1
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
2
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول ہیں، جنہیں قرآنِ مجید میں عظیم مقام عطا کیا گیا ہے۔ آپ کو بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی روشن نشانی ہے اور آپ کو معجزات عطا کیے گئے، جیسے مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینا اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے توحید، تقویٰ، محبت، رحم اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دی اور بنی اسرائیل کو اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ قرآن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت و رفعت عطا فرمائی اور قیامت کے قریب آپ کی دوبارہ آمد حق اور عدل کے غلبے کا سبب بنے گی، جو آپ کے عظیم فضائل اور بلند مناقب کا واضح ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کے فضائل اور مناقب
3
آیت "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ہدایت اور بعثت کو تمام انسانیت اور مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، اور سیرت ہر دل میں رحمت، ہدایت اور سکون لانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی شفقت، انصاف، صبر اور محبت کا مظہر ہے، اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی اتباع اور تعلیمات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں برکت اور ہدایت کا باعث ہے۔
مزید پڑھیںوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
4
آیت "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان و مرتبہ کو بلند فرمایا ہے اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی عظمت اور مقام نہ صرف مخلوق میں بلند ہے بلکہ اللہ کی ذات کے نزدیک بھی آپ کی یاد اور شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ ہمیں اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق اور سیرت کو اپنانا ہر مومن کے لیے باعث عزت اور برکت ہے، کیونکہ آپ کا ذکر اور مقام صرف عبادت، اتباع اور محبت کے ذریعے ہی ہمارے دلوں میں بھی بلند ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںورفعنا لك ذكرك
5
اسلام میں نبی کریم ﷺ کے معجزات اور نشانیوں کا بڑا مقام ہے، جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور حقانیت کا یقین دلانے کے لیے ظاہر کیے۔ ان میں چاند کے دو ٹکڑوں کا واقعہ بھی شامل ہے، جو ایک عظیم نبوی کرامت کے طور پر مشہور ہے۔ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے اور نبی ﷺ کی صداقت کی علامت ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معجزات کو ایمان کی بنیاد کے طور پر سمجھے، ان میں شک نہ کرے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، کیونکہ یہ کرامات اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی رسالت کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیںمعجزات نشانیاں اور چاند کے دو ٹکڑے
6
غدیر خم کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی ولایت اور اہلِ بیت کی عظمت سے آگاہ فرمایا۔ اس دن آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ "من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ”، یعنی جو میرا دوست اور رہنما ہے، وہ علیؓ کا بھی دوست اور رہنما ہے۔ اہلِ بیت کی فضیلت قرآن و حدیث میں بار بار بیان ہوئی ہے، اور انہیں پیغمبر ﷺ کی شفاعت، قرب اور امت کی رہنمائی کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت کے احترام اور محبت میں ایمان کی تکمیل مضمر ہے، اور ان کے فضل اور قرب سے دنیا و آخرت میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیںغدیر خم کی تفصیل اور اہل بیت کے فضائل
7
رسول رحمت ﷺ کی زندگی رحمت، حسن اور جمال کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کا چہرہ نورانی، اخلاق مہربان اور ہر عمل میں حسن سلوک نمایاں تھا۔ آپ ﷺ کی بشارتیں ایمان والوں کے دلوں میں امید اور خوشی پیدا کرتی تھیں، اور آپ ﷺ کی شخصیت ہر انسان کے لیے محبت، شفقت اور رحمت کا درس تھی۔ حضور ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حسن و جمال صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہونا چاہیے، اور حقیقی خوشی اللہ کی رضا اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔
مزید پڑھیںرسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم بشارتیں اور حسن و جمال
8
نبی کریم ﷺ کے آخری ایام نہایت درد، وصیت اور امت کی خیر خواہی سے بھرپور تھے۔ بیماری کے باوجود آپ ﷺ کی سب سے بڑی فکر امت کی ہدایت اور وحدت تھی۔ آخری لمحات میں بھی آپ ﷺ بار بار نماز کی اہمیت اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرماتے رہے۔ جب وقتِ وصال قریب آیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: "اللهم الرفیق الأعلى” — یعنی "اے اللہ! مجھے اعلیٰ رفیق کے پاس لے جا۔” یہی آپ ﷺ کا آخری کلمہ اور آخری خواہش تھی، اور اسی عظیم جملے کے ساتھ آپ ﷺ کی زندگی ختم ہوئی۔ یہ لمحہ پوری امت کے لیے عشق، درد اور سیرت کا روشن ترین سبق ہے۔
مزید پڑھیںوفات النبی، آخری ایام ، آخری لمحات اور آخری کلمہ
9
عشرۂ مبشرہ کے علاوہ بھی کئی عظیم صحابہ کرام ایسے ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر جنت کی خوشخبری سنائی۔ ان میں سیدنا حسان بن ثابتؓ، سیدنا بلالؓ، سیدنا عکاشہ بن محصنؓ، سیدنا عبداللہ بن سلامؓ، اور سیدنا فاطمہؓ کے گھر والوں سمیت کئی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔ ان صحابہ نے ایمان، قربانی، خدمتِ دین اور نبی ﷺ کی اطاعت میں ایسے مقام حاصل کیے کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں ان کے لیے جنت کی بشارت بیان فرمائی۔ یہ خوشخبری ان کے اعلیٰ کردار، اخلاص اور اللہ کے دین کے لیے بے مثال جدوجہد کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںعشرہ مبشرہ کے علاوہ جنت کی بشارت پانے والے صحابہ کرام
10
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ﷺ، عظیم مدبر، عادل حکمران اور اعلیٰ منتظم تھے۔آپ نے اپنی دور اندیشی، عدل و انصاف اور علم و حکمت سے امت کو استحکام عطا کیا۔ان کی قیادت میں اسلامی سلطنت نے ترقی و وسعت کے نئے دور میں قدم رکھا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں حکمت، صبر اور عدل کا سبق دیتی ہے — آپ کی خدمات اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
مزید پڑھیںامیرالمؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