21
22
ظالم اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ دنیا میں اگر اسے مہلت مل بھی جائے تو یہ مہلت دراصل آزمائش ہوتی ہے، معافی نہیں۔ جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اچانک، بے حد طاقتور اور ناقابلِ فرار ہوتی ہے۔ قرآن میں بارہا ظالموں کے انجام کا تذکرہ ہے کہ اللہ دیر کرتا ہے مگر اندھیر نہیں کرتا۔ انسان کا ظلم جتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی عدالت اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ ظلم کے مقابلے میں اللہ راستبازوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالم کا انجام ہمیشہ عبرت بن کر سامنے آتا ہے۔
مزید پڑھیںظالم اللّٰہ کی پکڑ میں
23
دنیا کی چمک دمک اور ظاہری آسائشیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر دنیا کی اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت ہوتی، تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔”یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں ہے۔دنیا کی محبت دل سے نکال کر جب بندہ اللہ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو وہ حقیقی سکون پا لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی بنائیں۔
مزید پڑھیںدنیا کی حیثیت مچھر کے پر جتنی بھی نہیں
24
25
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ مجاہد ، عالم دین، قاری قرآن اور سخی میں ریا کاری اور فخر آجائے تو اعمال برباد ہو جاتے ہیں 1089 / 1905 صحیح مسلم
مزید پڑھیںتکبر ! عبادات میں بھی برا دنیا داری میں بھی برا
26
بد دعا بعض اوقات مسلمانوں کی کفار کے خلاف ہوتی ہے۔ ان میں انبیاء کرام اور عام لوگوں کی بد دعا بھی شامل ہوتی ہے جس پر کفار کی پکڑ ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات بد دعا کرنے والا مسلمان ہوتا ہے اور کبھی اپنے خلاف کبھی اپنے مال اور اولاد کے خلاف اور کبھی اپنے دوست احباب کے خلاف کرتا ہے کبھی ماں اپنی اولاد کے خلاف بد دعا کر دیتی ہے جس سے اولاد پر سختیاں آجاتی ہیں اس لئے بولنے سے پہلے بہت دفعہ تو لنا چاہیئے ۔
مزید پڑھیںبد دعائیں اور ان پر پکڑ
27
28
29
منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ یہاں سے ہمیشہ قال اللہ وقال الرسول کی صدا بلند کی جائے ، لوگوں کو دینی تعلیم و تربیت دی جائے، دینی مسائل سے متعلق آگاہی دی جائے ، امت کے شیرازے کو جمع کیا جائے ، معاشرتی خرابیوں کی اصلاح کی جائے ، مسجد کے آداب بتلائے جائیں اور کتاب وسنت کے ساتھ جڑ کر رہنے کی نصیحت کی جائے۔ آج کے دور میں مسلمان فرقہ واریت کا شکار اور اجتماعی نظم و نسق میں کمزور ہو چکے ہیں، ایسے میں لازم ۔ ہے کہ محراب سے اتحاد و اجتماعیت کا درس دیا جائے ، اختلافی مسائل کی جگہ اتفاقی چیزوں کو موضوع بحث بنایا جائے ۔
مزید پڑھیںمعاشرتی کوتاہیاں اور منبر ومحراب کی ذمہ داریاں
30