ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے جھوٹے خداؤں کا رد کرتے ہوئے
*ابراهيم علیہ السلام کی قوم تین قسم کے معبودوں کو پوجتی تھی*
ابراہیم علیہ السلام کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی
نمبر ایک ستارے، چاند اور سورج کی پرستش بھی کرتی تھی
نمبر دو بت پرست بھی تھی
اور نمبر تین بادشاہ کو بھی رب مانتی تھی۔
ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق سے تینوں طرح کے جھوٹے معبودوں کا خوب رد کیا اور ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔
*پہلی قسم کے معبودوں کا رد*
*ستارے، چاند اور سورج کے معبود نہ ہونے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی نہایت مدلل، مؤثر اور لاجواب دعوت ملاحظہ فرمائیں۔*
*قوم کو ایک مشاہدے کے ذریعے توحید کی دعوت*
*ستارے کا مشاہدہ اور دعوت توحید*
ایک رات ابراہیم علیہ السلام نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا :
’’یہ میرا رب ہے۔‘‘
یقینا وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے ہوں گے، مگر یہ تو توحید کے منکروں کو گھیر کر مارنے کی عظیم تدبیر تھی۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ایک محال چیز کو مفروضہ کے طور پر تسلیم کیا، تاکہ دل نشین طریقے سے انھیں قائل کیا جائے۔ چنانچہ جب وہ غروب ہوا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :
’’میں غروب ہونے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان کیا ہے :
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
تو جب اس پر رات چھا گئی تو اس نے ایک ستارہ دیکھا، کہنے لگا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ غروب ہوگیا تو اس نے کہا میں غروب ہونے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
الأنعام : 76
*چاند کا مشاہدہ اور دعوت توحید*
پھر چاند کو اپنا رب کہا، جب وہ بھی غروب ہو گیا تو فرمایا :
’’میرے رب نے اگر مجھے ہدایت نہ دی تو یقینا میں بھی گمراہوں سے ہو جاؤں گا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان کیا ہے :
فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ
پھر جب اس نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ غروب ہوگیا تو اس نے کہا یقینا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی تو بلاشبہ میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔
الأنعام : 77
*سورج کا مشاہدہ اور دعوت توحید*
پھر سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا :
’’یہ سب سے بڑا ہے، اس لیے یہی میرا رب ہے۔‘‘
قوم کو امید پیدا ہوئی ہوگی کہ چلو ہمارے کسی معبود کو ماننے پر تو تیار ہو گیا ہے، مگر سورج کے غروب ہونے پر ان کے تمام معبودوں سے بے زاری کا اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ایک ہی معبود برحق کا اعلان کر دیا
اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان کیا ہے :
فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
پھر جب اس نے سورج چمکتا ہوا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوگیا کہنے لگا اے میری قوم! بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔
الأنعام : 78
*اور پھر ان سب کی نفی کے بعد اپنے حقیقی الہ کا تعارف کروا دیا*
فرمانے لگے :
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
بے شک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔
الأنعام : 79
*قوم جھگڑے پر اتر آئی*
ان کے تمام معبودوں سے بے زاری کا اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ایک ہی معبود برحق کا اعلان کرنے کی دیر تھی کہ قوم جھگڑے پر اتر آئی، جھگڑے کے ساتھ اپنے خداؤں کے غضب سے ڈرانے لگی۔
فرمایا :
وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ
اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا
الأنعام : 80
*ابراهيم علیہ السلام کا جھگڑے میں قوم کو جواب*
قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
اس نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ یقینا اس نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں اس سے نہیں ڈرتا جسے تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ چاہے، میرے رب نے ہر چیز کا احاطہ علم سے کر رکھا ہے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
