بچے کی تربیت کا بچپن سے ہی آغاز کریں

بچے کی تربیت کا بچپن سے ہی آغاز کریں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔
التحريم : 6

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس کے ساتھ اپنے گھر والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا اہتمام کر کے انہیں بھی جہنم کی آگ سے بچائیں۔

*گھر کے سربراہ سے اپنے ماتحت افراد کی تعلیم و تربیت کے متعلق سوال ہوگا*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِيَّتِهٖ ] [ بخاري : 893 ]
’’تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے۔‘‘

*بچے کی تربیت کا آغاز شروع دن سے ہی کردیا جائے*

اس مقصد کے لیے بچپن ہی سے انھیں نماز روزے اور اسلام کے دوسرے احکام پر عمل کی عادت ڈالنی چاہیے بعض لوگ اپنے بچوں کو بچے سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں اور یہ سوچتے ہوئے وقت پہ وقت گزرتا جاتا ہے کہ کوئی بات نہیں ابھی بچہ ہے بڑا ہو گا تو سمجھائیں گے وغیرہ وغیرہ
لوگوں کی یہ بات درست نہیں ہے بچے کی تربیت کا آغاز بچپن سے ہی کردینا بہت ضروری ہے

*والدین اگر لاپرواہی کرتے ہیں تو بچے کی گمراہی کے ذمہ دار ہیں*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ
بخاري : 1358
"ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔”

آئیے بچے کی تربیت کے حوالے سے چند اہم اور ضروری اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں

1️⃣ *اپنے بچے کو تربیت کرنے والی ماں فراہم کریں*

یقین کیجئے کہ بچے کی تربیت کا آغاز بچے کے دنیا میں آنے سے بھی بہت پہلے ہوجاتا ہے آپ حیران ہوں گے کہ ایک جان جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تو اس کی تربیت کا آغاز کیسے؟
جی ہاں یہ ایسے ہی ہے
بھلا یہ بات کسی سے مخفی ہے کہ بچے کی تربیت میں سب سے زیادہ کردار بچے کی ماں کا ہوتا ہے

*لوگ اپنے بچے پر سب سے پہلا ظلم تب کرتے ہیں جب اس کے لیے نیک پارسا اور اچھی تربیت کرنے والی ماں کا انتخاب نہیں کرتے*

*مادہ پرستی میں مبتلا لوگوں کی حالت یہ ہے کہ رشتوں کے انتخاب اور تلاش کے وقت سو فیصد توجہ مال و زر اور حسن و خوبصورتی پر ہوتی ہے والدین، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے دل میں فقط ایک ہی خواب گردش کر رہا ہوتا ہے کہ ہم نے وہ بہو لانی ہے جو اچھی ڈاکٹر ہو، جاب ہولڈر ہو، پیسہ خوب کماتی ہو یا پھر حسن و جمال کی پری ہو پھر اس خواب کو پورا کرنے کے چکروں میں بدعقیدہ، بدعات میں مبتلا، نماز روزہ تقوی و عبادات سے کوسوں دور، بداخلاق، اڑیل اور لایعنی یاواگوئیاں مارنے والی بہو کو بھی محض پیسوں کے لالچ میں قبول کرلیا جاتا ہے یوں نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ وقتی طور پر پیسہ تو شاید مل جائے مگر آنے والے کل میں یہی عورت اپنے بچوں کی تربیت میں کیا کیا گل کھلاتی ہے، اللہ کی پناہ*

*اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رشتوں کے انتخابی معیار کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:*

عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا
اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔
التحريم : 5

اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو بیوی کے انتخاب کے وقت ان صفات کی حامل عورت کو ترجیح دینی چاہیے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔

*دین والی عورت کے ساتھ نکاح کر*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَ لِدِيْنِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ]
[ بخاري : 5090 ]
’’عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب اور اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، سو تو دین والی عورت کے ساتھ نکاح میں کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔‘‘

