1
دنیا کی گرمی وقتی اور محدود ہے، مگر آخرت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا کی چند روزہ آسائشوں میں غفلت اختیار نہ کرے بلکہ اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کرے۔ دنیا کی گرمی انسان کو چند لمحوں کے لیے بے چین کرتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
مزید پڑھیںدنیا کی گرمی بمقابلہ آخرت کا عذاب
2
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت
3
شرکِ اصغر وہ باریک اور پوشیدہ قسم کا شرک ہے جو بظاہر انسان کے عقیدے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا مگر اس کے اعمال کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کی عام صورتوں میں ریاکاری (دکھاوا)، غیر اللہ کی قسم کھانا، یا کسی عمل کو اللہ کے سوا کسی اور کی رضا کے لیے کرنا شامل ہے۔ اس کی تباہ کاریاں یہ ہیں کہ یہ نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، دل میں اخلاص کو ختم کرتا ہے اور انسان کو آہستہ آہستہ شرکِ اکبر کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس سے بچنے اور ہر عمل کو خالصتاً اللہ کے لیے کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںشرک اصغر کی صورتیں اور تباہ کاریاں
4
جہنم سے نجات کے اعمال میں سب سے اہم ایمان کی مضبوطی، اخلاص کے ساتھ عبادات کی ادائیگی اور گناہوں سے سچی توبہ شامل ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور صدقہ جیسے اعمال انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں جبکہ سچائی، عدل، اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور اللہ سے خوف و امید کے ساتھ دعا کرنا دل کو پاک کرتا ہے اور انسان کو جہنم کی آگ سے بچنے کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔
مزید پڑھیںجہنم سے نجات کے اعمال
5
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)
6
موجودہ دور میں مادیت پرستی کے غلبے نے انسان کو دنیاوی آسائشات کا اسیر بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ایمان کی حلاوت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جب دل مال، شہرت اور خواہشات میں الجھ جائے تو روحانی سکون اور اللہ سے قربت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام انسان کو توازن کی تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کو ضرورت کے طور پر اختیار کیا جائے نہ کہ مقصدِ زندگی بنایا جائے۔ ایمان کی حلاوت ذکرِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور آخرت کی فکر سے حاصل ہوتی ہے، اور یہی چیز مادیت پرستی کے اندھیروں سے نجات کا راستہ ہے۔
مزید پڑھیںمادیت پرستی کا غلبہ اور ایمان کی حلاوت
7
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
8
مومن کا مرنے کے بعد کا سفر اللہ کی قدرت اور رحمت کا روشن مظہر ہے۔ جیسے ہی مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی روح قبر کی جانب روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے اس کے اعمال کے مطابق سکون یا سختی محسوس ہوتی ہے۔ مومن کی قبر میں راحت اور نور ہوتا ہے، اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنے اچھے اعمال کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ پھر اس کا راستہ جنت کی جانب کھلتا ہے، جہاں اللہ کی رضا اور نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اس پورے سفر میں مومن کے ایمان، نیک اعمال اور صبر کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، جو اسے جنت کی حلاوت اور امن تک پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیںمومن کا مرنے سے جنت تک کا سفر
9
اسلام میں عقیدۂ توحید بنیادی اساس ہے، اور ہر وہ نظریہ جو اللہ کی وحدانیت سے ہٹ کر ہو، اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق اللہ ایک ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اُس جیسا کوئی ہے؛ اسی لیے مسلمان تثلیث کے تصور کو دین کے اصولِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے خاص کی گئی ہے، اسی لیے مسلمان ایسے عقائد سے دور رہنے کی تعلیم پاتے ہیں جو وحدانیت کے تصور کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ توحید کو خالص رکھا جائے اور دین کے اصل پیغام پر قائم رہا جائے۔
مزید پڑھیںکرسمَس اور تثلیث کفریہ عقیدہ ہے
10
کچا عقیدہ انسان کو کمزور بنیاد والے گھر کی طرح بنا دیتا ہے، جو معمولی سی آندھی میں بھی لرزنے لگتا ہے۔ جب یقین علم کے بغیر ہو تو ہر نئی بات اس پر اثر ڈالتی ہے اور انسان کا راستہ بدل جاتا ہے۔ کچے عقیدے والے لوگ دوسروں کے الفاظ، ماحول کے دباؤ اور بے بنیاد باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر وہ مضبوطی نہیں ہوتی جو سچائی پر جمائے رکھ سکے۔ عقیدے میں پختگی تب آتی ہے جب انسان سمجھ بوجھ کے ساتھ چلتا ہے، سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور اپنے ایمان کو دلیل کی بنیاد پر مضبوط بناتا ہے۔ جو لوگ اپنے عقیدے کو علم کی روشنی سے سنوارتے ہیں، وہی حالات کے طوفان میں بھی قائم رہتے ہیں۔ کچے عقیدے کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان فیصلہ تو کرتا ہے، مگر خوف اور شکوک اسے پیچھے کھینچتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیںکچے عقیدے کی باتیں