21
22
ماحولیاتی آلودگی کا تدارک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ سمجھتے ہوئے زمین اور اس کی نعمتوں کی حفاظت کرے۔ اسلام صفائی اور طہارت پر بہت زور دیتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے راستوں اور عوامی مقامات سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسراف سے منع کیا گیا ہے، اس لیے وسائل کا بے جا استعمال آلودگی کا سبب بننے کے بجائے اعتدال اور بچت کے اصول اپنانے چاہییں۔ درخت لگانا، پانی اور ہوا کو آلودگی سے بچانا اور مخلوقِ خدا کو نقصان نہ پہنچانا اسلامی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ایک صاف، صحت مند اور متوازن ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںماحولیاتی آلودگی کاتدراک کیسے ممکن ہے؟اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
23
24
25
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول ہیں، جنہیں قرآنِ مجید میں عظیم مقام عطا کیا گیا ہے۔ آپ کو بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی روشن نشانی ہے اور آپ کو معجزات عطا کیے گئے، جیسے مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینا اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے توحید، تقویٰ، محبت، رحم اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دی اور بنی اسرائیل کو اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ قرآن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت و رفعت عطا فرمائی اور قیامت کے قریب آپ کی دوبارہ آمد حق اور عدل کے غلبے کا سبب بنے گی، جو آپ کے عظیم فضائل اور بلند مناقب کا واضح ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کے فضائل اور مناقب
26
خاموشی اور کم گوئی انسان کے کردار میں وقار، سنجیدگی اور حکمت پیدا کرتی ہیں۔ کم بولنے والا شخص نہ صرف غیر ضروری بحث و تکرار سے محفوظ رہتا ہے بلکہ اس کی بات کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ خاموشی انسان کو مشاہدہ، غور و فکر اور خود احتسابی کا موقع دیتی ہے، جس سے شخصیت میں نکھار آتا ہے۔ معاشرتی طور پر بھی کم گوئی امن، احترام اور مثبت رویوں کو فروغ دیتی ہے کیونکہ ایسا شخص دوسروں کی بات بہتر طریقے سے سنتا اور سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاموشی کو ہمیشہ عقل، بردباری اور مضبوط اخلاق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیںخاموشی اور کم گوئی فضیلت،اہمیت اور اس کے معاشرتی فوائد و ثمرات
27
28
29
30