سو رشتہ کرتے وقت خاص مطمع نظر "دینداری” کا حصول ہونا چاہیئے۔ کیونکہ آپ کو شریکِ حیات چاہیے، زندگی کا سکون چاہیے، اپنے بچوں کے لیے بہترین معلمہ اور مربیہ چاہیے نہ کہ مال، چودھراہٹ، خوبصورتی اور گھریلو ملازمہ

*عورت بگڑ جائے تو گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے*

الشيخ صالح الفوزان حفظه الله فرماتے ہیں :
إِذَا ضَاعَتِ المَرْأَةُ ضَاعَ البَيْتُ، وَإِذَا ضَاعَ البَيْتُ ضَاعَ الأَوْلَادُ، وَإِذَا ضَاعَتِ البُيُوتُ ضَاعَ المُجْتَمَعُ.
[محاضرات في العقيدة والدعوة ص 162]
جب عورت بگڑ جائے تو گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے اور جب گھر کا ماحول خراب ہو جاۓ تو اولاد بگڑ جاتی ہے اور جب گھروں کے گھر بگڑ جائیں تو سارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے

علامہ ابن عثيمين رحمه الله فرماتے ہیں :
"فَعَلَيْكَ بِالمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ، لِأَنَّهَا خَيْرٌ لَكَ مِنِ امْرَأَةٍ جَمِيلَةٍ لَيْسَتْ بِصَالِحَةٍ. "
[ شرح رياض الصالحين (٣/١٤١) ]
نیک بااخلاق عورت کو لازم پکڑو کیونکہ وہ آپ کے لئے اس خوبصورت عورت سے بہتر ہے جو نیک اور با اخلاق نہیں

*قاضی نے ماں کے حق میں کیوں فیصلہ دے دیا*

إمام ابن القيم (رح ) نے شيخ الإسلام ابن تيمية (رح ) سے سنا :
دو والدین (ماں اور باپ) ایک بچے کے بارے میں ایک حاکم کے پاس جھگڑنے آئے، تو حاکم نے بچے کو اختیار دیا کہ وہ ان دونوں میں سے کسے چُنے، تو بچے نے اپنے باپ کو چُن لیا۔ ماں نے کہا: اس سے پوچھو، اس نے باپ کو کیوں چُنا؟
چنانچہ قاضی نے بچے سے پوچھا، تو بچے نے کہا :
أُمِّي تَبْعَثُنِي كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الكُتَّابِ، وَالفَقِيهُ يَضْرِبُنِي! وَأَبِي يَتْرُكُنِي أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ
میری ماں مجھے روزانہ مدرسے بھیجتی ہے، اور وہاں استاد مجھے مارتا ہے! جبکہ میرا باپ مجھے چھوڑ دیتا ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیلتا پھروں
چنانچہ قاضی نے بچے کو ماں کے سپرد کر دیا، اور کہا :
أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ.
[زاد المعاد (5/ 475]
تُو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے۔

*بیٹوں کی مثالی تربیت کرنے والی چند مائیں*

امام اوزاعی رحمہ اللہ جن کا اصل نام عبد الرحمن بن عمرو تھا، بعلبک میں پیدا ہوئے اور کم سنی ہی میں والد کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے۔ والده حصول علم اور طلب معاش کے لیے انھیں لے کر کئی علاقوں میں منتقل ہوتی رہیں۔ انھوں نے یتیمی اور غربت کو آڑے نہ آنے دیا اور وہ وقت بھی آیا کہ شام کے بہت بڑے عالم بن گئے۔ وہ فقہ اور حدیث میں علم کے بحر بے کراں تھے۔ ان کے متعلق بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں :
"انہوں نے اپنی زندگی میں ستر ہزار مسئلوں کا جواب دیا۔
سير أعلام النبلاء : 111)

*احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ماں کی تربیت کا انداز*

امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ کہتے ہیں کہ میری والدہ نے مجھے دس سال کی عمر میں حفظ کروا دیا تھا۔ وہ مجھے نماز فجر سے پہلے جگاتیں اور بغداد کی یخ بستہ راتوں میں میرے لیے وضو کا پانی گرم کرتیں۔ اس کے بعد وہ مجھے لباس پہناتیں اور پھر اپنی اوڑھنی اور حجاب لیتیں اور مسجد تک میرے ساتھ جاتیں کیوں کہ مسجد ہمارے گھر سے کافی دور تھی اور راستہ اندھیرا ہوتا تھا!

