کامیاب گھریلو زندگی کے اصول و آداب

﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤی اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْـًٔا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا۝۱۹﴾ (النساء:19)

اس حقیقت سے کبھی واقف ہیں کہ یہ دنیا غموں، پریشانیوں، دکھوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کا گھر ہے، زندگی بھر انسان کو بے شمار مسائل کا سامنا رہتا ہے اور کوئی اس سے مستثنی نہیں ہے، کسی کو مفر نہیں ہے۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے مسائل میں گھریلو مسائل کا بھی ایک اچھا خاصہ حصہ ہے، اور گھریلو مسائل، خارجی مسائل سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں، کیونکہ گھر کو جائے سکون قرار دیا گیا ہے اور جائے سکون میں اگر سکون نہیں ملے گا تو پھر اور کہاں ملے گا؟ جیسا کہ دنیا کی تمام نعمتوں کا لب لباب اور خلاصہ حدیث میں جن تین چیزوں کو بتایا گیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے اہل خانہ کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہ رہا ہو۔ آپ ﷺنے فرمایا:

((مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ ، عِنْدَهُ قُوْتُ يَوْمِهِ ، فَكَأَنَّمَا حِيْرَتْ لَهُ الدُّنْيا )) (ابن ماجة:42)

’’جو شخص اپنے اہل و عیال میں امن و امان کے ساتھ ہو، جسمانی طور پر ظاہری اور اندرونی بیماریوں اور تکلیفوں سے محفوظ ہو اور اُس دن کا راشن اس کے پاس موجود ہو، تو اس کے لیے گویا پوری دنیا سمیٹ کے رکھ دی گئی ہے۔‘‘

تو معلوم ہوا کہ گھر یلو مسائل انسان کی زندگی کے بڑے اور بنیادی مسائل ہیں، گذشتہ چند جمعوں سے اُنہی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ جمعے اس سلسلے میں گھر کے ماحول کو خوشگوار یا نا خوشگوار بنانے میں مرد کے کردار کا ذکر ہو رہا تھا کہ گھریلو اختلافات اور مسائل کی مرد پر کتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تو اس ضمن میں مرد کے فرائض اور ذمہ داریوں میں کچھ تساہل کا ذکر ہوا، جن کے سر فہرست مرد کی یہ کوتاہی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی سے واقفیت نہیں رکھتا، اسی طرح کچھ اور کوتاہیاں بھی ہیں جیسا کہ مرد کا سر براہی کے نشے میں مدہوش ہو کر بیوی کو حقیر اور کمتر سمجھنے لگ جانا ، ایسے ہی حکمت کی کمی، حلم و بردباری اور صبر وتحمل کا فقدان وغیرہ بھی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ذرا غور کریں تو بڑی مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی شخص کو کسی ادارے کا سربراہ مقرر کیا جائے مگر اسے یہ تک معلوم نہ ہو کہ اسے کرنا کیا ہے، اس کے فرائض منصبی کیا ہیں ادارے کو Manage کیسے کرنا ہے، اور مزید یہ کہ اس میں حکمت و دانائی اور صبر وتحمل کا فقدان بھی ہو، تو ایسا شخص اپنی نا اہلی کا غصہ پھر ملازمین پر ہی نکالے گا کہ تمھیں کام کرنا نہیں آتا، حالانکہ اسے کام لینا نہیں آتا، ایک مینیجر کا کام چیزوں کو مینیج کرنا نظم و نسق میں رکھنا اور انتظام کرنا ہی تو ہوتا ہے، صرف قصہ نکالنے، ڈانٹ پلانے اور مار پیٹ کرنے کا نام تو سر براہی نہیں ہے، بلکہ حکمت ، صبر و تحمل اور خوش اسلوبی سے ادارے کو چلانا سر براہی ہوتا ہے۔

تو اللہ تعالی نے جس کو گھر کا نظام چلانے کی ذمہ داری سونچی ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے فرائض منصبی سے واقفیت حاصل کرے اپنے آپ میں سربراہانہ صلاحیت اور قابلیت پیدا کرے، اور ان اصول وضوابط کی جانکاری حاصل کرے جو قرآن وحدیث نے خوش اسلوبی