الأنعام : 80
*قوم نے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کی ایک دلیل پیش کی*
قوم نے جھگڑتے اور مناظرہ کرتے ہوئے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کے بہت سے دلائل پیش کیے
مثلاً انھوں نے ایک دلیل یہ پیش کی :
«اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ »
[ الزخرف : ۲۲ ]
’’بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے۔‘‘
*ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اس دلیل کا رد*
ابراہیم علیہ السلام نے ان کی باپ دادا والی دلیل کا جواب یہ فرما کر دیا
’’وَقَدْ هَدَانِ‘‘
(اللہ نے مجھے سیدھا راستہ بتا دیا ہے)
کہ یقینی دلیل کے مقابلے میں تمھارے باپ دادا کا دین بے معنی ہے
اور ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچنی ہو تو پہنچ سکتی ہے مگر یہ تمھارے بت اور جھوٹے معبود میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
چناچہ فرمایا :
وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
اور میں اس سے کیسے ڈروں جسے تم نے شریک بنایا ہے، حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بے شک تم نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا ہے جس کی کوئی دلیل اس نے تم پر نہیں اتاری، تو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے، اگر تم جانتے ہو۔
الأنعام : 81
*ایک جھوٹی کہانی اور اس کا رد*
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی ولادت اور پرورش ایک غار کے اندر ہوئی تھی، تاکہ بادشاہ اپنے ایک خواب کی وجہ سے انھیں قتل نہ کر دے۔ جب باہر آئے تو اپنا رب ڈھونڈنے کے لیے غور و فکر کے یہ (چاند، سورج اور ستارے والے) مراحل طے کیے اور آخر کار اللہ تعالیٰ تک پہنچ گئے، حالانکہ ان آیات میں صاف ذکر ہے کہ یہ سب باتیں قوم کی مجلس میں ہوئی ہیں جن کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو لاجواب کیا ہے۔
اور جب انھوں نے اللہ کے حکم کے مطابق قوم کو اس دلیل کے ذریعے سے سورج، چاند اور ستارے کے رب نہ ہو سکنے کی بات سمجھائی تو وہ جھگڑے پر اتر آئے، جو ان کے لاجواب ہونے کی دلیل تھی۔
*کیا ابراہیم علیہ السلام نے چاند سورج ستارے کو اپنا معبود کہہ کر شرک کا ارتکاب کیا؟*
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے چاند، سورج، ستارے کو اپنا معبود کہہ دیا، چاہے ایک لمحے کے لیے ہی کہا تو شرک تو کر لیا
*جواب*
اس کا جواب دو طرح سے دیا جائے گا :
*ایک یہ کہ*
ابراہیم علیہ السلام نے یہ سب اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آپ کو ایسا کرنے کا کہا گیا تھا تو جب وہ ذات جو معبود برحق ہے، وہ خود ہی ایسا کہنے کی اجازت دے تو پھر یہ شرک کیسے ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی، ہم درجوں میں بلند کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
الأنعام : 83
*دوسرا جواب یہ ہے کہ*
ابراہیم علیہ السلام کا چاند، سورج اور ستارے کو دیکھ کر "هَذَا رَبِّي” کہنا، خبر دینے کے طور پر نہیں تھا بلکہ تعجبانہ انداز میں سوال تھا، گویا پوچھ رہے تھے کہ اچھا تمہارے بقول یہ میرا رب ہے؟؟
الغرض یہ بات درست نہیں ہے نہیں کہ آپ شرک سے درجہ بہ درجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں، کیونکہ اللہ کا نبی اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔
*دوسری قسم کے معبودوں یعنی بتوں کا رد*
یہاں سے ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے بتوں کے بے اختیار ہونے کی تبلیغ اور اس کے عملی اظہار کا تذکرہ شروع کرتے ہیں۔
اس کے تین مرحلے ہیں
1 باپ کے سامنے بتوں کا رد
2 قوم کے سامنے بتوں کا رد
3 باپ اور قوم دونوں کے سامنے بتوں کا رد
*پہلا مرحلہ*
*باپ کے سامنے بتوں کا رد*
انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا اسلوب یہ ہے کہ یہ اپنی دعوت کو معاشرے کی اکائی سے شروع کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی سب سے پہلے اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں
جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے گھر سے ہی دعوت کے آغاز کا حکم دیا تھا
فرمایا :
وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔
الشعراء : 214
*ابراهيم علیہ السلام کے باپ کا تعارف*
آپ کے والد کا نام آزر تھا۔
