آپ ﷺنے فرمایا: کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور پھر اس پر قائم رہو۔‘‘ (صحیح مسلم:38)
یہ جملہ کہنے کو یوں تو ایک مختصر سا جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ اپنے اندر ایسی وسعت رکھتا ہے کہ پوری زندگی کو محیط ہے اگر انسان زندگی کے ہر شعبے اور معاملے میں اس کو منطبق کر کے دیکھے کہ کہاں وہ ربی اللہ کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے تو اس کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ، اس کے دل میں جاگزیں یہ عقیدہ، اور اس کے اعضاء وجوارح سے اس کے مطابق ادا ہونے والے اعمال اس کی نجات کے لیے کافی ہوں گے۔
((قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَخَافُ عَلَىَّ))
’’حضرت سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کو کسی بات کا سب سے زیادہ مجھ سے اندیشہ رکھتے؟‘‘
((فاخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ ، هٰذَا))
’’ تو اس پر آپ ﷺنے اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور پھر فرمایا: یہ۔‘‘ (سننن ترمذی:3972)
اندازہ کیجئے ابات میں احتیاط کی اسلام میں کس قدر شدید تاکید کی گئی ہے، مگر تعجب ہے کہ آپﷺ کو امت پر سب سے زیادہ جس بات کا ڈر، خوف ، خطرہ اور اندیشہ ہے ، امت اسی قدر اس کے بارے میں ۔ بے فکر ، بے خوف اور لا پرواہ نظر آتی ہے۔ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اگر اس بات کا جائزہ لیں تو ہمیں کہیں بھی احتیاط نظر نہیں نہیں آتی۔
دین کا کام کرنے والے بہت سے لوگ ضعیف، موضوع اور من گھڑت احادیث بیان کرتے چلے جاتے ہیں جو کہ آپﷺ پر بہتان تراشی ہے اور اس کے سخت ترین نتائج سے امت کو آگاہ بھی کر دیا گیا ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((مَنْ كَذَبَ عَلَى مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّاْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))
’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘ (صحیح البخاری:110 صحیح مسلم:3)
یعنی وہ جہنم میں اپنی سیٹ پکی کرتا ہے تو دین کا کام کرنے والے بہت سے لوگ اپنے عقیدے ، اپنے مسلک اور اپنے نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے اقوال و اعمال اور ان کے عقائد و نظریات اور ان کے فہم و ادراک کو نظر انداز کر کے قرآن و حدیث کی من مانی تاویلیں اور معنوی تحریف کرتے ہیں۔
اسی طرح معاشرے کی اصلاح ، ہمدردی اور خیر خواہی کی بنا پر قائم ہونے والے ادارے جن کے سر فہرست میڈیا ہے، وہ سراسر ایک کاروبار ہے جو لوگوں کو آپس میں لڑا کر ، فتنہ و فساد پیدا کر کے ، بے حیائی اور فحاشی کو رواج دے کر کیا جاتا ہے ۔ رہی عوام تو وہ اپنے تمام تر معمولات زندگی میں چاہے دو کاروبار سے متعلق ہوں ، ملازمت ہو یا گھریلو زندگی ہو ، تمام تر احتیاطات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے دریغانہ زبان کا استعمال کرتے ہیں ۔
زبان کے استعمال میں احتیاط ایک بہت بڑا اور بہت مشکل معاملہ ہے ، ہرگز آسان نہیں ہے، جب تک اللہ اور آخرت پر ایمان مضبوط نہ ہو اور احتساب کا ڈر موجود نہ ہو زبان پر ضبط نہیں کیا جاسکتا۔
زبان پر ضبط حاصل کرنے کے لیے خواہشات نفس پر ضبط کرنا پڑتا ہے ، غصے کو دبانا پڑتا ہے ، اپنی ہستی کی نفی کر کے ، اپنی انا کو مارکر ، اپنی خواہشات کو دبا کر ، اپنے جذبات کو ضبط کرکے تکبر اور نخوت کو روند کر، زبان پر ضبط کیا اور اسے پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے اور بے جا اور بے احتیاط استعمال سے بچایا جاسکتا ہے۔ ان خامیوں اور کوتاہیوں کی موجودگی میں زبان کو اچھی بات کا پابند نہیں کیا جاسکتا ، اس کی اصلاح نہیں کی جاسکتی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپﷺ نے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان زبان کی درستی کا ذریعہ اور باعث قرار دیا ہے ، جیسا کہ حدیث میں ہے آپﷺ نے فرمایا:
((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ)) (صحيح البخاری:6018)
’’ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے ۔‘‘
اللہ اور یوم آخرت پر تو ہر مسلمان کا ایمان ہے مگر ہم میں سے شاید ہی کسی کو اچھی بات کہنے اور بصورت دیگر خاموش رہنے کی توفیق ہو!
