11
12
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔ حقیقی محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، اخلاق، تقویٰ، صبر، عدل اور دین پر استقامت کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام ہے۔ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے، ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، باہمی اتحاد و اخوت کو فروغ دیا جائے اور ہر قسم کی نفرت، تعصب اور غلو سے بچا جائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ بیت سے محبت امتِ مسلمہ کے درمیان محبت، اعتدال اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
مزید پڑھیںمحبتِ اہل بیت کی عملی صورتیں اور تقاضے
13
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں متنوع آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض علماء اور مفکرین کا خیال ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام، امن اور تعاون کو فروغ دینا ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ دیگر ناقدین کے نزدیک اگر بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر عقائد کی بنیادی حدود کو دھندلا دیا جائے یا تمام مذاہب کو ایک ہی درجے پر پیش کیا جائے تو یہ اسلامی شناخت اور عقیدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر بحث کرتے وقت امن و احترام کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کی اعتقادی انفرادیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیںابراہیمی معاہدہ اور بین المذاھب ہم آہنگی کا دھوکہ
14
نوجوان نسل میں نشہ خوری ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور کردار کو متاثر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو عقل کو زائل کرے اور انسان کو گناہ و تباہی کی طرف لے جائے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑیں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو نشہ خوری سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محبت، تربیت، نگرانی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
مزید پڑھیںنوجوان نسل میں نشہ خوری اور ہماری ذمہ داری
15
حضرت سیدنا ابراہیمؑ کی دعاؤں میں بے مثال حکمت، عاجزی اور جامعیت پائی جاتی ہے۔ آپؑ نے اپنی ذات کے ساتھ اپنی اولاد، آنے والی نسلوں اور پوری امت کے لیے خیر و بھلائی کی دعائیں مانگیں۔ قرآنِ مجید میں مذکور آپؑ کی دعائیں ایمان، رزق، امن، نیک اولاد، عبادت کی پابندی اور آخرت کی کامیابی جیسے اہم مضامین پر مشتمل ہیں۔ سیدنا ابراہیمؑ کی دعائیں انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا مانگے۔
مزید پڑھیںسیدنا ابراہیم کی دعاؤں میں حکمت وجامعیت
16
خطبہ بنیان مرصوص مسلمانوں کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی تعاون کا عظیم درس دیتا ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد رہنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ امت ہر قسم کے فتنوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکے۔ اس خطبے میں اخوت، اتفاق اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے مل جل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ مسلمان اگر آپس کے اختلافات ختم کرکے محبت اور یکجہتی کو اپنالیں تو معاشرہ امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیںخطبہ بنیان مرصوص
17
18
شرکِ اصغر وہ باریک اور پوشیدہ قسم کا شرک ہے جو بظاہر انسان کے عقیدے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا مگر اس کے اعمال کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کی عام صورتوں میں ریاکاری (دکھاوا)، غیر اللہ کی قسم کھانا، یا کسی عمل کو اللہ کے سوا کسی اور کی رضا کے لیے کرنا شامل ہے۔ اس کی تباہ کاریاں یہ ہیں کہ یہ نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، دل میں اخلاص کو ختم کرتا ہے اور انسان کو آہستہ آہستہ شرکِ اکبر کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس سے بچنے اور ہر عمل کو خالصتاً اللہ کے لیے کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںشرک اصغر کی صورتیں اور تباہ کاریاں
19
استعماری قوتوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے کمزور ممالک پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور باہمی احترام کا پیغام دیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن کی کوششیں، مذاکرات اور تعاون کو اہمیت دی جاتی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن و سلامتی کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔
مزید پڑھیںاستعماری قوتیں اور پاکستان کا پیغام امن
20
بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ایسے حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ اسلام سادہ زندگی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے غیر ضروری اخراجات سے بچنا، گھریلو بجٹ بنانا اور آمدنی کے مطابق زندگی گزارنا بہترین حل ہے۔ موجودہ دور میں مالی نظم و ضبط (financial management) اپنانا، ضروریات اور خواہشات میں فرق کرنا، اور بچت کی عادت ڈالنا مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں سادگی، بچت اور قناعت کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر بھی مہنگائی کے مسائل کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںبڑھتی مہنگائی اور کفایت شعاری کی راہیں