تہجد

تہجد

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ
اے کپڑے میں لپٹنے والے!
المزمل : 1
قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا
رات کو قیام کر مگر تھوڑا۔
المزمل : 2
نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا
آدھی رات( قیام کر)، یا اس سے تھوڑا سا کم کرلے۔
المزمل : 3
أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
یا اس سے زیادہ کرلے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔
المزمل : 4

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز کا حکم دیا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز کے بارے میں عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے :
يَبِيْتُ يُجَافِيْ جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ
إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِيْنَ الْمَضَاجِعُ
[ بخاري : 1155 ]
’’وہ رات اس حال میں گزارتا ہے کہ اپنا پہلو اپنے بستر سے الگ رکھتا ہے، جب مشرکین کے بستر انھیں نہایت بوجھل کیے ہوتے ہیں۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا
اور رات کے کچھ حصہ میں پھر اس کے لیے سجدہ کر اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔
الإنسان : 26

اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے تہجد کی نماز کا تذکرہ کیا ہے

*تہجد کا معنی*

لفظ "تہجد” ، ’’هُجُوْدٌ‘‘ سے نکلا ہے جسکا معنی نیند ہے ۔
تہجد ترک ہجود، یعنی نیند ترک کرنے کا نام ہے، خواہ رات سونے کے بعد اٹھ کر ہو یا عشاء کے فوراً بعد نیند کے بجائے قیام کیا جائے۔
تہجد ہی کا دوسرا نام قیام اللیل ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لفظ تہجد سے اس کا تذکرہ یوں فرمایا ہے :
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔
الإسراء : 79

*تہجد کی نماز کے چند اہم فضائل*

اس نماز کو چند اہم امتیازات اور فضائل حاصل ہیں جو دیگر نمازوں کے لیے نہیں ہیں

1️⃣ *فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوْبَةِ الصَّلَاةُ فِيْ جَوْفِ اللَّيْلِ ]
[ مسلم : 203 /1163]
’’فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘

2️⃣ *اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب نماز*

عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ أَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَی اللّٰهِ صَلاَةُ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَ يَنَامُ سُدُسَهُ ]
[ بخاري : 1131 ]
’’اللہ تعالیٰ کو نمازوں میں سے سب سے محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف سو جاتے اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو جاتے۔‘‘

3️⃣ *تہجد میں قرآن پڑھنے والے کا امتیاز*

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَّمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ ]
[ أبو داوٗد : 1398، وقال الألباني صحیح ]
’’جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ مقنطرین (خزانے والوں) میں لکھا جاتا ہے۔‘‘

4️⃣ *تہجد پڑھنے والے میاں بیوی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ رَحِمَ اللّٰهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلّٰی وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِيْ وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللّٰهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِيْ وَجْهِهِ الْمَاءَ]
[أبوداوٗد : 1308، وقال الألباني حسن صحیح ]
’’اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو اٹھا، نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا ( اور اس نے بھی نماز پڑھی)، اگر اس نے انکار کیاتو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھی اور نماز پڑھی، خاوند کو جگایا (اور اس نے بھی نماز پڑھی)، اگر اس نے انکار کیا تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘

5️⃣ *تہجد پڑھنے والا رب تعالیٰ کے بہت قریب ہو جاتا ہے*

عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِيْ جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُوْنَ مِمَّنْ يَّذْكُرُ اللّٰهَ فِيْ تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ ]
[ ترمذي : 3579، و صححہ الألباني في صحیح الجامع ]
’’رب تعالیٰ بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، اگر تو یہ کر سکے کہ اس وقت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہو تو یہ کام کر۔‘‘

6️⃣ *تہجد پڑھنے سے بلندی، ترقی اور عزت ملتی ہے*

اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد پڑھنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا :
عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا
قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔

ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
حقیقت یہ ہے کہ ہر مخلص تہجد پڑھنے والے کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ اس سے محبت رکھتے اور تعریف کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے یہ نعمت اس کی حیثیت کے مطابق حاصل ہو گی۔