سے گھر کو چلانے کے لیے لازمی قرار دیئے ہیں۔ تو ان میں سے آج کی گفتگو میں تین یا چار سب سے اہم اصولوں کا ذکر کریں گے۔ان شاء الله

اور سب سے پہلا اصل، ضابطہ اور قاعدہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو سیدھا کرنے کا خیال دل سے نکال دے۔

آدمی جب عورت کو سبق سکھانے یا سیدھا کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو وہ گھر کی تباہی کی بنیاد رکھ دیتا ہے اور سیدھا کرنے کا مطلب سختی ہے اور ڈنڈے کے زور سے سیدھا کرنا ہے اور یہ ایک ناممکن بات ہے کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے آپ تو ڑ تو سکتے ہیں مگر سیدھا نہیں کر سکتے اور سیدھا کرنا مرد اور عورت کے مفاد میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہر ٹیڑھی چیز کو سیدھا کیا جاتا ہے۔

یہ ضابطہ حدیث میں بیان ہوا ہے اور ہمارے اکثر گھروں میں اختلافات اور تنازعات کی ایک بڑی وجہ اس ضابطے کو نظر انداز کرنا اور پس پشت ڈالنا ہے۔

حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:

((إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضَّلَعِ إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَ إِنْ تَرَكْتَهَا اِسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَ فِيْهَا عِوَجٌ)) (صحیح مسلم: 7151)

’’ فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے کام لینا چاہو تو اس حالت میں کام لے سکتے ہو کہ اس میں ٹیڑھ موجودر ہے۔‘‘

اور ایک حدیث میں ہے کہ:

((إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَع))

’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔‘‘

((وَلَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقةٍ))

’’اور کسی صورت میں وہ تمھارے لیے سیدھی نہیں ہوگی ۔‘‘

((فَإِن اسْتَمْتَعْتَ بِهَا إِسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ))

’’اور اگر اس سے کام لینا چاہو تو اسی حالت میں کام لے سکتے ہو کہ اس میں ٹیڑھے موجودہ ہے۔‘‘

((وَ إِنْ ذَهَبتَ تُقِيمُها كسرتها))

’’اور اگر اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ ڈالو گے۔‘‘

((وَكَسْرُهَا طَلاقها)) (صحيح مسلم:1467)

’’اور اسے توڑ ڈالنے کا مطلب اسے طلاق دینا ہے۔‘‘

اس لیے سب سے پہلے تو یہ خیال دل سے نکال دیں کہ آپ اسے سیدھا کر لیں گے اور دوسری بات کہ عورت کے پہلی کی طرح ٹیڑھا ہونے اور اس کے پہلی سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے ، جاننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اتنا عرض کردوں کہ حدیث میں بیان کئے گئے عورت کے ٹیڑھا پن کا مطلب کوئی عورت کی برائی اور خامی نہیں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورت کا دماغ ٹیڑھا ہے لہذا وہ ہر کام الٹا کرتی ہے، بلکہ یہ اس کی ایک لحاظ سے خوبی بھی کہی جاسکتی ہے۔

تو آئیے جانتے ہیں:

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کسی چیز کے ٹیڑھا ہونے کا مطلب ہر دفعہ نقص اور خامی ہی نہیں ہوتا بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو ضرورت کے لیے جان بوجھ کر ارادتا ٹیڑھا بنایا جاتا ہے۔

اب اس حدیث میں عورت کو پسلی کے ٹیڑھ پن سے تشبیہ دی گئی ہے اور پسلیوں کا ٹیڑھا ہونا آدمی کی ضرورت ہے اس سے انسان کے جسم کی ایک خاص هیپ (Shape) بنتی ہے اور یہ کہ پسلیوں کی افادیت آپ جانتے ہیں کہ یہ Heart اور Lungs کو پروٹیکٹ کرتی ہیں۔ اور عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے کہ پسلیاں ہی دل کے سب سے قریب ہوتی ہیں اور جس طرح پسلیوں نے دل کے گرد حصار بنا رکھا ہوتا ہے، اسی طرح عورت بھی مرد کے دل پر چھائی ہوئی ہوتی ہے اور عورت کے ساتھ معاملات دل ہی کے ذریعے درست بنائے جاسکتے ہیں۔