امام وكيع بن جراح رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی والدہ نے انہیں کہا :
يَا بُنَيَّ اطْلُبِ الْعِلْمَ وَأَنَا أَكْفِيكَ مِنْ مِغْزَلِي، يَا بُنَيَّ، إِذَا كَتَبْتَ عَشْرَةَ أَحَادِيثَ، فَانْظُرْ هَلْ تَرَى فِي نَفْسِكَ زِيَادَةً فِي مِشْيَتِكَ وَحِلْمِكَ وَوَقَارِكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَ ذَلِكَ، فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا يَضُرُّكَ وَلَا يَنْفَعُكَ.
[تاريخ جرجان 997]
بیٹا آپ علم حاصل کیجیے میں چرخہ کات کر آپکی ضرورت پوری کروں گی
بيٹا جب آپ دس احادیث لکھیں تو اپنے اندر جھانکیں آپکے چال چلن،بردباری اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اگر ان میں اضافہ نہ دیکھیں تو جان لیں ایسا علم آپکو نہ نقصان دے رہا ہے نہ فائدہ

پھر اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیں
صَالح بن الزبير بن قيس کہتے ہیں کہ میں مرو میں تھا کہ میں نے لوگوں کو بڑے جوش سے کہتے سنا :
"قَدْ جَاءَ الثَّوْرِيُّ، قَدْ جَاءَ الثَّوْرِيُّ
” ثوری آگئے ، ثوری آگئے
میں انہیں دیکھنے کے لئے باہر نکلا تو دیکھا کہ وہ ایک جوان لڑکے تھے جس کے داڑھی کے بال ابھی نکلنا شروع ہی ہوئے تھے۔!
(سیر اعلام النبلاء وغیرہ)

*کمال تربیت کہ ماں نے اپنے بچے کے ہاتھ سے مکمل فتح الباری لکھوا دی*

یاد رہے کہ فتح الباری پندرہ بڑی جلدوں پہ مشتمل ہے جن کے اندازاً دس بارہ ہزار صفحات بنتے ہیں!
محدثِ زماں شیخ دکتور عبدالکریم الخضیر سعودی عرب کے سینئر علما میں شمار ہوتے ہیں، آپ اتھارٹی برائے کبار علما اور مستقل فتویٰ کمیٹی کے ممبر رہے ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ بیس برس کے ایک نوجوان نے ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی تحریر کردہ صحیح بخاری کی معروف شرح فتح الباری کو مکمل اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، میں نے اس سے پوچھا تو کہنے لگا : میری ماں نے مجھے ایسا کرنے کو کہا ہے تاکہ میری لکھائی اچھی ہو جائے!

2️⃣ *شکمِ مادر سے ہی بچے کی تربیت شروع کریں کیونکہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی سیکھنا شروع کر دیتا ہے*

شاید کہ بعض لوگوں کے ہاں یہ بھی ایک حیران کن بات ہو کہ بھلا ایک بچہ جو ابھی شکمِ مادر میں ہے اس کی تربیت کیسے کی جائے؟

جی ہاں ایسا نہ صرف یہ کہ ممکن بلکہ بہت آسان ہے، مان لیں کہ بچے کے سیکھنے کا عمل ماں کے پیٹ ہی سے شروع ہو جاتا ہے

*بچہ ماں کی آوازیں سنتا اور یاد کرتا ہے*

جنین کے مسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں زبان سے متعلق مہارتیں اس وقت سے پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں ، جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔
چوتھے مہینے سے بچے کے کان بن جاتے ہیں اور وہ سننے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اور ماں کی کوکھ میں جس آواز سے سب سے زیادہ اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کی ماں کی آواز ہوتی ہے
لھذا ماں اپنی کوکھ ہی کو بچے کی پہلی درس گاہ بنا کر اس کو بہت کچھ ایسا سکھا سکتی ہے جو کہ عملی زندگی میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے

*اگر ماں قرآن کی تلاوت کرے گی تو بچہ اسے یاد کرلے گا*

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں بچہ کو اپنی کوکھ میں لے کر قرآن کی جن آیات کی تلاوت باقاعدگی سے کرتی ہے وہ بچے کے لاشعور میں محفوظ ہوتی رہتی ہیں جب بچے کی تعلیم کا وقت شروع ہوتا ہے تو قرآن کی یہ آیات جو اس کے لاشعور میں محفوظ ہوتی ہیں جلد یاد ہو جاتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ بچہ کی تعلیم کا عمل ماں کی کوکھ ہی سے شروع ہو جاتا ہے

*ایک انگریز پروفیسر کی تحقیق*

پروفیسر کیتھی ہیرش پاسک(KATHY HIRSH-PASIK)، ٹمپل یونیورسٹی فلاڈیلفیا میں چھوٹے بچوں کی زبان سے متعلق شعبے کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ بچے کے دماغ میں زبان سے متعلق سرگرمی اس وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں پرورش پارہا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی ماں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔

*بچے کو باقی زبانوں کی نسبت مادری زبان پر زیادہ عبور کیوں ہوتا ہے*

اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ بچے کے لاشعور میں اس کی پیدائش سے بھی چار پانچ ماہ پہلے اس کی مادری زبان کے بہت سے الفاظ رچ بس جاتے ہیں گویا کہ مادری زبان اس کی فطرت میں گوند دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑا ہو کر اگرچہ وہ دوسری زبانیں بھی سیکھ لیتا ہے مگر جو عبور، واقفیت، دسترس ، مہارت اور اعتماد مادری زبان پر ہوتا ہے وہ کسی اور زبان پر حاصل نہیں ہو پاتا

*سو ماں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسی وقت سے اپنے بچے کی اچھی تربیت کا آغاز کردے اس کے لیے بچے کی پیدائش کا انتظار کرنا اور پھر بڑے ہو جانے کا انتظار کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ،آٹا گوندھتے ،روٹی پکاتے ،برتن صاف کرتے یا گھر کے دیگر کام کاج کرتے وقت تلاوتِ قرآن سے اپنی زبان کو تر رکھے اور ممکن ہو تو گھر میں موبائل فون وغیرہ کی صورت میں تلاوت قرآن کی آواز گونجتے رہنے کا اہتمام تسلسل سے کرے تاکہ بچے کے لاشعور میں گانے ،گالیاں، میوزک اور شیطانی آوازوں کی بجائے قرآنی ،اسلامی آوازیں محفوظ ہو سکیں*

*اور ماں کو یہ بھی چاہیے کہ اپنے پیٹ کے بچے کے لیے اچھی امنگیں، آرزوئیں ،تمنائیں اور خواہشات کا اظہار کیا کرے یقینا یہ چیز بھی بچے کے زہنی رجحانات پر بہت اثر انداز ہوتی ہے*

جیسا کہ مریم علیھا السلام کی والدہ محترمہ نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی انہیں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے وقف کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا تھا

قرآن میں اللہ تعالی نے ان کا ذکر کیا ہے انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اللہ میرے پیٹ میں جو اولاد ہے میں اس کو تیری مسجد کی خدمت کے لیے وقف کرتی ہوں
فرمایا :
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب ! بے شک میں نے تیرے لیے اس کی نذر مانی ہے جو میرے پیٹ میں ہے کہ آزاد چھوڑا ہوا ہو گا، سو مجھ سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک معلق روایت میں
( نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا )
کی تفسیر منقول ہے
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لِلْمَسْجِدِ يَخْدُمُهَا
یعنی میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے تیری مسجد کی خدمت کے لیے وقف کرتی ہوں

تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ میں تفسیر قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے :
”مُحَرَّرًا“ کے معنی ہیں کہ وہ بچہ صرف مسجد کی خدمت ہی کے لیے وقف رہے گا۔