جیسا کہ قران میں ہے :
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا
الأنعام : 74
اب پہلی کتابوں میں اگر ان کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہو تو قرآن کی بات ہی حق ہو گی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آرخ یا تارخ اس کا لقب ہو گا، مگر یہ کہنا کہ ان کے باپ کا نام آزر نہیں تھا بلکہ یہ نام چچا کا تھا، بالکل ہی بے دلیل ہے۔
*ابراہیم علیہ السلام کا باپ بت پرست تھا*
جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا تھا :
أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً
تو بتوں کو معبود بناتا ہے؟
الأنعام : 74
اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کا والد بت پرست تھا۔
*باپ کو توحید کی دعوت*
*ابراهيم علیہ السلام کی اپنے باپ کے سامنے دعوت کا شاندار اسلوب چیک کریں*
*بہترین انداز تخاطب*
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو نہایت ادب، نرمی، حسن اخلاق اور بہترین دلائل کے ساتھ بت پرستی ترک کرنے کی نصیحت کی
چنانچہ سب سے پہلے تو محبت اور ادب میں ڈوبے ہوئے الفاظ کا استعمال کیا
بار بار
يَا أَبَتِ، يَا أَبَتِ
اے میرے باپ! اے میرے باپ!
’’اے ابا جان‘‘ ’’اے ابا جی‘‘
جیسے مؤدبانہ الفاظ کا استعمال کیا
یہ اس لیے کہ کہیں وہ بڑے پن اور ضد میں آکر حق سے انکار نہ کر دے۔
*عقلی دلیل*
پھر اس سے ان بتوں کو پوجنے کی وجہ پوچھی کہ یہ بے حس و بے جان مورتیاں کہ جن کی کسی عقل مند کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، تو تم کیوں انہیں پوج رہے ہو
سورہ مریم میں باپ کو دعوت دینے کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا
جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟
مريم : 42
*اپنی علمی برتری اور باپ کی کم علمی کا بہترین طریقہ سے اظہار کیا*
اس سے اگلے مرحلے میں فرمانے لگے :
يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا
اے میرے باپ! بے شک میں، یقینا میرے پاس کچھ وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا۔
مريم : 43
یہاں بھی ادب و احترام کا پورا خیال رکھا، یہ نہیں کہا کہ آپ حد درجہ کے جاہل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے صدیقیت اور نبوت کا عظیم مرتبہ عطا کیا ہے، بلکہ یہ کہا کہ میرے پاس کچھ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا اور وہ ہے سیدھے راستے کا علم، اس لیے اس میں میرے پیچھے چلنے میں عار محسوس نہ کریں۔ بے شک آپ باپ ہیں مگر یوں سمجھیں کہ میں اور آپ ایک سفر پر ہیں، مجھے راستے کا علم ہے اور آپ کو نہیں، تو آپ کو باپ ہونے کے باوجود میرے پیچھے چلنا ہو گا، تاکہ میں آپ کو صحیح منزل تک پہنچا دوں اور آپ غلط راستے پر چل کر بھٹکتے نہ پھریں۔
*ابا جان بتوں کو پوجنا شیطان کی عبادت ہے اور شیطان تو ہمارے بے حد رحم کرنے والے رب کا دشمن ہے*
چنانچہ فرمانے لگے :
يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا
اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان ہمیشہ سے رحمان کا سخت نافرمان ہے۔
مريم : 44
یہاں ابراہیم علیہ السلام نے باپ کو بت پرستی سے منع کرنے اور ہٹانے کے لیے اس کی حقیقی تصویر ایسی کھینچی کہ ہر عقلمند کو اس سے نفرت ہو جائے، یعنی یہی نہیں کہ بت پرستی کسی بھی نفع سے خالی ہے، بلکہ اس میں بے حد نقصان ہے، کیونکہ یہ درحقیقت شیطان کی عبادت ہے۔
اور
إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا
کہہ کر گویا باپ کو یہ ذہن دیا کہ
شیطان ہمیشہ سے تمھارے اس رب کا سخت نافرمان ہے جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔
*ابا جان مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ کہیں آپ عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں*
یہ بھی ایک بہترین اسلوب دعوت ہے کہ مدعو کو یہ باور کروایا جائے کہ ہمیں تمہاری تکلیف اور پریشانی کی بہت بے چینی ہے
چنانچہ فرمانے لگے :
يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا
اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ پڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔
مريم : 45
یہاں بھی حسن ادب کو ملحوظ رکھا۔ صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ تم پر عذاب آ پڑے گا، بلکہ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ لگے اور پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔
