زبان کی بے احتیاطی کا انجام
﴿یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا﴾ (الاحزاب:70۔71)
اللہ تعالی نے انسان کو جن بڑی بڑی اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک قوت گویائی بھی ہے، قوت گویائی ایک بہت بڑی اور عظیم نعمت ہے، اس کے ذریعے انسان اپنا اظہار مافی الضمیر کرتا ہے، دوسروں کی ہمدردی اور خیر خواہی کرتا ہے، ایک دوسرے کی خوشی اور نمی میں شریک ہوتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے اور دیگر بہت سے فوائکہ حاصل کر سکتا ہے۔ منہ کے اندر زبان کی مختلف حرکات کے ساتھ کبھی زبان کو تالو سے لگا کر ، کبھی اوپر اور نیچے والے دانتوں کے درمیان رکھ کر کبھی ہونٹوں کو کھول کر، کبھی ہونٹوں کو بند کر کے، کبھی اقصی خلق سے بھی اولی خلق سے آوازیں نکالتا ہے اور ان آوازوں کے مجموعے کو الفاظ کیا جاتا ہے۔
اور وہ الفاظ جہاں انسان کے لئے ایک بہت بڑی نعمت بن کر سامنے آتے ہیں، وہاں وہ کیسا اوقات اس کی تباہی کا سامان بھی مہیا کرتے ہیں۔
نعمتِ زبان اور نعمتِ نطق کی اہمیت اور افادیت سے تو سبھی واقف ہوں گے، مگر اس کی تباہ کاریوں سے شاید کم ہی لوگ آگاہ ہوں گے۔
زبان کی تباہ کاریاں ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر باشعور انسان تھوڑے سے فکر و شامل سے بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ انسان کے اعضاء و جوارح میں سے جو سب سے زیادہ اللہ تعالی کی حرمتوں کو پامال کرنے والا عضو ہے وہ ہے زبان، اپنی دونوں حالتوں میں: تکلم کی حالت میں بھی اور سکوت کی حالت میں بھی۔
زبان جب کلام کرتی ہے تو اکثر اوقات یا تو کسی حرام بات کا ارتکاب کر رہی ہوتی ہے، یا مکروہ کی مرتکب ہوتی ہے، یا فضول گوئی میں ملوث ہوتی ہے۔ اور جب خاموش ہوتی ہے تو ایسی جگہ خاموش ہوتی ہے جہاں حق کا اظہار واجب ہوتا ہے یا مستحب ہوتا ہے۔ تو زبان کی اس درجہ خطرنا کی اور حساسیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس کی اصلاح پر زیادہ سے زیاد ہ تو یہ دی جائے ، اسے کھلا، آزاد اور بے لگام نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے اصول و قواعد اور اخلاق و آداب کا پابند کیا جائے، ورنہ آدمی کی زبان اُس کے لئے مبلک، تباہ کن اور انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
زبان کی انہی تباہ کاریوں کے اندیشے کے پیش نظر انسان کے اعضائے بدن اس کی منت سماجت کرتے ہیں کہ دیکھنا سیدھی رہنا ، کہ تمھارے سیدھا رہنے میں ہماری بھی بچت ہے اور تمھارے ٹیڑھا ہونے میں ہمارا بھی ٹیڑھا ہوجا مضمر ہے۔ حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
((إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، فَتَقُولُ: اتَّقِ اللهَ فِينَا، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا، وَإِن اعْوَجَجْتَ اِعْوَجَجْنَا)) (سنن ترمذی:2407)
’’ ہر روز جب آدمی صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کے تمام اعضائے جسم زبان کے سامنے عاجزانہ درخواست گزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہ ہمارا انجام تجھی پر منحصر ہے، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ زبان ہی کے بے جا اور بے دریغ استعمال کی وجہ سے دوسرے اعضاء کو شرمندگی اور ندامت اٹھانا پڑتی اور سزا بھگتنا پڑتی ہے، تکلیف اور مصیبت سہنا پڑتی ہے، جیسا کہ مشہور تابعی مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((إِذَا رَأَيْتَ قَسَاوَةً فِي قَلْبِكَ، وَ وَهُنَا فِي بَدَنِكَ وَحِرْمَانًا فِي رِزْقِكَ ، فَاعْلَمْ أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِيْمَا لَايَعْنِيْكَ)) (بحر الدموع لابن الجوزي ، ج:1، ص:125)