3️⃣ *والدین دونوں بذات خود نیک بنیں گے تو بچہ بھی نیک بنے گا*

یوں تو کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ انتہائی نیک والدین سے بداخلاق اور بے دین بچہ پیدا ہو جائے اور انتہائی بے دین والدین سے بہت ہی نیک اور دین دار بچہ پیدا ہو جائے
مگر
عمومی مشاہدہ اس کے برعکس ہے
عموماً یہی ہوتا ہے کہ والدین اگر بذات خود نیک سیرت اور نیک کردار ہیں عبادات کا اہتمام کرنے والے ہیں تو پھر بچہ بھی نیک اور دین دار ہی بنتا ہے
کیونکہ بیری کے درخت کو بیر ہی لگتے ہیں اور کھجور کے درخت کو کھجور اور آم کے درخت پر آم ہی لگتے ہیں

*اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں نیکی کرنے والوں کو اجرت ضرور دیتا ہوں تو بھلا نیک اولاد کا مل جانا کسی اجرت سے کم ہے؟*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اور صبر کر کہ بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
هود : 115

*حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا:*

الْبَرَكَةُ الَّتِي تَحِلُّ عَلَى الْأَبْنَاءِ تَكُونُ بِأَعْمَالِ الْآبَاءِ، وَالْبَرَكَةُ الَّتِي تَحِلُّ عَلَى الْآبَاءِ تَكُونُ بِدُعَاءِ الْأَبْنَاءِ.
البدایہ والنہایہ (20/416)
"اولاد پر جو برکت نازل ہوتی ہے وہ والدین کے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے اور والدین پر جو برکت نازل ہوتی ہے وہ اولاد کی دعاؤں کی وجہ سے ہوتی ہے۔”

*یتیم بچوں کی حفاظت ،ان کے باپ کے نیک ہونے کی وجہ سے کی گئی*

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور خضر علیہما السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے اس میں ایک بات یہ بھی بیان کی ہے کہ ان دونوں انبیاء کرام علیہم السلام نے دو یتیم بچوں کی اُس دیوار کو گرنے سے بچا لیا کہ جس میں ان دونوں بچوں کا خزانہ چھپا ہوا تھا
پھر اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں ان بچوں کے باپ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :
وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا
الكهف : 82
"اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔”

*عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
حُفِظَا بِصَلَاحِ أَبَوَيْهِمَا
وہ دونوں بچے اپنے والدین کی نیکیوں کی وجہ سے محفوظ رہے
(تفسیر بغوی)

*عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ*

سیـدنا عبداللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنه جب رات کو نماز پڑھتے اور اپنے چھوٹے بچے کو سوتے ہوئے دیکھتے تو کہتے
” اے میـرے فرزنـد ! یہ (عبادات) آپ کے روشن مستقبل کے لیے ہے”
اور روتے ہوئے سورہ کہف کی یہ آیت پڑھتے :
وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا
(اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔)

سعید بن مسیب رحمه اللّٰه نے فرمایا :
إِنِّي لَأُصَلِّي فَأَذْكُرُ وَلَدِي فَأَزِيدُ فِي صَلَاتِي
[ تفسیرِ بغوی: ٥ / ١٩٦ ]
” میں نماز پڑھتا ہوں ، پھر جب مجھے اپنی اولاد کا خیال آتا ہے، تو میں اور زیادہ عبادت کرتا ہوں۔”*

*اس واقعہ سے موضوع کے متعلق استدلال*

موسی اور خضر علیہ السلام کے واقعہ اور اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے نقصانات سے محفوظ رہیں تو ضروری ہے کہ آپ خود بھی نیک بنیں سو اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے رب العالمین کی عبادت کیا کریں
لھذا اگر والدین کے نیک بننے کی وجہ سے بچے دنیاوی نقصانات سے بچ سکتے ہیں تو یقینا والدین کی نیکیوں کی وجہ سے بچے دینی نقصانات سے بھی ضرور بچ پائیں گے اور ان کی اچھی تربیت ہوگی

*ایک دوسرے کو نیکی کے لیے اٹھانے والے جوڑے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا*

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ
(ابوداؤد : 1450 حسن صحيح)
” رحم کرے اللہ اس شخص پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے ۔ اگر انکار کرتی ہے ، تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے ۔ اور رحم کرے اللہ تعالیٰ اس عورت پر جو رات کو اٹھتی اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی جگاتی ہے ۔ اور اگر وہ انکار کرتا ہے ، تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے ۔ “

