1
2
شراب نوشی اور منشیات کا استعمال فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ نشہ کرنے والا شخص اکثر اپنے فرائض سے غافل ہو جاتا ہے، جس سے اس کے خاندان میں مسائل، جھگڑے اور معاشی تنگی پیدا ہوتی ہے۔ معاشرے کی سطح پر یہ برائیاں جرائم، بدامنی اور اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی ان چیزوں سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں تاکہ ایک صحت مند اور پرامن معاشرہ قائم ہو سکے۔
مزید پڑھیںشراب نوشی اور منشیات کے فرد اور معاشرے پر برے اثرات
3
بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ایسے حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ اسلام سادہ زندگی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے غیر ضروری اخراجات سے بچنا، گھریلو بجٹ بنانا اور آمدنی کے مطابق زندگی گزارنا بہترین حل ہے۔ موجودہ دور میں مالی نظم و ضبط (financial management) اپنانا، ضروریات اور خواہشات میں فرق کرنا، اور بچت کی عادت ڈالنا مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں سادگی، بچت اور قناعت کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر بھی مہنگائی کے مسائل کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںبڑھتی مہنگائی اور کفایت شعاری کی راہیں
4
5
خودکشی کے اسباب میں مایوسی، شدید ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات، خاندانی جھگڑے، تنہائی اور دینی کمزوری نمایاں ہیں، جب انسان مشکلات کے سامنے ہمت ہار بیٹھتا ہے تو یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ اسلام میں خودکشی سخت حرام ہے اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس کا تدارک صبر، توکل، دعا اور اللہ سے مضبوط تعلق کے ذریعے ممکن ہے۔ اہلِ خانہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ پریشان افراد کی بات سنیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ دینی تعلیمات، مثبت سوچ، بروقت مشاورت اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد لینے سے ذہنی سکون حاصل ہو سکتا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںخودکشی کے اسباب اور تدارک
6
اسلام میں میاں بیوی کا رشتہ محبت، اعتماد اور ذمہ داریوں کے توازن پر قائم ہے۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ بیوی کی عزت، نان نفقہ اور حفاظت کا پورا خیال رکھے، جبکہ بیوی کا حق ہے کہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔ بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی وفادار، خیرخواہ اور گھر کے نظام کو سنبھالنے میں شریک ہو۔ جدید دور میں مصروفیات، ٹیکنالوجی، غلط فہمیاں اور معاشرتی دباؤ نے ازدواجی زندگی کو نئے چیلنجز دیے ہیں۔ ان مسائل کا حل یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں، باہمی گفتگو کو مضبوط بنائیں، برداشت کا راستہ اختیار کریں اور اسلامی اصولوں کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں۔ یہی طریقہ گھر میں سکون، محبت اور کامیابی پیدا کرتا ہے۔
مزید پڑھیںمیاں بیوی کے بنیادی حقوق و فرائض اور جدید مسائل
7
والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، جن کی خدمت میں ہی انسان کی کامیابی اور برکت چھپی ہے۔ماں کی محبت جنت کی خوشبو رکھتی ہے اور باپ کی شفقت زندگی کا سہارا ہے۔اسلام نے والدین کے احترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور ان کی نافرمانی کو سخت گناہ بتایا ہے۔جو اولاد اپنے والدین کی خدمت اور دعا حاصل کرتی ہے، اس کی زندگی سکون، رحمت اور کامیابی سے بھر جاتی ہے۔
مزید پڑھیںوالدین کا شان مقام اور ادب و احترام
8
منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ یہاں سے ہمیشہ قال اللہ وقال الرسول کی صدا بلند کی جائے ، لوگوں کو دینی تعلیم و تربیت دی جائے، دینی مسائل سے متعلق آگاہی دی جائے ، امت کے شیرازے کو جمع کیا جائے ، معاشرتی خرابیوں کی اصلاح کی جائے ، مسجد کے آداب بتلائے جائیں اور کتاب وسنت کے ساتھ جڑ کر رہنے کی نصیحت کی جائے۔ آج کے دور میں مسلمان فرقہ واریت کا شکار اور اجتماعی نظم و نسق میں کمزور ہو چکے ہیں، ایسے میں لازم ۔ ہے کہ محراب سے اتحاد و اجتماعیت کا درس دیا جائے ، اختلافی مسائل کی جگہ اتفاقی چیزوں کو موضوع بحث بنایا جائے ۔
مزید پڑھیںمعاشرتی کوتاہیاں اور منبر ومحراب کی ذمہ داریاں
9
خود غرضی ، مفاد پرستی اور مطلب پرستی (Personal Gain/Nepotism / Selfishness) مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اغراض ، فوائد اور منفعت کو دوسروں کے حقوق ، اجتماعی فلاح و بہبود اور عمومی مفادات پر ترجیح دے۔ یہ ایک ایسی مہلک اخلاقی بیماری ہے جو افراد، خاندانوں، معاشروں اور اقوام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس…
مزید پڑھیںخود غرضی اور مطلب پرستی
10