یہاں ’’میں ڈرتا ہوں‘‘ اور ’’کوئی عذاب آ لگے‘‘ کے الفاظ قابل غور ہیں کہ وہ کتنی سخت بات کو کس قدر نرمی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔
*باپ کا سخت رد عمل*
باپ نے دعوت قبول کرنے کی بجائے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا :
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا
اس نے کہا کیا بے رغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم!؟ یقینا اگر تو باز نہ آیا تو میں ضرور ہی تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھے چھوڑ جا، اس حال میں کہ تو صحیح سالم ہے۔
مريم : 46
*وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا کے دو معانی ہیں :*
*ایک تو یہ کہ*
اگر تو بتوں کی تردید اور نفرت سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، یعنی پتھر مار مار کر ختم کر دوں گا۔ تو مجھے چھوڑ کر صحیح سلامت نکل جا، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھے۔
*دوسرا معنی یہ ہے کہ*
لمبی مدت تک مجھے چھوڑ کر نکل جا کہ میں تمھاری شکل نہ دیکھوں۔
*باپ کے سخت رویے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام کا نرم جواب*
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے جاہل باپ کے اس سنگ دلانہ جواب کے مقابلے میں پھر انتہائی نرمی کا مظاہرہ کیا اور اسے ’’ سَلٰمٌ عَلَيْكَ ‘‘ کہا کہ آپ سلامت رہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا
کہا تجھ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے تیرے لیے ضرور بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان ہے۔
مريم : 47
*کیا کفار و مشرکین کو سلام کہنا چاہیے؟*
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کفار و مشرکین کو سلام کہنا جائز اور درست ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی ضد اور عناد پر تل جائے تو یہ رخصت ہونے اور ترک تعلق کا سلام ہے اور یہ جائز ہے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔
الفرقان : 63
یعنی رحمان کے بندے لوگوں سے ہمیشہ علیحدگی اور ترکِ کلام اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کی جہالت اور اکھڑ پن کے رویے پر انھیں ترکی بہ ترکی جواب دینے اور جھگڑنے کے بجائے سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا :
« وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ »
[ القصص : ۵۵ ]
’’اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔‘‘
البتہ عام حالات میں کفار کو سلام میں پہل جائز نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ لَا تَبْدَءُ وا الْيَهُوْدَ وَلاَ النَّصَارٰی بِالسَّلَامِ ]
[ مسلم : 2167 ]
’’یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل مت کرو۔‘‘
*ابراهيم علیہ السلام اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں*
آپ نے یوں دعا کی :
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔
إبراهيم : 41
سورہ شعراء میں دعا کے الفاظ یہ ہیں :
وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ
اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔
الشعراء : 86
*ایک سوال، جب مشرک کے لیے دعاءِ استغفار کی ممانعت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے دعا کیوں کی*
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابراهيم علیہ السلام نے جو اپنے والد کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے
اس کی دو وجوہات ہیں :
*پہلی وجہ*
1 چونکہ گھر سے نکلتے وقت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے دعاءِ مغفرت کا وعدہ کیا تھا جیسا کہ سورہ مریم میں ہے
قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا
کہا تجھ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے تیرے لیے ضرور بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان ہے۔
مريم : 47
تو اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا
التوبة : 114
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کر رہا تھا، جب کہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا تم ان کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہو جب کہ وہ مشرک تھے، تو اس نے کہا، کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا تھا؟ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی :
« وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ »
’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ ہے جو اس نے اس سے کیا تھا۔‘‘
[ نسائی : 2038 و حسنہ الألبانی ]
*دوسری وجہ*
اس دعا کا مقصد یہ تھا کہ اسے توبہ کی توفیق بخش، تاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں
اس معنی میں تو دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
*ابراهيم علیہ السلام نے اپنی دعا سے رجوع کر لیا*
لیکن بعد میں جب انھیں معلوم ہوا کہ ایک مشرک اور دشمنِ حق کے لیے دعائے مغفرت کرنا صحیح نہیں ہے تو انھوں نے اس دعا سے رجوع کر لیا، جیسا کہ سورۂ توبہ میں ہے :
فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔
التوبة : 114
*قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کے والد کا معاملہ*
ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے عرض کی کہ قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے، یا میرے والد کو عذاب دے کر مجھے رسوا نہ کر کہ لوگ اسے جہنم میں جلتا ہوا دیکھ کر کہیں یہ ابراہیم کا باپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی قبول فرمائی
چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حال میں ملیں گے کہ اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا۔ ابراہیم علیہ السلام اس سے کہیں گے :
أَلَمْ أَقُلْ لَّكَ لَا تَعْصِنِيْ؟
’’میں نے تجھے کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی مت کر۔‘‘
ان کا باپ کہے گا :
فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيْكَ
’’تو آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘
ابراہیم علیہ السلام کہیں گے:
يَا رَبِّ! إِنَّكَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ لَّا تُخْزِيَنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ؟
’’اے رب! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے، تو میرے بدنصیب باپ سے بڑھ کر ذلت کیا ہو گی۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرمائے گا :
إِنِّيْ حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَی الْكَافِرِيْنَ
’’یقینا میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے۔‘‘
پھر کہا جائے گا :
يَا إِبْرَاهِيْمُ! مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيْخٍ مُلْتَطِخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقٰی فِي النَّارِ
بخاری : 3350
’’ابراہیم! تیرے پاؤں کے نیچے کیا ہے؟‘‘ وہ دیکھیں گے تو اچانک گندگی میں لت پت ایک بِجّو ہو گا، پھر اس بِجّو کو اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘
*ابراهيم علیہ السلام اپنے باپ سے اعلان برات کردیں گے*
قیامت کے دن سفارش کے بعد اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر جب انھیں اپنے والد کا ابدی جہنمی، شرف انسانیت سے محروم اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہونا خوب واضح ہو گیا تو وہ اس سے بری اور لاتعلق ہو گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خلیل اپنے خلیل کے دشمن سے دوستی یا تعلق کیسے رکھ سکتا ہے، چنانچہ ان کے دل میں جو تعلق باقی تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔
*دوسرا مرحلہ*
*بتوں کا رد قوم کے سامنے*
جب باپ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے زبردستی انہیں گھر سے باہر نکال دیا تو ابراہیم علیہ السلام نے معاشرے میں قوم کے سامنے رب کی توحید کو بیان کرنے کا پروگرام بنایا
*ابراهيم علیہ السلام قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں*
فرمایا :
وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
العنكبوت : 16
ابراہیم علیہ السلام نے انھیں حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یعنی اس بات سے ڈرو کہ اگر تم نے اس کی عبادت نہ کی، اس کا حکم نہ مانا یا کسی غیر کو اس کا شریک بنایا تو وہ تمھیں عذاب دے گا۔
اور فرمایا :
إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمھارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
العنكبوت : 17
*صنم، نصب اور وثن میں فرق*
