41
42
43
کسی بھی قوم ، معاشرے اور امت کے لیے ایمان، اتحاد اور تنظیم سازی، یہ تینوں اصول کامیابی کی کنجی، ترقی کے ضامن اور عروج کی بنیاد ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں ایمان کے مقابلے کفرو شرک، اتحاد و اتفاق کے مقابلے میں تفرقہ بازی اور تنظیم سازی کے مقابلے میں انتشار اور بکھراؤ سے منع کیا گیا ہے۔ بطور مسلمان ہماری شناخت ایمان اسلامی روایات اور آپس کے مشورہ سے متحد ہو کر رہنا ہے، اس میں برکت، عزت، احترام باہمی اور مسلمانوں کا اتحاد ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںترقی کی ضمانت ایمان، اتحاد اور تنظیم
44
مصیبت، بیماری، تکلیف، پریشانی ، غم وحزن اور دلی رنج والم زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں رہتی ہی ہیں، یہاں دنیا میں کوئی سکھی نہیں، کہ جو من چاہی زندگی بسر کر رہا، تکلیف کا عالم یہ ہے کہ کوئی محبوب کی جدائی میں غم زدہ ہے تو کوئی محبوب کا منتظر ہے، یا تو کسی محبوب چیز کے چھن جانے سے، یا کسی ناپسندیدہ چیز کے پیش آنے سے۔ بالفرض اگر تمام مصیبتیں اور بیماریاں کسی کپڑے میں باندھ کر آسمان پر رکھ دی جائیں، پھر ان کی گرہ کھول دی جائے تو ہمارا ایمان ہے کہ وہ تکالیف و مصائب عین اُسی بندے پر نازل ہوں گی جس کے مقدر میں اللہ تعالیٰ لکھ رکھی ہیں۔ اس حقیقت پر یقین ہونا چاہیے کہ ہر خیر وشر اور بیماری و پریشانی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں۔
مزید پڑھیںگھروں کو اجاڑنے والی تکالیف وبیماریاں اور علاج
45
46
اتحاد، اتفاق اور اجتماع امت ، اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور دین اسلام کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہے کہ اس میں باہمی محبت ، قوت، نظم وضبط اور غلبہ دین کی بقا ہے۔ اسی کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور دنیا تمام فتنوں سے محفوظ رہتی ہے، آسمانی برکات کا نزول ہوتا ہے اور نعمتیں مکمل ہوتی ہیں۔ :
مزید پڑھیںاتحاد کی نعمت اور اس کی حفاظت کے اسباب
47
48
منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ یہاں سے ہمیشہ قال اللہ وقال الرسول کی صدا بلند کی جائے ، لوگوں کو دینی تعلیم و تربیت دی جائے، دینی مسائل سے متعلق آگاہی دی جائے ، امت کے شیرازے کو جمع کیا جائے ، معاشرتی خرابیوں کی اصلاح کی جائے ، مسجد کے آداب بتلائے جائیں اور کتاب وسنت کے ساتھ جڑ کر رہنے کی نصیحت کی جائے۔ آج کے دور میں مسلمان فرقہ واریت کا شکار اور اجتماعی نظم و نسق میں کمزور ہو چکے ہیں، ایسے میں لازم ۔ ہے کہ محراب سے اتحاد و اجتماعیت کا درس دیا جائے ، اختلافی مسائل کی جگہ اتفاقی چیزوں کو موضوع بحث بنایا جائے ۔
مزید پڑھیںمعاشرتی کوتاہیاں اور منبر ومحراب کی ذمہ داریاں
49
ساری فطری محبتوں اور چاہتوں سے بڑھ کر ایک مسلمان کو جناب رسول اللہ علیم سے محبت کرنا جزو ایمان ہے، یہ محبت رسول کی علامت بھی ہے اور کامل ایمان کی نشانی بھی۔ دنیا میں تمام حقوق کی ادائیگی سے زیادہ رسول اللہ سے ہم کا حق ادا کرنا سب سے مقدم ہے، آپ کی وساطت سے انسانیت کو…
مزید پڑھیںمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات اور واقعات
50