داغ لگوانے کا فائدہ یقینی ہو اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو اس کے ذریعے سے علاج جائز بصورت دیگر نا جائز ہے بشرطیکہ عقیدہ یہ ہو کہ یہ محض سبب ہے، شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، نیز تندرست آدمی کے لیے داغ لگوانا حرام ہے
شىخ صلاح بن محمد البديرجامعہ بلال الاسلامیہ
داغ لگوانے کا فائدہ یقینی ہو اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو اس کے ذریعے سے علاج جائز بصورت دیگر نا جائز ہے بشرطیکہ عقیدہ یہ ہو کہ یہ محض سبب ہے، شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، نیز تندرست آدمی کے لیے داغ لگوانا حرام ہے 777۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نبی اکرمﷺ…