تو مطلب یہ ہے کہ زبان کی اصلاح کے لیے، اس کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے سرسری ایمان کی نہیں ، بلکہ اس ایمان کی ضرورت ہے جو دل کی گہرائیوں میں اتر چکا ہو، جو دل میں ہفتے اور جاگزیں ہو چکا ہو، جس میں دل اور زبان ہم آہنگ اور یک جان ہوں۔ زبان کی اصلاح کے لئے اس ایمان کی ضرورت ہے کہ جس کی تعریف کچھ یوں ہے:
((إقرار باللسان ، وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ وَعَمَلٌ بِالْجَوَارِحِ)) (الشريعة للأجري، ج:2، ص: 611)
’’ایسا ایمان کہ جس کا زبان سے اقرار ہو، دل اس کی تصدیق کرے اور اعضاء و جوارح اس کے مطابق عمل کریں ۔‘‘
وہ ایمان نہیں کہ جس کی نفی کرتے ہوئے قرآن پاک کہتا ہو:
﴿مْ تُؤْمِنُوا وَلٰكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا﴾
’’تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں۔‘‘
﴿وَلَمَّا يَدْ خُلِ الْإِيمَانُ في قُلُوبِكُمْ﴾ (الحجرات:14)
’’ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
انسان زبان سے ایمان کا اقرار کرتا ہے تو سب جان لیتے ہیں کہ اس نے اقرار کیا، مگر جب دل کے ایمان کی بات ہو تو چونکہ وہ نظر نہیں آتا ، سنائی نہیں دیتا، حواس خمسہ سے اسے محسوس نہیں کیا جاسکتا، لہذا اس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور اس کی دلیل عمل ہے، تو گویا کہ جب ایمان دل میں گھر کر جاتا ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اعضاء و جوارح سے عمل کی صورت میں اس کا اظہار ہوتا ہے اور بھر پور جذبے اور شوق سے اور شد و مد سے ہوتا ہے لیکن عمل میں اگر وہ جذبہ اور ولولہ نظر نہ آئے تو پھر اس کا ایمان وہ مقام اور درجہ نہیں پاتا کہ جس پر ایمان کا لفظ صادق آتا ہو تو اس کے ایمان کو اسلام کا درجہ دیا جاتا ہے، لیکن اس کے عمل میں کسل، بے دلی اور پژمردگی اگر زبان اور دل میں اقتضاد کی وجہ سے ہو تو پھر اسے دائرہ اسلام سے خارج کر کے نفاق کے زمرے میں کر دیا جاتا ہے اور
﴿وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰی﴾ والے صرف ان لوگوں پر نفاق کا لقب چسپاں ہوتا ہے جن کا ظاہر اور باطن مختلف ہو۔
تو بات ہو رہی تھی کہ صرف ایسا ایمان ہی زبان کی اصلاح کا باعث بن سکتا ہے جو دل کی گہرائیوں میں اتر چکا ہو ورنہ حقیقت یہ ہے کہ سرسری ایمان زبان کو بے احتیاطی سے نہیں روک سکتا اور بے احتیاط اور بے لگام زبان انسان کو اس دنیا میں بھی ذلیل و رسوا کر دیتی ہے اور آخرت میں اعمال سے کنگال اور سزا کا مستحق بنا دیتی ہے۔
وہ مشہور حدیث تو آپ نے سن رکھی ہوگی، جس میں آپ ﷺنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا
((أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ))
’’کیا تم جانتے ہو کہ مفلس اور کنگال کیا ہوتا ہے ؟‘‘
((قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهُمْ لَهُ وَلَا مَتَاعَ))
’’ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک تو مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی مال و متاع نہ ہو، پیسے نہ ہوں۔‘‘
((فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَزَكَاةٍ، ويَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا))
