21
خشیتِ الٰہی سے بہنے والے آنسو مومن کے دل کی نرمی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے حقیقی ادراک کی علامت ہوتے ہیں۔ جب بندہ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اور اللہ کی پکڑ کا تصور کر کے رو پڑتا ہے تو یہ آنسو اس کے لیے رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے آنسو نہ صرف دل کو پاک کرتے ہیں بلکہ انسان کو تقویٰ، عاجزی اور اخلاص کی طرف بھی لے جاتے ہیں، اور یہی کیفیت اللہ کے قرب کا سبب بنتی ہے۔
مزید پڑھیںخشیت الہٰی سے بہنے والے آنسو
22
23
24
25
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)
26
27
28
ماحولیاتی آلودگی کا تدارک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ سمجھتے ہوئے زمین اور اس کی نعمتوں کی حفاظت کرے۔ اسلام صفائی اور طہارت پر بہت زور دیتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے راستوں اور عوامی مقامات سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسراف سے منع کیا گیا ہے، اس لیے وسائل کا بے جا استعمال آلودگی کا سبب بننے کے بجائے اعتدال اور بچت کے اصول اپنانے چاہییں۔ درخت لگانا، پانی اور ہوا کو آلودگی سے بچانا اور مخلوقِ خدا کو نقصان نہ پہنچانا اسلامی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ایک صاف، صحت مند اور متوازن ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںماحولیاتی آلودگی کاتدراک کیسے ممکن ہے؟اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
29
30