تعویذ لٹکانے کی حرمت اور اس کے شرک ہونے کا بیان

785۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں چند لوگ حاضر ہوئے، آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی جبکہ ایک سے گریز کیا، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے نو افراد سے تو بیعت لے لی لیکن اسے چھوڑ دیا (آخر اس کی کیا وجہ ہے)؟

آپ ﷺ نے جواب دیا: ((إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمة)) ’’اس کے جسم پر ایک تعویذ ہے۔‘‘

 پھر آپ نے (اس کے گریباں وغیرہ میں) ہاتھ ڈالا اور اسے کاٹ دیا، پھر اس سے بیعت لی اور فرمایا:

مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ)) ’’جس شخص نے کوئی تعویذ وغیرہ لگایا تو اس نے شرک کیا۔‘‘(أخرجه أحمد: 17422، والحاكم:219/4، والطبراني في الكبير:885/17)

 توضیح وفوائد: تمیمہ سے مراد وہ منکے اور گھونگے ہیں جو اہل عرب بچوں کو نظر بد سے بچانے کے لیے ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے، پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا جو اس مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کا استعمال شرک ہے گھر کے دروازے پر گھوڑے کا سم ٹھونک دینا، اونٹ کی ہڈی گھر میں رکھنا، گاڑی کے ساتھ جوتا یا کالا کپڑا باندھنا کہ نظر نہ لگے۔ یہ سب کام شرک ہیں۔ نظر یا بیماری سے بچاؤ کے لیے قرآنی آیات لکھ کر گلے میں لٹکانے یا بازو پر باندھنے کے متعلق علماء کی دو رائے ہیں۔ علماء کے ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ قرآنی تعویذ لٹکانا بھی منع ہے کیونکہ اس میں قرآن کی توہین کا پہلو نکلتا ہے اور قرآن کریم اس مقصد کے لیے نازل نہیں ہوا نیز نبیﷺ یا  صحابہ سے یہ عمل ثابت نہیں۔ ہمارے نزدیک قرآنی تعویذ لٹکانے سے بھی بچنا بہتر ہے۔ ہر چند یہ شرک کے دائرے میں نہیں آتا۔ والله أعلم بالصواب.

786۔ صداء قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ہم بارہ افراد نبی اکرم ﷺکے پاس آئے، ہم

نے آپ سے بیعت کی، آپ نے ہم میں سے ایک شخص سے گریز کیا، اس سے بیعت نہ کی لیکن ہم نے کہا: اللہ کے نبی! اس سے (بھی) بیعت کر لیجیے۔ آپ نے فرمایا: ((لَنْ أَبَايَعَهُ حَتّٰى يَنْزِعَ الَّذِي عَلَيْهِ، إِنَّهُ مَنْ كَانَ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي عَلَيْهِ كَانَ مُشْرِكاً مَا كَانَتْ عَلَيْهِ . (أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار:325/4)

’’میں اس وقت تک اس سے ہرگز بیعت نہیں لوں گا جب تک کہ یہ وہ چیز نہ اتا روے جو اس کے جسم پر ہے۔ ہم میں سے جس شخص کے جسم پر بھی ایسی چیز ہوگی وہ اس وقت تک مشرک رہے گا۔‘‘

 بعد ازاں ہم نے دیکھا تو اس کے بازو پر درخت کی چھال سے بنا تسمہ یا درخت کی کوئی چیز (بندھی ہوئی) تھی۔

787۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ کہتی ہیں کہ سیدنا عبد اللہ جب کسی کام سے گھر آتے تو دروازے میں داخل ہونے سے پہلے کھانستے اور تھوکتے، انھیں اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ ہمارے پاس اچانک گھر میں داخل ہوں اور کچھ ایسا دیکھیں جسے وہ ناپسند کرتے ہوں۔

کہتی ہیں: ایک دن وہ تشریف لائے اور کھانسے، کہتی ہیں: میری پاس ایک بڑھیا تھی جو مجھے سرخ باد کا دم کر رہی تھی، میں نے اسے چار پائی کے نیچے چھپا دیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اندر آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے، انھوں نے میری گردن میں ایک دھاگا دیکھا تو فرمایا: یہ دھاگا ؟ میں نے کہا: اس دھاگے میں میرے لیے دم کیا گیا ہے۔

کہتی ہیں: انھوں نے اسے پکڑا اور توڑ دیا، پھر فرمایا: آل عبد اللہ کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

((إِنَّ الرُّقٰى وَالثَّمَائِمَ وَالتِّوَلَة شرك)) ’’یقیناً دم جھاڑ ،تعویز اور حب کا عمل (یہ سب) شرک ہیں۔‘‘