اس بات کی تائید اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ إِذَا أَحَبَّ اللّٰهُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِيْلَ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِيْ جِبْرِيْلُ فِيْ أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْهٗ فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَعُ لَهٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ ]
[ بخاري : 3259، 7485 ]
’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے (اور کہتا ہے کہ) بے شک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے اور آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم سب اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘

7️⃣ *تہجد پڑھنے سے بھاری سے بھاری ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے اور برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے*

اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد پڑھنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی فرمایا :

إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا
یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔
المزمل : 5

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھاری ذمہ داری کے لیے اہل اور قابل بنانے کی خاطر رات کی نماز کا عادی بنانا چاہتے تھے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لیے رات کا قیام اور اس میں پورے غورو فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضرور ی ہے۔

اور ویسے بھی جب کوئی شخص رات کے آخری پہر کی گہری نیند اور نرم و گرم بستر کی قربانی دینے اور خواہش نفس سے ٹکرانے کی روٹین بنا لیتا ہے تو پھر اس کے سامنے دنیا کی باقی مشکلات اور بھاری ذمہ داریاں بہت ہلکی ہو جاتی ہیں

8️⃣ *تہجد پڑھنے سے بات میں وزن، اثر اور قبول ملتا ہے*

اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی نماز کا ایک اور فائدہ یوں بیان کیا ہے
فرمایا :
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا
بلاشبہ رات کو اٹھنا(نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔
المزمل : 6

9️⃣ *تہجد کا وقت دعا کی قبولیت کا بہترین وقت ہے*

اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد پڑھنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی ایک اہم دعا مانگنے کی ترغیب بھی دی
فرمایا :
وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا
اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔
الإسراء : 80

رات کا آخری حصہ خاص قبولیت کا وقت بھی ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالٰی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقٰی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ يَّدْعُوْنِيْ فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ؟ مَنْ يَّسْأَلُنِيْ فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَّسْتَغْفِرُنِيْ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ ]
[بخاري : 1145۔ مسلم: 758 ]
’’ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری ثلث باقی ہوتا ہے، فرماتا ہے : ’’کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش کی درخواست کرے اور میں اسے بخشوں؟‘‘

🔟 *تہجد، شکر گزاری کا اعلٰی اظہار*

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُومُ لِيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
(صحیح بخاری: 1143)

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد) میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے دونوں پاؤں یا دونوں پنڈلیوں پر ورم (سوجن) آ جاتا اور جب آپ سے اس کے متعلق کہا جاتا تو فرماتے:
أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
’’کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟‘‘

1️⃣1️⃣ *تہجد پڑھنے والا، نہ پڑھنے والے سے بہت بہتر ہے*

کوئی شک نہیں کہ جو لوگ قیام اللیل کی پابندی کرتے ہیں ان کے درجے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو صرف فرائض پر اکتفا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
(کیا یہ بہترہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیا م کر تے ہوئے عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟ کہہ دے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ نصیحت تو بس عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔
الزمر : 9

2️⃣1️⃣ *تہجد پڑھنا، رحمان کے خاص بندوں کا وصف ہے*

اللہ تعالیٰ نے سورہ فرقان میں اپنے خاص بندوں کے چند اوصاف بیان کیے ہیں جن میں سے ایک اہم وصف یہ ہے
فرمایا :
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا
اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
الفرقان : 64

نیز سورہ سجدہ میں ایسے ہی بندوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
السجدة : 16

3️⃣1️⃣ *تہجد کے وقت استغفار کرنے والوں کے لیے جنت ہے*

اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں بیان کیا ہے :
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
کہہ دے کیا میں تمھیں اس (دنیا کے سازوسامان) سے بہتر چیز بتاؤں ، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔
آل عمران : 15
الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
آل عمران : 16
الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ
جو صبر کرنے والے اور سچ کہنے والے اور حکم ماننے والے اور خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں بخشش مانگنے والے ہیں۔
آل عمران : 17

ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تہجد کے وقت استغفار کرنے والوں کو اہل جنت میں سے بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
الذاريات : 15
آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ
لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقینا وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔
الذاريات : 16
كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ
وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔
الذاريات : 17
وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے۔
الذاريات : 18
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ
اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم کے لیے ایک حصہ تھا۔
الذاريات : 19

4️⃣1️⃣ *تہجد کی نماز شروع سے ہی نیکوں کار لوگوں کا امتیاز رہی ہے*

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن اور متقی بندوں کی شان میں فرمایا :
« كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ »
[ الذاریات : 17 ]
’’وہ رات کے تھوڑے حصے میں سویا کرتے تھے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تہجد سے بے حد رغبت تھی

ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا :
[ لَمْ تَكُنْ تَمْضِيْ عَلَيْهِمْ لَيْلَةٌ إِلاَّ يَأْخُذُوْنَ مِنْهَا وَ لَوْ شَيْئًا ]
[ ابن کثیر : 417/7 ]
’’یعنی ان پر جو رات بھی گزرتی تھی اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ لیتے تھے خواہ تھوڑا ہی ہو۔‘‘

مطرف بن عبد اللہ نے فرمایا :
’’ قَلَّ لَيْلَةٌ لاَ تَأْتِيْ عَلَيْهِمْ إِلاَّ يُصَلُّوْنَ فِيْهَا لِلّٰهِ عَزَّوَجَلَّ، إِمَّا مِنْ أَوَّلِهَا وَ إِمَّا مِنْ أَوْسَطِهَا ‘‘
[ ابن کثیر : 417/7 ]
’’ان پر کم ہی کوئی رات آتی تھی مگر وہ اس میں اللہ عز و جل کے لیے نماز پڑھتے تھے، یا اس کے شروع میں یا اس کے درمیان میں۔‘‘

مجاہد نے فرمایا :
’’ قَلَّ مَا يَرْقُدُوْنَ لَيْلَةً حَتَّي الصِّبَاحَ لاَ يَتَهَجَّدُوْنَ ‘‘
[ ابن کثیر : 417/7 ]
’’کم ہی کوئی رات ہوتی تھی جس میں وہ صبح تک سوئے رہیں اور تہجد نہ پڑھیں۔‘‘

سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اذا جاء اليل فرحت، واذا جاء النهار حزنت
(الجرح والتعديل لابن ابي حاتم ٨٥/١ )
جب رات آتی ہے تو میں (تھجد میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی وجہ سے ) بہت خوش ہوجاتا ہوں اور جب رات چلی جاتی ہیں تو میں بہت غمگین ہوجاتا ہوں

*تہجد کو یہ امتیازات کیوں حاصل ہیں*

اگر تہجد کی نماز کے وقت اور تہجد پڑھنے والے شخص پر غور کیا جائے تو یہ بات بہت جلد سمجھ آجائے گی کہ تہجد کو یہ امتیازات کیوں حاصل ہیں

مثال کے طور پر
رات کو جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت اٹھ کر آدمی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس مبارک وقت میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی جو اس کی توجہ خراب کرے، اس وقت منہ سے نکلنے والے الفاظ زبان اور دل دونوں سے نکل رہے ہوتے ہیں اور اس عمل میں کسی دکھاوے یا سناوے کی آمیزش بھی نہیں ہوتی، کیونکہ کوئی دوسرا نہ دیکھتا ہے نہ سن رہا ہوتا ہے

گویا تہجد، نام ہے بندے کا دنیا جہاں کی ہر چیز سے کٹ کر اپنے خالق ،مالک، کریم آقا و مولی سے باتیں کرنے کا
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اسی بات کی ترغیب دی گئی ہے :
وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا
اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔
المزمل : 8

اور فرمایا :
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ
تو جب تو فارغ ہو جائے تو محنت کر۔
الشرح : 7
وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ
اور اپنے رب ہی کی طرف پس رغبت کر۔
الشرح : 8

