الحکمۃ انٹرنیشنل

الحکمۃ انٹرنیشنل

کل خطبات: 467

الحکمۃ انٹرنیشنل

11
12
اسلام میں کسی بھی عمل کی قبولیت کا معیار قرآن و سنت کی پیروی ہے۔ عرس کے نام پر ہونے والی تقریبات کے بارے میں علماء کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض اہل علم اسے نیک لوگوں کی یاد اور ان کے حالات سے عبرت حاصل کرنے تک محدود رکھتے ہیں، جبکہ بعض اعمال جیسے قبروں سے مدد مانگنا، غیر شرعی رسومات، اختلاط، فضول خرچی اور ایسے امور جن کی شریعت میں دلیل نہ ہو انہیں ناجائز قرار دیتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر عمل کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھے اور عقیدۂ توحید و اتباعِ رسول ﷺ کو مقدم رکھے۔
مزید پڑھیںاسلام میں عرس کی شرعی حیثیت
13
خانہ جنگی اور فتنہ و فساد ایسے سنگین حالات ہیں جو معاشرے کے امن، اتحاد اور دینی اقدار کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسلام ایسے حالات میں مسلمانوں کو صبر، تقویٰ، باہمی اصلاح اور رجوع الی اللہ کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل، توبہ و استغفار، دعا اور عدل و انصاف کو اختیار کرنا ہی فتنوں سے نجات اور امت میں امن و سکون کے قیام کا بہترین راستہ ہے۔
مزید پڑھیںخانہ جنگی اور فتنہ وفساد میں رجوع الی اللہ
14
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > توحید وشرک
عقیدۂ توحید اسلام کی بنیاد ہے، جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد معبود مانا جائے اور ہر قسم کے شرک و باطل عقائد سے بچا جائے۔ توہم پرستی انسان کے ایمان کو کمزور کرتی ہے اور اسے غیر حقیقی خیالات اور غلط تصورات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، قرآن و سنت کی رہنمائی اختیار کرے اور بدشگونی، وہم اور غیر اسلامی عقائد سے دور رہے۔
مزید پڑھیںعقیدہ توحید اور توہم پرستی
15
16
نجات کا واحد معیار وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ حدیثِ مبارکہ «ما أنا عليه وأصحابي» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی اور فلاح صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص دین میں نئے عقائد و اعمال ایجاد کرنے کے بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، وہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی اور نجات حاصل کرے گا
مزید پڑھیںنجات کا واحد معیار، ما أنا علیه وأصحابي
17
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور کاتبِ وحی تھے، جن کی شخصیت سے متعلق مختلف ادوار میں متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ان اعتراضات کا علمی محاکمہ کرتے وقت ضروری ہے کہ قرآن و سنت، مستند تاریخی روایات اور محدثین و ائمہ کے اقوال کو بنیاد بنایا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تاریخی واقعات کا جائزہ تعصب سے ہٹ کر، تحقیق اور اعتدال کے ساتھ لیا جائے، جبکہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ادب و احترام اور حسنِ ظن کو ملحوظ رکھا جائے، کیونکہ یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کا علمی محاکمہ
18
19
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔ حقیقی محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، اخلاق، تقویٰ، صبر، عدل اور دین پر استقامت کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام ہے۔ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے، ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، باہمی اتحاد و اخوت کو فروغ دیا جائے اور ہر قسم کی نفرت، تعصب اور غلو سے بچا جائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ بیت سے محبت امتِ مسلمہ کے درمیان محبت، اعتدال اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
مزید پڑھیںمحبتِ اہل بیت کی عملی صورتیں اور تقاضے
20
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں متنوع آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض علماء اور مفکرین کا خیال ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام، امن اور تعاون کو فروغ دینا ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ دیگر ناقدین کے نزدیک اگر بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر عقائد کی بنیادی حدود کو دھندلا دیا جائے یا تمام مذاہب کو ایک ہی درجے پر پیش کیا جائے تو یہ اسلامی شناخت اور عقیدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر بحث کرتے وقت امن و احترام کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کی اعتقادی انفرادیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیںابراہیمی معاہدہ اور بین المذاھب ہم آہنگی کا دھوکہ