1
2
3
4
رویوں کی سختی انسان کی شخصیت کو محدود کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص ہر بات میں اپنی ہی رائے کو درست سمجھتا ہے تو نہ صرف رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ بات چیت اور سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ سخت مزاجی انسان کو نئے خیالات قبول کرنے سے روکتی ہے، جس کے باعث ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر ذہنی دباؤ، غصے اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے لچک ضروری ہے، اور سخت رویہ انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی دونوں سے دور لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیںرویوں کی سختی کے نقصانات
5
6
ظالم اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ دنیا میں اگر اسے مہلت مل بھی جائے تو یہ مہلت دراصل آزمائش ہوتی ہے، معافی نہیں۔ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اچانک، بے حد طاقتور اور ناقابلِ فرار ہوتی ہے۔ قرآن میں بارہا ظالموں کے انجام کا تذکرہ ہے کہ اللہ دیر کرتا ہے مگر اندھیر نہیں کرتا۔ انسان کا ظلم جتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی عدالت اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ ظلم کے مقابلے میں اللہ راستبازوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالم کا انجام ہمیشہ عبرت بن کر سامنے آتا ہے۔
مزید پڑھیںظالم اللّٰہ کی پکڑ میں
7
دنیا کی چمک دمک اور ظاہری آسائشیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت ہوتی، تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔”یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں ہے۔دنیا کی محبت دل سے نکال کر جب بندہ اللہ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو وہ حقیقی سکون پا لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی بنائیں۔
مزید پڑھیںدنیا کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہیں
8
9
10