مولانا محمد زبیر عقیل

مولانا محمد زبیر عقیل

کل خطبات: 72
اس مصنف کا تفصیلی تعارف اور سوانحی خاکہ جلد شامل کیا جائے گا۔
51
حج کے روحانی معاشی اور معاشرتی فوائد  إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ  بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے۔ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى الناس حج بے آیات بینات میں سے مقام ابراہیم ہے
مزید پڑھیںحج کی فضیلت اور فوائد و مقاصد
52
53
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ مجاہد ، عالم دین، قاری قرآن اور سخی میں ریا کاری اور فخر آجائے تو اعمال برباد ہو جاتے ہیں 1089 / 1905 صحیح مسلم
مزید پڑھیںتکبر ! عبادات میں بھی برا دنیا داری میں بھی برا
54
بد دعا بعض اوقات مسلمانوں کی کفار کے خلاف ہوتی ہے۔ ان میں انبیاء کرام اور عام لوگوں کی بد دعا بھی شامل ہوتی ہے جس پر کفار کی پکڑ ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات بد دعا کرنے والا مسلمان ہوتا ہے اور کبھی اپنے خلاف کبھی اپنے مال اور اولاد کے خلاف اور کبھی اپنے دوست احباب کے خلاف کرتا ہے کبھی ماں اپنی اولاد کے خلاف بد دعا کر دیتی ہے جس سے اولاد پر سختیاں آجاتی ہیں اس لئے بولنے سے پہلے بہت دفعہ تو لنا چاہیئے ۔
مزید پڑھیںبد دعائیں اور ان پر پکڑ
55
سيد و فاطمۃ الزھر اورضی اللہ عنہا کے باغ فدک کی وراثت طلب کرنے کا ذکر صحیح بخاری 6725 عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السَّلَامُ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَحِسَانِ مِيرًا فَهُمَا مِن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِن فَدَكَ وَسَهْمَهُما مِن خَيْبَرَ ، فَقَالَ لهما أبو بَكْرٍ : سَمِعْتُ رسول اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم يقول: لا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُل ال مُحَمَّدٍ مِن هذا المَالِ قَالَ أَبو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ فاطمہ اور عباس علیہما السلام ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی می نام کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی علیم سے سنا ہے آپ صلی الہ ہم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں دوب صدقہ ہے ، بلا شبہ آل محمد اس مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی علم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔
مزید پڑھیںباغ فدک کا قصہ
56
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا استغفار کر و رحمت کی بارش آئے گی۔ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهَ كَانَ غَفَّارًا 10 پس میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا 11 وہ آسمان سے تم پر (موسلا دھار ) مینہ برسائے گا۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا 12 اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنادے گا۔
مزید پڑھیںبارشیں کبھی رحمت کبھی عذاب
57
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ الَّا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُ الْقُلُوبُ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے ، خبر دار ! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں۔ وضاحت: قرآن کہتا ہے دلوں کو سکون اللہ کے ذکر سے ملتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے۔ سب غلط کہتے ہیں۔ قرآن کی بات درست ہے۔
مزید پڑھیںاللہ کا ذکر ۔ دلوں کا سکون
58
  • Post category: 03. عقیدہ ومنہج > ایمانیات > موت، قبر وحشر
وَحَاقَ بِالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ  اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آپڑا۔ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ  وہ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔ وضاحت: آل فرعون کو اس وقت عذاب ہو رہا ہے اور وہ قبروں میں ہیں اسی آیت میں ہے کہ قیامت کا عذاب اور بھی سخت ہے۔
مزید پڑھیںإثبات عذاب القبر
59
احد پہاڑ پر سید نا ابو بکر صدیق اور سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا ذکر صحیح بخاری 3675 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ صَعِدَ أَحَدًا، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ : اثْبُتْ أُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِي وَصِدِيقٌ وشَهِيدَانِ. انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
مزید پڑھیںابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما
60
سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ ايْتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ )  وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھا ئیں ، بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ وضاحت: ارض فلسطین شام میں بیت المقدس وہ مقدس اللہ کا گھر ہے جہاں اسراء اور معراج کے سفر میں نبی کریم صلی علیم رکے اور انبیاء کرام کی امامت کروائی۔
مزید پڑھیںشام اور فلسطین سے محبت اور یہود سے نفرت