قرآن مجید میں بتوں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں :
(1) ’’صَنَمٌ‘‘ اس سے مراد وہ بت جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں
(2) ’’نَصَبٌ‘‘ ایسے بت یا مجسّمے جنھیں پوجا پاٹ کے لیے نصب کر دیا گیا ہو، جیسے مشرکین مکہ کے بت لات، منات، عزیٰ اور ہبل وغیرہ تھے۔
(3) ’’وَثَنٌ‘‘ اس کی جمع ’’أَوْثَانٌ‘‘ ہے
وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے، یعنی آستانے وغیرہ، خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔
ابراہیم علیہ السلام نے جو ’’ اَوْثَانًا ‘‘ کا ذکر کیا تو اس سے مراد ان کی قوم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہیں۔(کیلانی رحمہ اللہ)
*وہ قبریں بھی ’’اوثان‘‘ میں شامل ہیں جن کی عبادت کی جائے*
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا يُّعْبَدُ، لَعَنَ اللّٰهُ قَوْمًا اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ]
[ مسند أحمد : 7376،الموطأ : 414 ]
’’اے اللہ! میری قبر کو وثن (بت) نہ بنانا، جس کی عبادت کی جائے۔ اللہ ان لوگوں پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔‘‘
*شرک کے باطل ہونے پر قوم کے سامنے رکھے تین دلائل*
اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے :
*ایک یہ کہ* یہ بت تمھارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں، گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمھاری مخلوق ہیں اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا اور یہ الٰہ تو مخلوق در مخلوق ہیں، یہ الٰہ کیسے بن گئے؟
*دوسری دلیل یہ ہے* کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمھیں خود ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمھارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادّے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادّے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟
*تیسری دلیل یہ ہے* کہ یہ تمھیں رزق کیا دیں گے، رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازوں کی صورت میں رکھتے ہو، چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو، چاہو تو اٹھا لو اور چاہو تو ان کے اوپر مل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجا لاؤ۔
*اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے تو میرا نہیں اپنا ہی نقصان کرو گے*
ابراهيم علیہ السلام نے قوم پر واضح کر دیا کہ
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کئی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمے تو کھلم کھلا پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
العنكبوت : 18
سابقہ امتوں کا حوالہ اس لیے دیا کہ تمہارا یہ جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا ؟
*تیسرا مرحلہ*
*ابراهيم علیہ السلام باپ اور قوم دونوں کے سامنے بتوں کا رد کرتے ہیں*
ظاہر بات ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے قوم کے سامنے رب تعالیٰ کی توحید کی بات رکھی ہوگی تو قوم کے لوگ اکٹھے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کے باپ کے پاس آئے ہوں گے تاکہ باپ کے ذریعے بیٹے کو سمجھائیں اور بتوں کی تردید سے روکیں
اس موقع پر ابراهيم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اثبات اور بتوں کی نفی کی
فرمایا :
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟
الشعراء : 70
یہ سوال کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو، پوچھنے کے لیے نہیں تھا، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ بت پوجتے ہیں، بلکہ بت پرستی پر غور و فکر کی دعوت دینے کے لیے تھا
*سوالیہ انداز میں بتوں کی تحقیر*
سورہ انبیاء میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے ناواقف بنتے ہوئے اپنے باپ اور اپنی قوم سے بتوں کا تذکرہ نہایت تحقیر کے ساتھ کرتے ہوئے پوچھا :
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟
الأنبياء : 52
ابراهيم علیہ السلام کا سوالیہ انداز میں یہ پوچھنا "کیا ہیں یہ مورتیاں؟”
یہ بتوں کی تحقیر کے لیے اشارہ ہے۔
گویا ابراہیم علیہ السلام ان کو کوئی چیز ماننے ہی پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ نہ سنتے تھے اور نہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے تھے۔