4️⃣ *پیدائش کے فوراً بعد بچے کی تربیت پر توجہ دیں*

آپ کو معلوم ہے کہ بچے کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی شیطان اسے گمراہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں شروع کر دیتا ہے
پہلا دن تو پھر بڑا ہے شیطان تو پیدا ہوتے ہی ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں کرتا اور بچے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانُ”
[بخاری : 3431 ]
’’ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے، شیطان کے اسے چھونے کی وجہ سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے۔‘‘

لھذا یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ شیطان ہمہ وقت انسانوں کو بہکانے میں لگا ہے، وہ ہر ایک پر محنت کرتا ہے، بڑے تو بڑے، وہ نابالغ معصوم اور پہلے دن کے بچوں کو بھی گمراہی اور بربادی کی طرف ابھارتا ہے، اس میں وہ کوئی لمحہ رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

*اپنے معصوم بچوں کو شیطان کے حوالے مت کریں، جب شیطان بچوں کو گمراہ کرنے کے لیے بچے کے پہلے دن سے اپنا کام کر رہا ہے تو ہم کیوں فقط بچہ سمجھ کر نظر انداز کرتے جائیں*

از حد ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو شیطانی وساوس اور حملوں سے بچا کر رکھیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ
بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے دشمن ہی سمجھو ۔ وہ تو اپنے گروہ والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھڑکتی آگ والوں سے ہو جائیں۔
فاطر : 6

*ہر بچے کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے اگر آپ اپنے بچے کی مناسب تربیت اور زہن سازی نہیں کریں گے تو وہ شیطان اسے کہاں سے کہاں تک لے جائے گا*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ "
صحيح مسلم |2814
"تم میں سے کوئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کردیا ہے (جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے۔)

اس لیے ضروری ہے کہ بچے کو محض بچہ ہونے کی بنا پر گناہ کرنے کی اجازت مت دیں، کیونکہ بچپن میں گو کہ گناہ درج نہیں ہوتا، مگر بچہ گناہ کا عادی ضرور بن جاتا ہے۔ اس لیے کہ شیطان بچپن سے ہی بہکانا شروع کر دیتا ہے۔

*بچے کو پیدا ہوتے ہی شیطان سے بچانے کے لیے اللہ رب العزت کی پناہ میں دے دیں*

جیسا کہ مریم علیھا السلام کی والدہ محترمہ نے جب مریم کو جنم دیا تو یہ دعا کی :
وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
اور بے شک میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
آل عمران : 36

*شیطان بچوں کو بھی بہکاتا ہے اس پر ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں*

امام عبد اللہ بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ إِلَی السُّوقِ، فَمَرَّ عَلٰی جَارِیَۃٍ صَغِیرَۃٍ تُغَنِّي، فَقَالَ: إِنَّ الشَّیْطَانَ لَوْ تَرَکَ أَحَدًا لَتَرَکَ ھٰذِہٖ.
(الأدب المفرد للبخاري: 784، شُعب الإیمان للبیہقي: 4748، وسندہٗ صحیحٌ)
"میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ بازار کی طرف نکلا، آپ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک چھوٹی بچی کے پاس سے ہوا، جو گانا گا رہی تھی، فرمایا: اگر شیطان کسی کو (بہکانا) چھوڑ دیتا، تو اس بچی کو چھوڑ دیتا (مگر وہ اس پر بھی اپنے وار کرتا ہے)۔”