’’ اگر تم دل میں سختی، بدن میں کمزوری اور رزق میں کمی پاؤ، تو جان لو کہ تم نے ضرور کوئی ایسی بات کی ہوگی جو لایعنی تھی، جس سے تمہارا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں تھا۔‘‘
زبان کی ضرورت، افادیت اور محاسن اپنی جگہ، مگر اس کے ممکنہ اور متوقع نقصانات انتہائی قابل تشویش و فکر مندی ہیں، اگر انہیں نظر انداز کر دیا جائے، افعاض، ہے تو جہی۔ لا پروائی اور تساہل سے کام لیا جائے تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
الفاظ کے استعمال میں بے احتیاطی انسان کا سب سے بڑا اور تکمین مسئلہ ہے، جہاں انسان زبان ہی سے چند کلمات ادا کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے، وہاں اسی زبان سے جان بوجھ کر یا بے احتیاطی کے عالم میں منہ سے کوئی لفظ نکال کر دوائر و اسلام سے خارج بھی ہو جاتا ہے۔
اسی طرح زبان ہی سے شرعی حکم کے مطابق چند کلمات کہہ کر اللہ کے کلمات کے ذریعے ایجاب و قبول کر کے انسان رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتا ہے تو اسی زبان سے محض ایک لفظ کہنے سے وہ رشتہ ختم بھی ہو جاتا ہے۔
حدیث میں ہے، آپ ﷺنے خطبہ حجتہ الوداع میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
((فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْ تُمُوهُنَّ بِأَمَانَ الله وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ الله)) (صحیح مسلم: 1218)
’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ حاصل کیا ہے، یعنی جان لو کہ اللہ نے انہیں امان دے رکھی ہے کہ وہ تمہارے پاس محفوظ و مامون ہیں اور اگر تم انہیں اذیت دیتے ہو تو تم نے اللہ تعالی کے دیئے ہوئے امان کی بے حرمتی اورپامالی کی ہے۔‘‘
((وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ))
’’ اور اللہ کے کلمے کے ساتھ وہ تمہارے لئے حلال قرار دی گئی ہیں۔ ‘‘
یعنی اللہ کے حکم، اس کی شریعت اور اس کی اجازت کے ساتھ وہ تمہارے لئے جائز اور حلال ہیں، اور اللہ کا دو کلمہ قرآن پاک کی آیت میں ہے۔
﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاء﴾ (النساء:3)
’’ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان کے ساتھ شرعی قواعد وضوابط کے مطابق نکاح کر سکتے ہو۔‘‘
تو جو رشتہ اللہ تعالی کے کلمات کے ساتھ جائز اور حلال ہوا، وہ طلاق کے چار حرف کہنے سے ختم ہو جاتا ہے، چاہے وہ مذاق ہی میں کہے گئے ہوں ۔
زبان کی بے احتیاطی کا آخرت کے حوالے سے انجام ملاحظہ کیجئے: حدیث میں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ الْعَبْدُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ الله ، لا يُلْقِي لَهَا بَالاً، يَهْوِى بِهَا فِي جَهَنَّمَ))
’’ بندہ جب اللہ کی ناراضی کا کوئی لفظ کہتا ہے، جسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا، کوئی بڑا سنگین جرم نہیں سمجھتا، مگر وہ اس کی وجہ سے جہنم میں جا گرتا ہے۔‘‘ ( بخاری:6478)
اسی طرح ایک حدیث میں ہے، حضرت عائشہﷺ بیان کرتی ہیں کہ:
((قُلْتُ لِلنَّبِيِّ حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّهَ كَذَا وَكَذَا))
’’صفیہ کے عیوب کے بارے میں آپﷺ سے کچھ عرض کرنے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ایسی ایسی ہے۔‘‘
((تعنى: قصيرة)) ’’ اور ایسی ایسی کے لفظ سے ان کی مراد تھی کہ وہ چھوٹے قد کی ہیں۔‘‘
((فَقَالَ: لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ))
فرمایا: ’’تم نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے اس میں بھی مل جائے ۔ یعنی اس پر بھی غالب آجائے اسے بھی خراب کردے۔‘‘ (سنن ابی داؤد:2875)
کسی کے محض جسمانی عیب کا تنقیص اور توہین کے طور پر ذکر کرنا کتنا سنگین جرم ہے۔ شاید ہم میں سے کوئی بھی اس کی اس قدر سنگینی نہ سمجھتا ہو، جبکہ حقیقت میں یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ آپ سمندر کے پانی کو جو کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں میلوں پر بھی محیط ہوتا ہے کسی رنگ میں رنگنا چاہیں تو آپ اس میں کتنے گیلن رنگ ڈالیں گے، شاید اس کا حساب بھی ہمارے تصور سے بالاتر ہو، جو حساب آپ لگا ئیں گے اس کو اس ایک لفظ کے ساتھ کمپیئر کریں کہ جتنی بڑی اماؤنٹ کسی رنگ کی سمندر کے پانی کو بدلنے کے لئے چاہیے، اتنی ہی بڑی اور سنگینی کسی کے بارے میں یہ بات ہے۔
اور ایسے طریہ، توہین آمیز اور تحقیر آمیز کتنے ہی الفاظ ہم ہر روز کہتے ہوں، شاید ہم نے کبھی اس کا احساس نہیں کیا اور ہمیں کبھی اس کا شعور نہیں ہوا۔
آپ یقینًا ایسے الفاظ کم از کم دوسروں سے سنتے ضرور ہوں گے کہ کوئی کسی کو مولو ، سنجے اور نہ جانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔ زبان کی تباہ کاریوں کا انسان کو انداز وہی نہیں، سانپ کا ڈسنا کہ جس سے ہم سب ڈرتے ہیں، زبان کے ڈسنے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
کبھی ہم نے بات کرنے سے پہلے یہ سوچا ہے کہ کہیں اس بات میں کسی کا مذاق تو نہیں از ایا جار ہار کہیں اس میں فخر و مباہات تو نہیں ہے، کہیں اس میں طعنہ تو نہیں ہے، کہیں اس میں کسی کی تحقیر تو نہیں ہے اور کہیں اس میں تکبر کا کلمہ تو نہیں ہے۔ کبھی انجانے میں بھی منہ سے نکلنے والے ایسے الفاظ آدمی کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں اور آدمی سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس سے کون سا اتنا بڑا گناہ ہو گیا ہے مگر وہ یاد نہیں آتا، کیونکہ وہ اس کو گناہ ہی نہیں سمجھ رہا ہوتا، یا کوئی بڑی بات نہیں سمجھ رہا ہوتا۔
اور تاریخ انسانی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جہاں فخر و تکبر کے الفاظ کہنے والوں کا عبرتناک انجام ہوا ، کسی نے اپنی قوت و طاقت پر فخر کیا، مال و دولت پر فخر کیا ، اولا دو اعتقاد پر فخر کیا یا مقام و منصب پر فخر کیا، اور پھر انجام بھی آپ نے دیکھ لیا کہ فرعون کو اس کے لشکر سمیت غرق کر دیا گیا ، قارون کو اس کے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا اور ٹائی ٹینک کو اس کی تمام تر ٹیکنالوجی کے ساتھ ڈبو دیا گیا۔
ان چند تمہیدی باتوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہمیں اپنی اپنی زبان کی اصلاح کی کس قدر اشد ضرورت ہے۔ اور اگر یہ بات ذہن میں حاضر رہے کہ ہماری ہر ہر بات اور ہر ہر عمل لکھا جارہا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۱۷ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۱۸﴾ (ق:17۔18)
’’دو کا تب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں، کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر اس کے پاس نگران موجود ہوتا ہے۔‘‘
اگر یہ حقیقت ہر دم نظروں کے سامنے رہے تو انسان ضرور زبان کے استعمال میں احتیاط سے کام لے مگر اس کے بجائے نفس کی تسکین نظروں کے سامنے ہوتی ہے اور انجام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں زبان کی اصلاح کی کس قدر ضرورت ہے، ہے، اندازہ کیجئے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((وَالَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ﴾ ’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے،‘‘
