11
12
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
13
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق مومن کے دل کی وہ پاکیزہ کیفیت ہے جو اسے دنیا کی فانی لذتوں سے بے نیاز کرکے ربّ کی رضا کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ اصل سکون، اصل کامیابی اور حقیقی زندگی اللہ کے حضور ہے تو اس کا دل ذکرِ الٰہی میں لگ جاتا ہے، نماز اسے راحت دیتی ہے، درود و استغفار اس کی روح کو جِلا بخشتے ہیں اور نیک اعمال اسے قربِ الٰہی کی طرف بڑھاتے ہیں۔ یہی شوق انسان کو گناہوں سے دور رکھتا ہے، نیکیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور ہر لمحہ اسے اس ملاقات کی تیاری میں لگا دیتا ہے جہاں کوئی چیز کام نہیں آئے گی سوائے خلوص، تقویٰ اور اللہ کی یاد کے۔
مزید پڑھیںاللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق، اعمال اور اذکار
14
ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر میں تاریخی اور مذہبی حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان ایام کا تعلق حضرت فاطمہؓ کی وفات کے واقعات اور ان سے منسوب روایات سے جوڑا جاتا ہے، مگر ان کی تاریخی تعیین اور تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض الزامات اور اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے حساس موضوعات کو مستند تاریخی مصادر، غیر جانب دار تحقیق اور باوقار مکالمے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ الزامات کی تردید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب دلیل، عدل اور احترام کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امت میں انتشار کے بجائے فہم، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔
مزید پڑھیںایام فاطمیہ کی حقیقت اور الزامات کی تردید
15
رویوں کی سختی انسان کی شخصیت کو محدود کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص ہر بات میں اپنی ہی رائے کو درست سمجھتا ہے تو نہ صرف رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ بات چیت اور سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ سخت مزاجی انسان کو نئے خیالات قبول کرنے سے روکتی ہے، جس کے باعث ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر ذہنی دباؤ، غصے اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے لچک ضروری ہے، اور سخت رویہ انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی دونوں سے دور لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیںرویوں کی سختی کے نقصانات
16
اسلام میں میاں بیوی کا رشتہ محبت، اعتماد اور ذمہ داریوں کے توازن پر قائم ہے۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ بیوی کی عزت، نان نفقہ اور حفاظت کا پورا خیال رکھے، جبکہ بیوی کا حق ہے کہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔ بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی وفادار، خیرخواہ اور گھر کے نظام کو سنبھالنے میں شریک ہو۔ جدید دور میں مصروفیات، ٹیکنالوجی، غلط فہمیاں اور معاشرتی دباؤ نے ازدواجی زندگی کو نئے چیلنجز دیے ہیں۔ ان مسائل کا حل یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں، باہمی گفتگو کو مضبوط بنائیں، برداشت کا راستہ اختیار کریں اور اسلامی اصولوں کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں۔ یہی طریقہ گھر میں سکون، محبت اور کامیابی پیدا کرتا ہے۔
مزید پڑھیںمیاں بیوی کے بنیادی حقوق و فرائض اور جدید مسائل
17
18
19
20