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس فرمان میں ہمارے دور کے ان والدین کے لیے بہت بڑا سبق ہے، جو اپنے بچوں کو بچپن کی آڑ میں ہر قسم کے گناہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ بچے موبائل پر میوزک سنتے ہیں، کارٹون اور طرح طرح کے ترہات کی سماعت اور بصارت کرتے ہیں، شیطان بچوں کا میلان گناہوں کی طرف کر دیتا ہے۔ جس بچے کو موبائل پر غلط سلط اشیاء دیکھنے کا چسکا لگ گیا، پھر وہ تلاوت یا اچھی بات سننے پر راضی نہ ہو گا۔
بلکہ مشاہدہ ہے کہ ڈیڑھ ڈیڑھ سال کے بچے موبائل پر ایک بار غلط چیز سن یا دیکھ لیں، تو وہ زبان حال یا زبان مقال سے وہی چیز دیکھنے یا سننے کی ضد کرتے ہیں۔ یہ ابلیسی بہکاوا نہیں تو اور کیا ہے؟
اس لیے والدین کو نصیحت ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی ان کی اسلامی تربیت کا آغاز کریں۔ انہیں لوری سنائیں تو کلمہ وذکر کی، ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کریں، اسے اچھی اشیا دکھائیں، تاکہ اس کا دل روز اول سے ہی سلیم وصفا رہے، اگر با امر مجبوری کبھی بچے کو موبائل پر کچھ سنانا یا دکھانا بھی پڑے تو صرف جائز چیز ہی دکھائی سنائی جائے، کیونکہ بچے سمجھانے سے زیادہ دیکھ سن کر سیکھتے ہیں۔
اگر دوام کے ساتھ تربیت کا یہ انداز رکھا جائے تو قوی امکان ہیں کہ بچہ شیطانی چالبازیوں سے محفوظ رہے گا اور بڑا ہو کر معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو گا، ان شاءاللہ
محمد ارسلان الزبیری

5️⃣ *بچے کی اچھی تعلیم کا اہتمام کریں*

*بچے کو سب سے پہلے "لا الہ الا اللہ” پڑھائیں*

امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سلف صالحین پسند کرتے تھے کہ بچہ جب بولنا شروع کرے تو اسے سات مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ . پڑھایا جائے تاکہ وہ سب سے پہلے جو بات کرے وہ یہی ہو۔
[المصنف لعبد الرزاق – ت الأعظمي ٣٣٤/٤ ورجاله ثقات]

*بچے کی تعلیم کا آغاز حفظ القرآن اور حفظِ حدیث سے کریں*

ہمارے معاشرے میں ایسی مثالیں تو بکثرت ملتی ہیں کہ نئے مکان، نئی دکان، نئی گاڑی یا نئے کاروبار کا آغاز کرتے وقت لوگ قرآن خوانی یا اس سے ملتے جلتے کسی مذہبی ٹچ کا اہتمام ضرور کرتے ہیں
مگر
جب بچے کی تعلیم کے آغاز کی باری آتی ہے تو نرسری، پلے اور پریپ جیسی کلاسز میں بے مقصد انگریزی اور فضول قسم کی کتابوں اور نصابوں کا بھاری بھرکم بوجھ ننھی کونپل کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے

*ہمارے اسلاف کا کیا طریقہ کار تھا؟*

ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كانَ السَّلَفُ إذا نَشَأَ لأَحَدِهِم وَلَدٌ شَغَلُوهُ بِحِفْظِ القُرْآنِ، وَسَمَاعِ الحَدِيثِ، فَيَثْبُتَ الإِيمَانُ في قَلْبِهِ.
(صيد الخاطر: 491)
سلف کے ہاں بچہ بڑا ہونے لگتا تو اسے حفظ قرآن اور سماع حدیث میں مشغول کرتے یوں ایمان اس کے دل میں پختہ ہو جاتا۔“

*بچپن کا حفظ پتھر پر لکیر کی مانند ہوتا ہے*

قتادہ بن دعامہ تابعی رحمہ اللہ (١١٧هـ) فرماتے ہیں :
"اَلْحِفْظُ فِي الصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي الْحَجَرِ.”
(الطبقات الكبرى – ط الخانجي : ٩/‏٢٢٨)
’’بچپن کا حفظ اس طرح پختہ ہوتا ہے جیسے پتھر پر نقش ہو۔‘‘

علقمہ بن وقاص تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"مَا حَفِظْتُ وَأَنَا شَابٌّ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي قِرْطَاسٍ أَوْ وَرَقَةٍ.”
(المعرفة والتاريخ للفسوي : ٢/ ٥٥٥ ورجاله ثقات)
’’میں نے جو چیزیں نوجوانی میں یاد کی تھیں، وہ مجھے اس طرح یاد ہیں گویا میں انہیں کسی کاغذ پر دیکھ رہا ہوں۔‘‘