عورت کی تخلیق دماغ کے قریب سے نہیں کی گئی بلکہ دل کے قریب سے کی گئی ہے، کہ عورت کی ذمہ داریوں میں سے ایک بچوں کی دیکھ بھال ہے، اور بچوں کے ساتھ معاملہ عقل سے نہیں بلکہ دل سے کیا جاتا ہے۔ کہ شفقت ، محبت اور رحمت کا پہلو عقل پر غالب ہوتا ہے۔

 علماء کرام نے اس ٹیڑھا پن کی اور بھی حکمتیں بیان کی ہیں کہ اس میں مرد اور عورت دونوں کے لیے آزمائش ہے اور ان کے صبر کا امتحان ہے اور بعض علماء کرام نے تو اس ضمن میں کیا ہی خوب صورت بات کہی ہے کہ (عجبتُ لِمَنْ كمالُه فِي اِعْوِجَاجِه ، فلو لم تكن المرأة عوجاء لما طاق الرجل احتمالها)’’ بڑی حیران کن بات ہے کہ کسی کے ٹیڑھا پن میں ہی اس کا کمال ہو ، اور اگر عورت میں ٹیڑھا پن نہ ہوتا ، تو اس کو برداشت کرنا آدمی کے بس میں نہ ہوتا ۔‘‘

 لہذا عورت کو اس کے اس ٹیڑھا پن سے نکالنے کی کوشش کرتا، اس فطرت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے کہ جس پر اللہ تعالی نے اس کی تخلیق فرمائی ہے۔ دنیا کا کوئی عقلمند سے عقلمند سرجن بھی سرجری کر کے پسلیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے، مقصد تخلیق کے خلاف ہے، مصلحت کے خلاف ہے

کہ کمان اگر ٹیڑھی نہ ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا، تیر ہدف کو نہیں پہنچتا۔

 لہذا اللہ تعالی نے عورت کو جس مزاج اور طبیعت کا بتایا ہے، اسے اس حال میں رہنے دیں، البتہ شرعی لحاظ سے اگر کہیں نقص دیکھیں تو نرم انداز میں اصلاح کی کوشش کریں اگر کوئی عادت ان کی ناپسند بھی ہو تب بھی حسن سلوک ہی کریں کہ یہ قرآن پاک کا حکم ہے۔

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (النساء:19)

’’اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔‘‘

﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤی اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْـًٔا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا۝۱۹﴾ (النساء:19)

’’اگر وہ تمھیں ناپسند ہوں، تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں نا پسند ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘

 اسی طرح قرآن وحدیث میں مردوں کو اور بہت سی نصیحتیں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے جس میں آپﷺ نے فرمایا:

((وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ )) ( ترمذي:1163)

’’عورتوں کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک کی وصیت قبول کرو کہ وہ تمھارے پاس قیدی ہیں۔‘‘

یہاں آپﷺ نے عورت کے مرد کے حکم کے تحت ہونے کو قیدی ہونے سے تعبیر فرمایا، عورت جو اپنا گھر چھوڑ کے آتی ہے، اپنے بہن، بھائی اور ماں باپ کو چھوڑ کے آتی ہے، اپنے گھر میں آزادی سے رہتی تھی، بلکہ ماں باپ کو نخرے بھی دکھاتی تھی ، خاوند کے گھر آکر اس کی آزادی ختم ہوگئی، مرضی ختم ہوگئی، خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جاسکتی، اور کسی کو آنے سے منع کر دے تو اس کو گھر میں نہیں لا سکتی چاہے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں، تو اور قید کیا ہوتی ہے۔

تو جو شخص آپ کے ماتحت ہو، آپ کے حکم پر چلے آپ کے پاس قیدی ہو اور کمزور بھی ہو اور بے سہارا بھی ہو تو اس پر ظلم کرنے کو آدمی مردانگی اور بہادری سمجھے تو ایسے آدمی کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟

آپ ﷺنے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ((لَيْسَ أَوْلَئِكَ بِخِيَارِكُمْ)) (ابو دواد:2146)