((مَا شَيْءٌ أَحَقُّ بِطُولِ السِّجْنِ مِنَ اللِّسَان)) (شعب الايمان:4649)
’’ اس روئے زمین پر زبان سے زیادہ لمبی قید کی مستحق کوئی چیز نہیں ہے ۔‘‘
مگر ہماری زبانیں کتنی آزاد ہیں، شاید ہی ان کے شر سے کوئی شخص بچتا ہو محفل میں ایک بار جس کا نام زبان پر آ گیا بس اس کی خیر نہیں ، وہ بچ کے نہیں جاسکتا۔
اور انتہائی تعجب کی بات ہے، آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ بہت سے لوگوں کے لئے بڑے بڑے کاموں سے اجتناب و احتراز کرنا بہت آسان ہوتا ہے، جیسے: حرام کھانا ظلم کرنا، چوری کرنا، شراب پیتا، بدکاری کرنا، بری نظر ڈالنا وغیرہ مگر دو زبان کی ایک حرکت پر کنٹرول نہیں کر پاتے اور ایسا اوقات کوئی آدمی بڑا متقی اور پرہیز گار نظر آتا ہوگا روزے رکھتا ہوگا، تجد پڑھتا ہوگا، لیے لیے اذکار کرتا ہوگا مگر اس کو زبان پر ضبط نہیں ہوتا ، اسے کھلا چھوڑ رکھا ہوتا ہے۔
اور یہ کسی ایک آدمی کی بات نہیں ہے، ہر آدمی کے لئے یہ ایک بہت بڑا امتحان اور چیلنچ ہے۔ کسی کی غیبت کرتا، الزام لگانا، بہتان لگانا وغیرہ تو آپ جانتے ہیں کہ بڑے بڑے گناہ ہیں، مگر زبان سے سرزد ہونے والے چھوٹے گناہوں کا انجام بھی ملاحظہ کیجئے ، حدیث میں ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:
((تُوَفِّىَ رَجُلٌ من الصحابة، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ” فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ أَولَا تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُه)) (جامع ترمذی:2316، صحيح الترغيب للألباني:2882)
’’ایک صحابی کی وفات ہوگئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” کیا تم جانتے نہیں! شاید اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جس سے اس کا کوئی تعلق اور واسطہ نہ ہو یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا ہو۔‘‘
یعنی کسی کی برائی نہ بھی کی ہو، صرف کسی کے معاملے میں دخل اندازی ہی کی ہو، کہ اسے ایسے کرنا چاہیے یا ایسے کرنا چاہیے، وہ ایسے کیوں نہیں کرتا وغیرہ۔
اگر ایسا کیا ہو تو یہ عمل بھی اس کے ڈائریکٹ جنت میں جانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
تو آج کی گفتگو کا اصل مقصد یہ ہے کہ چونکہ زبان سے بہت زیادہ لغزشیں ہوتی رہتی ہیں، اور جن لغزشوں کو ہم معمولی سمجھ کر بے دھڑک کہہ جاتے ہیں اور ہماری نظر میں وہ معمولی سی لغزش نہ جانے اللہ تعالی کے ہاں کتنی سنگین ہو اس لئے زبان کی اصلاح کی ضرورت ہے، اور اس کی اصلاح کے حوالے سے چند ایسی باتیں ذکر کرنا مقصود ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں معمولی کبھی جاتی ہیں اور زبان زد عام ہیں۔ مگر حقیقت میں وہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتی ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر آپ نے یقینًا کئی بار یہ لفظ سنا ہوگا کہ کشمیر جنت نظیر ، یعنی کشمیر جنت کی نظیر اور مثال ہے، کشمیر جنت جیسا ۔ اب جنت کے بارے میں اسلامی عقیدہ کیا ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أَذَنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ)) (صحيح البخاري:3244)
’’جنت وہ مقام ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ، کسی کان نے سنا نہیں، اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال ہی گزرا ہے۔‘‘