*آج ہمارا سکولی رجحان اور بچہ پریشان*

مگر آج افسوس کی بات ہے کہ انگریز کی نقالی کو فیشن اور برتری کا معیار بنا لیا گیا ہے، چھوٹے چھوٹے بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم کی بجائے انگریزی کے بھنور میں پھانس دیا جاتا ہے، صبح و شام بس ایک ہی دوڑ لگی ہے، والدین بھاری فیسوں اور بچے بھاری بستوں تلے دبے جا رہے ہیں، ایک غیر مانوس زبان کیساتھ مشاہیرِ اسلام کی بجائے یورپی و امریکی ہیروز کی جھوٹی کہانیاں ابتدائے و منتہائے علم سمجھ لی گئی ہیں

*مغربی ہیروز کی بجائے اسلامی تاریخ کے مشاہیر کا مطالعہ کروائیں*

ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں بیشتر کتب میں یورپی و مغربی شہروں ،تہذیبوں اور ہیروز کا تذکرہ شاملِ نصاب ہے ،ماسکو ، ٹوکیو ، لندن ، نیویارک ، پیرس اور فرانس کے تمدنی کلچر سے لے کر ابراہام لنکن، روسو اور لارڈ میکالے جیسے فلاسفرز کا تذکرہ خوب خوب پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ یہ لوگ اور نہ ہی ان کی سر زمین ہرگز ہرگز نہ تو اس اہل ہے کہ اسے آئڈیل بنایا جائے اور نہ ہی اس قابل ہے کہ بچوں کو اس کی تعلیم دی جائے
ان کے بالمقابل اسلامی تاریخ کے بے شمار ایسے روشن چہرے ہیں کہ جن کی سیرت و کردار کا مطالعہ ہمارے بچوں کی درست رہنمائی اور اچھی زہن سازی کے لیے بے حد مفید ہے

*بچے کو بچپن سے ہی صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما سے محبت سکھائیں*

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كانَ السَّلَفُ يُعَلِّمُونَ أَوْلَادَهُمْ حُبَّ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا يُعَلِّمُونَ السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ.
شرح أصول إعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي:٢٣٢٥
"سلف صالحین اپنی اولاد کو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایسے سکھاتے، جیسے قرآن کریم کی سورت سکھاتے تھے” ۔

*صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت و کردار کے موضوع پر کتب اور کہانیوں کا مطالعہ کروائیں*

إبراهيم الحربي رحمه الله إمام أحمد رحمه الله کے بارے میں کہتے ہیں :
هُوَ أَلْقَى فِي قُلُوبِنَا مُنْذُ كُنَّا غِلْمَانًا اتِّبَاعَ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقَاوِيلَ الصَّحَابَةِ، وَالاقْتِدَاءَ بِالتَّابِعِينَ.
طبقات الحنابلة [1/ 234]
انہوں نے بچپن سے ہی ہمارے دلوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی پیروی، صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اقوال، اور تابعین کی اقتداء کا جذبہ ڈال دیا تھا

*اولاد کو زبردستی دین پڑھائیں*

امام سفیان ثوری رحمه الله نے فرمایا :
آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو علم دین حاصل کرنے پر مجبور کرے کیوں کہ اس کے بارے میں اس سے حساب ہوگا اور باپ اپنی اولاد کی تعلیم کا ذمہ دار ہے۔
(سیر أعلام النبلاء ۲۷۳/۷)

امام علی بن عاصم بن صہیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ: اذْهَبْ، فَلَا أَرَى لَكَ وَجْهًا إِلَّا بِمِائَةِ أَلْفِ حَدِيثٍ.
[تاريخ بغداد [13/407]
میرے باپ نے مجھے ایک لاکھ درہم دے کر فرمایا جاؤ میں اس وقت تک آپ کا چہرہ نہ دیکھوں جب تک تم ایک لاکھ احادیث نہ حاصل کر لو

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں