1
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
2
اسلام میں عقیدۂ توحید بنیادی اساس ہے، اور ہر وہ نظریہ جو اللہ کی وحدانیت سے ہٹ کر ہو، اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق اللہ ایک ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اُس جیسا کوئی ہے؛ اسی لیے مسلمان تثلیث کے تصور کو دین کے اصولِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے خاص کی گئی ہے، اسی لیے مسلمان ایسے عقائد سے دور رہنے کی تعلیم پاتے ہیں جو وحدانیت کے تصور کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ توحید کو خالص رکھا جائے اور دین کے اصل پیغام پر قائم رہا جائے۔
مزید پڑھیںکرسمَس اور تثلیث کفریہ عقیدہ ہے
3
ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر میں تاریخی اور مذہبی حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان ایام کا تعلق حضرت فاطمہؓ کی وفات کے واقعات اور ان سے منسوب روایات سے جوڑا جاتا ہے، مگر ان کی تاریخی تعیین اور تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض الزامات اور اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے حساس موضوعات کو مستند تاریخی مصادر، غیر جانب دار تحقیق اور باوقار مکالمے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ الزامات کی تردید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب دلیل، عدل اور احترام کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امت میں انتشار کے بجائے فہم، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔
مزید پڑھیںایام فاطمیہ کی حقیقت اور الزامات کی تردید
4
لوگوں کی کم علمی کی بناء پر ہمارے معاشرے میں شرک و بدعت زیادہ پھیل رہے ہیں۔ خصوصی طور پر رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے امور شروع ہو جاتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلاً : رجب کی پہلی شب جمعہ کو صلاۃ الرغائب پڑھی جاتی ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح 26 رجب اور ستائیسویں شب معراج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسراء اور معراج تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے مگر یہ کہ کیا معراج کا واقعہ 26 رجب کو پیش آیا؟ اس کی کوئی پکی روایت نہیں ہے۔ پھر اگلے دن روزہ رکھنے کا بھی شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔
مزید پڑھیںسنت کی پیروی اور بدعات کا رد
5
رد بدعت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ الحجرات : 1 اس آیت…
مزید پڑھیںرد بدعت
6
7
8
مزید پڑھیںماہِ صفرجاہلی توہمات اور اسلامی تعلیمات
9
10