اسی طرح ایک لفظ جو بکثرت ہمارے ہاں بولا جاتا ہے اور زیادہ تر سیاسی لوگ اسے استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شہید ہے جبکہ کسی کے لئے شہادت کی گواہی دینا بہت بڑی جرات کی بات ہے۔ حدیث میں ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں۔ ((إِسْتَشْهِدَ رَجُلٌ مِنَّا يَوْمَ أَحَدٍ فَوُجِدَ عَلَى بَطْنِهِ صَخْرَةٌ مَرْبُوطَةٌ مِنَ الْجُوعِ فَمَسَحَتْ أُمُّهُ التَّرابَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَتْ: هَنِيئًا لَكَ يَا بَنِي الْجَنَّهُ))
’’ احد کے دن ہم میں سے ایک شہید ہو گیا ، بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا پایا گیا ، اس کی ماں نے اس کے چہرے سے گرد پو نچھتے ہوئے کہا بیٹا تمہیں جنت مبارک ہو!‘‘
((فَقَالَ النَّبِيُّ مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ. وَيَمْنَعُ مَا لا يَضُرُّهُ)) (صحيح الترغيب والترهيب للألباني:2883)
’’تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمھیں کیا معلوم! شاید وہ ایسی باتیں کرتا ہو جن سے اس کا کوئی تعلق واسطہ نہ ہو، اور ایسی چیزوں سے روکتا ہو جن کے خرچ کرنے سے اس کا کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں جنت کی جگہ اس نے کہا (واشهيداه) ’’ہائے اے شہید۔‘‘
تو کوئی شخص مظلوم بھی قتل کیا گیا ہو پھر بھی اسے شہید نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے باب باندھا ہے کہ:
(بَابُ لَا يَقُولُ فُلَانٌ شَهِيدٌ) ((وَقَالَ أَبو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِي اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سبيله ، اللهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ)) (صحيح البخاري:2898)
’’باب کہ کسی مخصوص شخص کے بارے میں نہ کہا جائے کہ فلاں شہید ہے، اور پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کردہ حدیث بیان کی کہ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔‘‘
تو کسی کے شہید ہونے کا دعوی علم غیب کا دعوی ہے اور اس کا قیامت کے دن سوال ہو سکتا ہے۔
تو زبان کے استعمال میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے حتی کہ بظاہر وہ الفاظ نیکی اور ہمدردی اور خیر خواہی کے ہی کیوں نہ معلوم ہوں، اس حوالے سے بعض سلف صالحین کا یہ واقعہ نہایت ہی قابل غور ہے:
((وَلَقَدْ رَئِيَ بَعْضُ الْأَكَابِرِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي النَّوْمِ فَسُئِلَ عَنْ حاله))
’’بعض اکابر اہل علم میں سے کسی (جنید) کو خواب میں دیکھا گیا، تو اُن کا حال دریافت کیا گیا۔‘‘
((فَقَالَ: أَنَا مَوْقُوفٌ عَلٰى كَلِمَةٍ قُلْتُهَا ، قُلْتُ: مَا أَحْوَجَ النَّاسُ إلَى غَيْثٍ ، فَقِيلَ لِي: وَمَا يُدْرِيكَ؟ أَنَا أَعْلَمُ بِمَصْلَحَةِ عبادي)) (الداء والدواء (الجواب الكافي) ، ج:1، ص:373))
’’تو انھوں نے کہا کہ مجھے ایک بات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے جو میں نے کہی تھی، میں نے کہا تھا: لوگوں کو بارش کی کتنی سخت ضرورت ہے، تو مجھ سے کہا گیا کہ تمھیں کیا معلوم ہے، میں اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ضرورتوں سے خوب واقف ہوں ۔‘‘
اسی طرح ایک لفظ عموماً قبروں پر لکھا ہوتا ہے: آخری آرام گاہ اور یہ جملہ دو طرح سے لغلط ہے، ایک تو یہ اسلامی عقیدے کے منافی ہے، اور وہ یوں کہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آرام گاہ ہے یا عذاب گاہ ہے، اور دوسری یہ کہ یہ آخری مقام نہیں، بلکہ جنت یا جہنم آخری مقام ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور زبانوں کو لایعنی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بننے والی باتوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………………