 کہتی ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ یہ کیسے کہتےہیں؟ جبکہ (ایک دفعہ) میری آنکھ درد کی وجہ سے نکلی جاتی تھی تو میں فلاں یہودی کے پاس دم کی غرض سے آنے جانے لگی، جب وہ دم کرتا تو میرا اور درد رک جاتا تھا۔ انھوں نے فرمایا: وہ شیطانی عمل تھا، شیطان اپنے ہاتھ سے تیری آنکھ میں کچوکا لگاتا تھا، جب تو دم کراتی تو وہ (کچوکے سے) رک جاتا تھا، تیرے لیے صرف اتنا کہنا کافی تھا جیسے رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا)) (أخرجه أحمد:3625، وأبو داود: 3883، وابن ماجه: 3530، وأبو يعلى:5208)

’’بیماری دور فرما دے، اے لوگوں کے رب! شفا عطا فرما دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔‘‘

788۔  سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک شخص کے بازو پر پیتل کا ایک حلقہ (چھلا یا کڑا) دیکھا تو فرمایا:

((وَيْحَكَ مَا هَذِهِ؟)) ’’یہ حلقہ کیسا ہے؟‘‘

اس نے کہا: یہ کمزوری کی وجہ سے ہے، آپﷺ نے فرمایا:

((أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا اِنْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفَلَحْتَ أبدًا)) (أخرجه أحمد: 20000، وابن ماجه: 3031، وابن حبان: 6085 و 6088، وإسناده ضعيف لتدليس مبارك بن فضالة، والحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين)

’’سنو! یقینًا اس نے تمھاری کمزوری میں مزید اضافہ کرنا ہے، اسے اتار پھینکو کیونکہ اگر تمھیں یہ پہنے ہوئے موت آگئی تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔‘‘

789۔سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

((مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً، فَلَا أَتَمَّ اللهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً، فَلَا وَدَعَ اللهُ لَهُ)) (أخرجه أحمد: 17404، بإسناد ضعيف الجهالة خالد بن عبيد المعافري)

’’اللہ تعالی اس شخص کے ارادے کی تکمیل نہ فرمائے جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اور اللہ تعالی اسے آرام و راحت نہ پہنچائے جس نے کوئی گھونگا لڑکا یا۔‘‘

790۔ سیدنا ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے،

جب سب لوگ اپنی اپنی خواب گاہوں میں چلے گئے) تو رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا:

((لَا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ)) (أخرجه البُخَارِي: 3005، ومُسْلِمٌ:2115)

’’کسی اونٹ کی گردن میں کوئی بندھن یا تانت وغیرہ باقی نہ رہے بلکہ اسے کاٹ دیا جائے۔‘‘

791۔ محمد بن عبد الرحمن بن ابولیلیٰ اپنے بھائی عیسی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عکیم ابو معبد جہنی کے پاس ان کی عیادت کے لیے آیا، وہ سرخ باد (خسرہ) کی بیماری میں مبتلا تھے، میں نے کہا: آپ علاج کی غرض سے کوئی چیز نہیں لٹکا سکتے؟ انھوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا: ((مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ)) (أخرجه أحمد: 18781، 18786، والترمذي: 2072، وابن أبي شيبة:13/7، والبيهقي في السنن:351/9)

’’جس شخص نے اپنے گلے وغیرہ میں کوئی چیز لٹکائی، وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔‘‘

792۔ رویفع بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:

((يَا رُوَیْفِعُ! لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ: أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ. أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجٰى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ، أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْهُ بَرِيءٌ)) (أخرجه أحمد:16995، 16896، وأبو داود: 36، والنسائي في المجتبى: 5070، وفي السنن الكبرى: 9336)

’’رويفع! شاید تجھے میرے بعد لمبی عمر سے تو لوگوں کو باخبر کر دینا کہ جس نے اپنی ڈاڑھی کو گرہ دییا کوئی تانت لٹکایا  یا کسی جانور کے گوبر سے یا کسی ہڈی سے استنجا کیا تو یقیناً محمدﷺ اس شخص سے بری ہیں۔‘‘

 توضیح و فوائد: جانوروں کے گلے میں’’گٹ‘‘ یعنی انتری کا مخصوص پٹہ ڈالنا تاکہ وہ نظر بد اور بیماریوں سے محفوظ رہیں، ناجائز ہے کیونکہ اس سے شرک کی بو آتی ہے، البتہ خوبصورتی کے لیے جانوروں کے گلے میں آرائشی پٹے ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