مردوں کو زندہ لوگوں کے اعمال سے نفع پہنچنے کا بیان

476۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

((إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُّنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَّدْعُو لَهُ)) ( أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ:1631)

’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے (ان کا ثواب اسے پہنچتا رہتا ہے، وہ ہیں): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“

477۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

((إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ)) (أخرجه أبوداود: 3199، وابن ماجه: 1497، وابن حبان:3076، 3077)

’’جب تم کسی میت کا جنازہ پڑھو تو اس کے لیے اخلاص سے دعا کیا کرو“

توضیح و فوائد:  اولاد کا ہر اچھا عمل والدین کے لیے نفع بخش ہے، چاہے دعا نہ بھی کریں اور جو شخص بھی کسی مسلمان میت کے لیے دعا کرے وہ اسے فائدہ دیتی ہے، تاہم اولاد کو والدین کے لیے دعا کرنے کا حکم ہے جو خرید قائدے کا باعث ہے۔

478۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک وفات پاگئی ہیں اور وہ کوئی وصیت بھی نہیں کر سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں تو ضرور صدقہ و خیرات کا حکم دیتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات دوں تو کیا انھیں ثواب ملے گا؟

آپ ﷺ نے فرمایا: «نعم)  ہاں۔  (أَخْرَجَةُ البُخَارِي: 1388 و 2760، ومُسْلِم:1004)

479۔ سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرمﷺ سے عرض کی:  میرے والد فوت ہو گئے ہیں، انھوں نے مال چھوڑا ہے اور کوئی وصیت نہیں کی، اگر (یہ مال) ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے تو کیا  (یہ)  ان کی طرف سے (گناہوں کا) کفارہ بنے گا ؟

آپ ﷺ نے فرمایا:  (نعم)  ’’ہاں ‘‘(أخرجه مسلم: 1630)

توضیح و فوائد:  والدین کی طرف سے صدقہ ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد دونوں صورتوں میں کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ صدقے کا ارادہ رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔ والدین کے علاوہ دیگر رشتہ داروں یا دوست احباب کی طرف سے صدقہ کرنا بھی راجح قول کے مطابق انھیں فائدہ پہنچاتا ہے۔

480۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ  فرماتے ہیں کہ ایک شخص فوت ہو گیا تو ہم نے اسے غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن پہنا دیا، پھر ہم اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالیہ میں لے کر حاضر ہوئے تاکہ  آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں، ہم نے کہا:  آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں، آپ ﷺ چند قدم چلے، پھر فرمایا:

((أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟)) ’’کیا اس پر کوئی قرضہ ہے؟‘‘  ہم نے کہا: دو دینار ہیں۔ آپ ﷺ واپس چلے گئے، بالآخر ان دو دیناروں کی ذمہ داری سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اٹھا لی، ہم پھر آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: دو دینار میرے ذمے رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((أُحِقَّ الْغَرِيمُ وَبَرِيءَ مِنْهُمَا الْمَيْتُ))

’’کیا قرض خواہ کو اس کا حق مل گیا اور میت کی بھی ان دیناروں سے خلاصی ہوگئی ؟‘‘

ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:  جی ہاں، تب آپ ﷺنے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔

آپ ﷺ نے اس کے ایک دن بعد پوچھا:

((مَا فَعَلَ الدِينَا رَانِ؟)) ”بھئی! ان دو دیناروں کا کیا بنا؟“

سیدنا ابوقتادہ  رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: (اللہ کے رسول !) ابھی کل ہی تو وہ فوت ہوا ہے۔ سیدنا جابر  رضی اللہ تعالی عنہ  کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے اگلے روز پھر پوچھا ان سے تو انھوں نے کہا: میں نے وہ دینار ادا کر دیے ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 ((اَلْآنَ بَرَدْتَ عَلَيْهِ جِلْدَهُ)) (أَخْرَجَهُ أَحمد:14536)

’’اب تو نے اس پر اس کی چمڑی ٹھنڈی کی ہے۔“

توضیح و فوائد:  جس طرح میت کی طرف سے صدقہ جائز اور اس کے لیے فائدہ مند ہے، اسی طرح میت کا قرض اگر کوئی اپنے ذمے لے لے یا ادا کر دے تو اس طرح میت کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے ان سب امور کے لیے توحید کا عقیدہ بنیادی شرط ہے۔

481۔  ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ)) (أخرجه البخاري: 1952، ومسلم: 1147)

’’جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔ “

482۔ سیدنا ابن عباس  رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اور کہا: اللہ کے رسول! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے نذر کا روزہ ہے، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟ آپ ﷺنے فرمایا:

((أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلٰى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ أَكَانَ يُؤْدِّي ذٰلِكِ عَنْهَا؟))

’’مجھے بتاؤ ! اگر تمھاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے اسے ادا کر دیتی تو کیا اس کی طرف سے وہ ادائیگی ہو جاتی ؟“

اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺنے فرمایا۔

((فَصُومِي عَنْ أَمِّكِ)) ’’ تو تم اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔“ (أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ:1148)

483۔ سیدنا  ابن عباس  رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میری ماں نے حج کی نذر (منت) مانی تھی مگر وہ حج کیسے بغیر ہی فوت ہو گئی۔ کیا  میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:  ((نَعَمْ حُجّى عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلٰى أُمِّكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟ أَقْضُوا اللهَ، فَاللهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ)) (أَخْرَجَةُ البُخَارِيّ:1852،6699، 7315)

’’ہاں، اس کی طرف سے حج کرو۔ بتلاؤ اگر تمھاری ماں کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اللہ کا حق بھی ادا کرو، اللہ تعالی زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔ ‘‘

توضیح و فوائد:  میت کے ذمے اگر نذر کے روزے ہوں یا اس نے حج کی نذر مانی ہو توورثاء  یا کوئی اور شخص یہ نذر پوری کر دے تو مرنے والے سے یہ نذر ساقط ہو جائے گی۔ اسی طرح میت کی طرف سے مطلق حج و عمرہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم مطلق روزے رکھنا، یا نماز پڑھنا ثابت نہیں۔ واللہ اعلم.

484۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ (میرے والد)  عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ نحر کرنے کی نذر ما ن نذر مانی تھی، (میرے بھائی) ہشام بن عاص نے تو اپنے حصے کے پچاس اونٹ نحر کر دیے لیکن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم ﷺسے پوچھ لیا، آپ ﷺ ہم نے فرمایا:

((أَمَّا أَبُوكَ، فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ، فَصُمْتَ، وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ، نَفَعَهُ ذٰلِكَ))

’’اگر تمھارے والد نے توحید کا اقرار کیا ہوتا، پھر تو اس کی طرف سے روزہ رکھتا اور صدقہ خیرات کرتا تو یہ اس کے لیے نفع بخش ہوتا۔ “

ابود اور کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ((إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ، بَلَغَهُ ذٰلك)) (أخرجه احمد: 6704، و ابو داؤد:2883)

’’ ہاں!  اگر وہ مسلمان ہوتا، پھر تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے، اس کی طرف سے صدقہ کرتے یا اس کی طرف سے حج کرتے تو اس کا فائدہ اسے پہنچتا۔‘‘