*دو ٹوک رد*
پہلے مرحلے میں کہا :
تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟
پھر دوسرے مرحلے میں کہا :
یہ مورتیاں کیا چیز ہیں؟ جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟
اب تیسرے مرحلے میں دو ٹوک فرمانے لگے :
أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ
کیا اللہ کو چھوڑ کر گھڑے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو؟
الصافات : 86
*صاف اعلان براءت کردیا*
اگلے مرحلے میں تو بغیر کسی لگی لپٹی کے صاف ہی اعلان فرمایا :
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
الزخرف : 26
*سبق*
یہاں ابراہیم علیہ السلام کے اس اعلان براءت میں سبق یہ ہے کہ قریش اور قومِ عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمھارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔
*ایک اور سوال کردیا*
بتوں کا دو ٹوک رد کرنے کے بعد پوچھنے لگے :
فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
تو جہانوں کے رب کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے؟
الصافات : 87
یعنی رب العالمین جو پوری کائنات کا مالک ہے اور تمام جہانوں کے ایک ایک ذرے کی پرورش کر رہا ہے، اس کے متعلق تمھارا کیا گمان ہے؟ کیا تم نے اس میں کوئی نقص یا عیب پایا کہ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کی عبادت کرنے لگے اور اس کی گرفت سے بالکل بے خوف ہو گئے؟
*قوم کی طرف سے جواب*
وہ لوگ کہنے لگے :
قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ
انھوں نے کہا ہم عظیم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، پس انھی کے مجاور بنے رہتے ہیں۔
الشعراء : 71
*باپ دادا کو بطورِ دلیل پیش کیا*
ابراہیم علیہ السلام کو جواب دیتے ہوئے آپ کے والد اور ان کی قوم کے پاس بتوں کی عبادت کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ تھی، اس لیے انھوں نے تقلید کا سہارا لیا اور کہا :
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرنے والے پایا ہے۔
الأنبياء : 53
کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرنے والے پایا ہے، حالانکہ باپ دادا سیدھے راستے پر ہوں تو بے شک ان کے پیچھے چلو، لیکن اگر وہ غلط راستے پر ہوں تو غلط راستے پر چلتے جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟
*ابراهيم علیہ السلام کی طرف سے ناطقہ بند سوال*
آپ نے ان سے پوچھا :
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ
کہا کیا وہ تمھیں سنتے ہیں، جب تم پکارتے ہو؟
الشعراء : 72
أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ
یا تمھیں فائدہ دیتے، یا نقصان پہنچاتے ہیں؟
الشعراء : 73
گویا ابراہیم علیہ السلام نے کسی بھی ذات کی عبادت کے لیے اس میں پائی جانے والی تین صفات ذکر کرکے فرمایا کہ کیا ان میں یہ تینوں یا کوئی ایک صفت پائی جاتی ہے؟
کیا جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ تمھاری بات سنتے ہیں؟
یا تمھیں کوئی فائدہ پہنچاتے ہیں؟
یا نقصان پہنچاتے ہیں؟
اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟
*انہوں نے پھر آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیا*
کہنے لگے :
قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
انھوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ وہ ایسے ہی کرتے تھے۔
الشعراء : 74
یعنی لکڑی، پتھر اور دھات کے یہ بت سنتے تو نہیں، نہ ہی کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو قدیم زمانے سے ایسے ہی کرتے ہوئے پایا ہے، تو کیا وہ سب بے وقوف تھے جو ان کی پوجا کرتے رہے، آخر ان کے پاس ان کی عبادت کی کوئی دلیل تو ہو گی۔ گویا جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو باپ دادا کی تقلید کا سہارا لیا، جو ہر اندھے کی لاٹھی اور ڈوبنے والے کے لیے آخری تنکا ہے۔
*ابراهيم علیہ السلام کی طرف سے دعوت فکر*
اب قوم کو دعوت فکر دیتے ہوئے فرمایا :
قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ
کہا تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے۔
الشعراء : 75
أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ
تم اور تمھارے پہلے باپ دادا۔
الشعراء : 76
یعنی کبھی غور بھی کیا ہے کہ تم اور تمہارے قدیم آباء و اجداد کس چیز کو پوجتے چلے آ رہے ہو؟
بھلا تمہارے پاس اس کی کوئی نقلی یا عقلی دلیل بھی ہے؟
کسی دین کے حق ہونے کے لیے بس یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ قدیم آبا و اجداد کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کام میں پہلے لوگوں کی غلطی ثابت ہو جائے تو اسے فوراً چھوڑ دیتے ہو، تو کیا دین ہی اتنا بے حیثیت ہے کہ غلط جان کر بھی نسلوں کی نسلیں آنکھیں بند کرکے اس پر چلتی جائیں اور مکھی پر مکھی مارتی جائیں ؟
*ابراهيم علیہ السلام کی طرف سے قوم کے آباؤ و اجداد پر واضح حکم کہ وہ تو کھلی گمراہی میں مبتلا تھے*
قوم کو دعوت فکر دینے کے بعد بھی جب انہیں ٹس سے مس ہوتے ہوئے نہ دیکھا تو ابراہیم علیہ السلام دو ٹوک فرمانے لگے :
قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
کہا بلاشبہ یقینا تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی میں تھے۔
الأنبياء : 54
الغرض کہ ابراہیم علیہ السلام نے واشگاف الفاظ میں فرما دیا کہ بلاشبہ یقینا تم اور تمھارے باپ دادا پہلے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے اور اب بھی مسلسل ایسے ہی چلے آرہے ہو۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟
*قوم کا تعجبانہ سوال*
انہیں بت پرستی کے حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ کوئی شخص اسے کھلی گمراہی قرار دے سکتا ہے۔لھذا انھیں یقین نہ آیا کہ ابراہیم علیہ السلام یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ وہ سمجھے کہ آپ مذاق کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے پوچھا کہ آپ یہ حقیقت بیان کر رہے ہیں یا دل لگی کر رہے ہیں؟
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے؟
الأنبياء : 55
*ابراهيم علیہ السلام کا تعجب میں پڑی قوم کو جواب*
قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ
کہا بلکہ تمھارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انھیں پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں سے ہوں۔
الأنبياء : 56
یعنی میں یہ بات مذاق سے نہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مورتیاں اور مجسّمے رب نہیں ہیں بلکہ تمھارا رب صرف وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے۔’’
وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ کہہ کر ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا کہ میں یہ بات دلیل سے ثابت کر سکتا ہوں، تمھاری طرح نہیں کہ آباء و اجداد کی تقلید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل ہی نہ ہو
*ابراهيم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کا تعارف کرواتے ہوئے*
اگرچہ پہلے بھی ابراہیم علیہ السلام سینکڑوں مرتبہ اللہ تعالیٰ کا تعارف کرواچکے تھے مگر اب پھر سے تعارف کرواتے ہیں اور یہاں ابراہیم علیہ السلام نے رب العالمین کی وہ صفات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے وہ عبادت کا حق دار ہے
فرماتے ہیں :
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ
سو بلاشبہ وہ (بت) میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔
الشعراء : 77
الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔
الشعراء : 78
وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ
اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔
الشعراء : 79
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
الشعراء : 80
وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ
اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔
الشعراء : 81
وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔
الشعراء : 82
ابراہیم علیہ السلام نے یہ صفات اس لیے بیان فرمائیں کہ مشرکین کو مطمئن کر سکیں کہ عبادت صرف اس ’’رب العالمین‘‘ کا حق ہے جو ان صفات کا مالک ہے۔ دوسرے معبود جو نہ پیدا کر سکیں، نہ رہنمائی کر سکیں، نہ کھانے کو دے سکیں، نہ پینے کو، نہ شفا کے مالک ہوں، نہ موت و حیات کے، نہ قیامت برپا کر سکتے ہوں، نہ عدالت قائم کر سکتے ہوں، وہ عبادت کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں؟
*اتنے واضح دلائل کے باوجود قوم نے جھٹلا دیا*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ
اور ابراہیم کی قوم نے اور لوط کی قوم نے(جھٹلا دیا) ۔
الحج : 43