مصیبت، بیماری، تکلیف، پریشانی ، غم وحزن اور دلی رنج والم زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں رہتی ہی ہیں، یہاں دنیا میں کوئی سکھی نہیں، کہ جو من چاہی زندگی بسر کر رہا، تکلیف کا عالم یہ ہے کہ کوئی محبوب کی جدائی میں غم زدہ ہے تو کوئی محبوب کا منتظر ہے، یا تو کسی محبوب چیز کے چھن جانے سے، یا کسی ناپسندیدہ چیز کے پیش آنے سے۔
بالفرض اگر تمام مصیبتیں اور بیماریاں کسی کپڑے میں باندھ کر آسمان پر رکھ دی جائیں، پھر ان کی گرہ کھول دی جائے تو ہمارا ایمان ہے کہ وہ تکالیف و مصائب عین اُسی بندے پر نازل ہوں گی جس کے مقدر میں اللہ تعالیٰ لکھ رکھی ہیں۔
اس حقیقت پر یقین ہونا چاہیے کہ ہر خیر وشر اور بیماری و پریشانی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں۔