’’وہ تم میں سے اچھے لوگ نہیں ہیں ۔‘‘

حدیث میں ہے کہ ایک بار آپ ﷺنے فرمایا ہے کہ:

((لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ))

’’اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو‘‘

 تو صحابہ کرام نے مارنا چھوڑ دیا۔ تو پھر صحابہ کرام نے آکر شکایت کی کہ اے اللہ کے رسول اللہﷺ ((ذَئِرْنَ النِّسَاءُ))

’’عورتوں کی جرأت تو بہت بڑھ گئی ہے۔‘‘

((فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ))

’’آپﷺ نے مارنے کی اجازت دے دی۔‘‘

جو کہ چند پابندیوں کے ساتھ تھی، کہ چہرے پر نہیں مارنا ایسا سخت نہیں مارنا کہ جس سے خون اگلے یا ہڈی ٹوٹنے کا اندیشہ ہو۔

((فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ))

’’تو آپﷺ کے گھروں میں بہت سی عورتیں اکٹھی ہوگئیں اپنے اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر۔‘‘

 تو آپ ﷺنے فرمایا:

((لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحمد نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ))

’’آل رسولﷺ﷜ کے گرد بہت سی عورتیں اپنے اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں۔‘‘

اور فرمایا:

((لَيْسَ أَوْلٰئِكَ بِخِيَارِكُمْ)) (سنن ابی داود:2146)

’’یہ تم میں سے اچھے لوگ نہیں ہیں ۔‘‘

آپ جانتے ہیں کہ معاشرے میں کسی کو اچھا یا برا کہا جائے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے اور اچھا سمجھا جانا آدمی کے لیے کتنا بڑا اعزاز اور کتنی بڑی خوشی کا مقام ہوتا ہے، اس کے پر عکس اگر کسی کو برا سمجھا جائے تو اسے کس قدر شرمندگی ہوتی ہے اور بالخصوص آپﷺ کی نظر میں کسی کا اچھا یا برا ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔

ہم میں سے ہر شخص اچھا بن کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے، اچھا ہونے کا معیار جو لوگوں نے مقرر کر رکھا ہے اس کی بات نہیں ہو رہی، بلکہ آپ سے ہم نے آدمی کے اچھا ہونے کا جو معیار مقرر فرما رکھا ہے وہ یہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:

((خيركم خيركم لأهله و أنا خيركم لا هلي))(سنن ابن ماجه:1977)

’’تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہوں۔‘‘

اور گھر والوں کے ساتھ آپ ﷺکا معاملہ کیسا تھا، حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہ لینا بیان کرتی ہیں:

 ((مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ ، وَلا إِمْرَأَةً وَلا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُّجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ))

’’ آپ ﷺنے اپنے ہاتھ سے بھی کسی کو نہیں مارا ، نہ عورت کو ، نہ کسی خادم کو الا یہ کہ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ۔‘‘

اور ہم میں سے ہر ایک کو اچھا بنے یا کم از کم اچھا کہلوانے کی جستجو تو ضرور ہوتی ہے۔ آدمی مشکل سے مشکل امتحان پاس کر کے اپنی صلاحیت و قابلیت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیتا ہے مگر اپنے اچھا ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا شاید ہر ایک کے لیے آسان نہیں ہو گا اس لیے کہ یہ سرٹیفکیٹ صرف آدمی کی بیوی ایشو کر سکتی ہے اور وہاں سے یہ سرٹیفکیٹ لانا بہت سوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا، جوئے شیر یعنی دودھ کی نہر۔ تو یہ چند بنیادی اور سب سے اہم اصول و ضوابط میں گھریلو زندگی کو خوشگوار اور پر سکون بنانے کے۔

البتہ ایک اور بہت اہم ضابطہ ابھی باقی ہے، اس کا ذکر ان شاء اللہ آئندہ خطبہ جمعہ میں کیا جائے گا، اور وہ ہے:

﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً﴾ (الروم:21)

’’اور اللہ نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت ڈال دی۔‘‘

اور یہ اصول کامیاب گھر یلو زندگی کا سب سے اہم ضابطہ ہے۔

……………