*تہجد کے امتیازات پر کسی صاحب ذوق کی بہترین تحریر*

لکھتے ہیں :
یہ رب العالمین کی طرف سے دعوت کارڈ ہے ۔ مجھے رات کے آخری حصے کی نماز (قیام اللیل ) نے تعجب میں مبتلا کر دیا ! اور میں نے اس میں پایا کہ:
1 فرض نمازوں کی ندا بشر ہی لگاتے ہیں ، جبکہ قیام اللیل کی ندا رب العالمین لگاتے ہیں۔
2 فرض نمازوں کی ندا ہر شخص سنتا ہے، جبکہ قیام اللیل کی ندا بعض لوگ ہی محسوس کرتے ہیں۔
3 فرض نمازوں کی ندا ( حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح) ہے۔
جبکہ قیام اللیل کی ندا ( هل من سائل يعطيه ….. ہے کوئی سوال کرنے والا میں اسے عطا کر دوں؟

4 فرض نمازیں تمام مسلمانوں پر فرض ہیں۔
جبکہ قیام اللیل صرف اللہ کے نچتے ہوئے مؤمن ہی ادا کرتے ہیں۔

5 فرض نمازیں بعض لوگوں کی دکھاوے کی نظر ہو جاتی ہیں۔
جبکہ قیام اللیل چھپ کر اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جاتی ہے۔

6 فرض نمازوں کو ادا کرتے وقت مسلمان دنیاوی سوچوں میں مگن اور شیطانی وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے۔
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن دنیا سے منقطع اور آخرت کی فکر میں مگن ہو جاتا ہے۔

7 فرض نمازوں میں مسلمان مسجد میں دوسروں سے ملاقات میں مشغول ہو جاتا ہے، جبکہ قیام اللیل میں مؤمن اللہ سے ملاقات کا شرف اور اس سے کلام اور سوال کا متلاشی رہتا ہے۔

8 فرض نمازوں میں دعا قبول ہونے کا علم نہیں۔
جبکہ قیام اللیل میں اللہ نے خود اپنے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔

9 قیام اللیل اس خوش نصیب کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ کلام کرنا چاہتا ہو، اور اسکے هم وغم سننا چاہتا ہو، کیونکہ وہ اپنے اس مومن بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
بے شک خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اللہ عز و جل کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ کارڈ کی صورت میں حاصل کیا اور اس کے سامنے بیٹھ کر باتیں کیں اور اس سے مناجات کی لذتیں حاصل کیں۔

آپ رات کے آخری پہر کے سکوت میں اپنے مالک کے سامنے پیش ہوں تو بچوں والا اخلاق اپنائیں۔ جیسے بچہ کوئی چیز مانگتا ہے تو نہ ملنے پر وہ روتا ہے، یہاں تک کہ حاصل کر لیتا ہے۔ پس آپ بھی اپنے رب سے بچوں کی طرح مانگیں۔

*تہجد کی نماز اللہ تعالیٰ سے محبت کی بہترین نشانی ہے*

ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

*”ومِن عَلاماتِ المُحبين للّٰه وهُو مَما يحصل به المَحبة أيضًا :*
اللہ تعالی کے ساتھ محبت کرنے والوں کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی یہ ہے کہ
حُب الخلوة بِمناجَاة الله تَعالىٰ، وخُصُوصًا فيٰ ظُلمة اللَّيلِ "
مَجمُوع الرسَائل (١٥٥/١)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرگوشیاں کرنے کے لیے تنہا ہونے کو پسند کرنا خاص طور پر رات کے اندھیرے میں

*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص تاکیدی نصیحت*

أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ : صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ
بخاری : 1178
مجھے میرے جگری دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) نے تاکیدی حکم دیا کہ کہ میں ان تین کاموں کو کبھی بھی نہ چھوڑوں
1 ہر مہینے کے تین روزے
2 إشراق کی نماز
3 اور سونے سے پہلے پہلے وتر (تہجد) پڑھنا

اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ تہجد کے لیے سو کر اٹھنا ضروری نہیں۔ رات کو سونے سے پہلے بھی تہجد پڑھی جا سکتی ہے

*اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح تہجد چھوڑنے والا نہ بن جانا*

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا :

يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ".
بخاری : 1152
اے عبداللہ فلاں بندے کی طرح نہ ہو جانا کہ وہ پہلے قیام اللیل کیا کرتا تھا پھر بعد میں اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں