11
شراب نوشی اور منشیات کا استعمال فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ نشہ کرنے والا شخص اکثر اپنے فرائض سے غافل ہو جاتا ہے، جس سے اس کے خاندان میں مسائل، جھگڑے اور معاشی تنگی پیدا ہوتی ہے۔ معاشرے کی سطح پر یہ برائیاں جرائم، بدامنی اور اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی ان چیزوں سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں تاکہ ایک صحت مند اور پرامن معاشرہ قائم ہو سکے۔
مزید پڑھیںشراب نوشی اور منشیات کے فرد اور معاشرے پر برے اثرات
12
13
14
15
خشیتِ الٰہی سے بہنے والے آنسو مومن کے دل کی نرمی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے حقیقی ادراک کی علامت ہوتے ہیں۔ جب بندہ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اور اللہ کی پکڑ کا تصور کر کے رو پڑتا ہے تو یہ آنسو اس کے لیے رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے آنسو نہ صرف دل کو پاک کرتے ہیں بلکہ انسان کو تقویٰ، عاجزی اور اخلاص کی طرف بھی لے جاتے ہیں، اور یہی کیفیت اللہ کے قرب کا سبب بنتی ہے۔
مزید پڑھیںخشیت الہٰی سے بہنے والے آنسو
16
17
18
19
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)
20