1
دنیا کی گرمی وقتی اور محدود ہے، مگر آخرت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا کی چند روزہ آسائشوں میں غفلت اختیار نہ کرے بلکہ اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کرے۔ دنیا کی گرمی انسان کو چند لمحوں کے لیے بے چین کرتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیک اعمال، توبہ و استغفار اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
مزید پڑھیںدنیا کی گرمی بمقابلہ آخرت کا عذاب
2
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت پائی، اسلام کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں اور دین کو امت تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات تاریخی حقائق، قرآنِ کریم اور صحیح احادیث کے منافی ہیں۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قابلِ احترام ہیں اور ان کے درمیان پیش آنے والے معاملات میں زبان اور قلم کی احتیاط ضروری ہے۔ صحابہ کرام کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور ان کے فضائل و مناقب کا بیان امت کے لیے ہدایت اور اتحاد کا ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیںصحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر جھوٹے الزامات کا جواب
3
4
فرد کی اصلاح میں دینی تعلیم اور مدارس کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ ادارے انسان کو اخلاقیات، صبر، برداشت اور سچائی جیسے اوصاف سکھاتے ہیں۔ مدارس میں دی جانے والی تعلیم نہ صرف مذہبی علم فراہم کرتی ہے بلکہ کردار سازی اور روحانی تربیت کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے ذریعے فرد اپنے اعمال کو بہتر بناتا ہے اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، جس سے ایک مہذب اور پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
مزید پڑھیںفرد کی اصلاح میں دینی تعلیم اور مدارس کا کردار
5
6
خشیتِ الٰہی سے بہنے والے آنسو مومن کے دل کی نرمی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے حقیقی ادراک کی علامت ہوتے ہیں۔ جب بندہ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اور اللہ کی پکڑ کا تصور کر کے رو پڑتا ہے تو یہ آنسو اس کے لیے رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے آنسو نہ صرف دل کو پاک کرتے ہیں بلکہ انسان کو تقویٰ، عاجزی اور اخلاص کی طرف بھی لے جاتے ہیں، اور یہی کیفیت اللہ کے قرب کا سبب بنتی ہے۔
مزید پڑھیںخشیت الہٰی سے بہنے والے آنسو
7
8
9
نیا سال آنا دراصل خوشی کا نہیں بلکہ سوچ اور خود احتسابی کا پیغام ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال اور کم ہو جاتا ہے۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اس لیے عقل مند وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، تقویٰ اور اللہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص گزرے ہوئے وقت سے سبق لے کر آنے والے دنوں کو بہتر بنا لے، وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے۔
مزید پڑھیںنیا سال عمر ایک سال اور کم ہو گئی
10