’’تو فرمایا: میری امت میں سے مفلس اور کنگال وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی یہ اعمال بھی لے کر آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بدکاری کا الزام لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔‘‘
((فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته))
’’تو اس کو اس کے جرم کی سنگینی کے مطابق اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور اس دوسرے کو بھی دی جائیں گی۔‘‘
((فَإِنْ فَنِيتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَا هُمْ فَطْرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طرح فِي النَّارِ)) (صحيح مسلم:2581)
’’اور اس کے جرموں کا فیصلہ ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو پھر ان کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘
تو بتلا ئیے! کیا یہ بات باعث تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ ایک طرف آدمی اتنی محنت کر کے کچھ نیکیاں جمع کرے اور دوسری طرف زبان کی بے احتیاطی کی وجہ سے ضائع کرتا جائے۔ ایسے آدمی کو کیسے کوئی عقلمند، صاحب علم اور مالدار سمجھ سکتا ہے، وہ تو کنگال ہے، مفلس ہے، اس کا تو دیوالیہ ہو چکا ہے۔
جب زبان کی بے احتیاطی کا اس قدر شدید اور سنگین انجام ہو تو پھر تو صرف ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ آدمی خاموش رہے۔
جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا: جب ان سے کہا گیا کہ
((دُلَّنَا عَلَى عَمَلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ قَالَ: لَا تَنْطِقُوا أَبَدًا قَالُوا: لَا نَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَقَالَ: فَلَا تَنْطِقُوا إلا بخيرٍ)) (احياء علوم الدين آفات اللسان ، ج:3، ص:110 ، الصمت لابن أبي الدنيا، ص:66، رقم:46)
’’ کہ ہمیں ایسا عمل بتلائیے کہ جس کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں، انہوں نے فرمایا: تم بولنا قطعاً بند کر دو۔ وہ کہنے لگے: ہم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے، تو انہوں نے جوایا کہا تو پھر خیر و بھلائی والی بات ہی کیا کرو۔‘‘
ایسے ہی زبان کی حفاظت کے حوالے سے حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((مَا عَقَلَ دِينَهُ مَنْ لَمْ يَحْفَظُ لِسَانَهُ)) (شعب الإيمان للبيهقي:4360)
’’وہ دین کو سمجھا ہی نہیں جو اپنی زبان پر ضبط نہ رکھ سکا ۔‘‘
زبان پر ضبط حاصل نہ ہونے کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اگر کسی مجلس میں خاموش رہیں تو ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس کو بات کرنا نہیں آتی، اس کے پاس علم نہیں ہے، یہ تو بے چارہ سیدھا سا لگتا ہے، اتنا ہو شیار اور سمجھدار نہیں لگتا، چنانچہ ہم اپنی خفت مٹانے کے لئے پھر کچھ نہ کچھ بولتے ہیں چاہے اس کا کوئی سر پیر نہ بھی ہو۔
جبکہ آپﷺ کے اسوہ حسنہ پر نظر ڈالیں تو آپ ﷺ بہت کم گفتگو فرماتے، حالانکہ آپ ﷺ زیادہ گفتگو بھی فرماتے تو حق اور سچ ہی ہوتی کہ آپ سے کہ ہم تو مزاح میں بھی جھوٹ بات نہ فرماتے تھے۔ اللہ تعالی ہمیں زبان کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين