1
2
3
4
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)
5
6
7
ماحولیاتی آلودگی کا تدارک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ سمجھتے ہوئے زمین اور اس کی نعمتوں کی حفاظت کرے۔ اسلام صفائی اور طہارت پر بہت زور دیتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے راستوں اور عوامی مقامات سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسراف سے منع کیا گیا ہے، اس لیے وسائل کا بے جا استعمال آلودگی کا سبب بننے کے بجائے اعتدال اور بچت کے اصول اپنانے چاہییں۔ درخت لگانا، پانی اور ہوا کو آلودگی سے بچانا اور مخلوقِ خدا کو نقصان نہ پہنچانا اسلامی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ایک صاف، صحت مند اور متوازن ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںماحولیاتی آلودگی کاتدراک کیسے ممکن ہے؟اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
8
9
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ریاست کے استحکام، عدل و انصاف، اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی شرط ہے۔ نظم و ضبط کے بغیر معاشرتی نظام بکھرتا ہے اور معاشرے میں فساد، بدامنی اور ناانصافی پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عدل، مساوات اور ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے، اور ہر شہری اور حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے انجام دے۔ نظم و ضبط کی بدولت معاشرہ منظم، پرسکون اور ترقی یافتہ رہتا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے امن و سکون میں زندگی گزار سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںاسلامی ریاست میں نظم وضبط کی اہمیت
10
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول ہیں، جنہیں قرآنِ مجید میں عظیم مقام عطا کیا گیا ہے۔ آپ کو بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی روشن نشانی ہے اور آپ کو معجزات عطا کیے گئے، جیسے مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینا اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے توحید، تقویٰ، محبت، رحم اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دی اور بنی اسرائیل کو اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ قرآن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت و رفعت عطا فرمائی اور قیامت کے قریب آپ کی دوبارہ آمد حق اور عدل کے غلبے کا سبب بنے گی، جو آپ کے عظیم فضائل اور بلند مناقب کا واضح ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کے فضائل اور مناقب