موت کے اعلان کا بیان
889۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:
((سمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهٰى عَنِ النَّعْيِ)) (أخرجه أحمد: 23270، 23456، والترمذي: 986، وابن ماجه:1476)
’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نعی، یعنی وفات کی تشہیر سے منع کرتے تھے۔‘‘
توضیح و فوائد: کسی کی موت کے اعلان کو کبھی کہتے ہیں۔ اگر اس اعلان میں میت کے فضائل و مناقب کا چر چا کیا جائے تو یہ منع ہے۔ جاہلیت میں موت کا اعلان اسی طرح ہوتا تھا۔ مذکورہ حدیث میں اس نعی سے منع کیا گیا ہے۔
890۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہی اللہ فرماتے ہیں:
((نَعَى النَّبِيُّ ﷺ إِلٰى أَصْحَابِهِ النَّجَاشِي)) (أخرجه البخاري: 1318، 1327، 1328، 3881، ومسلم: 951)
’’نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو نجاشی کے فوت ہونے کی خبر دی۔‘‘
پھر آپ آگے بڑھے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں کہیں۔
توضیح و فوائد: اگر نعی میں صرف کسی کی موت کی خبر دینایا جنازے کی اطلاع دینا مقصود ہو اور اس میں چیخ و پکار اور میت کے فضائل اور اوصاف نہ جتائے جائیں تو یہ جائز ہے جیسا کہ مذکورہ اور آئندہ روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
891۔ سیدنا عروہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکو بئر معونہ کے شہداء کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا:
((إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ أُصِيبُوا، وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ، فَقَالُوا رَبَّنَا أَْخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ)) (أخرجه البخاري: 4093)
’’تمھارے ساتھی شہید ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنے رب سے درخواست کی ہے: اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو اس امر کی اطلاع دے دے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر خوش ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔‘‘
892۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے سیدنا زید، سیدنا جعفر اور سیدنا عبد الله بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہم کی شہادت کی خبر اس وقت اپنے صحابہ کرام کو دی جب ان کے متعلق دیگر ذرائع سے کوئی اطلاع نہیں آئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
((أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةً فَأَصِيبَ))
’’زید رضی اللہ تعالی عنہ نے (اسلامی) جھنڈا اٹھایا، وہ شہید کر دیے گئے تو پھر جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا، وہ بھی جام شہادت نوش کر چکے تو پھر ابن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا، وہ بھی شہید کر دیے گئے۔‘‘
اس دوران میں آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
((حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ، حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ)) (أخرجه البخاري: 1246، 2798، 3063، 3630، 3757، 4262)
’’حتی کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ( خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے جھنڈا پکڑ لیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں سے لشکر اسلام کو فتح عطا فرمائی۔‘‘
893۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس میں رات کے وقت میت کو دفن کیا گیا تھا۔ آپ ﷺنے دریافت فرمایا:
((متى دُفن هذا)) ’’اسے کب دفن کیا گیا ہے؟‘‘
لوگوں نے عرض کیا: گزشتہ رات۔ آپﷺ نے فرمایا:
((أَفَلَا آذَنْتُمُونِی)) (أخرجه البخاري: 1321، 1326، 1940، ومسلم:654)
’’تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘
لوگوں نے عرض کیا: ہم نے اسے رات کی تاریکی اور اندھیرے میں دفن کیا تھا اور آپ کو اس وقت بیدار کرنا مناسب خیال نہ کیا، چنانچہ آپﷺ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی۔
894۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان یا ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ علیہ نے اسے نہ پایا تو آپ نے اس عورت، یا اس مرد، کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ((أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي))
’’تم لوگوں نے اس بات کی مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟‘‘
راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ گویا ان لوگوں نے اس عورت، یا اس مردہ کے معاملے کو معمولی خیال کیا۔
آپﷺ نے فرمایا: ((دُلُّونِي عَلٰی قَبْرِهِ))
’’مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔‘‘
صحابہ نے آپ کو اس کی قبر دکھائی تو آپﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا:
((إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوَّةٌ ظُلْمَةً عَلٰى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ)) (أخرجه البخاري:458،460، 1337، ومسلم: 956)
’’اہل قبور کے لیےیہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور ان پر میرے نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔‘‘